کووڈ 19: ویکسین سے متعلق خدشات میں کتنا سچ کتنا جھوٹ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کورونا، ویکسین

Getty Images

کووڈ انفیکشن سے بچنے کے لیے ویکسین ہی سب سے اہم اور مؤثر ذریعہ ہے۔ پاکستان میں دستیاب زیادہ تر ویکسینز دو خوراکوں پر مشتمل ہیں یعنی مناسب وقفے سے دو ٹیکے جو آپ کو کووڈ سے محفوظ رکھ پائیں گے۔

پاکستان میں اب تک ویکسین کی 85 لاکھ خوراکیں دی جا چکی ہیں یعنی کئی افراد ایسے ہیں جنھیں دونوں خوراکیں مل چکی ہیں اور بہت سے ایسے جو پہلی خوراک لے چکے ہیں اور متعین وقت پر انھیں دوسری خوراک دی جائے گی۔

پاکستان میں ویکسین کے حوالے سے لوگوں میں اب بھی بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور ایسا صرف پاکستان میں نہیں بلکہ ہمسایہ ملک انڈیا اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی صورتحال اس سے کچھ مختلف نہیں۔

دلی میں موجود بی بی سی کے نمائندوں نے سینیئر وائرولوجسٹ (وائرس سے متعلقہ امراض کے ماہر) ڈاکٹر یتین مہتا اور ایشور گیلڈا سے بات کر کے ان غلط فہمیوں سے متعلق بات کی ہے جو عوام میں خاصی مقبول ہیں۔

ان دونوں ڈاکٹروں نے اپنے برسوں کے تجربے کی بنیاد پر کچھ مشورے دیے ہیں تاہم آپ کو چاہیے کہ کچھ کرنے سے قبل آپ اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔

یہ بھی پڑھیے

یورپی یونین نے آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا کو محفوظ قرار دے دیا

آکسفورڈ ویکسین: سائنسدانوں نے یہ اتنی جلدی کیسے بنا لی؟

روس میں کئی افراد کورونا کے خلاف ’سپٹنِک ویکسین‘ لگوانے سے گریزاں کیوں ہیں؟

کیا ویکسین آپ کو بانجھ بنا دے گی؟

یتین مہتا: یہ بالکل غلط ہے۔ کورونا ویکسین وائرس کو بانجھ بناتی ہے انسانوں کو نہیں۔

ایشور گیلڈا: اس طرح کی افواہیں ہر قسم کی ویکسین کے بارے میں پھیلائی جاتی ہیں اور ہم نے ماضی میں دیکھا کہ وہ افواہیں غلط ثابت ہوئیں۔ اسی طرح اب بھی لوگ کورونا ویکسین کے بارے میں اس طرح کی افواہیں اڑا رہے ہیں، ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

کیا حاملہ خواتین ویکسین لگوا سکتی ہیں؟

ابھی تک انڈیا میں حاملہ خواتین کو ویکسین نہیں دی جا رہی لیکن لوگ اس بارے میں بھی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

یتین مہتا: انڈیا میں حاملہ خواتین کے لیے ویکسینیشن کی منظوری ابھی تک نہیں ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان خواتین پر ویکسین کے ٹرائل کا عمل مکمل نہیں ہوا تاہم نوزائیدہ بچوں والی خواتین کے لیے اسے لینا مشکل نہیں۔

ایشور گیلڈا: اب تک کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کووڈ ویکسین کا حمل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ امریکہ، برطانیہ اور چین میں حاملہ خواتین یہ ویکسین لے رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں انڈیا میں حاملہ خواتین کو بھی آنے والے دنوں میں ویکسین لینے کی اجازت ہو گی۔

لیکن اگر حاملہ خواتین کے لیے انڈیا میں ویکسین کی منظوری دی گئی تو وہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد ہی اسے لیں۔

کورونا، ویکسین

Getty Images

کیا ویکسین لینے کے بعد بھی کووڈ انفیکشن ہو سکتا ہے؟

یتین مہتا: کووڈ انفیکشن کا اثر بعض اوقات 14 دن کے بعد ظاہر ہوتا ہے، لہذا یہ ممکن ہے کہ اگر آپ کووڈ ویکسین لینے سے پہلے ہی اس سے متاثر ہو چکے ہیں تو ویکسین لینے کے بعد بھی آپ کو انفیکشن ہو جائے گا کیونکہ ویکسینیشن کے بعد اینٹی باڈیز تیار ہونے میں وقت لگتا ہے۔

ایسا صرف دو ہفتوں کے بعد ہوتا ہے۔ ویکسین لینے کے بعد انفیکشن ہونے کا خطرہ ہے لیکن ویکسین کے ذریعے جسم وائرس کے خلاف بہتر طور پر لڑ سکتا ہے۔ یہ بڑی حد تک آپ کی اپنی جسمانی حالت پر بھی منحصر کرتا ہے۔

ایشور گیلڈا: اسے ایک بریک تھرو انفیکشن کہا جاتا ہے اور زیادہ تر کیسز میں یہ ظاہر ہوا کہ ویکسین لینے سے پہلے ہی انفیکشن ہوا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سفر کے دوران یا ویکسین لینے کے عمل کے دوران آپ اس سے متاثر ہوئے ہوں لیکن ویکسین آپ کو کورونا سے بچاتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ویکسین لینے کے بعد انفیکشن کا اتنا مہلک اثر نہیں ہوتا۔

کیا کووڈ ویکسین لینے کے بعد خون کا جمنا اور قلب کے مسائل ہو سکتے ہیں؟

یتین مہتا: ویکسینیشن کے بعد کلاٹنگ (خون کا جمنا) ہو سکتی ہے لیکن انڈیا میں ایسے کیس بہت کم دیکھے گئے ہیں بلکہ انتہائی کم۔ یہ مسئلہ یورپ کے چند ممالک میں بزرگ افراد میں زیادہ دیکھا گیا لیکن ہم یہاں بہت ہی غیر معمولی معاملات میں اس کا سامنا کرتے ہیں۔ انڈیا کی وزارت صحت کی ایک کمیٹی کو حال ہی میں ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ انڈیا میں فی ملین 0.61 فیصد افراد کو کلاٹنگ کا مسئلہ درپیش آیا۔

اگر آپ پہلے ہی دل کے کسی مرض کا شکار ہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد ہی ویکسین لیں۔

ایشور گیلڈا: اگر انسانی جسم کو پانی بھی دوا کی شکل میں دیا جائے تو اس کے بھی مضر اثرات ہو سکتے ہیں، لہذا ویکسین کے بھی کچھ مضر اثرات ہوتے ہیں۔ کلاٹنگ کے کیس لاکھوں افراد میں سے صرف چند ایک میں دیکھے گئے ہیں۔

کووڈ 19، ویکسین

Getty Images

کیا کووڈ ویکسینوں میں خنزیر کی جلد استعمال کی گئی؟

یتین مہتا: اس میں کسی قسم کی کوئی حقیقت نہیں۔

ایشور گیلڈا: دیکھیں یہ افواہ کسی خاص مذہب کے لوگوں کو ویکسینیشن سے دور رکھنے کے لیے بھی پھیلائی گئی ہے لیکن اس میں اب تک کوئی حقیقت سامنے نہیں آ سکی۔

تاہم کوویشیلڈ میں چمپنزی اینٹی وائرس استعمال ہوتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کا سیرم انسٹیٹیوٹ آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا ویکسین مقامی طور پر تیار کر رہا ہے۔ یہ دنیا میں ویکسین بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ یہاں اسے کوویشیلڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے چمپینزی میں پائے جانے والے ایک بخار کے وائرس (ایڈینو وائرس) سے بنایا گیا ہے۔ وائرس کی شکل بدل کر اسے کورونا وائرس جیسا دکھایا گیا۔ اس سے کوئی شخص بیمار نہیں ہو سکتا۔

کیا آپ کووڈ ویکسین کے بعد گوشت اور مچھلی کھا سکتے ہیں؟

یتین مہتا: جی ہاں بالکل کھا سکتے ہیں۔

ایشور گیلڈا: ویکسین لینے کے بعد آپ بڑی پارٹی منا سکتے ہیں اور جو چاہیں کھا سکتے ہیں۔

کیا آپ کووڈ ویکسین کے بعد الکوحل لے سکتے ہیں؟

یتین مہتا: کووڈ ویکسین لینے کے کم از کم کچھ دن بعد تک آپ کو پرہیز کرنا چاہیے۔

ایشور گیلڈا: ویکسین کے 12 گھنٹے بعد الکوحل لی جا سکتی ہے۔ آپ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ویکسین لینے کے بعد آپ کے جسم پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اگر سب کچھ نارمل ہے تو آپ 12 گھنٹے بعد الکوحل لے سکتے ہیں۔

کیا کووڈ ویکسین میں مائیکرو چپس استعمال ہوئی ہیں؟

یتین مہتا: ویکسین مختلف اقسام کی اور مختلف شیشیوں میں ہیں تو کیا سب میں چپس ہیں؟ کوئی کسی مائع میں چپ کیسے لگا سکتا ہے؟ یہ سب بیکار باتیں ہیں۔

ایشور گیلڈا: ویکسین ایک مائع ہے اور دوسرا اسے جسم میں پتلی سرنج سے ڈالا جاتا ہے تو پھر چپس کیسے سرنج سے جسم میں داخل ہو سکتی ہیں۔

اگر کووڈ ویکسین لینے کے بعد ٹیسٹ کروائیں تو کیا رپورٹ مثبت آ سکتی ہے؟

یتین مہتا: ویکسین لے کر کووڈ 19 سے متاثر ہونے کا کوئی خطرہ نہیں لیکن اگر آپ ویکسین لینے سے پہلے کووڈ کی گرفت میں ہیں تو اس کو ٹیسٹ میں پکڑا جا سکتا ہے۔

ایشور گیلڈا: ویکسین لینے کے بعد کچھ لوگوں نے شکایت کی کہ اینٹی باڈیز نہیں بنی ہیں۔ لکھنؤ میں ایک شخص نے عدالت میں مقدمہ بھی دائر کر دیا لیکن یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بہت سی قسم کے اینٹی باڈیز ہیں۔۔۔ آئی ایم جی، آئی ایم ایم۔ عام طور پر جو ٹیسٹ کیا جاتا ہے وہ آئی ایم جی کا ہوتا ہے۔ اینٹی باڈیز جو ضروری طور پر ویکسین سے نہیں بنتی ہیں۔ آئی ایم ایم ٹیسٹ مہنگے ہیں۔

کووڈ 19، ویکسین

Getty Images

کیا نوجوانوں اور بچوں کو کووڈ کی ویکسین کی ضرورت نہیں؟

یتین مہتا: ہمیں ابھی تک بچوں کی ویکسینیشن کی منظوری نہیں ملی ہے۔ انڈیا کے ڈرگز کنٹرولر جنرل نے 13 مئی کو دو سے 18 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے بائیوٹیک کوویکسین کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے ٹرائلز کی منظوری دی ہے۔ امریکہ میں بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے محکمے نے 12 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ منظوری انڈیا میں بھی دستیاب ہو گی۔

دوسری لہر میں ہم نے نوجوانوں میں انفیکشن کے زیادہ کیس دیکھے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر نوجوانوں میں ہلکی نوعیت کا انفیکشن دیکھا گیا لیکن نوجوانوں میں سنگین نوعیت کے کیس بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ نوجوانوں کا وہ طبقہ جو گھر سے باہر کام پر جا رہا ہے، اگر وہ انفکشن سے متاثر ہوتا ہے تو پھر بہت زیادہ امکان ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کو بھی اس سے متاثر کر دے گا۔ ان کی حفاظت کے لیے ان کا ویکسین لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

ایشور گیلڈا: نوجوانوں کے لیے ویکسینیشن کا عمل شروع ہو چکا ہے اور بچوں کے لیے بھی جلد اجازت ملنے والی ہے۔ ویکسین سب کے لیے اہم ہیں۔ اگر آپ کچھ لوگوں کو دیتے ہیں اور کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں تو پھر وائرس کے انفیکشن کا خطرہ باقی رہے گا۔

خواتین کو حیض کے دوران ویکسین لینی چاہیے یا نہیں؟

یتین مہتا: جی ہاں کیوںکہ یہ ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔

ایشورگیلڈا: خواتین کی ماہواری پر ویکسین لینے کا کوئی اثر نہیں ہوتا لہذا خواتین ماہواری کے دوران بھی ویکسین لے سکتی ہیں۔

آپ کو کووڈ سے متاثر ہونے کے بعد ویکسین لینے کی ضرورت نہیں؟

یتین مہتا: یہ مکمل طور پر درست نہیں۔ کووڈ سے صحت مند ہونے کے بعد اینٹی باڈیز کچھ مہینوں تک باقی رہیں گی لیکن یہ ویکسین ضرور لینی چاہیے اور یہ کووڈ سے صحت مند ہونے کے دو تین ماہ بعد بھی لی جا سکتی ہے۔

ایشور گیلڈا: کوڈ سے صحت یاب ہونے کے فوری بعد ویکسین لینے کی ضرورت نہیں۔ جولائی 2020 سے ہم نے ممبئی میں ہر ماہ 150 مریضوں پر تحقیق کی ہے اور دس ماہ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ دوبارہ آٹھ سے دس ماہ بعد ہی کووڈ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جو لوگ دوبارہ 15-20 دن میں کووڈ میں مبتلا ہوئے ہیں وہ بھی غلط نہیں کیوںکہ ایسے کیسز میں یہ ہو رہا ہے کہ وہ کووڈ سے مکمل طور پر صحت یاب ہی نہیں ہوئے لیکن ان کی رپورٹ منفی آئی۔

کووڈ سے صحت یاب ہونے کے بعد اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد ہی ویکسین لینے کا حتمی فیصلہ کریں۔

فلو کی ویکسین کووڈ سے حفاظت کرتی ہے یا نہیں؟

یتین مہتا: فلو کی کوئی ویکسین کووڈ سے نہیں بچاتی ہے۔

ایشور گیلڈا: ابھی تک کووڈ کے لیے فلو کی ویکسین کارگر ثابت نہیں ہوئی۔

کیا کووڈ ویکسین لینے کے بعد ماسک یا سماجی فاصلوں کے اصول پر عمل کرنا ضروری ہے؟

یتین مہتا: ویکسین لینے کے بعد بھی آپ کو کورونا انفیکشن سے بچنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اپنانی چاہیں۔ آپ صرف ماسک اور سماجی فاصلے کے ذریعے وائرس پھیلانے (سپریڈر بننے) سے بچ سکتے ہیں۔

ایشور گیلڈا: ویکسین لینے کے بعد بھی آپ کو معاشرتی دوری اور کورونا سے بچاؤ کے قواعد پر عمل کرنا چاہیے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ آپ کورونا وائرس کا کیریئر بن سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کسی متاثرہ شخص سے انفیکشن لے کر کسی تیسرے شخص کو دے سکتے ہیں۔ آپ کو کورونا نہیں ہو گا لیکن آپ اس کے کیریئر بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اقسام کے وائرس سامنے آرہے ہیں لہذا ایسی صورتحال میں احتیاط برتنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19394 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp