روس کی جیلوں میں تعینات جیلر حسیناؤں کا مقابلہ حسن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیل کا نام سنتے ہی سنگین جرائم میں قید خطرناک مجرمان، مافیا سے تعلق رکھنے والوں، سفاک مجرموں اور سنجیدہ شخصیت والے پولیس اہلکاروں کی ایک تصویر ذہن میں ابھرتی ہے۔

آپ نے بہت سے حسن کے مقابلے دیکھے یا ان کے متعلق سنا ہوگا، لیکن روس میں ہو رہا ہے ایک انوکھا مقابلہ حسن۔

روس کا وفاقی محکمہ جیل خانہ جات ملک کی جیلوں میں تعینات جیل وارڈنز کے درمیان مقابلہ حسن کروا رہا ہے۔ روسی محکمہ جیل نے اس مقابلہ حسن کو ‘مِس پینل سسٹم کونٹیسٹ 2021’ کا نام دیا ہے۔

اس مقابلہ حسن میں ملک بھر کی مختلف جیلوں میں تعینات خاتون اہلکاروں نے حصہ لیا اور خبر رساں ادارے رشیا ٹوڈے کے مطابق اس مقابلے کے آخری مرحلے تک کل 100 حسیناؤں میں سے 12 حسینائیں ہی پہنچ پائی ہیں۔

روس کے وفاقی محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق آخری مرحلے میں شامل حسیناؤں کے لیے ووٹنگ سات جون سے 11 جون تک ہو گی اور فاتح حسینہ کا اعلان ماسکو میں منقعدہ ایک تقریب میں کیا جائے گا۔

آخری مرحلے تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہونے والی پولیس اہلکار اپنے اپنے مقامی سطح کے مقابلے جیتنے کے بعد یہاں تک پہنچی ہیں۔

جبکہ اس مقابلہ حسن میں شامل حسیناؤں کی پرفارمنسز دیکھنے کے لیے روس کے وفاقی محکمہ جیل خانہ جات نے ایک یوٹیوب چینل کا لنک بھی دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’مسز سری لنکا‘ کو زخمی کرنے کے الزام میں ’مسز ورلڈ‘ گرفتار

برکینی اور حجاب میں مقابلۂ حسن میں شرکت

مانیا سنگھ: رکشہ ڈرائیور کی بیٹی انڈین مقابلہ حُسن کی سیکنڈ رنر اپ کیسے بنیں؟

وفاقی محکمہ جیل خانہ جات کی ویب سائٹ کے مطابق اس مقابلہ حسن میں یہ حسینائیں چار طرح کی پرفارمنسز کا مظاہرہ کریں گیں جن میں وہ ’روس کے حسن‘، ’پولیس کے شعبے کی ترویج‘، ’کسی میوزیم میں نمائش پر‘ مبنی ویڈیو اور ایک ’ڈانس نمبر‘ پر پرفارمنس شامل ہے۔

محکمہ جیل خانہ جات میں سینیئر لیفٹینٹ کے عہدے پر تعینات خاتون اہلکار اناتیزیا اوکلیوو جن کا تعلق روس کے علاقے سمارا سے ہے، ان کا کہنا ہے کہ انھیں بچپن سے ہی پولیس فورس جوائن کرنے اور جیلر بننے کا شوق تھا۔

روس میں ایسا مقابلہ حسن پہلی بار نہیں ہو رہا ہے، سنہ 2019 میں بھی روس کے نیشنل گارڈز نے ایک مقابلہ حسن کروایا تھا جسے خاتون پولیس اہلکار خرامتسوا نے جیتا تھا۔

لیکن وہ یہ اعزاز زیادہ دیر اپنے پاس نہیں رکھ پائیں تھیں کیونکہ انھیں جیل کے اندر سے کی گئی ایک انسٹاگرام پوسٹ کے باعث نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

https://www.instagram.com/p/CID_pMlnQIB/?utm_source=ig_embed

خرامتسوا نے اس اقدام کو ان کی ’شہرت اور فتح سے حسد‘ کا باعث قرار دیا تھا جبکہ روس کے محکمہ پولیس کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے جیل کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19405 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp