یورپ کے دو بحری قزاقوں کا موت کے ایک ہزار برس بعد ملاپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیشنل میوزیم میں رکھے جانے والے دو بحری قزاقوں میں سے ایک کی موت سر پر چوٹ لگنے کے باعث 11ویں صدی میں انگلینڈ میں ہوئی تھی۔
ویب ڈیسک — ایک ہی خاندان کے دو بحری قزاقوں کے ڈھانچوں کو ایک ہزار برس بعد بدھ کو یورپ کے ملک ڈنمارک کے نیشنل میوزم میں ایک ساتھ رکھا گیا ہے۔

ڈنمارک کے میوزیم میں رکھے جانے والے ان بحری قزاقوں کے ڈھانچوں کا تعلق اسکینڈی نیوین نسل سے ہے۔ اسکینڈی نیویا دراصل شمالی یورپ کا حصہ ہے جس میں ڈنمارک، ناروے اور سوئیڈن شامل ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق، بدھ کو یورپ کے نیشنل میوزیم میں رکھے جانے والے دو بحری قزاقوں میں سے ایک کی موت سر پر چوٹ لگنے کے باعث 11ویں صدی میں انگلینڈ میں ہوئی تھی جسے آکسفرڈ شہر میں ایک اجتماعی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔

اس دوران بحری قزاق کی عمر تقریباً 20 برس تھی جب کہ دوسرے بحری قزاق کی موت تقریباً 50 برس کی عمر میں ڈنمارک میں ہوئی تھی۔

اے ایف پی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دوسرے بحری قزاق کے ڈھانچے پر ظاہر ہونے والے نشانات کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ اس نے جنگوں میں حصہ لیا تھا۔

ماہرین آثار قدیمہ نے وائکنگ دور سے تعلق رکھنے والے ان ڈھانچوں کے ڈی این اے کے نمونوں سے اس بات کا تعین کیا کہ ان دونوں کا آپس میں تعلق تھا۔

وائکنگ دور در اصل ایک ایسا دور تھا جس میں آٹھوں صدی سے 11ویں صدی کے دوران اسکینڈی نیوین نسل سے تعلق رکھنے والے افراد سمندر کے ذریعے سفر کرتے ہوئے شمالی اور جنوبی یورپ کے علاقوں پر حملہ کرتے تھے۔

ڈنمارک کے نیشنل میوزیم کی ماہرِ آثار قدیمہ جینیٹ واربیری نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ایک بہت بڑی دریافت ہے کیوں کہ اب آپ ایک خاندان کے ذریعے جگہ اور نقل و حرکت کا سراغ لگا سکتے ہیں۔

ماہرِ آثار قدیمہ جینیٹ واربیری اور ان کے دو ساتھیوں کو آکسفرڈ سے آنے والے قزاق کے ڈھانچے کو ایک ساتھ جوڑنے کے لیے کئی گھنٹوں کا وقت لگا۔

یاد رہے کہ برطانیہ کے آکسفرڈ شائر میوزیم نے تین برس کے دوران ڈنمارک کے میوزیم کو ڈیڑھ سو ہڈیاں بھیجی ہیں۔

ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے بحری قزاقوں نے آٹھویں صدی کے آخر میں انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ پر حملہ کیا تھا۔

ماہرِ آثار قدیمہ جینیٹ واربیری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے ان دو افراد میں سے 20 سالہ نوجوان بحری قزاقوں کے چھاپے کے دوران مارا گیا ہو۔ البتہ ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اجتماعی قبر میں موجود یہ ڈھانچہ انگریز بادشاہ ایتھل ریڈ دی سیکنڈ کا شکار ہوں گے جنہوں نے 11ویں صدی کے آغاز میں جرمنی سے انگلینڈ آنے والوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میوزیم میں ڈھانچوں کی صورت میں رکھے جانے والے دونوں افراد آپس میں رشتہ دار تھے، لیکن اس بات کا تعین کرنا نا ممکن ہے کہ دونوں کا آپس میں کیا رشتہ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2218 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *