ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت سے متحدہ عرب امارات منتقل ہو سکتا ہے: آئی سی سی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کہا ہے کہ رواں برس بھارت میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ متحدہ عرب امارات منتقل ہو سکتا ہے۔

آئی سی سی نے منگل کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کے لیے عرب امارات کو بطور متبادل وینیو زیر غور لایا جا رہا ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے یہ بیان ایسے موقع میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران یومیہ ایک لاکھ سے زیادہ کیسز اور تین ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہو رہی ہیں۔

تاہم، آئی سی سی کے بیان میں کرونا وائرس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ البتہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارت کو کرونا وائرس کی تیسری لہر کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا شیڈول متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق، آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کہاں کھیلا جائے گا اس حوالے سے رواں ماہ کے آخر تک حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا۔

کرکٹ کی عالمی تنظیم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کسی بھی ملک میں ہو، لیکن اس کی میزبانی بھارت کے پاس ہی رہے گی۔

دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس نے آئی سی سی کو کہا ہے کہ بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد سے متعلق حتمی فیصلے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل ہی بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے اعلان کیا تھا کہ رواں برس ستمبر اور اکتوبر میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے بقایا میچز کی میزبانی متحدہ عرب امارات کرے گا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایونٹ کے متحدہ عرب امارات منتقلی کی وجہ مون سون بتائی ہے اور بیان میں کرونا وائرس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

بھارت میں کرونا کیسز میں تیزی اور کھلاڑیوں کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد چار مئی کو ایونٹ ملتوی کر دیا گیا تھا۔

اگر بھارتی کرکٹ بورڈ کے اعلان کے مطابق آئی پی ایل کے بقایا میچز امارات میں ہوتے ہیں تو یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے شیڈول سے متصادم ہو گا، کیوں کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ رواں برس اکتوبر اور نومبر میں ہونا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2234 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *