شکارپور آپریشن اور کچے کے ڈاکو سے 30 برس قبل ہونے والی ایک ملاقات: ’میں کب آوارہ وطن ہوا اور کب ڈاکو بنا، خبر تک نہ ہوئی‘

فاروق عادل - مصنف، کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ ہفتے سندھ پولیس نے تیغانی قبیلے کے سربراہ تیغو خان تیغانی کو کراچی سے گرفتار کیا تو میری آنکھوں میں ایک شخص کی تصویر گھوم گئی جس کا انٹرویو میں نے تیس برس قبل کیا تھا۔ دُبلا پتلا، پھرتیلا اور تمیز سے بات شروع کر کے غصے میں آ جانے والا شخص۔

اُس نے میرا سوال سُنا اور میرا جملہ دہراتے ہوئے کہا ’میں اس لائن میں کیوں آیا؟ میں اس لائن میں انتقام کے لیے آیا سائیں۔ انتقام نے کلیجے کا آگ ٹھنڈا تو کیا لیکن خبر تک نہ ہوئی کہ کب میں آوارہ وطن (دربدر) ہو گیا اور کب ڈاکو بنا۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں، سوائے موت کے، میری موت اور وہ جو میری موت چاہتا ہے، اُس کی بھی موت۔‘

بات کرتے کرتے اُس کی آنکھیں سُرخ ہو گئیں اور اچانک خاموش ہو کر اس نے سر جھکا لیا۔

وہ کون تھا؟ شاید قادو مولائی، پنن سودائی یا کوئی اور۔۔۔ مگر لوگ اسے ’ڈاکو‘ کے نام سے جانتے تھے اور ہمارے درمیان یہ معاہدہ تھا کہ میں دورانِ انٹرویو اُس کی شناخت دریافت کروں گا اور نہ یہ جاننے کی کوشش کروں گا کہ یہ ملاقات کہاں ہو رہی ہے۔

وہ مئی 1991 کا کوئی دن تھا اور سندھ میں سورج سوا نیزے پر تھا لیکن اس کے باوجود ایک ایسی افتاد آن پڑی کہ کراچی سے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد لاڑکانہ پہنچ رہی تھی اور وجہ یہ تھی کہ سندھ کے کچے کے علاقے کے ڈاکوؤں نے تین چینی انجینیئرز کو اغوا کر لیا تھا۔

چینی انجینیئرز کو بھی جانے کیا سوجھی تھی کہ انھوں نے کشتی کرائے پر لی اور شیر دریا یعنی دریائے سندھ کی لہروں پر رواں ہو گئے۔ وہ ہنستے کھیلتے آگے بڑھتے جاتے تھے کہ ’پیارو گوٹھ‘ کے قریب اس سفر کا اختتام ہو گیا، یعنی انھیں اغوا کر لیا گیا۔

اغوا کی یہ خبر بہت سے مسائل میں گھری ہوئی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی پیٹھ پر ایک تازیانے کی طرح برسی۔ اُن دنوں سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی ہوا کرتے تھے۔ عمر اور صحت، ان دنوں دونوں اس کرشمہ ساز سیاست دان کا ساتھ دینے کے موڈ میں نہ تھے لیکن اس کے باوجود وہ ہیلی کاپٹر میں بیٹھے اور دوست ملک کے سیاحوں کی بازیابی کے مشن پر روانہ ہو گئے۔

جام

Getty Images
دائیں سے بائیں: جام صادق، نواز شریف اور الطاف حسین

قربان عباسی ایک سیاسی شخصیت ہیں اور اُن دنوں میونسپل کارپوریشن لاڑکانہ کے ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے ایسے معاملات سے پوری طرح آگاہ ہی نہیں بلکہ انتظامی معاملات کے ایک فعال رکن بھی تھے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ کچے کا علاقہ تھا جہاں جام صاحب کے مقامی معتبرین، بااثر افراد اور زمین داروں کے ساتھ مذاکرات ہوئے جن میں ایک خطیر رقم (اس زمانے میں یہ رقم لاکھوں میں تھی) کے عوض چینی مغویوں کی رہائی کا فیصلہ ہوا۔

مغویوں کی رہائی عمل میں آئی تو صحافیوں کی بھیڑ بھی چھٹ گئی لیکن ایک ہفت روزے کا رپورٹر کیا کرتا؟

کسی ہفت روزے کا شمارہ شائع ہو کر جب تک بازار میں آتا ہے اخبارات بہت کچھ شائع کر چکے ہوتے ہیں۔ یہی سبب تھا کہ صحافیوں کی واپسی کے باوجود میں نے لاڑکانہ میں مزید قیام کا فیصلہ کیا اور سوچا کہ کیوں نہ اس ڈاکو تک پہنچا جائے جس نے یہ سارا ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔

لاڑکانہ میں چند روزہ قیام کے دوران چند صحافیوں اور شہر کے اہم افراد سے تعلق استوار ہو چکا تھا اور کچھ دوستیاں بھی بن چکی تھیں اور پھر میں نے اپنے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کچھ رابطے کیے۔

اگلے دن موصول ہونے والے ایک پیغام نے میری ساری تھکن دور کر دی۔ پیغام یہ تھا کہ ’کام ہو جائے گا لیکن یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ آپ کو کہاں لے جایا گیا ہے اور جس سے آپ مل رہے ہیں اس کی شناخت کیا ہے؟‘

وہ رات سوتے جاگتے گزر گئی۔ صبح پو ابھی پھوٹی نہیں تھی کہ ایک جیپ مجھے لینے آن پہنچی۔ بند جیپ اور مسلح افراد، میرے کانوں میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔

جمال صاحب نے کہا تھا کہ اپنی مہم جوئی میں جو چاہے کرنا لیکن کچے کا رُخ ہرگز نہ کرنا۔ جمال احمد سکھر کے بزرگ صحافی اور جگت استاد تھے۔ دھول مٹی سے اٹی ہوئی جیپ کے سارے آثار کچے میں سفر کے تھے۔

میں ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ گیا، پھر یہ سوچ کر جیپ کی طرف بڑھا کہ خبر اور خطرے کا چولی دامن کا ساتھ ہے، جو ہو گا دیکھی جائے گی۔

اتنے میں جیپ سے نکل کر کالی سیاہ داڑھی والے ایک چوکس سے آدمی نے میرا خیر مقدم کیا ’بھلی کری آئیو، سائیں (یعنی خوش آمدید)۔

میں نے مسکراہٹ کا جواب نسبتاً سنجیدہ مسکراہٹ سے دیا اور قدم پائیدان پر رکھ کر گاڑی میں سوار ہو گیا۔ میزبان نے میری پیروی کی اور میرے پیچھے وہ بھی جیپ کے اُسی حصے میں سامنے والی نشست پر بیٹھ گیا۔

میری سنجیدگی اور احتیاط اُس کے لیے قابل فہم تھی۔ اُس نے جیب سے سگریٹ کی ڈبیا نکالی، سگریٹ مجھے پیش کر کے دیا سلائی جلائی اور بجھنے سے بچانے کے لیے اس مہارت کے ساتھ دونوں ہاتھوں کے حصار میں اسے لیا کہ ان کے درمیان ٹمٹماتے ہوئے ننھے سے شعلے نے خود کو محفوظ تصور کیا ہو گا۔

میکانکی انداز سے ایک نظر میں نے اس کی طرف دیکھا اور سوچا کہ یہ شخص اگر اجرک کی کلف لگی کنگرے دار پگڑی باندھ کر کھلے گھیر والا سندھی شلوار، کرتا پہن کر ’اکتارا‘ سنبھال لے تو سیدھے دل میں اتر جانے والے ’ہوالا‘ کے الاپ والا الن فقیر لگے!

لمحے بھر کے مختصر وقت میں آنے والے اس خیال کے زیر اثر میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔

میری طرف دیکھتے ہوئے اس نے کہا کہ ’جلاؤ سائیں جلاؤ‘ اور میں نے سگریٹ ہونٹوں میں اڑس کر اسے شعلے سے چھو لیا۔ گویا چراغ سے چراغ جل اٹھا، میرے میزبان نے بھی اسی چراغ سے استفادہ کیا اور ایک لمبا کش کھینچ مجھے تسلی دی کہ ’ابھی پہنچ جاتے ہیں، سائیں۔‘

سگریٹ فریقین کے درمیان کھچی ہوئی تناؤ کی دیوار کو گرانے میں مؤثر ثابت ہوا، یوں مجھے پہلی بار اندازہ ہوا کہ غم کی طرح سلگتی ہوئی اس مختصر سی شے کو لوگ ذہنی دباؤ کے وقت کیوں استعمال کیا کرتے ہوں گے۔ ہمارے درمیان مکالمہ شروع ہو گیا۔

’آپ بھی اُس کے ساتھی ہو؟‘

ہاں سائیں۔

کیا کرتے ہو؟

جو حکم ملے سائیں۔

خوشی سے کرتے ہو؟

خوشی سے کرتے ہیں۔

اس کام میں کیسے لگ گئے؟

مجبوری سے سائیں

کیسی مجبوری؟

اس سے پہلے کہ وہ کش مکمل کر کے دھواں چھوڑتا اور بات کچھ کہنے کے لیے زبان کھولتا جیپ ایک جھٹکے ساتھ رُک گئی۔

’آؤ سائیں آؤ، ہم پہنچ گئے۔‘

گھنے درختوں کے جھنڈ میں یہ جگہ کسی نخلستان جیسی تھی۔ کسی خوش ذوق زمیندار کے ڈیرے کی طرح۔ دائیں بائیں محتاط اور مسلح لوگ تھے جو ہمیں دیکھ کر مزید محتاط ہو گئے۔ اُن کی تیز نگاہوں میں میرے ساتھ آنے والے کے لیے احترام کے جذبات تھے، وہ مجھے لیے سامنے ایک چھتنار درخت کی طرف بڑھا۔

سورج کی کرنوں میں درخت کے سائے کی ہوا مہربان بلکہ خوشگوار تھی۔ مہذب سندھی میزبانوں کی طرح اس نے ایک بار پھر ہاتھ جوڑے اور ذرا سا جھکتے ہوئے کہا ’بھلی کری آئیو، سائیں بھلی کری آئیو۔‘

اب یہ راز کھل چکا تھا کہ لاڑکانہ سے مجھے یہاں تک لے کر آنے والا دراصل خود ہی میزبان بلکہ میرا مطلوب تھا۔ میں نے اُس پوچھا کہ ’آپ خود ہی مجھے لینے پہنچ گئے؟‘ وہ مسکرایا اور کہا کہ ’آپ ہماری خاطر کراچی سے لاڑکانو (دیہی سندھ میں لاڑکانہ کو لاڑکانو ہی کہا جاتا ہے) تک آ گیا، ہم نے سوچا کہ لاڑکانو تک تو ہم بھی پہنچ سکتا ہے۔‘

کچے کے ڈاکو کا جذبہ میزبانی کسی بھی سادہ دل کو مٹھی میں کر لینے کے لیے کافی تھا۔

ہمارے درمیان ایک طرح سے اعتماد کی فضا بحال ہو چکی تھی۔ بان کی رنگیلے پائیوں والی مضبوط اور کسی قدر چوڑی چارپائی پر تکیہ سیدھا کرتے ہوئے اس نے مجھے بیٹھنے کی دعوت دی اور قریب رکھے سرکنڈوں کے بڑی پشت والے موڑھے پر یوں بیٹھ گیا جیسے صدر مجلس کرسی صدارت سنبھالتا ہے۔ اتنے میں چائے آ گئی، ساتھ میں چاول کی میٹھی روٹی اور اچار۔

’بسم اللہ کرو، سائیں‘ سایہ دار گھنے درخت کی ٹھندی چھاؤں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد گگھی کی دلنشین چہکار میں وہ ناشتہ یادگار ہو گیا۔

چائے کا پہلا گھونٹ لیتے ہوئے میں نے میزبان کو پہلی بار ’سائیں‘ کے معتبر لفظ سے مخاطب کرتے ہوئے دریافت کیا کہ یہ آپ کس کاروبار میں پڑ گئے؟ کاروبار کے لفظ پر اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ اُبھری اور کہا کہ ’اور کیا راستہ تھا ہمارے پاس؟‘

یہ کہہ کر وہ خاموش ہوا تو میں سوال کیا ’وہ کیسا انتقام تھا جس نے تمھیں اس راستے پر ڈالا؟‘

سوال سُن کر وہ کچھ دیر تک خاموش رہا پھر کہا کہ ایک واقعہ سُنو سائیں۔ ’زیادہ پرانی بات نہیں ہے، علاقے سے ایک موٹر سائیکل چوری ہو گیا، یہ واردات پولیس کے لیے کتنی بڑی نعمت بن گیا، آپ سوچ بھی نہیں سکتا سائیں!‘

میں پھر خاموش رہا تو ذرا سے وقفے کے بعد اس نے بات جاری رکھی اور کہا کہ ’پولیس والوں نے اگلے چند گھنٹوں میں علاقے سے پچیس تیس موٹر سائیکل اٹھا لیے، لوگوں کے کاروبار رُک گئے، دیہاڑیاں ٹوٹ گئیں، بس یوں سمجھو سائیں، ہر کام رُک گیا۔ سفارش اور منھ ملاحظے کے ساتھ جو بھی تھانے پہنچتا، پہلے بے عزت ہوتا، گالی گفتار کا سامنا کرتا پھر اپنی طاقت کے مطابق ہزار دو ہزار دے کر اسے موٹر سائیکل واپس ملتا۔‘

بس، اتنی بات پر آپ کچے میں آ بیٹھے اور پوری دنیا کو مصیبت میں ڈال دیا؟ میں نے سوال کیا تو اس نے بلاتوقف کہا کہ ’یہ اتنی سی بات نہیں ہے سائیں، پولیس کمزور پر کتنا ظلم ڈھاتی ہے، یہ آپ سوچ بھی نہیں سکتا۔‘

کیا ظلم ڈھاتی ہے؟ میں نے کسی انجان کی طرح سوال کیا تو اس نے زہر خند ہو کر کہا کہ ’اتنے انجان نہ بنو سائیں، آپ بھی جانتے ہو، ظالم اور پولیس کے درمیان اتحاد اور مفاد کا رشتہ ہے جس میں کمزور بے آسرا یوں پس جاتا جیسے چکی کے دو پاٹوں کے درمیان گندم کے دانے۔‘

میرے ذہن میں سندھ کے ممتاز صحافی عبدالحفیظ عابد کا ایک جملہ گونجا۔ حیدرآباد سے گزرتے ہوئے ان سے میری ملاقات ہوئی تھی، ان کا تجزیہ تھا کہ ڈاکو راج کی جڑ کاٹنی ہے تو وڈیرے، پولیس اور انتظامیہ کے ناپاک اتحاد کا خاتمہ کرنا پڑے گا۔

یہ شخص بھی کچھ ایسی بات ہی کہہ رہا تھا۔ میرا خیال دور تک پہنچا اور میں نے سوچا کہ تعلیم روزگار، تحفظ اور انصاف، اس کے بغیر بھی تبدیلی ممکن نہیں۔

میرے میزبان کی بات جاری تھی اور وہ کسی امجد شاہ کاواقعہ سُنا رہا تھا جو پولیس تشدد کی وجہ سے کئی ہفتوں تک بے ہوش پڑا رہا، کہیں اس کی داد فریاد نہیں سنی گئی۔ اس نے کہا ’مجھے بتاؤ سائیں، جب اس کے بچے بڑے ہوں گے، وہ کیا کریں گے، انتقام لینے کے لیے وہ میرے پاس آئیں گے یا میرے جیسے کسی اور کے پاس آئیں گے تاکہ انھیں سہارا ملے۔‘

سہارے کا ذکر چلا تو میں نے روا روی میں اس سے پوچھ لیا کہ آپ کس کے سہارے میں ہو؟ مجھ سے اس سوال کی اسے شاید توقع نہ تھی، حیرت سے میری طرف دیکھا پھر مسکراتے ہوئے کہا کہ ’یہ سوال اصول کے خلاف ہے۔‘ اُس کا اشارہ ان شرائط کی طرف تھا جو اس ملاقات پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے اس نے درمیانی رابطے کے ذریعے مجھ تک پہنچائی تھیں۔

یہ کہہ کر وہ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر کہا کہ مجھے معلوم ہے سائیں، یہ سوال تم نہیں بھولو گے، میں جواب نہیں دوں گا تو پلٹ کر پوچھو گے، کسی اور انداز سے پوچھو گے۔

یہ کہتے کہتے بظاہر اس نے بات اُدھوری چھوڑ دی اور کسی اور خاندان کاواقعہ سُنایا جس پر اتنا ظلم کیا گیا کہ وہ کنگال ہو گئے، خواتین بے آبرو ہوئیں اور بھاگ کر کہیں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں اور ان کے مرد جنگلوں میں مارے مارے پھرتے رہے پھر ایک روز کسی نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ دیا، وہ ڈاکو بن گئے۔

’ایسے لوگوں کے سر پر ہاتھ رکھنے والے کون ہوتے ہیں؟‘ میرا یہ سوال اس نے سُنا لیکن اپنی بات کی روانی پر اس نے کوئی فرق نہیں پڑنے دیا پھر کہا کہ کوئی بھی ہو سکتا ہے، اتنا کہہ کر اس نے چند لوگوں کے نام لیے۔ ایسے لوگ سندھ کے قبائلی معاشرے میں جن کے بغیر کاروبار زندگی نہیں چل سکتا، نواب، سردار، وڈیرہ اور میر و پیر۔

یہی لوگ ہیں جن کی یہاں سُنی جاتی ہے، اس نے کہا ’اسمبلیاں، حکومتیں جن کے بغیر نہیں چلتیں، خود ہمارا کام بھی ان کے بغیر نہیں چلتا۔ ان کے زیر سایہ ہم محفوظ ہیں، اسلحہ ہے، طاقت ہے، تحفظ اور روزگار بھی۔ بس یوں سمجھو سائیں کہ پولیس ان کی غلام ہے اور ہم ان کے کارندے ہیں۔‘

اتنا کہہ کر وہ سانس لینے کے لیے رُکا پھر فلم کے کسی ڈائیلاگ کی طرح ایک جملہ بولا: ’ہم تو زندہ آدمی اغوا کرتا ہے سائیں، لاش پر رشوت لینے والوں کے بارے میں سوچو۔‘

کچے کا میزبان کہہ رہا تھا کہ ہمیں انصاف کی امید ہو تو کیوں ہم جنگلوں میں مارے مارے پھریں، ہمارا دل بھی چاہتا ہے کہ ہمارے بچے سکول کالجوں میں پڑھیں، اچھا کھائیں، بڑے افسر بنیں اور عزت کے ساتھ رہیں۔

’اچھا، یہ جو لوٹ مار اور تاوان کے نام پر اتنی دولت تم لوگ جمع کرتے ہو، اس کا کیا کرتے ہو؟‘

’یہ بڑا بڑا رقم جس کی خبریں اخبار میں چھپتی ہیں، یہ ساری کی ساری ہمارے ہاتھ میں کہاں آتی ہے، جن سے مذاکرات ہوتے ہیں، جن کے حوالے کی جاتی ہے، پہلے وہ اپنا حصہ نکالتے ہیں، اس کے بعد جو تھوڑا بہت بچتا ہے، ہمارے حصے میں آتا ہے۔ یوں سمجھو سائیں کہ سانس چلانے کے لیے یہ ضروری نہ ہوتا تو یہ بھی نہ ملتا۔‘

وہ سانس لینے کو رُکا پھر کہا ’ڈاکو راج کے خاتمے کے لیے آپریشن کی ضرورت نہیں، ہماری مجبوری ختم کرنے کے لیے کسی بڑے کام کی ضرورت ہے لیکن یہ سوچنے کا وقت کس کے پاس ہے؟‘

مجھے لگا کہ لوٹ مار، قتل و غارت گری اور اغوا برائے تاوان جیسی وارداتوں کے ذریعے معاشرے کو لہولہان کر دینے والا یہ شخص محض ایک چہرہ ہے، اس چہرے کے پیچھے کیا ہے، یہ دیکھنے ضرورت غالباً کسی نے محسوس نہیں کی یا کسی میں اس کی ہمت ہی نہیں۔

کچھ دیر کے بعد جب میں لاڑکانہ واپسی کے لیے جیپ کی طرف بڑھا تو اُس نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا جیسے کوئی راز داری میں بات کرتا ہے ’کس بدبخت کا دل چاہتا ہے کہ وہ جنگلوں میں خواری کرتا پھرے اور بال بچوں کے لیے ترسے لیکن آپ نہیں جانتا سائیں کہ اس جنگل میں آنے کے راستے بھی بہت ہیں اور یہاں لانے والے بھی کم نہیں لیکن واپسی کا راستہ کوئی ایک بھی نہیں۔ نہ کسی نے بنانے کی ضرورت آج تک محسوس کی ہے۔‘

شکار پور کے تیغو خان تیغانی کی خبروں کے ہجوم میں اس بھولی بسری ملاقات کی یاد تازہ ہوئی تو میں نے سوچا کہ سنہ 1991 سے سنہ 2021 تک کچھ بھی نہیں بدلا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19394 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp