کویت نے پاکستانیوں کے لیے ویزا کے اجرا کی پابندی ہٹا دی: ’ادھار مانگ کر کویت کا ویزا ملا تھا امید ہے اب قرضہ واپس کر سکوں گا‘

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کویتی خاتون

Getty Images
فائل فوٹو

’قرض لینے والے گھر پر اور دکان پر آ کر قرض واپس لینے کا تقاضا کرتے ہیں جس کی وجہ سے میری عزت بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے لیکن اب امید ہے کہ میں قرضہ واپس کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔‘

یہ الفاظ کویت میں 16 برس پلمبنگ کا کام کرنے والے ایک پاکستانی عبدالقیوم کے ہیں جو تقریباً ڈیڑھ سال سے اقامہ کی تجدید نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہیں۔

گذشتہ سال کے شروع میں وہ اپنی سالانہ چھٹیوں پر پاکستان آئے تھے لیکن اس کے بعد اقامے کی تجدید نہ ہونے کی وجہ سے کویت واپس نہیں جا سکے۔

واضح رہے کہ کویتی حکومت نے گذشتہ دس سال سے پاکستانیوں کے لیے ہر قسم کے ویزے کے اجرا پر پابندی عائد کر رکھی تھی تاہم گذشتہ روز کویتی حکام نے یہ پابندی ہٹانے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

بی بی سی کو اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے عبدالقیوم نے کہا کہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکے تاہم انھوں نے پائپ فٹنگ اور پلمنگ کا ہنر ضرور سیکھ لیا۔

یہ بھی پڑھیے

بیرون ملک پاکستانیوں کا سرمایہ ملک میں لانے کی سکیمیں ناکام کیوں ہوتی ہیں؟

بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں اضافے کی وجہ ایف اے ٹی ایف شرائط یا کچھ اور؟

’ہمارے برکتوں سے بھرے ملک میں بھی لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں‘

گھر بیٹھے ہزاروں ڈالر کمانے والے پاکستانی فری لانسرز

عبدالقیوم کے والد نے سنہ 2003 میں زمین بیچ کر اور کچھ رقم ادھار لے کر انھیں کویت کا ویزہ تین لاکھ روپے میں خرید کر دیا، جہاں پر وہ ایک نجی کفیل کے پاس پائپ فٹنگ اور پلمنگ کا کام کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے لگے۔

عبدالقیوم کے مطابق وہ کویت میں محنت مزدوری کر کے ایک سے سوا لاکھ پاکستانی روپے کما لیتے تھے جس سے ان کا اور ان کے خاندان کا گزر بسر اچھے طریقے سے ہو رہا تھا۔

کویت

Getty Images
فائل فوٹو

کویت میں کام کرنے کا طریقہ کار کیا ہے اور عبدالقیوم کو مشکلات کیوں پیش آئیں؟

عبدالقیوم کے پانچ بچے ہیں اور والدین بھی ان کے ہمراہ رہتے ہیں اس لیے وہ اپنے خاندان کے واحد کفیل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کویت جانے کے بعد سے ہر سال ایک مرتبہ پاکستان کا چکر لگاتے تھے۔

‘بعض اوقات اقامہ یعنی رہائشی پرمٹ دو سے تین سال کا مل جاتا اور مالی حالات کچھ بہتر ہوتے تو ایک سال میں دو مرتبہ بھی پاکستان آ جاتے تھے۔‘

تاہم جب وہ گذشتہ برس اوائل میں پاکستان آئے تو ملک میں کورونا کی وبا پھیل چکی تھی اور دنیا بھر میں کورونا کے کیس سامنے آنے کے بعد کویتی حکومت نے اقامے کی آن لائن تجدید کی منظوری دی تھی۔

دراصل کویت میں کام کرنے کے لیے آپ جہاں کام کرنے جاتے ہیں وہاں سے ایک سپانسر لیٹر آتا ہے جس کی بنیاد پر ویزا لگایا جاتا۔ جو کمپنی یا شخص آپ کو سپانسر لیٹر بھیجتا ہے وہ کفیل کہلاتا ہے جسے اقامے یعنی کویت میں رہنے کے رہائشی پرمٹ میں تجدید کرنے کا حق ہوتا ہے۔

عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ویزہ حاصل کرنے کی ضرورت تو صرف ایک بار ہی پڑتی ہے جبکہ اس کے بعد اقامہ (رہائشی پرمٹ) کی تجدید کروانے کی ضرورت اس کی معیاد حتم ہونے کے بعد پڑتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اپنے کفیل سے درخواست کی کہ ان کے اقامے کی تجدید کروا دیں تاکہ وہ جلد ازجلد کویت جا سکے۔

تاہم کفیل سے بارہا اقامے کی تجدید کی درخواست کی لیکن ان کے کفیل نے ان کی درخواست پر غور نہیں کیا اور آن لائن اقامے کی تجدید کی کوئی درخواست نہیں دی۔

عبدالقیوم کے مطابق اقامے کی تجدید نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ویزہ بھی ختم ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ کویتی حکومت کی طرف سے پاکستانیوں کے لیے ویزے کے اجرا پر پابندی کی وجہ سے وہ ویزا حاصل نہ کر سکے۔

کویت

Getty Images
فائل فوٹو

واضح رہے کہ زیادہ تر پاکستانی کفیل کی طرف سے بھیجے گئے سپانسر پر ہی ویزہ حاصل کر کے کویت جاتے ہیں اور ان کے روزگار کا زیادہ تر دارومدار کفیل کے ساتھ تعلقات پر منحصر ہوتا ہے۔

عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ انھوں نے کویت میں محنت مزدوری کے دوران جو بچت کی تھی اس کو استعمال میں لاتے ہوئے اب وہ پاکستان میں رہتے ہوئے اپنا اور اپنے بچوں کو پیٹ پال رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں روزگار کےمواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان حالات کو دیکھتے ہوئے انھوں نے ایک دکان کرائے پر لی جہاں پر وہ برگر اور چپس بنا کر اپنا روز گار کماتے ہیں۔ عبدالقویم کا کہنا تھا کہ انھوں نے کاروبار چلانے کے لیے قریبی رشتہ داروں سے قرض لیا جو کہ وہ ابھی واپس نہیں کر سکے۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ کویت میں کام کرتے تھے تو وہ ان رشتہ داروں کے لیے تحفے تحائف لے کر آتے تھے تو یہی رشتہ دار ان کی بہت عزت کرتے تھے اور اب ضرورت پڑنے پر ان سے کچھ قرض لیا ہے تو وہ قرض کی واپسی کے لیے دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ کویت میں محنت مزوری کرتے تھے تو اس وقت انھوں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے کے لیے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں داخل کروایا تھا لیکن پاکستان واپس آ کر مالی حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے ان کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے اٹھا کر حکومت کے زیرِ انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں میں داخل کروا دیا ہے۔

عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں مہنگائی اس قدر زیادہ ہے کہ وہ بمشکل اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات کو پورا کر پاتے ہیں۔

کویت

Getty Images
فائل فوٹو

انھوں نے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے ویزے کی بندش کے دوران بھی ویزاوں کا اجرا ہوتا تھا لیکن ان ویزوں کے اجرا کی منطوری متعلقہ محکمے کا وزیر دیتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ایسا ویزا چار ہزار کویتی دینار تک میں فروخت ہوتا تھا جس کی پاکستانی کرنسی میں قمیت بیس لاکھ روپے کے قریب ہے۔

ویزوں پر پابندی کیوں لگائی گئی تھی؟

واضح رہے کہ کویتی حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں سنہ2011 میں پاکستانیوں کے لیے ہر قسم کے ویزے کے اجرا پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کی وجہ پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بتائی گئی تھی۔ یہ پابندی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران، شام اور افغانستان پر بھی لگائی گئی تھی۔

اس دوران اگرچہ نئے ویزے جاری نہیں ہوتے تھے تاہم جن کے پاس پہلے سے اقامے موجود تھے ان کی معیاد میں تجدید ہوتی رہتی تھی۔

پاکستانی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد گذشتہ روز ایک روزہ دورے پر کویت گئے تھے جہاں انھوں نے کویتی وزیراعظم سمیت متعقلہ حکام سے ملاقاتیں کیں جس کے بعد کویت نے پاکستانیوں کے لیے ویزوں کے اجرا پر پابندی کے خاتمے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستانی حکومت ویزے کے اجرا پر پابندی کے خامتے کے لیے کویتی حکام کے ساتھ رابطے میں تھی لیکن ان رابطوں میں تیزی موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد آئی ہے۔

اس سے پہلے اس سال مارچ میں کویتی وزیر خارجہ بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور انھوں نے پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقات میں اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ کویت پاکستانیوں کی افرادی قوت کو مزید شعبوں میں استعمال کرے گی۔

عبدالقیوم کویتی حکومت کی طرف سے ویزوں کے اجرا پر پابندی کے خاتمے کے اعلان پر خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب بھی اس حوالے سے عملی اقدامات شروع ہوئے تو وہ ہر حال میں کویت جانے کو ترجیح دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ کویت کی کرنسی پاکستانی روپے کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ مضبوط ہے اس لیے ماضی میں جب وہاں سے کمائے گئے کویتی دینار کو جب اپنے ملک بھیجتے تھے تو کم از کم اس بات کا احساس ضرور ہوتا تھا کہ چند سو کویتی دینار سے ہزاروں پاکستانی روپے مل جائیں گے جس سے ان کے اہلِ خانہ بہتر زندگی گزار سکیں گے۔

عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ جب پاکستانیوں کے لیے ویزے کا اجرا شروع ہو جائے گا تو اس بات کا بھی امکان ہے کہ کویتی ویزوں کے ریٹ میں بھی نمایاں کمی آئے گی اور یہ ویزے ڈیڑھ سے دو ہزار کویتی دینا پر آ جائیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ وہ یہ ویزا خرید سکیں گے تو عبدالقیوم نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ اس کے پاس قرض واپس کرنے کے لیے مزید قرض لینے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے۔

ایک اور پاکستانی محمد ارشد، جنھوں نے اپنی زندگی کے 20 سال کویت میں گزارے، بتاتے ہیں کہ جب وہ کویت میں روزگار کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے تو اس وقت کویت میں لیبر کے محکمے میں تعداد میں سب سے زیادہ مصر کے باشندے کام کرتے تھے جبکہ دوسرے نمبر پر انڈین اور تیسرے نمبر پر بنگلہ دیشی اور پھر پاکستانیوں کا نمبر آتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اب کویت میں یہ معاملہ بھی چل پڑا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی جو بالخصوص محنت مزدوری کر کے اپنا روزگار کماتا ہے، اگر اس کی عمر ساٹھ سال ہوگئی ہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے وطن واپس چلا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19503 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp