کواڈ اتحاد میں بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت پر چین کو کیا اعتراض ہے؟

رپشا مکھرجی - تجزیہ کار، بی بی سی مانیٹرنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


چین اور بنگلہ دیش کی قیادت

Getty Images

حال ہی میں چین نے بنگلہ دیش کو امریکہ کی سربراہی میں تشکیل دیے جانے والے ’کواڈ‘ اتحاد میں شمولیت سے خبردار کیا ہے۔

چین کی طرف سے یہ تنبیہہ چین کے سفیر لی جیمنگ نے صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات میں دی جو بظاہر بڑی جارحانہ اور چین کی طرف سے پیش بندی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اس پر انڈیا میں غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

چین کی طرف سے یہ تنبیہہ کوئی غیر متوقع چیز بھی نہیں کیونکہ چین اس خطے میں امریکی اقدامات پر بڑی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ خطے کے ملکوں سے اپنے تعلقات مضبوط کر رہا ہے اور ’کواڈ‘ اس سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے۔

چین سفارتی سطح پر اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کے ذریعے خطے میں امریکی سرگرمیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ چین کے سرکاری ادارے گلوبل ٹائمز نے لی جیمنگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکہ چین اور بنگلہ دیش کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

دریں اثنا بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن نے فوری طور پر چینی سفیر کے بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان افسوس ناک ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اپنی خارجہ پالیسی کا خود تعین کرتا ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کی اپنی سوچ اور اپنا مؤقف ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیے

ایک طرف چین کی مخالفت تو دوسری جانب شراکت داری، آخر انڈیا کر کیا رہا ہے؟

انڈیا سمیت چار ملکی فوجی مشق سے چین کیوں پریشان ہے؟

’انڈیا کو یہ تاثر زائل کرنا ہو گا کہ وہ چین مخالف دھڑے کا حصہ ہے‘

چین کے اس جارحانہ رویے کا محرک کیا ہے؟

چین کے سفیر کی طرف سے 10 مئی کو یہ بیان دیا گیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش کی حکومت نے کواڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو ڈھاکہ اور بیجنگ کے تعلقات شدید طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت اور ملکی ذرائع ابلاغ کے لیے چینی سفیر کا یہ بیان باعث حیرت تھا۔

بنگلہ دیش میں شائع ہونے والے اخبار ‘دی ڈیلی سٹار’ نے 12 مئی کے اپنے شمارے میں لکھا کہ ‘لگتا ہے کہ چین کی حکومت اس امکان پر پریشانی کا شکار ہے کہ کہیں بنگلہ دیش اس اتحاد کا حصہ نہ بن جائے۔ اس پریشانی کی کیا وجہ ہے ہمیں نہیں معلوم، جو کچھ بھی ہو لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اس بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار بنگلہ دیش کی حکومت کا ہے۔’

گو کہ چین نے پہلے کبھی بنگلہ دیش کو کواڈ سے دور رہنے کے بارے میں براہ راست کچھ نہیں کہا لیکن اس بارے میں کافی عرصے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کو اکتوبر 2020 میں لی جیمنگ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ مسلسل اپنے خفیہ عزائم کے تحت چاہ رہا ہے کہ بنگلہ دیش کو بھی اس چین کے مخالف اتحاد کا حصہ بنایا جائے۔ اس سلسلے میں اُنھوں نے اس وقت کے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد سے فون پر ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیا اور امریکہ کے نائب وزیر خارجہ سٹیفن بیگن کے بنگلہ دیش دورے کی بھی نشاندہی کی۔

چینی سفیر نے کہا کہ ‘کووڈ 19 کی وبا، چین اور امریکہ کے درمیان شدید کشیدگی اور چین اور انڈیا کے درمیان سرحدی تنازعے نے بنگلہ دیش کے لیے بیرونی ماحول کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔’

ویکسین کی حوالگی کی تقریب

Getty Images
لی جِیمنگ نے اپنے متنازعہ بیان کے دو روز بعد ویکسین کی حوالگی کی ایک تقریب میں شرکت کی

چینی سفیر کے الفاظ ‘ولف واریئر ڈپلومیسی’ کی طرح ہیں جس میں پیغام رساں چین کے دفاعی اور تجارتی مفادات کے بارے میں سخت زبان استعمال کرتا ہے۔ انڈیا میں شائع ہونے والے اخبار ‘دی انڈین ایکسپریس’ نے 18 مئی کو لکھا کہ ‘چینی سفیر نے اپنے میزبان ملک میں اتنا سخت رویہ کیوں اختیار کیا جب کہ بنگلہ دیش نے چین کے لیے حساس موضوعات پر کبھی بات نہیں کی ہے۔ ڈھاکہ اور کواڈ کے بارے میں بات کر کے چینی سفیر نے دراصل بنگلہ دیش کے لیے ایک سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔‘

ایک بنگلہ دیشی اخبار نے یکم مئی کو ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ چین کے وزیر دفاع ویر فینگہی نے اس سال اپریل میں ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے صدر محمد عبداللہ حمید سے کہا تھا کہ چین چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے چین کا ساتھ دے۔

دفاعی اور تجارتی مفادات

بنگلہ دیش دفاعی ساز و سامان کی خریداری پر بڑی حد تک چین پر انحصار کرتا ہے۔ انڈیا کے اخبار فائنینشل ایکسپریس کے مطابق بنگلہ دیش کا 86 فیصد اسلحہ چینی ساخت کا ہے۔

وی فینگہی نے اپریل میں کہا تھا کہ چین اور بنگلہ دیش کو ایسی طاقت کے خلاف متحد ہونا چاہیے جو باہر بیٹھ کر خطے میں اتحاد بنا رہی ہے۔ ان کا واضح اشارہ امریکہ کی طرف تھا جس کی بنگلہ دیش سے تعلقات بہتر کرنے میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔

اکتوبر سنہ 2019 میں بنگلہ دیش نے امریکہ سے اپاچی ہیلی کاپٹر اور میزائل خریدنے کے لیے بات چیت شروع کی تھی۔

ڈھاکہ میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے کہا گیا کہ ‘ہم 2030 تک بنگلہ دیش کی فوج جدید خطوط پر استوار کرنے کی خواہش کی حمایت کرتے ہیں۔‘

بنگلہ دیش اور امریکہ کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے بھی مذاکرات ہو رہے ہیں جو کہ جنرل سکیورٹی آف ملٹری انفارمیشن ایگریمنٹ اور ایکوزیشن کراس سروسنگ ایگریمنٹ کے تحت ہو سکتا ہے۔

اس سال مارچ میں انڈیا نے جو کہ کواڈ کا رکن ہے، اس نے بنگلہ دیش کو 50 کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدنے کے لیے قرضہ فراہم کیا تھا۔

کیا بنگلہ دیش کواڈ کا رکن بنے گا؟

اگر کواڈ کے بارے میں بنگلہ دیش کے حالیہ بیانات کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ بنگلہ دیش اپنی متوازن اور غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی جاری رکھے گا۔ انڈیا بھی یہ کہہ چکا ہے کہ کواڈ کو وسعت دینے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے چین کے وزیر دفاع کی طرف سے کواڈ کے حوالے سے جن توقعات اور امیدوں کا اظہار کیا گیا تھا ان پر کچھ نہیں کہا ہے۔

دریں اثنا چین نے جنوبی ایشیا کے ملک سے تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔ چین کے وزیر دفاع نے اس سال اپریل میں بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کی یاد میں تعمیر کیے گئے عجائب گھر پر بھی حاضری دی تھی۔

یہ چین کے کسی اعلیٰ اہلکار کا شیخ مجیب الرحمان کی یادگار پر پہلا دورہ تھا۔

بنگلہ دیش کی چین مخالف اتحاد کا حصہ بننے کی کوئی وجہ نہیں ہے لیکن چین کی طرف سے جاری کردہ تنبیہہ سے لگتا ہے کہ چین چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی ترک کر دے اور عالمی سطح پر امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کے ساتھ آ کر کھڑا ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19457 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp