کرونا وائرس اور ویکسین: تحفظات و خدشات کا ایک جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب پچھلے سال کرونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا تو پہلے پہل تو بہت سارے لوگوں نے اس وبا کو اتنا سنجیدہ نہیں لیا اگرچہ حکومتوں نے اپنے طور پر لاک ڈاؤن اور دوسرے اس طرح کے اقدامات سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ لیکن بہت سارے لوگ مختلف قسم کی سازشی تھیوریز اور نظریات کے ہی اسیر رہے اور کرونا کو ماننے سے انکار کرتے رہے اگرچہ دوسری اور تیسری لہر کے دوران جب زیادہ تعداد میں لوگ متاثر ہونے شروع ہوئے اور ہر فرد کے آس پاس لوگ متاثر ہونے لگے تو پھر لوگوں کو کچھ یقین آنا شروع ہوا کہ یہ وبا محض افواہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔

اب یہی معاملہ ویکسین کے مرحلے میں درپیش آ رہا ہے کیونکہ ایک بار پھر بہت ساری سازشی تھیوریز اور نظریات سوشل میڈٰیا پر گردش میں ہیں اور لوگ ان پر یقین بھی کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ اس صورت حال کا تھوڑا جائزہ لیا جائے اور دیکھنے کی کوشش کی جائے کہ حقیقت کیا ہے اور اس طرح کے رویے کیوں زیادہ مقبول ہو جاتے ہیں۔

نفسیاتی اور سماجی ماہرین کے مطابق وباؤں، آفات اور غیر معمولی حالات و واقعات کے دوران عام طور پر افواہوں کے پھیلاؤ کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ ان حالات کے بارے میں کسی بڑی یا غیر معمولی وضاحت میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہوتے ہیں اور عام معمول کی اور سامنے کی وضاحتیں انسان کے جذبہ تجسس کی اس طرح سے شاید تسکین نہیں کر پاتیں۔ اسی طرح لوگ سب سے زیادہ اس بات میں دلچسپی لیتے ہیں کہ آگے کیا ہوگا اور یہ سلسلہ کب تک چلے گا یا کب ختم ہوگا تو اس سے مختلف تعبیرات و تشریحات اور پیشن گوئیوں کا بھی ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔

یہی کچھ کرونا کی وبا کے دوران بھی دیکھنے میں آیا جب نجومیوں سے لے کر سائنسدانوں اور دوسرے ماہرین کی طرف سے وبا کے پھیلاؤ اور اس کے ممکنہ خاتمے کے بارے مختلف اندازوں اور پیشن گوئیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ اور ان پیشن گوئیوں میں کچھ معروف نوبل پرائز سائنسدان بھی شامل تھے۔ مثلاً پچھلے سال مارچ کے آخر میں ایک مشہور نوبل پرائز سائنسدان (مائیکل لیوٹ) نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ وائرس دو تین ماہ میں ختم ہو جائے گا لیکن ہم نے دیکھا کی کس طرح وائرس نے ابھی تک دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

اور عام طور پر مختلف ماہرین اور نجومیوں کی طرف سے پیش کردہ پیشن گوئیاں پوری نہ ہو سکیں اور جو بات سنجیدہ فکر سائنسدان اور طبی ماہرین کر رہے تھے وائرس کا پھیلاؤ لگ بھگ اسی رفتار اور انداز میں جاری رہا۔ کیونکہ بالکل شروع میں ہی چند ماہرین نے خبردار کر دیا تھا کہ ممکن ہے یہ وائرس دو تین سال تک ختم نہ ہو جب تک کہ اس کا کوئی موثر علاج یا ویکسین وغیرہ دریافت نہ ہو جائے۔

جوں جوں وبا کا پھیلاو زیادہ ہوا تو اس کے ممکنہ پھیلاؤ کے بارے میں مختلف افواہوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور طرح طرح کی باتیں سامنے آنے لگیں کبھی کہا گیا کہ یہ وائرس ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے، کبھی کہا گیا کہ یہ لیبارٹری میں تیار کیا گیا وغیرہ (وائرس کی ابتدا کے بارے میں ابھی تک حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے ) ۔ اس کے ساتھ ساتھ جوں وبا پھیلتی گئی اور طرح طرح کی تھیوریز اور نظریات بھی سامنے آنے لگے مثلاً پچھلے سال اپریل میں جب برطانیہ میں کرونا کی وبا اپنے عروج پر تھی تو یہ افواہ چل پڑی کہ فائیو جی ٹاورز کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں تو لندن اور آس پاس کئی مقامات پر بہت سارے لوگوں نے کئی ٹاورز پر حملہ کر کے انھیں جلا دیا۔

تاریخ اور تہذیب کے قدیم طور طریقوں پر نظر رکھنے والے مشہور ماہر بشریات جیمز فریزر نے اپنی کتاب ”شاخ زریں“ (The Golden Bough) میں اس حوالے سے بتایا ہے کہ جب قدیم دور میں کسی قصبے یا گاؤں میں وباؤں کا ظہور ہوتا تھا تو آبادی کے لوگ تلواروں سے لیس ہو کر گھروں سے باہر نکل پڑتے تھے اور گلیوں میں اور باہر کھلی جگہوں پر تلواروں کو اس انداز سے لہراتے تھے جیسے وہ کسی حقیقی دشمن سے نبرد آزما ہوں۔ فریزر نے بتایا ہے کہ یہ شاید قدیم باشندوں کا نادیدہ قوتوں سے مقابلہ کرنے کا ایک طریقہ کار تھا۔ اس طرح کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وباؤں کے دور میں شاید ایک خاص طرح کی نفسیاتی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ لوگوں کو کوئی نہ کوئی ہدف اور کوئی سہارا چاہیے ہوتا ہے جو اس طرح کے حالات میں ان کی بے چینی اور بے اطمینانی میں کچھ کمی لا سکے۔

اب دوسری طرف جب وبا کے پھیلاؤ اور اس کے حقیقی ہونے پر لوگوں کو کچھ یقین آنا شروع ہوا ہے تو اب سازشی نظریات کا اگلا ہدف کرونا ویکیسنز قرار پائی ہیں اور ہر طرح کی جھوٹی سچی خبریں اور افواہیں لوگوں کو خوف میں مبتلا کر رہی ہیں اور لوگ ویکسین لگوانے سے گھبرا رہے ہیں۔ اس میں تازہ ترین افواہ یا خبر فرانسیسی نوبل پرائز سائنسدان (مونٹیگنر) کے حوالے سے سامنے آئی ہے جس نے بڑے پیمانے پر ویکسین کے عمل کی مخالفت کی ہے اور آبادی پر ویکسین کے مضر اثرات پر بات کی ہے۔

مذکورہ سائنسدان نے 1980 کی دہائی میں نوبل پرائز جیتا تھا لیکن اس کے بعد وہ روایتی سائنس کے طور طریقوں کے اتنے قائل نہیں رہے اور اپنی مختلف تھیوریز کی وجہ سے رفتہ رفتہ سائنسی حلقوں سے دور ہوتے گئے اور اس عرصے میں وہ بہت سارے ایسے دعوے کرتے رہے ہیں جن کو دوسرے سائنسدان تسلیم نہیں کرتے اور اب کافی عرصے سے وہ ویکسین مخالف گروہوں کا حصہ ہیں۔ ویکیسینز کے بارے میں مغرب کے تقریباٰ تمام ممالک میں چھوٹے بڑے گروپس موجود ہیں جو ہر طرح کی ویکسینیشن کے خلاف ہیں یعنی بچوں کی ویکسینیشن کے بھی خلاف ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ویکیسنز بچوں میں آٹزم (Autism) یا دوسری اس طرح کی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ اگرچہ سائنسدانوں کی غالب اکثریت ان باتوں کو تسلیم نہیں کرتی (آٹزم ایک ذہنی و نفسیاتی بیماری اور کیفیت ہے جس میں بچے یا تو اپنی دنیا میں گم ہو جاتے ہیں یا پھر انھیں دوسرے بچوں یا آس پاس کے لوگوں سے میل جول رکھنے اور نارمل تعلقات میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ) ۔

اب رہی بات ویکسینز کے نتائج یا ممکنہ اثرات کی تو ظاہر ہے جدید دور میں انسانی جسم پر بہت سارے تجربات کیے جا رہے ہیں اور ان سب کے نتائج کے بارے میں درست اندازہ لگانا شاید اتنا آسان نہیں ہے لیکن ایک بات تو واضح ہے کہ اتنی ساری انسانی ترقی بہرحال سائنس کی ہی مرہون منت ہے اور عام انسانی زندگی پر سائنس کا شعوری اور غیر شعوری بہت اثر ہے اور اب ہم عام طور پر سائنس کی ہی پیروی کر رہے ہوتے ہیں اور اگر کسی بات کا رد بھی کرنا ہو تو اس کے لیے بھی سائنس کا ہی حوالہ دیا جاتا ہے تاکہ اس کو قابل یقین بنایا جاسکے۔

کرونا ویکسین کی ابتدا سے جو بنیادی مسائل رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ بہت ہنگامی طور پر تیار کی گئی ہیں اور ان کے نارمل روٹین کے بہت سارے معیارات پر شاید سمجھوتہ بھی کیا گیا ہو کیونکہ عام طور پرایک ویکسین کی تیاری میں سالوں لگ جاتے ہیں۔ اگرچہ جدید اور تیز ترین ٹیکنالوجی کو اس کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں کے خدشات اور تحفظات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے جن ممالک میں یہ ویکسینز تیار کی گئی ہیں تو ان ویکسینز کی تیاری میں مختلف طریقہ کار اپنائے گئے ہیں۔

مثلاً چین میں جو ویکسینز تیار کی گئی ہیں وہ روایتی ویکسینز کے طریقہ کار پر مبنی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ایسڑا زینیکا ویکسین نے ایک جدید طریقہ کار اختیار کیا ہے جو ویکسین کے حوالے سے شاید نیا تجربہ ہے اگرچہ ماہرین کے مطابق وہ بہت موثر طریقہ کار ہے لیکن چونکہ بالکل نیا ہے تو اس کے اثرات کے بارے میں زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ ایسڑا زینیکا ویکسین جو برطانیہ میں آکسفورڈ میں تیار کی گئی اس کے ٹرائل کے شروع میں ہی مسائل سامنے آئے تھے جن کو اگرچہ وقتی طور پر حل کر لیا گیا لیکن ابھی تک کئی لوگوں میں اس کے مضر اثرات (یعنی خون جمنے یا گاڑھا ہونے جیسے مسائل) سامنے آرہے ہیں۔

اور ابھی حال ہی میں بی بی سی کی ایک ہونہار خاتون رپورٹر، لیزا شا کی موت کی وجہ بھی ایسڑا زینیکا ویکسین کے مضر اثرات کوہی قرار دیا جا رہا ہے تو ایسی صورت حال میں لوگوں کے اندر بے چینی پیدا ہونا ایک فطری امر ہے اگرچہ لاکھوں لوگوں کو اس ویکسین کی خوراکیں لگ چکی ہیں لیکن اس کے باوجود ظاہر ہے انسانوں کو صرف اعداد و شمار کے خانوں اور پیمانوں سے نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ جب ہمارے قریب کے کسی فرد کو اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو ہمیں ان اعداد و شمار سے غرض نہیں ہوتی کیونکہ ایسی صورت حال میں ہمارے لیے ہمارے آس پاس کے لوگ اہم ہوتے ہیں اعداد و شمار اہم نہیں ہوتے۔

اور ویسے بھی میڈیکل سائنس کا ایک مسلمہ اصول یہ ہے کہ لوگوں کو علاج معالجے کے بارے میں نہ صرف مکمل معلومات فراہم کی جائیں بلکہ علاج کے طور طریقوں اور ادویات کے اثرات و مضمرات سے بھی صحیح طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ لوگ اپنا آزادانہ فیصلہ لے سکیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر مختلف ماہرین کی مدد سے لوگوں کی آگاہی اور معلومات کے لیے ایک جامع حکمت عملی سامنے لانی جائے جس میں وبا اور ویکسینز کے بارے میں تمام تحفظات و خدشات کا ازالہ کیا گیا ہوتا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس عمل سے فائدہ اٹھا سکیں اور ان کا ویکسینیشن کے عمل پر اعتماد بحال ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *