انڈیا میں ماہواری کے دوران گھر سے بے دخل ہونے والی خواتین کے لیے ’بہتر اور محفوظ‘ جھونپڑیاں

گیتا پانڈے - بی بی سی نیوز ، دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Women of Kanal Tola outside their period hut

Prashant Mandawar
خواتین ایسے بغیر دروازوں والے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں

مغربی انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں ان ’ماہواری کی جھونپڑیوں‘ میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہے جہاں ہزاروں قبائلی خواتین اور لڑکیوں کو ان کی ماہواری کے دوران بھیجا جاتا ہے۔

ممبئی میں واقع ایک خیراتی ادارہ، کھیر واڑی سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن، انتہائی خستہ حال جھونپڑیوں کو بدل رہا ہے۔ ان جھونپڑیوں کو کرما گھر یا گاؤکر کہا جاتا ہے اور انھیں جدید آرام دہ گھروں میں، جہاں چارپائیاں، کمرے سے منسلک بیت الخلا، پانی اور شمسی بجلی کے پینل موجود ہیں، تبدیل کیا جا رہا ہے۔

لیکن اس مہم نے قدرتی جسمانی عمل سے منسلک بدنامی سے لڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان جھونپڑیوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ایک بہتر حکمت عملی ہوگی۔ لیکن مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اگر ماہواری سے جڑی شرمندگی کا رویہ بدستور قائم بھی رہے تب بھی وہ خواتین کو کوئی محفوظ جگہ مہیا کرتے ہیں۔

انڈیا میں ماہواری طویل عرصے سے ممنوع موضوع گفتگو ہے، حیض والی عورتیں ناپاک سمجھی جاتی ہیں اور سخت پابندیوں کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انھیں معاشرتی اور مذہبی کاموں سے روک دیا جاتا ہے اور انھوں نے مندروں، مزارات اور حتیٰ کہ باورچی خانے میں بھی داخلے سے منع کیا جاتا ہے۔

لیکن انڈیا کے غریب ترین اور انتہائی پسماندہ اضلاع میں سے ایک گڑچیرولی میں گوند اور مدیہ قبیلوں کی خواتین کو گھر سے بے دخل کرنے کا رجحان زیادہ ہے۔

ان کے روایتی عقائد کے مطابق انھیں ہر ماہ پانچ دن ایک جھونپڑی میں گزارنا پڑتے ہے، جو زیادہ تر جنگل کے کنارے گاؤں کے مضافات میں واقع ہے۔ انھیں کھانا پکانے یا گاؤں کے کنوئیں سے پانی لانے کی اجازت نہیں ہے اور انھیں خواتین رشتہ داروں کے ذریعہ فراہم کردہ کھانے اور پانی پر انحصار کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ان کو چھوتا ہے تو اسے فوری طور پر نہانا پڑتا ہے کیونکہ وہ بھی ’اس تعلق سے ناپاک‘ ہوجاتا ہے۔

توکوم گاؤں کی، جہاں گذشتہ برس پہلی جدید دور کی جھونپڑی بنائی گئی تھی، خواتین کہتی ہیں کہ اس سے 90 خواتین کے لیے زندگی اب کافی آسان ہو گئی ہے۔

اس سے پہلے ان کا کہنا تھا جیسے جیسے ان کی تاریخ قریب آتی جاتی تھی، خستہ حال جھونپڑی میں جانے کا خیال انھیں خوفزدہ کر دیتا تھا۔

مٹی اور بانس کے ڈھانچے والی جھونپڑی میں دروازہ یا کھڑکیاں نہیں تھیں اور یہاں تک کہ بنیادی سہولیات کا فقدان تھا۔ نہانے یا کپڑے دھونے کے لیے انھیں ایک کلومیٹر دور ایک ندی پر جانا پڑتا تھا۔

Women of Tukum outside their period hut

Prashant Mandawar
اس نئے ٹھکانے نے ان خواتین کی زندگی کو آسان بنا دیا ہے

35 سالہ سریخا ہلامی کہتی ہیں کہ گرمیوں کے دوران، یہ ناقابل برداشت حد تک گرم اور مچھروں سے بھری ہوتی تھی۔ سردیوں میں، ٹھنڈی ہوتی اور بارش کے دوران چھت ٹپکتی اور فرش پر کیچڑ بن جاتا۔ کبھی کبھی، آوارہ کتے اور خنزیر بھی آ جاتے تھے۔

21 سالہ شیتل ناروتی کہتی ہیں کہ جب اسے جھونپڑی میں تنہا رہنا پڑا، تو وہ خوف کے مارے رات کو سو نہیں سکتی تھی۔ ’اندر اور باہر اندھیرا تھا اور میں گھر جانا چاہتی تھی لیکن میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔’

اس کی ہمسائی، 45 سالہ درپیتا یوسیندی کا کہنا ہے کہ 10 سال پہلے جھونپڑی میں رہنے والی 21 سالہ خاتون سانپ کے کاٹنے سے ہلاک ہوگئی تھی۔

’ہم آدھی رات کے بعد ہی جاگ گئے تھے جب وہ جھونپڑی سے بھاگ کر چیخ رہی تھی۔ اس کی خواتین رشتہ داروں نے اس کی مدد کرنے کی کوشش کی اور اسے کچھ جڑی بوٹیاں اور مقامی ادویات بھی دیں۔

’مرد، حتی کہ اس کے کنبے کے افراد، اسے دور کھڑے سے دیکھتے رہے۔ ماہواری کی وجہ سے وہ اسے چھونے سے قاصر تھے کیونکہ حائضہ عورتیں ناپاک ہوتی ہیں۔ جیسے ہی اس کے جسم میں زہر پھیل گیا وہ درد کے مارے زمین پر لیٹ گئی اور کچھ ہی گھنٹوں بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔‘

ویڈیو کال پر خواتین نے مجھے اپنی نئی جھونپڑی کی سیر کروائی، جو کہ پلاسٹک ریسائیکل کی ہوئی بوتلوں سے بنی ہے جن میں ریت بھری ہوئی ہے۔ اس پر ایک خوش رنگ سرخ پینٹ کیا گیا ہے، اور سینکڑوں نیلے اور پیلے رنگ کی بوتلوں کے ڈھکن دیواروں پر جسپاں ہیں۔ اس میں آٹھ بیڈ ہیں اور ’سب سے اہم بات‘ جس کی خواتین نشاندہی کرتی ہیں وہ ایک ان ڈور ٹوائلٹ ہے جسکا دروازہ وہ اندر سے بند کر سکتی ہیں۔

Sheetal Narote

Prashant Mandawar
شیتل جب پہلے بار یہاں تنہا رہیں تو وہ ساری رات سو نہیں پائیں

کے ایس ڈبلیو اے کے نکولا مونٹیریو کا کہنا ہے کہ اس پر ساڑھے چھ لاکھ روپے لاگت آئی اور اس کی تعمیر میں ڈھائی ماہ لگے۔ غیر سرکاری تنظیم نے چھ ماہ میں ایسی مزید چار چھونپڑیاں بنائی ہیں جو پڑوسی دیہاتوں میں جون کے وسط میں کھولی جانے والی ہیں۔

ایک مقامی فلاحی ادارہ ’سپرش‘ گذشتہ 15 سالوں سے اس علاقے میں کام کر رہا ہے، اس کے صدر دلیپ بارسگاڈے کا کہنا ہے کہ کچھ سال قبل انھوں نے 223 ایسی جھونپڑیوں کا دورہ کیا اور دیکھا کہ ان میں سے 98 فیصد ’غیر محفوظ اور صفائی سے محروم‘ ہیں۔

دیہاتیوں کے بتائے ہوئے واقعات کے مطابق انھوں نے ’کم از کم 21 عورتوں کی ایک فہرست بنائی جو ایسی وجوہ کے باعث ان جھونپڑیوں میں رہتے ہوئے ہلاک ہو گئیں جن سے با آسانی بچا جا سکتا تھا۔‘

’ایک عورت سانپ کے کاٹنے سے مر گئی، دوسری کو ریچھ لے گیا، اور تیسری کو بہت تیز بخار تھا۔‘

ان کی رپورٹ کی وجہ سے انڈیا کے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کو ریاستی حکومت کو کہنا پڑا کہ وہ اس ’رواج کے خاتمے‘ کے لیے زور ڈالے، کیونکہ اس کی وجہ سے ’خواتین کے انسانی حقوق، ان کی حفاظت، حفظان صحت اور وقار کی سنگین خلاف ورزی‘ ہو رہی ہے، لیکن کئی سال بعد یہ روایت برقرار ہے۔

توکوم اور آس پاس کے دیہات میں رہنے والی وہ تمام خواتین جن سے میں نے بات کی وہ ’ماہواری کی جھونپڑی‘ میں نہیں جانا چاہتیں، اور سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے معض اوقات انھیں غصہ بھی آیا، لیکن انھوں نے مزید کہا کہ وہ صدیوں سے چلنے والے طرز عمل کو تبدیل کرنے کے معاملے میں خود کو بے بس محسوس کرتی ہیں۔

سریخا ہلامی نے کہا کہ انھیں خدشہ ہے کہ اگر انھوں نے روایت سے انکار کیا تو وہ خداؤں کے قہر کا سامنا کریں گے اور ان کے خاندان میں بیماری اور موت پھیل جائے گی۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’میری دادی اور والدہ کرما گھر گئے تھے، میں وہاں ہر مہینے جاتی ہوں، اور ایک دن میں اپنی بیٹی کو بھی بھیجوں گی۔‘

The period hut in Chandala Toli village

Dilip Barsagade
کچھ جھونپڑیاں انتہائی خستہ حال ہیں

گاؤں کے ایک بزرگ، چنڈو یوسندی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس روایت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ ’ہمارے دیوتاؤں نے اس کا حکم دیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی گئی اور روایت کو توڑنے والوں کو پورے گاؤں کے لیے خنزیر کا گوشت یا بکرے کا گوشت اور شراب کی دعوت کروانے کی سزا دی جاتی ہے یا اس کے لیے مالی جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

مذہب اور روایت کو اکثر پابندیوں کا جواز بنا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن اب شہری، تعلیم یافتہ خواتین ان رجعت پسندانہ نظریات کو چیلنج کر رہی ہیں۔

خواتین کے گروہ ہندو کے مندروں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات میں داخلے کے مطالبے کے لیے عدالت میں چلے گئے ہیں اور ہیپی ٹو بلیڈ جیسے ہیش ٹیگ پر مبنی سوشل میڈیا مہموں کا اہتمام کیا گیا تاکہ ماہواری سے منسوب بدنامی کو ختم کیا جا سکے۔

Women of Kanal Tola helping with the construction of the new period hut

Prashant Mandawar
گاؤں کی خواتین نے ماہواری کے دوران رہنے کے لیے بنے ان ٹھکانوں کی تعمیر میں مدد کی

تاہم مونتیریو کا کہنا ہے کہ ’لیکن یہ بہت پسماندہ علاقہ ہے اور یہاں تبدیلی ہمیشہ بتدریج ہوتی رہتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ نئی جھونپڑیاں اب خواتین کو ایک محفوظ جگہ فراہم کریں گی جبکہ ہم معاشرے کو تعلیم دے کر اس عمل کو ختم کرنے کے مستقبل کے مقصد کو حاصل کریں گے۔

مسٹر بارسگاڈے کہتے ہیں ’ہم جانتے ہیں کہ بہتر جھونپڑیاں اس کا حل نہیں ہیں۔ خواتین کو ماہواری کے دوران جسمانی اور جذباتی مدد کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف گھر پر دستیاب ہوتی ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ مزاحمت آسان نہیں ہے۔ ہمارے پاس حالات کو تبدیل کرنے کے لیے جادوئی چھڑی نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اب تک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خواتین بھی نہیں سمجھتیں کہ یہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

’لیکن اب میں دیکھ رہا ہوں کہ رویوں میں تبدیلی آرہی ہے اور بہت سی نوجوان، تعلیم یافتہ خواتین اس رواج پر سوال اٹھانا شروع کر رہی ہیں۔ اس میں وقت لگے گا لیکن ہم مستقبل میں کسی دن یہ تبدیلی دیکھیں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19503 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp