اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اشتہار لیکن دفتر کا نہ انڈیا میں پتا اور نہ ہی امریکہ میں

کیرتی دوبے - بی بی سی ہندی، نئی دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشی امور سے متعلق انڈیا کے ممتاز اخبار 'اکنامک ٹائمز' اور مشہور اخبار 'ٹائمز آف انڈیا' نے گزشتہ سوموار کو صفحہ اول پر ایک غیر معمولی اشتہار شائع کیا جو کئی لحاظ سے سنسنی خیز اور چونکا دینے والا تھا۔

اس اشتہار میں براہ راست ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی سے خطاب کیا گیا تھا جس میں اشتہاری کمپنی نے کہا کہ وہ انڈیا میں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ 500 ارب ڈالر یعنی تقریباً 36 لاکھ کروڑ روپے۔

یہ رقم کتنی بڑی ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ گذشتہ سال انڈیا میں امریکہ سے ہونے والی کل سرمایہ کاری سات ارب ڈالر تھی اور ایک ایسی کمپنی جس کا نام پہلے کبھی نہیں سنا گیا تھا وہ انڈیا میں کل امریکی سرمایہ کاری سے 71 گنا زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا اشتہار دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مسلح جھڑپوں کے باوجود انڈیا، چین کے درمیان ’بزنس ایز یوژل‘؟

کورونا: وزیر اعظم مودی کے ایک ارب ڈالر کے متنازع فنڈ پر اٹھتے سوالات

’سٹارم اِن اے ٹی کپ؟‘

ان معروف اخبارات کے پہلے صفحے پر لاکھوں روپے خرچ کرکے اشتہار دینے والی کمپنی کا نام لینڈمس ریئلٹی وینچر انک دیا گیا ہے۔ اس اشتہار کے ساتھ لینڈمس گروپ کے چیئرمین پردیپ کمار کا نام بھی شائع کیا گیا ہے۔

اتنی بڑی رقم، براہ راست وزیر اعظم سے خطاب اور اشتہار کے ذریعہ سرمایہ کاری کی پیش کش یہ سب چیزیں غیر معمولی تھیں لہذا بی بی سی نے اس اشتہار کو جاری کرنے والی کمپنی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔

حکومت ہند

Reuters
اشتہار میں براہ راست انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے خطاب کیا گیا ہے

تفتیش میں کیا انکشاف ہوا؟

بی بی سی نے سب سے پہلے کمپنی کی ویب سائٹ https://landomus.com چیک کی۔ سینکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا دعویٰ کرنے والی کمپنی کی ویب سائٹ ایک صفحے پر مشتمل تھی اور اس میں وہی باتیں درج تھیں جو کمپنی نے سوموار کے اپنے اشتہار میں دی تھیں۔

عام طور پر معمولی کمپنیوں کی ویب سائٹوں پر بھی ‘اباؤٹ اس’ یعنی ‘ہمارے بارے میں’ کے ذیل میں کمپنی کے کام کی پوری تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی کن شعبوں میں سرگرم ہے، گذشتہ برسوں میں اس کی کارکردگی کیسی رہی ہے جیسی معلومات دی جاتی ہیں۔

امریکی شہر نیو جرسی کی فلک بوس عمارتوں کی تصویر کو اس ویب سائٹ نے اپنی کور تصویر بنا رکھا ہے اور ٹیم کے نام پر مجموعی طور پر دس افراد کی تصاویر، نام اور ان کے عہدے لکھے ہیں، لیکن ان کے بارے میں کوئی دیگر معلومات نہیں دی گئی ہے۔

سائٹ کے مطابق کمپنی کے ڈائریکٹر اور ایڈوائزر کے طور پر پردیپ کمار ستیہ پرکاش (چیئرمین ، سی ای او) کا نام ہے۔ ان کے علاوہ ممتا ایچ این (ڈائریکٹر)، یشہاس پردیپ (ڈائریکٹر)، رکشت گنگادھر (ڈائریکٹر) اور گناشری پردیپ کمار کے نام درج ہیں۔

مشیروں کے طور پر پامیلا کیؤ، پروین آسکر شری، پروین مرلی دھرن ، اے وی بھاسکر اور نوین سجن کے نام درج ہیں۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر نیو جرسی، امریکہ کا ایڈریس دیا گیا ہے لیکن کوئی فون نمبر نہیں دیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک غیر معمولی بات ہے کہ اس کی ویب سائٹ پر کمپنی کے کسی پرانے منصوبے یا وژن کے بارے میں ایسی کوئی معلومات نہیں ہے جو عام طور پر دوسری کمپنیوں کی ویب سائٹ پر دی جاتی ہیں۔

نیو جرسی

BBC
یہ رہائشی علاقہ ہے اور وہاں کوئی دفتر نہیں ہے

پتا تو درست ہے لیکن وہاں دفتر نہیں ہے

اس ویب سائٹ پر جو واحد اہم معلومات دی گئی ہے وہ امریکی ریاست نیو جرسی کا ایک پتا یعنی لینڈمس ریئلٹی وینچر انک، 6453، ریورسائڈ سٹیشن بولیورڈ، سوکاوس، نیو جرسی- 07094 درج ہے۔

بی بی سی کے معاون نامہ نگار سلیم رضوی اس پتے پر پہنچے تو انھیں پتا چلا کہ اس پتے پر رہائشی عمارت موجود ہے، لینڈمس ریئلٹی یا کسی دوسری کمپنی کا وہاں کوئی دفتر نہیں۔

بی بی سی نے اس عمارت کے ڈیٹا رکھنے والی خاتون سے یہ بھی پوچھا کہ آیا لینڈمس ریئلٹی نامی دفتر اس ایڈریس پر رجسٹرڈ ہے یا ماضی میں کبھی رہا ہے۔ اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہاں کبھی کوئی دفتر نہیں رہا ہے۔

بہر حال رازداری کی وجوہات کی بنا پر انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس پتے پر فی الحال کون رہ رہا ہے اور اس کا نام کیا ہے۔

یہاں ایک چیز واضح تھی کہ نیو جرسی کے جس پتے کا لینڈمس ریئلٹی وینچر نے اپنی ویب سائٹ پر استعمال کیا ہے اس کا وہاں کوئی دفتر نہیں ہے۔

بی بی سی نے ویب سائٹ پر دیئے گئے ای میل ایڈریس پر سوالات کی ایک فہرست لینڈمس ریئلٹی وینچر کے نام ارسال کی تھی جس پر کمپنی کے سی ای او پردیپ کمار ستیہ پرکاش نے بہت ہی مختصر جواب دیا ہے۔

پردیپ کمار ستیہ پرکاش نے اپنے جواب میں لکھا: ‘ہم نے اپنی تفصیلات حکومت ہند (جی او آئی) کو ارسال کردی ہیں اور ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب ہمیں جواب ملے گا تو ہم آپ کو مکمل تفصیلات بھیج دیں گے اور ساری معلومات عوام کے سامنے پیش کر دیں گے۔’

حکومت ہند نے اتنی بڑی سرمایہ کاری کی اس عوامی پیش کش پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان یا تبصرہ سامنے آیا ہے۔

کمپنی کے دفتر کے پتے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کمپنی کے سی ای او نے لکھا: ‘آپ کی معلومات کے لیے، میں نے امریکہ کے شہر نیو جرسی میں کرایہ پر مکان لیا ہے۔’

سیکڑوں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تجویز کرنے والی کمپنی کا اپناکوئی دفتر نہیں ہے اور وہ ایک رہائشی پتے کو اپنی کمپنی کا پتہ بتا رہی ہے۔ یہ سب بہت ہی غیر معمولی بات ہے۔

دفاتر

BBC

بیلنس شیٹ اپ ڈیٹ نہیں

جب ہم نے کمپنی کی ویب سائٹ کے بارے میں مزید چھان بین شروع کی تو پتہ چلا کہ یہ ویب سائٹ کرناٹک میں ستمبر سنہ 2015 کو بنائی گئی ہے اور تنظیم کے نام پر یونائیٹڈ لینڈ بینک کا نام دیا گیا ہے۔

اس کے بعد ہم نے لینڈمس ریئلٹی وینچر کے بارے میں مزید چھان بین کی تو کارپوریٹ وزارت کی طرف سے بتایا گیا کہ جولائی سنہ 2015 میں انڈیا کے شہر بنگلور میں لینڈمس ریئلٹی وینچر پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے ایک کمپنی رجسٹرڈ ہوئی ہے۔

اس کا ادا شدہ سرمایہ ایک لاکھ روپے ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کمپنی کتنی بڑی ہے اور اس کے پاس کتنے وسائل ہیں۔

کمپنی کا آخری سالانہ عام اجلاس ستمبر سنہ 2018 میں ہوا تھا اور کارپوریٹ امور کی وزارت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 31 مارچ سنہ 2018 کے بعد اس کمپنی نے اپنی بیلنس شیٹ کو اپ ڈیٹ نہیں کیا ہے۔

دفتر

BBC

انڈیا میں بھی کوئی دفتر نہیں

کمپنی کے کاغذات میں بنگلور کا ایک پتہ ملا جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ لینڈمس ریئلٹی وینچر انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کا پتہ ہے۔ یہ پتہ ایس-415، چوتھی منزل، منیپال سینٹر، ڈکسن روڈ، بنگلور تھا۔

بی بی سی کے معاون نامہ نگار عمران قریشی اس پتے پر پہنچے اور انھیں پتہ چلا کہ چوتھی منزل پر ایس-415 میں لینڈمس ریئلٹی وینچر کا کوئی دفتر نہیں ہے اور اس کی جگہ وہاں ایک ٹیک کمپنی کا دفتر ہے۔ یہاں تک کہ پوری چوتھی منزل پر انھیں کہیں بھی لینڈومس ریئلٹی کا دفتر نہیں مل سکا۔

یعنی بنگلور اور نیو جرسی دونوں مقامات پر لینڈومس ریئلٹی وینچر کا کوئی آفس نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم نے ان لوگوں کے بارے میں تلاش شروع کی جن کے نام کمپنی کی ویب سائٹ پر درج تھے۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر جن دس ممبروں کے نام اور تصاویر دی گئیں ہیں ان میں ایک غیر ہندوستانی خاتون کو کمپنی کا مشیر بتایا گیا ہے اور ان کا نام پامیلا کیؤ ہے۔

اس نام کی تلاش کے دوران ہم لنکڈ ان پروفائل تک پہنچے۔ یہ پروفائل پام کیؤ نامی اس خاتون کی ہے جو امریکہ کے شہر کنیکٹیکٹ میں میک ون وش فاؤنڈیشن کی صدر اور سی ای او ہیں۔ ان کا نام اور تصویر اس پامیلا کیو سے مماثلت رکھتی ہے جو لینڈومس ریئلٹی کی ویب سائٹ پر ایک مشیر کی حیثیت سے درج ہیں۔

ہم نے ایک میل کے ذریعے اس سلسلے میں پامیلا کیؤ سے رابطہ کیا لیکن اب تک ہمیں ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ ہمیں جواب موصول ہوتے ہی اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کر دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ہمیں کل 10 افراد میں سے لینڈومس ریئلٹی کے دو ڈائریکٹروں رکشت گنگادھار اور گناشری پردیپ کا لنکڈ ان پروفائل ملا۔ لیکن ایک طویل عرصے سے اس پروفائل پر کچھ بھی پوسٹ نہیں کیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ پروفائل کبھی استعمال نہیں ہوئی ہے۔

ٹویٹر پر مالیاتی امور کے ماہرین نے اس اشتہار کو ‘مذاق’ اور ‘شرارت’ قرار دیا ہے جبکہ کچھ لوگوں نے اشتہاریوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19501 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp