آپریشن اوپرا: جب اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے عراق کا جوہری ری ایکٹر تباہ کیا

امام ثقلین - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اسرائیل

AFP

چالیس برس پہلے تاریخ عالم میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی تھی جب اسرائیل نے پہلی مرتبہ ایک دوسری مقتدر ریاست میں گھس کر اُس کے جوہری ری ایکٹر پر فضائی حملہ کیا اور اُسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

اسرائیل نے عراق کے ’اوسیراق‘ جوہری ری ایکٹر کو آٹھ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی مدد سے تباہ کیا تھا۔

اگرچہ یہ حملہ سات جون 1981 کو ہوا تھا لیکن اس کا اعلان آٹھ جون کو کیا گیا اور اعلان کے اگلے روز یعنی نو جون کو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز سمیت دیگر ذرائع ابلاغ نے یہ خبر دی کہ اسرائیلی طیاروں نے گذشتہ روز بغداد کے قریب جوہری ری ایکٹر پر بمباری کی اور اسے تباہ کر دیا۔

ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے کہا کہ اگر وہ حملہ نہ کرتا تو عراق ’جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے قابل ہو جاتا۔‘‘

حملے کے اگلے دن اسرائیلی وزیر اعظم مناخم بیگِن نے اس کارروائی کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دوسری جنگ عظیم کے دوران ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم جتنے بڑے سائز کے بم کے اسرائیلی شہروں پر حملوں کو روکنے کے لیے عراق کے صدر صدام حسین پر حملہ ضروری تھا تاکہ اُس ’برائی‘ کو روکا جا سکے۔‘

اوسیراق میں تباہی اور ہلاکتیں

عراق

Getty Images
وہ علاقہ جہاں’اوسیراق‘ ری ایکٹر کی تنصیب موجود تھی

’اوسیراق‘ پر فضائی حملے کے بعد اسرائیل نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ اس سے وہاں کام کرنے والے غیر ملکی ماہرین میں سے کسی کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

البتہ بعد کی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں جوہری پلانٹ چلانے والا ایک جونیئر فرانسیسی اہلکار اور دس عراق فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیل نے اس حملے کے بعد یہ بھی کہا تھا کہ حملے کے لیے اتوار کے دن کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ اس دن مسیحی افراد کام سے چھٹی کرتے ہیں۔

فرانس نے، جو اٹلی کے ساتھ اس ری ایکٹر کی تعمیر کر رہا تھا، اعلان کیا کہ ایک فرانسیسی ٹیکنیشین، جس کی شناخت صرف مسٹر چوسپیڈ کے نام سے کی گئی ہے، اس فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔ اس وقت اس پلانٹ میں کم از کم 25 پاؤنڈ افزودہ یورینیم موجود ہونے کی اطلاع تھی۔

اس حملے کے بارے میں اگلے دن جو خبریں شائع ہوئی تھیں ان میں مکمل تفصیلات نہیں دی گئی تھیں۔ نیو یارک ٹائمز نے کہا تھا کہ عراقی خبر رساں اداروں نے اس حملے کی خبر اُس وقت تک نہیں دی جب تک اسرائیل نے حملے کی ویڈیو نشر نہیں کی۔

امریکی ماہرین کا حوالہ دے کر نیو یارک ٹائمز نے یہ بھی کہا تھا کہ ایف 4 فینٹم اور ایف 15 لڑاکا طیاروں نے اس بمباری میں حصہ لیا تھا۔ جبکہ بی بی سی نے خبر دی تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم بیگن کے حکم پر ’اسرائیل کے ان گنت ایف 16 اور ایف 15 لڑاکا بمبار طیاروں نے بغداد سے 18 میل دور اوسیراق ری ایکٹر کو تباہ کر دیا۔‘

چھ سو میل دور ہدف کا نشانہ

تاہم اس حملے کی مصدقہ تفصیلات اسرائیلی صحافی رونن برگمین نے سنہ 2018 میں شائع ہونے والی کتاب ’رائیز اینڈ فرسٹ کِل‘ میں اسرائیلی انٹیلیجینس ایجنسیوں کے سابق ارکان کے تعاون سے تحریر کیں۔ رونن کا تعلق اسرائیل کے ایک مقبول اخبار سے ہے۔

اس سے قبل ایک امریکی صحافی روجر کلیئر نے اس مشن میں شامل اسرائیلی فضائیہ کے پائلٹوں کے انٹرویو اور دیگر دستاویزات تک رسائی دیے جانے کے بعد ایک کتاب ’ریڈ ان دی سن‘ کی صورت میں شائع کی تھیں۔ تاہم تجزیہ کار رونن برگمین کی تحقیقات کو زیادہ آزادانہ ریسرچ، متوازن اور معتبر قرار دیتے ہیں۔

رونن کی کتاب میں اسرائیل کے انٹیلیجینس اداروں کی سرگرمیوں کی ایک تاریخ بیان کی گئی ہے جبکہ رچرڈ کلیئر کی کتاب صرف اوسیراق پر حملے کی کہانی پر مرکوز ہے۔

رونن لکھتے ہیں کہ سات جون کو سہ پہر چار بجے اسرائیل کے زیر قبضہ صحرائے سینا میں ایٹیزن ایئرپورٹ سے آٹھ ایف 16 طیارے اوسیراق ری ایکٹر پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ اُنھیں کور دینے یعنی ان کی حفاظت کے لیے، اور ان کو پوشیدہ رکھنے کے لیے انھیں چھ ایف 15 طیاروں کی معاونت بھی حاصل تھی۔

ان طیاروں کو ایٹیزن ایئرپورٹ سے اڑنے کے بعد خلیجِ عقبہ اور پھر اردن کے جنوبی اور سعودی عرب کے شمالی فضائی حصے سے پرواز کرتے ہوئے عراق کی جنوب مغربی فضائی حدود میں داخل ہو کر بغداد کے جنوب میں اوسیراق جوہری ری ایکٹر پر طاقتور بم پھینک کر تباہ کرنا تھا۔

اسی لیے اس آپریشن میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری مدد کے لیے مزید ساٹھ طیارے تیار رکھے گئے تھے جن میں سے کچھ فضا میں چکر لگا رہے تھے جبکہ دیگر زمین پر تیار کھڑے تھے۔ ان میں فضا میں ریفیولنگ اور ایئر بورن کمانڈ اینڈ کنٹرول کے لیے بوئنگز انٹیلیجنس مہیا کرنے کے لیے طیارے بھی شامل تھے (تاہم اس مشن کے ایک پائلٹ نے بعد میں کہا کہ یہ ٹیکنالوجیز اُس وقت زمانے میں استعمال نہیں ہوتی تھیں)۔

اس کے علاوہ کسی اسرائیلی طیارے کے گرنے یا حادثے کا شکار ہونے کی صورت میں ریسکیو آپریشن کی تیاری بھی کی گئی تھی۔

اسرائیلی ایف 16

Getty Images

طیاروں کی اڑان کی جگہ سے ہدف تک کا راستہ چھ سو میل لمبا تھا جو اردن کے جنوبی حصے اور سعودی عرب کے شمالی علاقے سے گزرتا ہوا عراق تک جاتا تھا۔ پائلٹوں نے اردن، سعودی، اور عراقی ریڈار سے بچنے کے لیے زمین سے تین سو فٹ سے بھی کم نیچے پرواز کی۔ اسرائیلی طیارے شام 5:30 بجے عراق میں اپنے ہدف تک پہنچ گئے۔

ہدف کے قریب پہنچ کر آٹھ ایف 16 طیارے ایک ہزار فٹ کی بلندی تک اوپر آئے، اپنی پوزیشن ہدف کے مطابق تبدیل کی اور اپنے بموں کو پینتیس ڈگری کے زاویے سے زمین پر گرانا شروع دیا۔ ایک کے بعد ایک ہر ایف 16 طیارے نے ری ایکٹر کے ٹھوس کنکریٹ کے گنبد پر ایک ایک ٹن وزن کے دو دو بم گرائے۔

پہلے دو بم ہدف پر نہیں گرے تھے۔ اس طرح 16 بم گرائے جن میں سے دو بم پھٹ نہیں سکے۔

نصف بم ایسے تھے جو زمین پر اپنے ہدف سے ٹکراتے ہی پھٹ گئے اور باقی نصف بم زمین سے ٹکرانے کے بعد جتنا بھی گہرا جا سکے چلے گئے اور پھر وہ طاقتور دھماکوں کے ساتھ پھٹے۔ آٹھ میں سے سات پائلٹوں کے بم صحیح نشانے پر گرے، اس طرح کُل سولہ بموں میں سے بارہ بلڈنگ کے گنبد سے ٹکرائے۔

کیا یہ اوسیراق پر پہلا حملہ تھا؟

یہ دنیا میں کسی جوہری ری ایکٹر پر پہلا حملہ تھا اور کسی جوہری مرکز یا تنصیب پر تیسرا حملہ تھا۔ صدر صدام حسین نے اُس وقت اعلان کیا تھا کہ جوہری ری ایکٹر ایران کے خلاف نہیں ہے بلکہ اسرائیل کے خلاف ہے۔

یہ کسی بھی جوہری ری ایکٹر کو تباہ کرنے کے حملے کی پہلی مثال تھی جس کا بظاہر مقصد جوہری ہتھیار کو بننے سے روکنا تھا۔

تاہم ایران پر عراق کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کے فوراً بعد 30 ستمبر 1980 کو ایران کے دو ایف 4 فینٹم طیاروں نے اوسیراق کے جوہری ری ایکٹر پر بم پھینکے تھے لیکن اُسے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تھا۔

مشن کامیاب

اسرائیلی اوسیراق سائٹ

Getty Images
اوسیراق سائٹ

ایران کے ناکام حملے کے بعد اسرائیل کا اوسیراق پر حملہ تقریباً ایک برس بعد ہوا جس میں ری ایکٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس حملے سے عراقی بالکل گھبرا گئے کیونکہ حملہ اچانک تھا۔ حملہ کرنے والے طیاروں پر ایک میزائل بھی فائر نہیں ہوا۔

آج بھی اسرائیلی تجزیہ نگار حیران ہوتے ہیں کہ ان کی توقع کے برعکس، واپسی کے راستے میں اسرائیلی طیارے نہ ہی اینٹی ایئرکرافٹ فائر کا نشانہ بنے اور نہ کوئی زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائیل ان کی جانب داغا گیا۔ تمام طیارے بحفاظت واپس اسرائیل پہنچ گئے۔

مشن کی کامیابی کے اگلے روز اسرائیلی وزیراعظم مناخم بیگِن نے حملے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ساڑھے ستائیس کروڑ ڈالر کی یہ جوہری تنصیب تکمیل سے چند مہینے دور تھی۔ اسرائیلی سرکاری اعلامیے کے مطابق اس حملے سے بغداد کو جوہری طاقت بننے سے محروم کر دیا گیا۔

عراق نے حملے کے فوراً بعد اپنے ردعمل میں پہلے تو اس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا لیکن جب ساری دنیا کو ناقابلِ تردید حقائق کا علم ہو گیا تو عراق نے بھی تسلیم کر لیا کہ حملہ اسرائیلی طیاروں نے کیا تھا۔

جوہری ری ایکٹر کا نقصان

فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا کہ حملے کے وقت جوہری ری ایکٹر کے اندر کوئی جوہری ایندھن موجود نہیں تھا۔ فرانس کی جانب سے ان حملوں کے بعد جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ ری ایکٹر جو جوہری ہتھیاروں کے لیے موزوں ترین افزودہ یورینیم ایندھن کا استعمال کرتا ہے، اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔

فرانسیسی وزارت کے پریس نوٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسی کمپلیکس میں فرانسیسیوں کی جانب سے فراہم کردہ چھوٹے ری ایکٹر کے ساتھ ساتھ سوویت ساختہ ری ایکٹر بھی نقصان سے بچ گیا (تاہم حقیقت میں دونوں ری ایکٹر تباہ ہو گئے تھے)۔

اسرائیل کی عالمی سطح پر مذمت

اس حملے کے بعد دنیا کے کئی ممالک نے اسرائیل کی مذمت کی۔ اُردن، سعودی عرب، روس اور چین سمیت سبھی نے اس حملے کی مذمت کی۔ فرانس نے بھی اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ فرانس کے اسرائیل سے تعلقات بھی کچھ عرصے کے لیے کشیدہ رہے۔

ایران جس کے خلاف عراق نے گذشتہ برس حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی تھی، اس نے بھی اسرائیل کی مذمت کی تھی۔

امریکہ کا ردعمل

اُس وقت امریکہ میں رونلڈ ریگن صدر تھے۔ ان کی حکومت نے بھی عراق کی جوہری تنصیبات پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی، تاہم یہ سخت الفاظ حقیقت میں محتاط انداز کے تھے، اور اِس حقیقت کا انکشاف بعد میں ڈی کلاسیفائی ہونے والے مختلف امریکی خفیہ دستاویزات سے ہوا۔

عراقی جوہری تنصیبات پر حملے کے بارے میں امریکی صدر رونلڈ ریگن کے قومی سلامتی کے مشیر رچرڈ وی ایلن نے فوراً واشنگٹن کو ایک خفیہ مراسلے کے ذریعے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ سابق صدر کارٹر کے زمانے میں امریکی وزارت خارجہ کو علم تھا کہ اسرائیل عراق پر حملے کا سوچ رہا ہے۔

امریکی تحقیقی ادارے ولسن سینٹر کی ایک ریسرچر الیگزینڈرا ایونز نے مسٹر رچرڈ ایلن کے ایک خفیہ مراسلے سے نقل کر کے لکھا کہ ’آپ کی پبلک سٹیٹمنٹ اس حملے کے پسِ پُشت خفیہ سفارتی پس منظر کو ذہن میں رکھ کر ترتیب دی جانی چاہیے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسرائیل ناراض ہو کر مشتعل ہو جائے اور حقیقت بیان کر کے امریکی حکومت کی تردید کر دے۔‘

حملہ غیر قانونی تھا

وزیراعطم

Getty Images
اسرائیلی وزیر اعظم مناخم بیگِن

محکمہ دفاع کے ایک سابق اہلکار ڈونلڈ بورڈرُو نے جون 1993 کے ’انٹرنیشنل جرنل آن ورلڈ پیس‘ نامی جریدے میں لکھا کہ ’اوسیراق ری ایکٹر پر بمباری نے دو خطرناک مثالیں قائم کیں: جوہری ری ایکٹر کو دانستہ طور پر تباہ کیا گیا اور اسی طرح یہ پہلا موقع تھا کہ ایک ملک نے دوسرے ملک کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔‘

وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ چاہے اس حملے سے علاقائی سلامتی کے لیے دنیا کو کتنا ہی فائدہ ہوا ہو لیکن یہ بین الاقوامی قوانین کے لحاظ سے ایک غیر قانونی کارروائی تھی۔

بعد میں جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے نے اسرائیل کی سرزنش بھی کی لیکن عملاً اس ملک کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا البتہ اسرائیل سے اپنی جوہری تنصیبات کی انسپیکشن کا مطالبہ کیا، جسے اسرائیل نے نظرانداز کر دیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسرائیل پر پابندیوں کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

پہلی سرجیکل سٹرائیک

ان حالات میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے عراق کے جوہری ری ایکٹر کو تباہ کرنے کے لیے ایک ’سرجیکل سٹرائیک کی تیاری کا حکم اپنی فضائیہ کے اُس وقت کے کمانڈر، ڈیوڈ ایروی کو دیا۔ ایروی بعد میں امریکہ میں اسرائیل کے سفیر بھی رہے اور وہیں ان سے امریکی صحافی روجر کلیئر نے اوسیراق پر حملے کی کہانی حاصل کی۔

اس حملے کے بارے میں روجر کلیئر کی کتاب ’ریڈ آن دی سن‘ کتاب میں لکھا ہے کہ یہ ایک ایسا مشن تھا جس کے بارے میں اس سے پہلے کبھی سوچا نہیں گیا تھا اور جس نے فوجی کارروائیوں کی تاریخ میں اور آئندہ آنے والے وقتوں کے لیے زبردست اور انمٹ نقوش چھوڑے۔‘

روجر کلیئر پہلے ایسے صحافی ہیں جنھیں اسرائیلی انٹیلیجینس اداروں نے اس حملے میں حصہ لینے والے افسران سے بات کرنے کی اجازت دی تھی۔ ان کی یہ کتاب سنہ 2005 میں شائع ہوئی تھی۔ تاہم اس کتاب میں اسرائیلی فضایہ کی بہت زیادہ تعریف کی گئی ہے۔

اسرائیلی فضائیہ کے جن افسران نے اوسیراق کے ری ایکٹر کو تباہ کرنے کی کارروائی میں حصہ لیا تھا ان کے ناموں کا اسی کتاب میں انکشاف کیا گیا تھا: زیف رز، اموس یلڈین، دوبی یافے، ہگائی کاٹز، آمر نچومی، افتاچ سپیکٹر، ریلِک شفیر اور ایلان رامون۔

پائلٹوں کے تاثرات

اوسیراق پر حملہ کرنے والے مشن میں شامل پائلٹ جو بعد میں اسرائیلی فوج کے انٹیلیجنس کے سربراہ بنے، میجر جنرل (ریس) اموس یادلین نے دو برس پہلے ٹائمز آف اسرائیل کو 10 جون 2019 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہاں ’فضا میں نہ ایئر ری فیولنگ تھی، نہ کوئی جی پی ایس تھا، ایسی کوئی بھی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پائلٹوں کو واقعتاً اپنی ساری توجہ مرکوز رکھنی تھی کیونکہ ایک چھوٹی سی غلطی یا غلط فہمی کا مطلب یہ ہو سکتا تھا کہ ہماری واپسی مشکل ہو جائے گی۔‘ یادلین نے کہا کہ ’ہم نے ایندھن بچانے کے لیے بہترین رفتار سے طیارے اڑائے اور دشمن کے علاقے میں پرواز کے دوران رفتار زیادہ نہیں کی۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اسرائیل ’خفیہ جنگ‘ جاری رکھے ہوئے ہے؟

ایران کی جوہری تنصیبات کو حملوں کا خطرہ کیوں اور یہ حملے کیسے ہو سکتے ہیں؟

جوہری ہتھیار کن کن ممالک کے پاس ہیں اور کتنے ہیں

اسی مشن میں شامل ایک اور پائلٹ ڈیوڈ ایوری نے جو بعد میں جنرل بنے کہا کہ وہ کافی ایندھن نہ رکھنے کے بارے میں بہت پریشان تھے۔ انھوں نے ایسا کچھ کیا جو ’عام طور کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔‘ ایک بار جب جیٹ طیارے روانگی کے لیے پرواز کے لیے رن وے پر کھڑے ہو گئے تو انھوں نے ان طیاروں کے ٹینک ایندھن سے مکمل طور پر بھر دیے۔

کامیابی کے امکانات کو زیادہ سے زیادہ بنانے کے لیے ایوری نے اصل طے شدہ چار طیاروں کی بجائے آٹھ طیارے بھیجے۔ پائلٹوں میں سے سات تجربہ کار تھے اور آٹھویں کو نقشے تیار کرنے اور اس بات کی جانچ کرنے میں اُن کے کردار کی وجہ سے شامل کیا گیا تھا تاکہ اسرائیلی فضائیہ کے پاس موجود جیٹ طیارے واپسی کا سفر کر سکیں۔

یہ وہی ایلان رامون تھے جو بعد میں اسرائیل کے پہلے خلاباز بنے تھے اور سنہ 2003 کے امریکی خلائی مشن کولمبیا شٹل کی تباہی میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ڈیوڈ ایوری نے کہا تھا کہ ’یہ ایک بہت ہی غیر معمولی کارروائی تھی (امکانات کے لحاظ سے)، میں نہیں مانتا کہ کوئی دوسری فضائیہ ایسا کام سرانجام دے سکتی ہے۔‘

طیارہ

Getty Images

اسرائیل کے اچانک حملے اور امریکہ کی لاعلمی

عراق پر سنہ 1981 میں اسرائیل کا اس طرح کا حملہ اس کی پہلی ایسی کارروائی نہیں تھی۔ اس سے پہلے بھی اور بعد میں اسرائیل نے کئی ایسی کارروائیاں کیں جس میں حیرت کا عنصر تھا اور ہدف بننے والا ملک اسرائیل کے خلاف کچھ نہ کر پائے، یہاں تک کہ امریکہ بھی حیرت زدہ تو ہوا لیکن اس نے بھی اسرائیل کے خلاف کوئی عملی کارروائی نہیں کی۔

ایک معروف امریکی تھنک ٹینک ’رینڈ کارپوریشن‘ کی سنہ 2015 کی ایک تحقیق ’اے سرپرائیز آؤٹ آف زیون‘ میں اُس وقت تک کی اچانک کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس مطالعے میں چار اہم نمایاں تاریخی مثالوں پر غور کیا گیا ہے جو دونوں اتحادی ممالک، امریکہ اور اسرائیل، کے درمیان آج کے دور میں فیصلے سازی کے عمل اور سوچ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

• سنہ 1956 میں آئزن ہاور انتظامیہ اس وقت سیخ پا ہوئی تھی جب اسرائیل نے مصر کے نہر سویز کے تنازع میں فوجی مداخلت کی تھی۔ اُس وقت مصر نے نہر سویز کو قومی تحویل میں لے لیا تھا اور فرانس اور برطانیہ نے نہر سویز پر دوبارہ قبضے کے لیے حملہ کیا لیکن اس حملے کی پہل اسرائیل نے کی تھی۔

• سنہ 1967 میں اسرائیل نے امریکی صدر لنڈن جانسن کی انتظامیہ پر بار بار زور دیا کہ وہ اس کے طاقت کے استعمال کی توثیق کرے تاہم امریکہ نے اجازت نہیں دی تھی۔ بعد میں یہی بحران سنہ 1967 کی چھ روزہ جنگ کے آغاز کا سبب بنا جس کے دوران اسرائیل نے اپنے عرب ہمسائیہ ممالک کا کافی سارا علاقہ قبضے میں لے لیا۔

• سنہ 1981 میں صدر رونلڈ ریگن کی انتظامیہ اسرائیل کی طرف سے عراق کے جوہری ری ایکٹر پر حملے کی وجہ سے حیران رہ گئی تھی۔ اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ الیگزینڈر ہیگ نے اسرائیلی حملے پر بھرپور تنقید کی تھی۔ وہ الگ بات ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

• اور سنہ 2007 میں امریکہ میں جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے شام کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے بار بار اصرار کے باوجود امریکی فوج کی بمباری کے حملے کی درخواستیں بالآخر مسترد کر دی تھیں تو اسرائیل نے از خود بمباری کر کے شام کا مبینہ جوہری پروگرام تباہ کر دیا تھا۔

اوسیراق ری ایکٹر

’رائیز ایند کِل فرسٹ‘ کے مصنف رونن برگمین لکھتے ہیں کہ فرانس اور اسرائیل کی ایک لمبی اور پیچیدہ تاریخ ہے جو 1970 کی دہائی میں بہت زیادہ کشیدہ ہو چکی تھی۔ جب سے فرانس کے صدر ڈی گال نے ساٹھ کی دہائی میں یہودی قوم سے رخ موڑا تھا تب سے ہی یہ تعلقات مخاصمت اور باہمی عدم اعتماد کا شکار چلے آ رہے تھے۔

’فرانسیسیوں کے لیے یہ امکان کہ عراق کا جوہری پروگرام اسرائیلی قوم کے لیے ایک تباہ کن خطرہ ہے، ایک قابل تشویش خدشے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ اس تاریخی پس منظر میں فرانس کے صدر ویلری گسکارڈ ڈ اسٹسٹنگ اور ان کے وزیر اعظم، یاک شیراک نے ستر کی دہائی کے پہلے نصف میں عراق کے ساتھ متعدد سودے طے کیے۔‘

کتاب کے مطابق اُن میں سب سے اہم دو جوہری ری ایکٹروں کی فروخت تھی: ایک بہت چھوٹا ایک سو کلو واٹ ری ایکٹر، جسے ’آئیسس کلاس کہا جاتا تھا، اور ایک بڑا چالیس میگا واٹ اوسیرس ری ایکٹر، جس کی صلاحیت ستر میگاواٹ تک بڑھائی جا سکتی تھی۔

عراقیوں نے ری ایکٹر کے نام کو اپنے ملک کے نام کے ساتھ جوڑ کر، یعنی اوسیرس اور عراق کو ملا کر ’اوسیراق‘ رکھ دیا تھا۔ ’اوسیرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ قدیم مصر کے ایک خدا کا نام تھا۔

رونن کے مطابق اسرائیلیوں کے خیال میں ’اگرچہ عراق کا کہنا تھا کہ وہ ری ایکٹر کو تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کرے گا، لیکن فرانسیسی جانتے تھے کہ اس سائز کا ری ایکٹر جوہری ہتھیاروں کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن پر کارروائی کرنے میں استعمال ہو سکتا ہے۔‘

رونن کے مطابق ری ایکٹر کے مرکز میں بارہ کلوگرام 93 فیصد افزودہ یورینیم موجود تھا، جو ایٹم بم بنانے کے لیے کافی تھا۔ اسرائیل کے خیال میں ’اگر فرانسیسیوں نے خرچ شدہ ایندھن کی سلاخوں کو تبدیل کرنے کے اپنے وعدے پر عمل کیا تو عراقی ان میں سے کچھ کو صرف جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔‘

اسرائیلی منصوبہ

ان حالات میں اسرائیل کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ فرانس کی مدد سے بننے والے عراق کے جوہری منصوبے کو روکنا ان کی سلامتی کے لیے بے انتہا ضروری تھا۔ لہٰذا اس زمانے میں عراق کے جوہری منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹیں ڈالنے کے کئی منصوبے بنائے گئے۔ ان کے بارے میں رونن برگمین نے کافی تحقیق کے ساتھ لکھا۔

جب عراق میں صدام حسین کی زیرِ قیادت عراق کی بعث پارٹی عالم عرب کی قیادت سنبھالنے کی تیاری کر رہی تھی، اُس وقت اسرائیل میں صہیونیوں کی جنگجو پارٹی ’ارگم‘ کے سابق رکن اور بعد میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت ’لیکود‘ پارٹی کے بانی، مناخم بیگن اسرائیل کے وزیر اعظم منتخب ہو چکے تھے۔

اسرائیل کا پہلا حملہ

صدام حسین

Getty Images
صدام حسین

عراق کے جوہری منصوبے کی تعمیر میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے سب سے پہلے اسرائیلی کے انٹیلیجینس ایجنٹوں نے چھ اپریل سنہ 1979 میں فرانس کی بحیرہِ روم کی بندرگاہ تولون پر موجود ایک عراقی شپمینٹ پر بم حملہ کر کے اوسیراق کے لیے توسیعی پلانٹ کو تباہ کر دیا، جس سے اس منصوبے میں دو برس کی تاخیر ممکن ہو پائی۔

اسرائیلیوں کے تجزیے کے مطابق فرانس اپنا نیوکلیئر پلانٹ عراق کے ایک ایسے صدر کو فروخت کر رہا تھا جو اپنے آپ کو نبوخدنصر سمجھتا۔ نبوخدنصر قبل مسیح کے عراق میں بابیلون کا وہ شہنشاہ تھا جس نے بیت المقدس پر حملہ کر کے یہودیوں کی حکومت ختم کی تھی اور پھر انھیں وہاں سے بے دخل کیا تھا۔

اسرائیل میں عراقی رہنما صدام حسین کو صلاح الدین ایوبی کی صورت میں جدید دنیا میں اسرائیل کے وجود کے لیے ایک خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔

کردوں سے اسرائیلی تعاون

اسرائیل نے عراق کے صدر صدام حسین کو کمزور کرنے کے لیے سنہ ساٹھ کی دہائی سے ان کے مخالف گروہ یعنی کردوں کو مدد مہیا کرنا شروع کر دی تھی۔ اسرائیلی انٹیلیجینس ایجنسیوں اور اسرائیلی فوج نے کردوں کے مختلف گروہوں کو گوریلا جنگ کی تربیت بھی دی تھی، لیکن یہ سب کچھ عراق کو کمزور کرنے میں ناکام رہے۔

رونن کے مطابق کردوں نے اسرائیل سے مدد مانگی تھی کہ وہ صدام حسین کو قتل کرنے میں اُن کی اُسی طرح معاونت کرے جس طرح اُس نے مصر کی انٹیلیجینس کے سربراہ کو سنہ 1956 میں قتل کیا تھا۔ تاہم اُس وقت کی اسرائیلی وزیرِ اعظم مسز گولڈا میئر نے انکار کردیا کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ یہ بات راز نہیں رہے گی۔

صدام حسین سنہ 1971 میں ہی عراق کے ایک طاقتور لیڈر بن چکے تھے، لیکن سنہ 1979 تک انھوں نے حسن البکر کو ایک بے اختیار صدر کے طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہنے دیا تھا۔ تاہم شاید ایران میں اسلامی انقلاب کی وجہ سے انھوں نے حسن البکر کو معزول کیا اور خود عراق کے صدر بن گئے۔

رونن برگمین کے مطابق صدام حسین ’یہودیوں کو ماضی کی قوموں کی باقی ماندہ غلاظت‘ سمجھتا تھا۔

اسرائیل کے خیال میں صدام حسین کی کوشش تھی کہ اس کے پاس ایسا اسلحہ ہونا چاہیے جس کی وجہ سے اُسے ایک حقیقی خطرہ سمجھا جائے۔ اسی لیے انھوں نے سنہ 1973 سے ہی عراق کو جوہری طاقت بنانے کے لیے منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔ ’اس منصوبے کے ذریعے امریکہ اور فرانس دونوں ہی اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے تھے۔‘

صدر صدام حسین نے ستمبر سنہ 1975 میں فرانس سے جوہری پاجور پلانٹ خریدنے کا منصوبہ بنایا جو کہ کسی بھی عرب ملک کی جانب سے جوہری ری ایکٹر حاصل کرنے کی پہلی کوشش تھی۔ تاہم فرانس اس معاہدے کو جوہری بم بنانے کا معاہدہ قرار نہیں دیتا تھا۔

صدام حسین نے اس جوہری پلانٹ کے حصول کے لیے دو ارب ڈالر کی ایک خطیر رقم دی اور ساتھ ساتھ فرانس کو مارکیٹ سے کم نرخوں پر تیل بھی فروخت کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

عراقی سائنسدانوں کے قتل

اس پس منظر میں اسرائیل نے فرانس اور عراق کے جوہری منصوبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کو اپنے وجود کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور اسے روکنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دیں۔ اسرائیل نے اپنی انٹیلیجینس ایجینسی موساد، ’امان‘ اور وزارت خارجہ کے اشتراک سے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جسے ’نیا دور‘ کہا گیا۔

اس دوران اسرائیل نے اپنی جاسوسی کے ذریعے عراق کے جوہری منصوبے میں کام کرنے والے کچھ ایسے اہلکاروں کو خرید لیا تھا جن کی وجہ سے اُسے یہاں ہونے والی ہر پیش رفت سے مکمل آگاہی ہوتی رہتی تھی۔ سنہ 1978 میں اسرائیل نے اپنے لیے ایسے حالات محسوس کیے کہ کابینہ نے موساد کو اوسیراق کو ختم کرنے کا حکم دیا۔

اور اسی حکم کے بعد فرانس میں اوسیراق کے لیے توسیعی ری ایکٹر ایک تخریب کار حملے کے ذریعے فرانس کے شہر تولون میں بموں کے ایک حملے میں تباہ کیا گیا تھا۔ اس حادثے کے بعد صدام حسین نے مزید جارحانہ احکامات جاری کیے۔ اور پھر اسرائیل نے عراق سائنسدانوں کو قتل کرنا شروع کیا۔

یحیٰ المشد کا قتل

موساد نے عراقی سائنسدان خضر حمزہ اور جعفر دیہا جعفر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جو کہ عراق کے جوہری منصوبوں کی قیادت کر رہے تھے۔ جوہری معاملات میں اسرائیل کے انٹیلیجینس برادری کے تجزیہ کار ڈاکٹر رافیل اوفک کے مطابق جعفر اس پروگرام کا دماغ تھے جنھوں نے برطانیہ سے نیوکلیئر فزکس میں پی ایچ ڈی کی ہوئی تھی۔

تاہم یہ دونوں سائنسدان اپنی حفاظت کی وجہ سے عراق سے باہر نہیں جاتے تھے۔ البتہ ایک اور جوہری سائنسدان یحیٰ المشد جن کا اصل تعلق مصر سے تھا، وہ عراق کے جوہری منصوبے اور فرانس کے سپلائیرز کے درمیان رابطے کا کام کرتے تھے۔ المشد تواتر کے ساتھ مصر اور فرانس کا سفر کرتے تھے۔

المشد 13 اور 14 جون سنہ 1980 کی درمیانی شب جب پیرس کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے تو انھوں نے اپنے عراقی گارڈز کو چھٹی دے دی۔ اور اس طرح وہ اکیلے رہ گئے اور پھر اسرائیل جاسوس جو ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے، انھوں نے انھیں ہوٹل کے کمرے میں ایک گز لمبی ایش ٹرے کے راڈ کی ضرب لگا کر ہلاک کر دیا۔

سلمان رشید کا قتل

اگرچہ اس قتل کے بعد عراق اور فرانس دونوں ہی زیادہ محتاط ہو گئے لیکن اسرائیلی جاسوسی اداروں نے بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دیں۔ المشد کے قتل کے تین ہفتوں بعد عراق کے ایک اور جوہری سائنسدان سلمان راشد کو یورینیم کی افزودگی کی تربیت کے لیے جینیوا بھیجا گیا تھا۔ ان کے ساتھ ہمیشہ دو باڈی گارڈز رہتے تھے۔

تاہم اپنی تربیت کے مکمل ہونے اور عراق واپسی سے صرف ایک ہفتہ قبل سلمان راشد شدید بیمار ہو گئے اور وہ بھی نہایت تکلیف کی حالت میں ہلاک کیے گئے۔ جینیوا کے ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ وہ کسی وائرس کی وجہ سے مرے تھے لیکن ان کے پوسٹ مارٹم میں کوئی وائرس نے ملا۔

رونن برگمین کا خیال ہے کہ انھیں موساد نے زہر دیا تھا۔

عبدالرحمان رسول کا قتل

رونن برگمین کے مطابق سلمان راشد قتل کے دو ہفتوں کے بعد عراقی سائنسدان عبدالرحمان رسول، جو جوہری تنصیبات کی تعمیر کا کام کرتے تھے، وہ فرانسیسی ایٹمی توانائی کمیشن کی ایک کانفرنس میں شرکت کرنے آئے۔ کانفرنس کے دوران ایک تقریب میں مشروبات کی وجہ سے فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوئے اور پانچ دنوں بعد پیرس میں ہلاک ہو گئے۔

لندن کے ایک اخبار ’دی ٹائمز‘ کی ستمبر 2008 کی ایک رپورٹ کے مطابق عبدالرحمان رسول کے قتل میں موساد کی ایک خاتون رکن، زپی لیونی کا بھی کردار تھا۔ یہ وہی زپی لیونی ہیں جو بعد میں اسرائیل کی وزیرِ خارجہ اور نائب وزیراعظم بھی بنیں۔ زپی لیونی اُس وقت موساد کے ایلیٹ یونٹ کا حصہ تھیں۔

جب سائنسدانوں کے قتل سے بھی کام نہ بن

عراقی سائنسدانوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے عراقی جوہری پروگرام کو نقصان پہنچا۔ عراق میں کام کرنے والے فرانسیسی اور دیگر غیر ملکی سائنسدانوں میں خوف بھی بڑھ گیا اور ان میں سے کئی عراق سے فرار بھی ہو گئے۔ لیکن جوہری منصوبے اور تنصیبات پر کام بند نہیں ہوا۔ صدام حسین نے اسرائیل کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔

ان تمام حالات کے باوجود عراق کو یقین تھا کہ وہ جوہری منصوبے کی تکمیل میں کامیاب ہو جائے گا اور اسی وجہ سے اسرائیل کا خوف بڑھتا چلا گیا۔ رونن برگمین کے مطابق موساد کے اس وقت کے ڈائریکٹر یتژِک ہوفی کو اندازہ تھا کہ سائنسدانوں کے قتل اور جاسوسی سے زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔

یتژِک ہوفی نے اسرائیلی وزیراعظم مناخم بیگن کو اکتوبر 1980 میں آگاہ کیا کہ ’میں اپنی ہار تسلیم کرتا ہوں۔ ہم اسے روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ابھی تک اگر کوئی راستہ موجود ہے تو وہ فضائی بمباری ہے۔‘ رونن کے مطابق یعنی ہوفی کی نظر میں اب واحد راستہ ایک باقاعدہ جنگی کارروائی رہ گیا تھا۔

کیونکہ یہ حملہ بہت ہی خطرناک نتائج پیدا کر سکتا تھا لہٰذا ساری توجہ اس بات پر دی گئی دی تھی کہ اول تو حملے سے گریز کیا جائے اور اگر کرنا ہی ہے تو اتنا طاقتور ہونا چاہیے کہ اس کے بعد عراق کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو جائیں۔

ایران کے لیے ایف-16 طیارے اسرائیل پہنچے

تاریخ کا ایک اہم موڑ جس نے اسرائیل کو ایف 16 طیارے حاصل کرنے میں ایک حیران کن کردار ادا کیا۔ سنہ 1979 میں اسرائیل کی خوش بختی یہ ہوئی کہ ایران میں آیت اللہ خمینی کی سربراہی میں اسلامی انقلاب نے امریکہ کے ایک اہم حلیف اور اتحادی شاہ ایران کو معزول کر دیا۔

خطے میں اس تبدیلی کے بعد امریکہ نے شاہ ایران کو دیے جانے والے طیاروں کا سودا یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا۔ جس کی وجہ سے امریکہ نے اس وقت تیار ہونے والے 76 جدید ترین ایف 16 لڑاکا طیاروں کو ایران کے بجائے اسرائیل کو دینے کی پیشکش کی، جو اسرائیل نے فوراً قبول کر لی۔

صدام حسین کا ردعمل

صدام حسین

Getty Images

اوسیراق کی تباہی کی یہ کارروائی مکمل کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور اسرائیل نے اپنا ہدف حاصل کر لیا۔ عراق کا ری ایکٹر ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا گیا۔ اور صدام حسین کے جوہری عزائم شاید مستقل طور پر ختم ہو گئے تھے۔ صدام نے حملے کے بعد عراقی بعث پارٹی کی قیادت سے اپنے خطاب میں اپنے نقصان کا ذکر افسوس کے ساتھ کیا۔

انھوں نے بمباری کا ذکر کرتے ہوئے آہیں بھرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ’یہ تکلیف دہ ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا میٹھا پھل تھا جس کی تیاری کے لیے ہم نے بہت محنت کی تھی، انقلاب کے اس پھل کے لیے ہم نے سیاسی طور پر، سائنسی طور پر اور معاشی طور پر طویل عرصے تک زبردست کوششیں کی تھیں۔‘

دوبارہ سے جوہری منصوبہ

لیکن اوسیراق کے ری ایکٹر پر بمباری سے صدام کا بعد کا رد عمل اسرائیلی انٹیلیجینس کی توقع کے بالکل برعکس تھا۔ ایک عراقی جوہری سائنسدان ڈاکٹر حمزہ نے بعد میں ایک امریکی ریڈیو کو بتایا کہ ’دباؤ میں آنے کے بعد صدام زیادہ جارحانہ اور زیادہ پرعزم ہو جاتے تھے۔ لہذا 40 کروڑ ڈالر کا منصوبہ 10 بلین ڈالر کا منصوبہ بن گیا اور اس میں چار سو سائنسدانوں کی تعداد بڑھ کر سات ہزار ہو گئی۔‘

بیگن ڈاکٹرائین

اس حملے کے بعد اسرائیل نے اپنی دفاعی حمکت عملی میں ایک نئے نظریے کا اضافہ کیا جسے بعد میں ’بیگن ڈاکٹرائین‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس نظریے کے مطابق اسرائیل خطے میں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے کسی بھی ملک کو جوہری ٹیکنالوجی سے محروم رکھے گا۔

اسرائیل کے ایک معروف دفاعی تجزیہ نگار اور اسرائیلی ایئرفورس کے ریٹائرڈ جنرل اموس یادلین اُن آٹھ پائلٹوں میں شامل تھے جنھوں نے سنہ 1981 میں اوسیراق پر حملہ کر کے اِسے تباہ کیا تھا۔ انھوں نے تین برس قبل اس ڈاکٹرائین کا ایک اسرائیلی تحقیقی ادارے ’انسٹیٹیوٹ سکیورٹی سٹڈیز‘ میں تجزیہ لکھا۔

ان کے مطابق ’وہ ممالک جو اسرائیل کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں اور اس کو تباہ کرنے کا اعلان کرتے ہیں انھیں ایسی جوہری فوجی صلاحیت حاصل یا تیار کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جو اسرائیل کے خلاف استعمال ہو سکے اور اُس کے وجود کو ختم کر سکے۔‘

’عراق اور شام میں زیر تعمیر جوہری ری ایکٹروں کے خلاف اسرائیل کے حملوں نے ری ایکٹروں کو بغیر کسی جانی نقصان کے مکمل طور پر تباہ کیا تھا۔ مزید یہ کہ تاریخ نے ظاہر کیا ہے کہ ان حملوں کی وجہ سے عراق اور شام کے جوہری پروگراموں کو تکنیکی تاخیر کے ذریعہ ان کا جوہری منصوبہ ایک لمبے عرصے کے لیے ملتوی کر دیا۔‘

جنرل اموس یادلین اسرائیل دشمن ممالک کے جوہری پروگراموں سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے آئندہ ایسے حملوں میں پیچیدگیوں، سیاسی خطرات اور فضائی حملے کے ایک جنگ کی صورت اختیار کرنے کا خطرے کی وجہ سے متبادل حکمت عملی پیش کرتے ہیں جن میں تکنیکی رکاوٹیں پیدا کرنا بھی شامل ہے۔

کیا اوسیراق میں ایٹم بم بن رہا تھا؟

ماہرین اور مؤرخین کی نظر میں اب بھی ایک سوال ایسا ہے جس کا جواب نہیں دیا گیا ہے۔ کیا صدام حسین حقیقت میں جوہری بم بنا رہے تھے؟ اسرائیل کے اکثر تجزیہ کار اصرار کرتے ہیں کہ وہ یہی کر رہے تھے جبکہ جارج بش کے زمانے میں وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار بینٹ ریمبرگ نے دعویٰ کیا تھا کہ حقیقت کچھ اور تھی۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ’آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن‘ کے گذشتہ برس کے شمارے کے لیے گئے ایک مقالے میں بینٹ ریمبرگ لکھتے ہیں کہ ماضی کے حالات کا تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ سنہ 2003 میں عراق پر حملے کے بعد امریکہ کو عراق کی جو خفیہ دستاویزات ہاتھ لگی ہیں جن کے مطابق صدام حسین کے ایٹم بم کی کہانی کچھ اور تھی۔

ان دستاویزات نے انکشاف کیا کہ ’اوسیراق ری ایکٹر میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی تاہم اس نے ایک ایسا فریبِ نظر بنانے میں عراق اور اسرائیل دونوں کو گمراہ کیا۔ یہ فریبِ نظر (اسرائیل اور عراق کے) رہنماؤں کی شخصیات کے اوصاف کی وجہ سے اور اوسیراق میں بم بنانے کے غلط تاثر کی وجہ سے برقرار رہا۔

کیا اوسیراق جیسا حملہ دوبارہ ہو سکتا ہے؟

نتین یاہو

EPA

مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ ایفریقہ فورم کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جے مینز نے فارن پالیسی میگیزین کے سات اپریل 2021 کے شمارے میں شائع ہونے والے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ اسرائیل میں ایک مرتبہ پھر سے ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں جن کی وجہ سے ایک اور ’اوسیراق کی گھڑی پیدا ہو سکتی ہیں۔ انھوں نے یہ تجزیہ اسرائیل میں پیدا ہونے والے تازہ ترین سیاسی حالات سے پہلے لکھا تھا۔

ان کے مطابق جون 1981 میں عراق میں جوہری ہتھیار کے خطرے سے زیادہ اُس وقت کے اسرائیل کے سیاسی حالات تھے جن کی وجہ سے بیگن نے حملے کا حکم دیا تھا۔ ان کے مطابق سنہ 1981 میں بیگن کی مخلوط حکومت ایک انتہا پسند یہودی جماعت ’ہیرادی‘ کی حمایت کی وجہ سے قائم تھی اور آنے والے انتخابات میں اُس کے انتخابات میں کامیابی کے امکانات پر سوالات کیے جا رہے تھے۔

اِس لیے اُس کے لیے اوسیراق پر حملہ سیاسی طور پر ایک اچھی حکمتِ عملی تھی جس کی وجہ سے اُسے سیاسی کامیابی ملی تھی۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ بیگِن اور نتن یاہو کا اگر موازنہ کیا جائے تو موخرالذکر کی اول الذکر کی نسبت سیاسی حیثیت کافی کمزور ہے۔ بیگِن کی حکومت میں ہیرادی زیادہ موثر نہیں تھی۔ لیکن آج کے اسرائیل میں ہیرادی جیسی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتیں زیادہ موثر اور طاقتور ہیں۔

جے مینز کے بقول اسی وجہ سے آج پھر اسرائیل میں ’اوسیراق کی گھڑی‘ موجود ہے کیونکہ اسرائیل کے بنیامِن نتن یاہو کی موجودہ مخلوط حکومت تواتر سے انتخابات کے باوجود مضبوط حکومت بنانے میں ناکام رہی ہے اور انھیں آج کی انتہا پسند یہودی جماعتوں کی حمایت کی شدید ضرورت تھی جسے وہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ان کی ایک حامی انتہا پسند جماعت اب ان کے خلاف ہو گئی ہے۔ یہ یمانہ پارٹی ہے جس کے رہنما نفتالی بینٹ پہلے نتن یاہو کے وزیر دفاع تھے اور نئی مخلوط حکومت کے وزیرِ اعظم بننے جا رہے ہیں۔

اگر یمانا پارٹی کے ’ہاکش‘ (جنگجوانہ) ذہن رکھنے والے سربراہ نفتالی بینٹ، نتن یاہو کی حکومت میں شامل ہوتے تو غالب امکان یہ تھا کہ وہ وزارتِ دفاع کا قلمدان ہی رکھتے۔ اور پھر جے مینز کے بقول ’دونوں مل کر اوسیراق گھڑی کا مسنگ لِنک بن جاتے: ایک نازک مخلوط حکومت اور ایک جنگجوانہ کابینہ۔‘

جے مینز نے جب یہ تجزیہ لکھا تھا اُس وقت امکان تھا کہ نتن یاہو وزیرِ اعظم بنیں گے اور نفتالی بینٹ ان کی کابینہ میں وزیرِ دفاع ہوں گے۔ تاہم اب حالات ایسے بن گئے ہیں کہ نفتالی بینیٹ خود وزیر اعظم بن جائیں گے۔ اس بات کا فیصلہ آئندہ چند دنوں میں ہو جائے گا۔

ایک لحاظ سے اسرائیل کے لیے یہ ایک بڑی تبدیلی ہو گی تاہم مبصرین کے مطابق نفتالی اپنی شدت پسندی کے لحاظ سے نتن یاہو سے زیادہ انتہا پسند ثابت ہو سکتے ہیں۔

نفتالی بینیٹ وہی انتہا پسند سیاسی رہنما ہیں جنھوں نے حال ہی میں مقبوضہ غرب اردن میں شیخ جرّاح سے مقامی فلسطینیوں کو بیدخل کرنے کی کوشش کی تھی اور پھر یہ کوشش غزہ سے اسرائیل پر راکٹوں کا سبب بنی جس پر اسرائیل نے غزہ پر شدید بمباری کی۔

اس پس منظر میں اگر جے مینز کے تجزیے کو پھیلا کر دیکھا جائے تو اب اسرائیل میں سیاسی طور پر ایک ایسی کابینہ آئے گی جو نتن یاہو سے زیادہ اسرائیل کی سکیورٹی کے معاملے کو اپنی سیاسی مقبولیت کے لیے استعمال کرنا چاہے گی۔

حال ہی میں بنیامن نتن یاہو نے جو اب بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں یروشلم پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر انھوں نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کی جانب پیش رفت کرتے دیکھا تو وہ امریکہ کی ناراضی کے باوجود ایران پر حملہ کر دیں گے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے انٹیلیجینس ادارے موساد کے نئے سربراہ، ڈیوڈ بارنی نے بھی کہا ہے کہ ایران میں سائنسدانوں کے قتل کا سلسلہ جاری رہے گا۔

تاہم جے مینز کا خیال ہے کہ میناخم بیگِن کی حکمت عملی کے مطابق اگر سوچا جائے تو اسرائیل کے لیے ایران کے یا اُس کے حامیوں کے میزائلوں اور راکٹوں کے حملے کسی جوہری ہتھیار کے خطرے کی نسبت قابلِ ترجیح ہوں گے کیونکہ وہ حملے ایک جوہری ہتھیار جتنی تباہی نہیں کر سکیں گے۔ اس وجہ سے جے مینز آج کے دور میں اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے کافی امکانات دیکھتے ہیں۔

اسرائیل کی سلامتی اور جوہری ہتھیار

اسرائیلی ریاست کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حملے کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے جوہری دہشت گردی اور بین الاقوامی سیاست کے ایک معروف امریکی پروفیسر لوئی رینے بیرِس کہتے ہیں کہ اسرائیل کو ہر قسم کے خطرے سے بچنے کے لیے مکمل تیاری کرنی چاہیے۔ یہ پروفیسر اسرائیل میں لیکچر بھی دیتے ہیں۔

لوئی بیرِس اپنے ’اسرائیلی ڈیفنس‘ نامی میگزین کے 27 مئی 2017 کے شمارے میں لکھتے ہیں کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل تمام حالات کا مکمل طور پر جائزہ لے اور اس کے مطاق اپنی پالیسیاں وضع کرے۔ اسی مناسبت سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں سے جنگ کے سب سے ممکنہ راستے یہ ہیں:

  • اسرائیل کے خلاف دشمن جوہری حملے میں پہل کرے
  • اسرائیل پر ایسے ملک کا حملہ جو جوہری طاقت نہ ہو، لیکن وسیع سطح پر تباہی پھیلانے والے اسلحے سے حملہ کرے اور اسرائیل جواباً جوہری ہتھیار استعمال کرے
  • اسرائیل کی دشمن ریاستوں میں واضح طور پر قابل شناخت جوہری اثاثوں والے اہداف کے خلاف اسرائیلی جوہری حملوں کا امکان (موجودہ صورتحال میں بھی اس کے امکان کم ہیں جب تک کہ پاکستان دشمن ریاست کے طور پر تسلیم نہ کر لیا جائے)
  • اسرائیل کا کسی جوہری اثاثوں والی دشمن ریاستوں پر غیر جوہری ہتھیاروں سے حملہ جس کے نتیجے میں وہ ملک اسرائیل کے خلاف جوہری ہتھیاروں سے فوراً یا کچھ دیر بعد حملہ کر دے (جس کا پاکستان کے علاوہ کسی ملک سے امکان فی الحال موجود نہیں ہے)
  • اسرائیل کا جوہری ہتھیاروں کے بغیر اپنی دشمن ریاستوں میں فوجی اہداف کے خلاف غیر جوہری حملہ پھر دشمنوں کی حیاتیاتی جنگی انتقامی کارروائیاں اور ان کے جواب میں انتقامی طور پر اسرائیلی جوہری جوابی انتقامی کارروائی

ان امکانات کے علاوہ پروفیسر لوئی بیرس کہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جوہری جنگی لڑائی کے دیگر امکانات میں حادثاتی، غیر ارادی، نادانستہ، یا غیر مجاز جوہری حملے بھی شامل ہیں جن میں اسرائیل اور کچھ قابل شناخت علاقائی دشمن بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں پیش کیے جانے والے جوہری حملے کے آخری امکان ’غیر مجاز‘ دشمن جوہری حملے، کے خدشے کو یعنی ایک اسلامی ملک پاکستان میں جہادی بغاوت کے امکان پر اسرائیلی تجزیہ کاروں کو گہری نظر رکھنی چاہیے جس کا ہر وقت امکان موجود ہے۔‘

نفتالی بینٹ

EPA
نفتالی بینٹ

اسرائیل اور پاکستان کے جوہری ہتھیار

عموماً پاکستان اور اسرائیل کے درمیان ویسی مخاصمانہ اور دشمنی کی فضا نظر نہیں آتی ہے جیسی ایران، شام، حزب اللہ یا حماس کی اسرائیل کے ساتھ ہے۔ تاہم پاکستان میں اپنی جوہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے کئی مرتبہ اسرائیل کے حملے سے نمٹنے کی تیاریوں کی بات کی جاتی رہے۔

پاکستان کے ایک دفاعی تجزیہ کار اور پاکستان ایئرفورس کے ریٹائرڈ افسر فہد مسعود کہتے ہیں کہ اگر صاف صاف بات کی جائے تو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ پاکستان اور عراق میں بہت فرق ہے۔ ’پاکستان ایک بہت ہی مختلف کہانی ہے۔ اب ٹیکنالوجی بھی بہت بدل چکی ہے اور حالات بھی۔‘

’اوسیراق کے واقعے کے بعد ہم نے کئی بار اسرائیلی خطرے کا جائزہ لیا اور پھر اس کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ پی اے ایف نے بہت ساری مشقیں کیں جیسے ’تھنڈربولٹ‘ جس کی سنہ اسی کی دہائی میں کہوٹہ کو محفوظ بنانے پر توجہ مرکوز تھی، جو اس وقت پاکستان کے جوہری پروگرام کا مرکز تھا۔ یہ اب مرکز نہیں ہے۔‘

فہد مسعود کے بقول اب پاکستان کے جوہری اثاثے مختلف جگہوں پر منتشر کر دیے گئے ہیں۔ فضائی دفاع کی بھی بہتر سطح پر تیاری ہے۔ ’ہم نے سنہ 2019 میں بھی آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کے دوران اپنے مشرقی دشمن (انڈیا) کو ناکام بنا دیا۔ اور پی اے ایف نے اسرائیل کے حملے کے خلاف بھی گولان 8 آپریشن کی حکمت عملی تیار رکھی ہوئی ہے۔

(گولان 8 اس مشن کا خفیہ نام تھا جس میں پاکستانی فضائیہ کے ایک پائلٹ فلائیٹ لیفٹیننٹ علوی نے شام کی فضائیہ کے مِگ21 سے اسرائیلی فضائیہ کا ایک میراج طیارہ گولان کی پہاڑیوں میں ایک ڈاگ فائیٹ کے دوران مار گرایا تھا۔ انھیں شام اور پاکستان نے قومی ایوارڈ دیے تھے۔)

مزید پڑھیے

’پاکستان کے پاس انڈیا سے زیادہ جوہری بم ہیں‘

دنیا کے جوہری ہتھیار کہاں کہاں ہیں؟

پاکستان اور انڈیا کی عسکری قوت کا تقابلی جائزہ

پاکستانی فضائیہ کی تیاری

ایک غیر سرکاری ادارے ’ڈی سی ایس‘ کی پاکستان ایئر فورس کی کارروائیوں کے بارے میں جاری کردہ ایک ویڈیو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 28 مئی 1998 کے پاکستان کے جوہری دھماکوں کے دفاع کے لیے پاکستانی فضائیہ نے منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور اس کا نام ’آپریشن بیدار 98‘ تھا۔

اس ویڈیو کے مطابق پی اے ایف کے ایلیٹ سکواڈرن 9 کو جو ’گریفن‘ کہلاتا ہے کوئٹہ اور چاغی کے علاقے میں تعینات کیا گیا تھا جبکہ سکواڈرن 11 کو جیکب آباد اور سندھ کے علاقے میں شہباز بیس پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ چھ ہرکیولیس بمبار طیارے فضا میں موجود تھے۔

اس طرح کُل ملا کر اس وقت فضائیہ کے پاس مختلف پروازوں میں ساڑھے بارہ لاکھ پاؤنڈ وزنی اسلحہ اور بارود فضا میں موجود تھا۔ جوہری دھماکوں کے لیے تمام ضروری حصے چک لالہ ایئر پورٹ سے دالبندین کے ایئرپورٹ تک ہرکولیس طیاروں میں لے جائے گئے تھے جن کی فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس چار پاکستانی ایف-16 لڑاکا طیارے حفاظت کر رہے تھے۔

ایف-16 طیاروں کو یہ خفیہ حکم دے دیا گیا تھا کہ اگر کسی وقت معلوم ہو کہ ہرکیولیس طیارہ جس میں جوہری اثاثے لے جائے رہے تھے، ہائی جیک ہو گیا ہے یا اسے ملک کی فضائی حدود سے باہر لے جایا جا رہا ہے تو اُسے میزائلوں سے تباہ کر دیں۔ یہ ساری کارروائی بہت خفیہ تھی۔

اور اس کی وجہ خود اس ویڈیو میں بتائی گئی ہے۔ وہ یہ کہ پی اے ایف کو شدید خطرہ تھا کہ جوہری اثاثوں یا جوہری پرزوں کی اس ترسیل کے مشن یا اس میں شامل طیاروں پر اسرائیل حملہ کر سکتا ہے۔ عین اُس وقت فضائیہ کی اعلیٰ کمانڈ میں کھلبلی مچ گئی تھی جب چاغی میں دھماکے کی جگہ راس کوہ پر اچانک ایک ایف-16 طیارہ نچلی پرواز کرتا ہوا ریڈار میں نظر آیا۔

’تھوڑی دیر کے لیے سمجھا گیا تھا کہ یہ ایف-16 اسرائیلی فضائیہ کا ہے۔‘ لیکن جلد ہی پتہ چل گیا کہ یہ پاکستان ایئر فورس کا طیارہ تھا۔ اس قسم کی تیاری اور سوچ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی فضائیہ اسرائیلی حملے کے امکان کو حقیقی سمجھتی ہے، اور اپنی طرف سے اس حملے سے نمٹنے کی مکمل تیاری کیے ہوئے ہے۔

ریٹائرڈ سکواڈرن لیڈر فہد کہتے ہیں کہ ’موجودہ حالت میں اسرائیل بہت زیادہ فضائی طاقت اُس مخالف کے خلاف استعمال کر رہا ہے جس کے پاس فضائیہ نہیں ہے۔ فضائی طاقت کے طالب علم کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ اگر مخالف کے پاس بھی فضائی طاقت ہوتی تو پھر یہ برابری کا مقابلہ ہوتا۔‘

’پیشہ ورانہ صلاحیت کا استعمال غریب لوگوں کے خلاف نہیں بلکہ برابر کے مخالف کے خلاف ہوتا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19456 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp