”دل من“ :سندھ کی تہذیب و تمدن کا عکاس ناول

دل من سندھ کے تمدن موہن جودڑو اور ہڑپائی تہذیب کی عکاسی کرتا نیم تاریخی ناول ہے، جو کہ یعقوب یاور کی ذہنی تخلیق کا شاہکار ہے۔ اسے جمہوری پبلی کیشنز نے 2012 ء میں شائع کیا۔ اس ناول کا انتساب ڈاکٹر اراوتی کے نام ہے جو وسنت کالج برائے خواتین، راج گھاٹ، وارانسی کے شعبہ تاریخ ہند قدیم کی صدر شعبہ ہیں۔ ناول کی ابواب بندی یوں ہے۔ غروب آفتاب، طلوع سحر، دیوانئی، ہجرت، گومل کی وادی، سنتان پراپتی

Read more

اردو ترجمے کی روایت میں دہلی کالج کا کردار

فورٹ ولیم کالج کی خدمات بلا شبہ بہت زیادہ ہیں لیکن ایک بات ذہن میں رکھی جائے کہ فورٹ ولیم کالج کے قیام کا مقصد درحقیقت ہندوستانیوں کو تعلیم دینا نہ تھا۔ انگریز چونکہ اپنا اقتدار مضبوط کرنا چاہ رہے تھے اس لیے وہ آبادی کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کے خواہاں تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنے انگریز افسروں کو جو ہندوستان میں تعینات تھے ان کو اردو سکھانے کا سوچا۔ اگرچہ ان کا مقصد مضموم تھا مگر زبان

Read more

جمالیاتی فکر: پس منظر و جائزہ

ایستھیٹکس یہ انگریزی زبان و ادب کی اصطلاح ہے اگرچہ لفظ جمالیات اس کا ٹھیک سے مترادف نہیں۔ ایستھیٹکس کا لفظ اپنے مفاہیم و معانی کے اعتبار سے بہت وسعت کا حامل ہے۔ لفظ جمالیات اس درجے کی وسعت سے تہی ہے۔ اگر ایستھیٹکس کے لیے دیگر الفاظ لیے جائیں تو وہ ”حسیات“ ، ”وحدانیات“ اور ”ذوقیات“ ہوں گے۔ لیکن اگر ہم اپنے کلچر و ثقافت کو دیکھیں تو یہ معانی کفایت نہیں کریں گے۔ ان لفظوں کے مختلف تناظر

Read more

تم امیر کو امیر تر بنانے کے لیے آزاد ہو

آج کے اس دور بے لذتیت میں ایسی ایسی قیامتیں گزر رہی ہیں کہ روز جزا کی طلب کا کیا کرنا۔ اگر لیل و نہار بغیر حادثات و خطرات بیت جائے تو غنیمت جانا جائے۔ سرمایہ داری پہلے سے جگر دریدہ انسانیت کو الم رسیدہ بنائے ہوئے ہے۔ آنکھیں ہیں کہ اشک بہائے جا رہی ہیں اور ذہن میں بے آرزو لمحے جاگزیں۔ کس سے شکوہ کیجئے۔ آسمان کی طرف نگاہ اٹھائیے تو عرش خدا اور زمین کی اور نظر کیجئے تو خلق خدا بھی خدا ہی کی طرح بے نیاز۔

Read more

اردو ترجمے میں فورٹ ولیم کالج کا کردار

1600 ء میں ایک تجارتی کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ عہد ملکہ الزبتھ کا عہد تھا۔ اسے درج ذیل نام دیا گیا۔ ”گورنر اینڈ کمپنی آف مرچنٹس ٹریڈنگ ان ٹو ایسٹ انڈیا“ ۔ اس کمپنی کے یہاں قیام کاخالصتاً مقصد تجارتی سرگرمیاں تھا۔ اس کا نام مختصر ہوتا گیا یہاں تک کہ اسے ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ کہا جانے لگا۔ لیکن اس کمپنی نے نہ صرف یہاں تجارت کے بہانے برصغیر پاک و ہند کے وسائل کو استعمال

Read more

لسانی مطالعہ کیوں کیا جائے؟

لسانی مطالعے کا مقصد کیا ہے۔ لسانی مطالعہ کیوں کار آمد ہے۔ 1۔ لوگوں میں زبان کی ماہیت کے بارے میں عموماً پائی جانے والی ناواقفیت کو دور کرنے کے لیے ہم زبان کا مطالعہ کرتے ہیں 2۔ لسانیات کی تعلیم ایک تربیت بھی ہے۔ ایسی ذہنی تربیت جو جس کا معیار اس سطح کی دوسری اعلا تربیتوں کے برابر ہو۔ تربیت سے مراد کسی زبان کے ایسے حقائق سے با خبر ہونا ہے جنھیں کسی مخصوص نظریے کے دائرے

Read more

نوع انسانی کی شدید تر ہوتی امن عالم کو خواہش

تہذیب کے معنی و مفہوم میں ایسی تخلیقات شامل ہیں جن کو کوئی مقصد ہو۔ جو سماجی اقدار کا ایسا نظام ترتیب دیں جس سے معاشرے کے رویے میں تبدیلی آئے۔ کسی بھی معاشرے کی زندگی کے طریقے اور فکر و احساس کی اصل ہی انسان کو مہذب بناتی ہے۔ آلات و اوزار، پیداواری طریقے، سماج کے رشتے ناتے، رہن سہن کا انداز، فنون لطیفہ، عشق و محبت کے وظائف اور طرز عمل، ایک خاندان کے درمیان تعلقات کی نوعیت

Read more

انسانی شعور کی منزل

انسانی شعور انسانی وجود کو شناخت بخشتا ہے۔ ہمارا وجود کیا ہے۔ ہمارا وجود بنیادی طور پر مادی ذرات سے مل کر بنتا ہے۔ اگر ہم اس مادے پر غور و فکر کریں تو مادے کا چھوٹا زرہ ایٹم ہے اور اس سے بھی چھوٹے ذرات ہمارے وجود کا حصہ ہیں۔ یہ چھوٹے ذرات ایٹم میں پائے جاتے ہیں۔ ہمارے وجود کی بنیاد مادہ ہے اور بے شمار مادی ذرات سے بنا ہے۔ یہ مادی ذرات شعور کے حامل ہیں۔

Read more

اردو ترجمے کی روایت کا آغاز و ارتقا

اردو ترجمے کی روایت کا آغاز مغلیہ دور حکومت سے ہوتا ہے۔ جب مغل ہندوستان آئے تو ان کو لوگوں سے روابط بنانا پڑے۔ نظام سلطنت کو چلانے کے لیے حکومتی احکامات کو رعایا تک پہنچانا اور ان کا ردعمل جاننا از حد ضروری تھا۔ سرکاری ضرورت کے تحت فارسی زبان کے تراجم دیگر علاقائی زبانوں میں اور علاقائی زبانوں کے تراجم فارسی زبان میں کیے گئے۔ مغل بادشاہوں نے ہندوستان کے علاقائی ادب کی طرف بھی توجہ کی۔ اکبر

Read more

تعلیمی نظام کی درستگی کے معیارات کا تعین

یونان میں شہری ریاستیں قائم تھی۔ یونان میں ایک ہی طرح کی بولی اور زبان رائج تھی، اسی زبان کے ذریعہ اپنے خیالات اور احساسات کا اظہار کرتے تھے۔ ایک ہی طرح کے عقائد کے نظام کے پیرو تھے۔ نسلی صفات میں بھی یکسانیت نظر آتی ہے۔ جہاں تک سیاسی سوجھ بوجھ اور بصیرت کی بات ہے تو ان کا شعور بہت پختہ دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی خیالات اور افکار کو آزادی کے ساتھ بیان کرتے اور اتفاق و اختلاف کی مکمل گنجائش رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں رقابت بھی در آتی تھی۔

مشترکہ خطرہ کے پیش نظر وہ اکٹھے ہو جاتے اور مل کر اس کا مقابلہ کرتے، کیوں کہ ہستی کی بقا کو اولیں حیثیت دیتے تھے۔ جیسے ہی خطرہ ٹل جاتا اور فتح یاب ہوتے تو اپنے معمولی نوعیت کے جھگڑوں میں الجھ پڑتے تھے اور اپنی اپنی ریاستوں میں لوٹ جاتے اور کھیلوں میں بھی مقابلہ کرتے۔ اگر دیکھا جائے تو مشترکہ دشمن کے خلاف جنگ اصل میں یونانی قوم کی خاطر ایسا نہ کرتے، بلکہ اپنی ریاست کی ناموری اور شہرت اور اپنی ہستی کی بقا کے لیے یہ رویہ اور عمل ظاہر کرتے تھے۔

Read more

ملتان کی رسمیں اور ثقافتی رنگ

ایسے گیت جو رسوم و رواج کے مطابق ہوتے ہیں، ان کو رسوم و رواج پر مشتمل گیت یا رواجی گیت کہا جاتا ہے۔ ان گیتوں کی مختلف اقسام ہیں۔ ان میں سے کچھ کا تعارف اور نام شامل کیا گیا ہے۔ شادی بیاہ کے گیتوں میں شادی کی رسم ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ وہ ماں جس نے بچپن میں لوریاں دے دے کے اپنے بچے کو سلایا اور لاڈپیار سے پالا ہوتا ہے شادی کا دن اس

Read more

اردو ترجمے کا مفہوم، ضرورت و اہمیت اور اغراض و مقاصد

زندگی جہاں بھی اپنا اظہار کرتی ہے ، اپنا نظام اور ماحول خود بنا لیتی ہے۔ اگر گردوپیش میں دیکھا جائے تو مختلف جاندار اور بے جان اشیاء اپنے وجود کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔ جانداروں میں حیوان، درندے، انسان اور نباتات ہیں اور بے جان اشیاء میں پہاڑ، دریا، صحرا، جنگل، زمین اور پانی وغیرہ موجود ہیں۔ ماحول میں ہر وقت مختلف طرح کی آوازیں اپنا اظہار کر رہی ہیں۔ یہ آوازیں درحقیقت اشارات اور علامات ہیں۔ جب

Read more

خوشی اور معاشرتی معیارات

پہلے اس بات کا تعین کر لیا جائے کہ خوشی کیا ہے۔ ہم خوش کیوں ہوتے ہیں۔ خوش ہونا ضروری کیوں ہے۔ کیا خوشی کے حصول میں رکاوٹیں بھی آتی ہیں۔ کیا معاشرہ حصول مسرت اور خوشی میں سد راہ ہے بھی کہ نہیں۔ کیا خوشی کا محرک خارجی ہوتا ہے۔ کیا انسان کا باطن خوشی کا منبع ہے۔ کیا انسان ہی واحد مخلوق ہے جسے خوشی کی ضرورت ہے یا انسان کے علاوہ بھی دیگر مخلوقات خوشی کے تأثرات

Read more

ثقافت اور تہذیب کے مفاہیم کا معنوی و صوری جائزہ

ثقافت کا تعلق ہر شعبہ ہائے زندگی سے ہے۔ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہر وقت ہر لمحہ ہر آن ثقافت اور روایات کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ انتہائی لطیف موضوع ہے۔ اس موضوع پر بات کرنا اور اس کی درست معنوں میں تفہیم کا حق ادا کرنا ناممکن نہیں تو مشکل دکھائی ضرور دیتا ہے۔ ثقافت کے سلسلہ میں مختلف افراد معاشرہ اور مشاہیر کے متعین کردہ مفاہیم میں فرق و اختلاف موجود رہا ہے۔ ہمارے معاشرے

Read more

متن: ایک معروضی مطالعہ

متن کیا ہے؟ کسی مٖصنف کی کتاب کو ترتیب دینا، کسی کتاب کو حواشی کے ساتھ نئے سرے سے شائع کرنا، ہاتھ سے لکھے ہوئے قلمی نسخے کی تلاش کے بعد اسے شائع کرنا تاکہ عوام الناس کو اس سے نفع اور فائدہ پہنچے اس عمل کو تدوین متن کہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ متن کیا ہے۔ اس کا تعین کیسے کیا جائے۔ متن اصل حقیقت ہے اسے بنیاد بنا کے تدوین کے عمل کو بروئے کار لایا

Read more