یونان میں شہری ریاستیں قائم تھی۔ یونان میں ایک ہی طرح کی بولی اور زبان رائج تھی، اسی زبان کے ذریعہ اپنے خیالات اور احساسات کا اظہار کرتے تھے۔ ایک ہی طرح کے عقائد کے نظام کے پیرو تھے۔ نسلی صفات میں بھی یکسانیت نظر آتی ہے۔ جہاں تک سیاسی سوجھ بوجھ اور بصیرت کی بات ہے تو ان کا شعور بہت پختہ دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی خیالات اور افکار کو آزادی کے ساتھ بیان کرتے اور اتفاق و اختلاف کی مکمل گنجائش رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں رقابت بھی در آتی تھی۔
مشترکہ خطرہ کے پیش نظر وہ اکٹھے ہو جاتے اور مل کر اس کا مقابلہ کرتے، کیوں کہ ہستی کی بقا کو اولیں حیثیت دیتے تھے۔ جیسے ہی خطرہ ٹل جاتا اور فتح یاب ہوتے تو اپنے معمولی نوعیت کے جھگڑوں میں الجھ پڑتے تھے اور اپنی اپنی ریاستوں میں لوٹ جاتے اور کھیلوں میں بھی مقابلہ کرتے۔ اگر دیکھا جائے تو مشترکہ دشمن کے خلاف جنگ اصل میں یونانی قوم کی خاطر ایسا نہ کرتے، بلکہ اپنی ریاست کی ناموری اور شہرت اور اپنی ہستی کی بقا کے لیے یہ رویہ اور عمل ظاہر کرتے تھے۔
Read more