الو اور اس کے پٹھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الو ایک دانا اور سمجھدار جانور ہے جو پرواز بھی کر سکتا ہے۔ یہ ایک شکاری پرندہ ہے جو دن میں سوتا ہے اور رات کے وقت شکار پر نکلتا ہے۔ کچھ دن میں بھی شکار کرتے ہیں۔ الو ایک وقت میں تین اطراف میں دیکھ سکتا ہے جبکہ انسان صرف 2 اطراف میں دیکھ سکتا ہے۔ الو کی سننے کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ آواز کی سمت اور آنے والی آواز کے فاصلے کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔ چڑ چچڑ چچڑ چچڑ بہت کرتے ہیں۔ عمومی طور پر الو کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔

یہ محض حاسدین کے پروپیگنڈے کا اثر ہے۔ الو ہر گز منحوس نہیں ہوتا ہے۔ یہ تو بہت خوبصورت ہے۔ الو کے نرم و ملائم پر اور ان پر بے حد حسین قدرتی ڈیزائن بتاتے ہیں کہ الو قدرت کا حسین شاہکار ہے۔ دنیا بھر سے اشرف المخلوقات میں سے کوئی نہیں بتا سکتا ہے کہ الو کی منحوسیت کیا ہے۔ محض توہم پرستی ہے۔ الو پر بہتان ہیں بلکہ الو کے قرب سے کئی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جاپان میں الو خوش بختی کی علامت ہے۔ ہندو معاشرے میں لکشمی دیوی کی سواری سمجھا جاتا ہے۔

الوؤں کی اپنی نسل اتنی نہیں ہے البتہ خبریں ہیں کہ ناپید ہو رہی ہے۔ اس لئے الوؤں کی تمام تر توجہ اپنے شاگردوں پر مرکوز رہتی ہے جن کو عرف عام میں الو کے پٹھے کہا جاتا ہے۔ یہ الو کی طرح شکاری نہیں ہوتے ہیں۔ بس تھوڑی بہت مار کر لیتے ہیں۔ الو کی طرح تین اطراف کی بجائے صرف ایک طرف دیکھتے ہیں جو انہیں کہا جاتا ہے۔ چڑ چڑ یا چچڑ چچڑ نہیں کرتے ہیں۔ وہی بولتے ہیں جو انہیں بولنے کو کہا جاتا ہے۔ انہیں طوطے کی طرح جو رٹایا ہوتا ہے۔ وہی ان کی کل کائنات ہوتی ہے۔ خود سوچنے، سمجھنے اور دیکھنے کی زحمت بالکل نہیں کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر شریف النفس ہوتے ہیں مگر ان کی خواہشات کچھ زیادہ ہوتی ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام تر خواہشیں پوری ہوں اور پوری بھی کسی سے ہوں یعنی کوئی اور کرے۔ ساری عمر خوشامد اور چاپلوسی میں گزار دیتے ہیں۔

الو کے پٹھے اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لئے دوسروں کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ ایسی امیدوں کے سہارے رہتے ہیں جو کبھی پوری ہونے والی نہیں ہوتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے نوالوں کے لئے جی حضوری کرنا محبوب مشغلہ رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی فیض یاب اس قدر ہوتے ہیں کہ زمین سے آسمان تک پہنچ جاتے ہیں اور نامی گرامی بن جاتے ہیں۔ انسانوں سے انہیں شدید نفرت ہوتی ہے۔ زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ باتوں میں ہی کئی ملک فتح کرلیتے ہیں۔ جھوٹ کی سرفرازی میں عظمت خیال کرتے ہیں۔ سچ سے ڈرتے ہیں۔ سچ بولنے والوں کی جان لینا سعادت سمجھتے ہیں۔ یہی ان کا طرہ امتیاز ہے۔

یہ عجیب الخلقت پچھلے چند سالوں سے بڑی تیزی کے ساتھ ابھری ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں بکثرت نظر آتی ہے۔ نر مادہ میں ابہام رکھتے ہیں۔ نر ہے تو مادہ نظر آنے کی کوشش میں ہوگا اگر مادہ ہے تو نر بننے کی سعی لاحاصل میں ہے۔ جنہیں وہ اپنا شوق یا پھر یوں کہتے سنا ہے کہ ہر کسی کا اپنا اپنا نظریہ ہوتا ہے۔ شاید وہ اپنے اپنے نظریہ کے موجب ہی خود کو نظریاتی بھی کہتے ہیں۔ خود کو کچھ بھی کہیں ان کا حق ہے۔ جو مرضی بوجھ اٹھا کر رکھیں۔

مگر جھگڑا اس بات کا ہے کہ وہ اپنے مظاہر میں اس بات پر بضد ہوتے ہیں کہ سب ان کے جیسا ہوجائیں پھر انہیں امان مل سکتی ہے۔ بصورت دیگر وہ علاقہ چھوڑ جائیں اور رہنا ہے تو بولنا نہیں ہے۔ خاموشی سے اپنی زندگی کریں۔ اگر بولنا ضروری ہے تو پھر ہماری اجازت سے بولیں۔ انہیں کیا معلوم کہ ہواؤں کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ مندرجات محض تفریح طبع کے لئے ہیں۔ مماثلت اتفاقیہ ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *