اردو ترجمے کی روایت میں دہلی کالج کا کردار


فورٹ ولیم کالج کی خدمات بلا شبہ بہت زیادہ ہیں لیکن ایک بات ذہن میں رکھی جائے کہ فورٹ ولیم کالج کے قیام کا مقصد درحقیقت ہندوستانیوں کو تعلیم دینا نہ تھا۔ انگریز چونکہ اپنا اقتدار مضبوط کرنا چاہ رہے تھے اس لیے وہ آبادی کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کے خواہاں تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنے انگریز افسروں کو جو ہندوستان میں تعینات تھے ان کو اردو سکھانے کا سوچا۔ اگرچہ ان کا مقصد مضموم تھا مگر زبان اردو کے لیے یہ عمل خیر بن گیا۔

اردو کی اتنی ترقی ہوئی کہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو کے چلنے لگی۔ اس کے بر عکس دہلی کالج کے قیام کا مقصد اردو کو فروغ دینا یا سیکھنا نہ تھا بلکہ دہلی کالج کا مقصد ہندوستانیوں کو انگریزی تعلیم سے روشناس کرانا تھا تا کہ وہ دنیا کے جدید علوم سے واقفیت حاصل کر سکیں اور دنیا کی ترقی میں معاون بن سکیں۔ ہندوستانیوں کو مغربی تعلیم دینے کے لیے ترجمے کیے گئے

مدرسہ غازی الدین حیدر کا قیام دہلی میں عمل میں لایا گیا۔ اس مدرسے کا قیام 1792 ء میں عمل میں آیا۔ اس مدرسہ کی تعمیر میں کردار جس نے ادا کیا وہ نواب غازی الدین خاں فیروز جنگ ثانی تھے۔ غازی الدین خاں نواب نظام الملک آصف جاہ کے فرزند ارجمند تھے۔ اس مدرسہ میں انگریزی تعلیم کے ساتھ مشرقی زبانوں کی تحصیل کا بھی انتظام کیا گیا۔ 1825 ء میں اس مدرسہ کو کالج میں تبدیل کر دیا گیا۔ اور اس کو دہلی کالج کا نام دیا گیا۔

جے۔ ایچ۔ ٹیلر ایک انگریز کو اس کا پہلا پرنسپل بنا دیا گیا۔ مختلف شعبہ جات کے سربراہوں کی تقرری عمل میں لائی گئی اور ساتھ ہی اساتذہ کا انتخاب بھی رو بہ عمل ہوا۔ اساتذہ اور سربراہ کے طور پر مولوی صاحبان کا انتخاب کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت عربی اور فارسی میں تعلیم دی جا رہی تھی اور وہ مولوی صاحبان تھے۔ لیکن جب انگریزوں نے اسے کالج کی شکل دی تو انگریزی پڑھانے کا اہتمام، جو کہ ان کے مقاصد میں سے ایک مقصد خاص بھی تھا، بھی کیا گیا۔

1829 ء کی رپورٹ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس کالج کے لیے ایک ٹرسٹ قائم کیا گیا۔ اور ایک کثیر رقم جو کہ تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار روپے تھی دی گئی۔ یہ رقم نواب اعتماد الدولہ سید فضل علی خاں بہادر وزیر بادشاہ اودھ نے عنایت کی۔ انگریزوں کی پالیسی کے باعث مشرقی زبانوں کی تحصیل کا وہ مقام اور مرتبہ قائم نہ رہا۔ ایک وقت تھا جب تمام علوم فارسی، عربی، سنسکرت یعنی ہندوستانی زبانوں میں پڑھائے جاتے تھے لیکن انگریزوں کی وجہ سے ان کا وہ مقام نہ رہا۔

ہر طرف انگریزی کا دور دورہ ہونے لگا۔ عربی اور فارسی کی اہمیت کم ہو کے رہ گئی۔ لیکن دہلی کالج وہ واحد کالج تھا جہاں مغربی علوم جدیدہ کی تعلم اردو میں دی جانے لگی۔ اگرچہ انگریزی پڑھانے کا انتظام بھی تھا لیکن جدید علوم کو اردو میں پڑھانے سے لوگوں کی رغبت جدید علوم کی نسبت بڑھ گئی۔ ہیئت، فلاسفی، ریاضی اور تاریخ جیسے مضامین اردو میں پڑھائے جانے لگے۔ جب لوگوں کی توجہ جدید علوم کی طرف ہونے لگی تو مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ ان علوم کی کتب انگریزی میں تھی۔

طلبا ابھی تک اس قابل نہ تھے کہ وہ انگریزی میں مفہوم کی درست تفہیم کر سکتے۔ ضرورت اس بات کی پیدا ہوئی یہ ان کتابوں کے تراجم اردو میں کروائیں جائیں تا کہ طلبا کے لیے آسانی ہو جائے۔ ”اسکول بک سوسائٹی“ کے نام کا ایک ادارہ پہلے ہی اپنے طور پر کام کر رہا تھا۔ وہ بھی علوم جدیدہ کی کتب کو اردو میں تراجم کی صورت شائع کرتا تھا۔ انگریزی علوم سے استفادہ کر کے اردو میں کتب لکھنا اور چھاپنا سر دست ممکن نہ تھا۔

ایک تو انگریزی میں مہارت کی کمی اور دوسرا اردو کی نشو و نما ابھی اس قدر نہ تھی کہ وہ ماحصل کو اردو کے قالب میں ڈھال سکے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ادارے اپنے طور پر علوم جدیدہ کو فروغ دینے کے لیے ان کتب کے تراجم چھاپتے تھے۔ 1835 ء میں ”ایجوکیشنل کمیٹی“ قائم کی گئی تا کہ درسی اور نصاب کی کتابوں کے مسئلے کو حل کرے۔ اس نے ”دہلی ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی“ قائم کی۔ اس کا مقصد انگریزی کتب کا اردو میں ترجمہ کرنا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ نصابی ضرورت کی کتابوں کی فراہمی کرنا اور تراجم کے ذریعہ علوم جدیدہ کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا۔ ڈاکٹر خلیق انجم اپنے مضمون ”اردو ترجمے کا ارتقا“ میں ان مقاصد کا یوں ذکر کرتے ہیں

” 1۔ انجمن کا منشا ہے کہ انگریزی، سنسکرت، عربی، فارسی کے اعلی درجے کی کتابیں اردو، بنگالی، ہندی میں ترجمہ کی جائیں اور سب سے اول دیسی زبان کی درسی کتابیں تیار کی جائیں

2۔ دیسی زبانوں کے مفید جدید تالیفات اور انگریزی، سنسکرت، عربی کی اعلا کتابوں کے ترجمے کے مسودے بہ شرح چھے آنے تک یا ایک روپیا فی صفحہ خریدے جائیں گے۔ فارسی کتاب یا کسی دیسی زبان کا ترجمہ اس سے نصف شرح پر خریدا جائے گا۔

3۔ قاعدہ بالا کی رو سے جو ترجمہ انجمن خریدے گی اس کا حق تالیف انجمن کا ہی ہو گا
4۔ قاعدہ بالا کا اطلاق ملکی السنہ کی جدید تالیفات یا اعلی کتاب کے ترجمہ پر نہ ہو گا۔

5۔ ترجموں کے مفید نہ ہونے کا فیصلہ انجمن کی مجلس انتظامیہ کرے گی اور سب سے اول وہ اپنا سرمایہ ان کتابوں کی طباعت پر صرف کرے گی جو نہایت ضروری ہے۔ ”

ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے بڑی تفصیل سے ان قواعد کا بیان کیا ہے، جو انگریزی سے اردو میں ترجمہ کے لیے استعمال ہوں گے۔ جب سائنس کا کوئی ایسا لفظ آئے جس کا مترادف اردو میں نہ ہو مثلاً سوڈیم، پوٹاسیم، کلورین وغیرہ تو ایسے لفظوں کو بجنسہ اردو میں لے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہی قاعدہ ایسے خطابات اور القابات کے بارے میں بھی مدنظر رکھا جائے گا جن کے مساوی خطابات و القابات ہندوستان کی تاریخ میں نہیں پائے جاتے۔ مثلاً بشپ ڈیوک ارل، کلکٹر وغیرہ۔ اگر لفظ مرکب ہے اور اردو میں اس کا مترادف نہیں، مگر الگ الگ لفظ کے مترادف اردو میں موجود ہیں تو یا ان دونوں لفظوں کو ملا کر یا کسی دوسرے مساوی مفہوم کے الفاظ میں ترجمہ کر لیا جائے

مولوی عبد الحق نے اپنی کتاب ”مرحوم دہلی کالج“ میں اس ادارے کی 128 ایسی کتابوں کا تذکرہ کیا ہے جو تراجم اور طبع زاد ہیں۔ مولوی عبد الحق لکھتے ہیں ”اس میں ذرا شبہ نہیں کہ اردو کو علمی زبان بنانے کی یہ پہلی سعی تھی جو خاص اصول اور قاعدے کے ساتھ عمل میں آئی“ انگریزوں کی ذہنیت ایسی بن چکی تھی کہ مشرقی تعلیم کو بیکار خیال کرتے تھے۔ لارڈ آکلینڈ نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ان کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا جائے۔

مسٹر فیلکس بوترو نے مغربی علوم کو رائج کرنے کے لیے اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنا یا تھا۔ فیلکس بوترو نے اپنی نگرانی میں کتابوں کے تراجم کرائے۔ ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی کے مجلس عاملہ میں فیلکس بوترو، دوارکا ناتھ ٹیگور، ٹامس مٹکاف، ولیم سان فرانسسکو، ا۔ ک۔ دیون شاہ اور چارلس گرانٹ شامل تھے۔ جن کتابوں کے تراجم ہوئے ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں۔ تحریر اقلیدس مقالہ، اصول قانون، تاریخ ہند زمانہ قدیم سے تا زمانہ حال، اصول حکومت، اصول قوانین مال گزاری، اصول قوانین اقوام، تاریخ انگلستان، خلاصی تاریخ گولڈ سمتھ کا ترجمہ، الجبر ترجمہ برجز، علم مثلث و تراش ہائے مخروطی، عملی علم ہندسہ ”پریکٹیکل جیو میٹری“ ، اصول علم ہیئت ترجمہ علم ہیئت، ہرشل ابتدائی آٹھ، تاریخ اسلام، تاریخ یونان، تاریخ روما، رسالہ کیمسٹری ترجمہ پارکر، استعمال آلات ریاضی، اٹلس جغرافیہ، قواعد اردو، انتخاب الف لیلہ، شمیسہ منطق میں، قانون محمدی فوج داری ترجمہ کتان میکنائن، اردو لغات، لیلا وتی حساب، رامائن، نل دمن، مہا بھارت انتخاب، تحلیلی علم ہندسہ، محاورات اردو، ترجمہ تزک تیموری، یوسف خان کی سیاحت۔ ”دہلی کالج تاریخ اور کارنامے از ڈاکٹر عبدالوہاب“ میں 128 کتب کی ایک فہرست مولوی عبدالحق کے حوالہ سے درج کر دی گئی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments