بجٹ سے پہلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات بجٹ سے پہلے کی، کی جائے یا بعد کی مگر بات ایک ہی ہے کیونکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہر بار ہر جون میں ہر بجٹ سے پہلے اور بعد میں عام آدمی کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا مگر اس کے باوجود عوام ہر بجٹ سے پہلے ایک امید باندھ لیتے ہیں کہ شاید اس بجٹ میں ہمیں عام اور سفید پوش لوگوں کوئی ریلیف مل جائے شاید کہ ہماری سنی جائے ہمارے دکھ درد اور مسائل کو سمجھا جائے اور ہمیں میں زندگی کے دن پورے کرنے کے لیے سانس لینے کا موقع فراہم کیا جائے بالکل اسی طرح جیسے ہر انتخابات سے پہلے یہ امید باندھ لیتے ہیں کہ پہلے والے چور تھے لٹیرے تھے اور کرپٹ تھے اب جو آئیں گے وہ صاف شفاف اور ایماندار ہوں گے وہ عوام کے مسائل کو سمجھنے والے ہوں گے ان کے آنے سے ہماری زندگیوں میں ضرور تبدیلی آئے گی ایسی ہی کئی امیدوں کا تانتا جوڑ کر وہ انتخابات میں دوسری جماعت کو اقتدار میں آنے کا موقع فراہم کرتے ہیں مگر دوسری جماعت بھی عوام کو دوسری سانس لینے جوگا بھی نہیں رہنے دیتی ایسے ہی بجٹ سے پہلے لوگ سوچ لیتے ہیں کہ اس بار بجٹ بنانے والے شاید ہمارے بجٹ کو سامنے رکھ کر بجٹ پالیسیاں مرتب کریں۔

مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اربوں کھربوں کا بجٹ بنانے بڑے بڑے پردھان معاشی ماہرین عام آدمی کے گھر کا بجٹ نہیں بنا سکتے وہ سفید پوش آدمی کا ماہانہ اور سالانہ بجٹ نہیں بنا سکتے جس نے 10 سے 15 ہزار اور 15 سے 20 ہزار کی محدود رقم میں اپنی پوری فیملی کا ماہانہ راشن پانی بھی پورا کرنا ہوتا ہے بجلی اور سوئی گیس کے بل بھی ادا کرنا ہوتے ہیں بچوں کی فیس اور مکان کا کرایہ بھی دینا ہوتا ہے بیماری اور مسائل کا مقابلہ بھی کرنا ہوتا ہے خوشی اور غمی کے بکھیڑوں سے بھی نمٹنا ہوتا ہے اور گھبرانا بھی نہیں ہوتا۔

وزیر اعظم اپنی ہر تقریر اور اپنے بیان میں یہ باور کراتے نظر آتے ہیں کہ ہم نے مشکل حالات میں ملک سنبھالا ہمارا مقابلہ مافیاز کے ساتھ ہے مگر اب مشکل وقت گزر چکا حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں اب عوام کو خوشخبریاں ملیں گی اور عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے اچھا وقت بہت جلد آنے والا ہے ”سچ تو یہ ہے کہ اسی اچھے وقت کی امید پر عوام نے 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کا انتخاب کیا تھا پہلے سو دنوں کہا گیا پھر 6 ماہ مانگے گئے اب تین سال سے زائد وقت گزر چکا مگر نہیں معلوم یہ اچھا وقت کب آئے گا اب تو وقت مانگنے جتنا وقت بھی باقی نہیں رہا حکومت اگلے چند دنوں میں اپنا چوتھا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے جو کہ یقیناً حکومت کے مستقبل کا تعین کرے گا سرائیکی میں کہتے ہیں“ جیندا جم یاد ہووے اوندے دڈند ڈیکھن دی لوڑ نہیں ہوندی ”یعنی جس کی تاریخ پیدائش یاد ہو اس کے دانت دیکھ کر عمر کا اندازہ نہیں لگایا جاتا۔

تحریک انصاف کے اب تک کیے گئے اعلانات، وعدوں اور دعووں میں کس حد تک کامیاب ہوئی اس کو سامنے رکھا جائے تو کسی اچھے وقت کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی مگر اس کے باوجود اس بجٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت معیشت کی بحالی، عام آدمی کی بہتری، غربت کے خاتمے، روزگار کی فراہمی، مسائل کے حل، ریلیف، تعلیم صحت جیسے شعبوں میں بہتری اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے جو حکمت عملی اپنائے گی اور اس کے عام آدمی کی زندگی پر جو اثرات مرتب ہوں گے وہ ہی پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی زندگی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف ایک بہترین معاشی ٹیم کے دعووں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی مگر اب تک تین سالوں میں 4 مشیر اور وزراء خزانہ تبدیل کر چکی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان خود بھی اپنی کابینہ اور حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں مگر اس کے باوجود حکومت جی ڈی پی گروتھ میں بہتری کے دعوے کر رہی ہے مگر عام آدمی کے لیے ان دعووں کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں جب تک اس کی قوت خرید میں اضافہ نہیں ہوگا مہنگائی کنٹرول اور مارکیٹ میں استحکام عملی طور پر نظر نہیں آئے گا اگلے چند دنوں میں پیش کیا جانے والا بجٹ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان تحریک انصاف وعدے توڑنے کی روایت کو توڑتے ہوئے ایک عوام دوست بجٹ پیش کرنے میں کامیاب ہو گئی تو پھر تحریک انصاف کی کامیابی کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں خاص طور پر حکومت کو مہنگائی کنٹرول کرنا ہوگی آٹا چینی گھی اور اشیا خوردنی کی قیمتیں کم کرنا ہوں گی کاشتکاروں کو کھاد بیج اور زرعی ادویات پر سبسڈی دینا ہوگی انسانی جان بچانے والی ادویات کے نرخ کم کرنا ہوں گے غربت بے روزگاری کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات کرنا ہوں گے بجلی گیس کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

یہ سب اسی صورت ممکن ہے جب ملک کو آئی ایم ایف سے نجات دلانے کے لیے حکومت کوئی حکمت عملی ترتیب دے گی ورنہ اگر معاشی اشاریے بہتر ہونے کے باوجود عوام کی حالت بہتر نہ ہوئی، معیشت مضبوط ہونے کے باوجود عام لوگ مضبوط نہ ہوئے اور وزراء تبدیل ہونے کے کے باوجود عوام کے حالات تبدیل نہ ہوئے اور ملک میں واضح طور پر کوئی تبدیلی نظر نہ آئی تو پھر پاکستان تحریک انصاف کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اگلے انتخابات میں تبدیلی ضرور آئے گی کیونکہ اس قوم کی قسمت بدلے یا نہ بدلے مگر قسمت بدلنے کے دعویدار ضرور بدلتے رہتے ہیں #

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *