EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

موساد کے سابق سربراہ کا چشم کشا انٹرویو، ایران کے خلاف کارروائیوں کے تفصیلات کا انکشاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


موساد، اسرائیل، ایران

Getty Images
یوسی کوہن نے پانچ سال سے زیادہ عرصے تک موساد کی سربراہی کی ہے

اسرائیلی جاسوس ادارے موساد کے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سربراہ نے ایک انٹرویو میں اپنے ملک کے ایران کے خلاف کیے گئے آپریشنز سے پردہ اٹھایا ہے۔

یوسی کوہن نے ایران کی جوہری دستاویزات کی چوری کے متعلق تفصیلات بتائیں۔

سنہ 2018 میں ایران سے لاکھوں دستاویزات چوری کر اسرائیل بھیج دی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ اُنھوں نے ایران کے ایک جوہری پلانٹ کی تباہی اور اس کے ایک جوہری سائنسدان کے قتل میں اسرائیلی ہاتھ ہونے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

کوہن گذشتہ ہفتے موساد کے سربراہ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے اسرائیل کے چینل 12 پر ایک دستاویزی پروگرام میں صحافی ایلانا ڈایان سے بات کی جو جمعرات کی رات کو نشر کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سنہ 2015 کے اواخر میں کوہن کو موساد کا سربراہ بنایا تھا۔ اُنھوں نے لندن کی ایک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سنہ 1982 میں موساد میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اُنھوں نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پورے کریئر کے دوران اُن کے پاس ‘سینکڑوں’ پاسپورٹ رہے ہیں۔

انٹرویو میں سب سے چشم کشا لمحات وہ تھے جب وہ ایران کی جوہری دستاویزات کی چوری پر بات کر رہے تھے۔

بنیامین نیتن یاہو نے سنہ 2018 میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان فائلوں کے بارے میں بتایا تھا۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے ایسا کرنے کی معلومات خفیہ طور پر حاصل کر لی ہیں۔

نیتن یاہو، موساد، اسرائیل، ایران

BBC
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو مبینہ طور پر ایران سے چوری کی گئی دستاویزات دکھاتے ہوئے

ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

کوہن نے انٹرویو میں کہا کہ اُنھیں اس آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے میں دو سال لگے۔ صحافی ایلانا ڈایا نے کہا کہ اس میں ایرانی سرزمین پر کُل 20 موساد کے ایجنٹ شامل تھے جن میں سے کوئی بھی اسرائیلی شہری نہیں تھا۔

موساد کے سربراہ نے یہ پورا آپریشن تل ابیب میں ایک کمانڈ سینٹر میں بیٹھ کر دیکھا۔ ایجنٹ ایک گودام میں گھسے اور اُنھیں 30 تجوریاں توڑنی پڑیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اُنھوں نے کہا کہ ‘جب سکرین پر دستاویزات کی تصاویر آئیں تو یہ ہم سب کے لیے بہت پرجوش لمحہ تھا۔’

اُنھوں نے مزید کہا کہ تمام 20 ایجنٹ اس کارروائی میں سلامت رہے اور اب بھی خیریت سے ہیں تاہم کچھ کو ایران سے نکالنا پڑا۔


حیران کُن تفصیلات سے بھرپور انٹرویو

رفی برگ، بی بی سی نیوز آن لائن کے مشرقِ وسطیٰ ایڈیٹر

ویسے تو موساد کے سابق سربراہان کے لیے انٹرویوز دینا یا پریس کے علم میں موجود معاملات پر اپنا نکتہ نظر بیان کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے مگر یوسی کوہن کے تبصرے اس لیے حیران کُن ہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ تفصیل بیان کی گئی ہے۔

اسی لیے ٹائمز آف اسرائیل نے اس انٹرویو کو حیران کُن اور چشم کشا قرار دیا ہے۔

کسی تھرلر ناول کی طرح کوہن نے بتایا کہ کیسے ایجنٹوں نے تجوریاں توڑیں، ٹنوں کے حساب سے ایرانی جوہری دستاویزات چرائیں اور پیچھا کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں سے بچتے ہوئے انھیں ملک سے باہر پہنچا دیا۔

اس کے علاوہ وہ یہ اعتراف کرنے کے قریب ترین پہنچے کہ اسرائیل نے ایک زیرِ زمین ایرانی جوہری پلانٹ کو تباہ کیا تھا۔

تاہم یہ انٹرویو نپا تلا تھا اور یہ اسرائیل کے ملٹری سینسرز سے ضرور گزارا ہوگا۔ اس کی ٹائمنگ بھی بڑی دلچسپ ہے۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی پر بات چیت شروع ہونے لگی ہے اور اس حوالے سے پیش رفت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

اس سے اسرائیل کے دشمنوں کو یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ موساد دشمن کی سرحدوں کے اندر گہرائی تک گھس کر کام کرنے پر آمادہ ہے۔

موساد، اسرائیل، ایران

Reuters
نتانز تہران کے 250 کلومیٹر جنوب میں واقع یورینیم افزودگی کا پلانٹ ہے

اسرائیل نے یہ لاکھوں دستاویزات چرانے کے بارے میں کھلے عام بات کی ہے مگر یوسی کوہن نے اُن کارروائیوں میں بھی موساد کے ملوث ہونے کے بارے میں عندیہ دیا ہے جن میں اسرائیلی ہاتھ ہونے کا اب تک صرف شبہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔

انٹرویو میں کوہن نے ایران میں نتانز کے جوہری پلانٹ کے بارے میں بات کی۔

یہ بھی پڑھیے

ایران اور اسرائیل کا مسئلہ ہے کیا؟

کیا ایران اور اسرائیل کی خفیہ لڑائی خطرناک موڑ پر آن پہنچی ہے؟

کیا ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اسرائیل ’خفیہ جنگ‘ جاری رکھے ہوئے ہے؟

ایران نے کہا تھا کہ جولائی 2020 میں یورینیم افزودگی کے ایک پلانٹ میں سبوتاژ کی ایک کارروائی سے آگ لگی ہے۔

رواں سال اپریل میں نئے ساز و سامان کی رونمائی کے ایک دن بعد ہی حکام نے کہا کہ اسے سبوتاژ کر دیا گیا ہے اور اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔

ایران نے اس معاملے پر اسرائیل کو ‘جوہری دہشتگردی’ کا مرتکب قرار دیا تھا۔

موساد، اسرائیل، ایران

EPA
ایران کے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو گذشتہ نومبر میں تہران کے باہر قتل کر دیا گیا تھا

یوسی کوہن نے انٹرویو کے دوران صحافی ایلینا ڈایان سے کہا کہ وہ اس سائٹ کو اچھی طرح پہچانتے ہیں اور وہ اُنھیں اس ہال تک بھی لے جا سکتے ہیں جہاں ‘گھومنے والے سینٹری فیوجز نصب ہیں۔’ پھر اُنھوں نے کہا: ‘وہ جو گھوما کرتے تھے۔ اب وہ ہال ویسا نہیں ہے جیسا پہلے لگتا تھا۔’

اُنھوں نے ایران کے اعلیٰ ترین جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے بارے میں بھی بات کی جنھیں گذشتہ نومبر تہران کے باہر ایک سڑک پر قتل کر دیا گیا تھا۔

ایران نے عوامی طور پر اس کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

موساد کے سابق سربراہ نے ملوث ہونے کی تصدیق یا تردید نہیں کی مگر اُنھوں نے کہا کہ یہ سائنسدان ‘کئی برس سے’ ہدف تھے اور اُن کی سائنسی معلومات سے موساد کو خدشات لاحق تھے۔

‘اگر کسی شخص میں اسرائیل کے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت ہے تو اس شخص کا وجود مٹنا ضروری ہے۔’

مگر اُنھوں نے مزید کہا کہ ‘اگر کوئی اپنا شعبہ تبدیل کرنے اور ہمیں مزید نقصان نہ پہنچانے پر تیار ہو’ تو اس کی جان بخشی کی جا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19940 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp