EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

امریکی اڈوں کے لئے پاکستان کا انکار کتنا حقیقی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان، امریکہ کو افغانستان میں کارروائی کے لئے کسی بھی صورت اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔’ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا‘۔ عمران خان نے یہ بات ایک غیر ملکی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی ہے۔
اس انٹرویو کے دوران وزیر اعظم سے سوال کیا گیا تھا کہ ’کیا پاکستان امریکی حکومت کو سی آئی اے کے ذریعے افغانستان میں القاعدہ، داعش یا طالبان کے خلاف کراس بارڈر اینٹی ٹیرر مشن جاری رکھنے کی اجازت دے گا؟‘ صحافی جوناتھن سوان کے لئے اس سوال کے جواب میں وزیر اعظم کی طرف سے کسی لگی لپٹی کے بغیر ’ہرگز نہیں ‘ کا جواب اس قدر حیران کن تھا کہ اسے ضمنی سوال میں پوچھنا پڑا کہ ’کیا آپ سنجیدگی سے یہ کہہ رہے ہیں‘؟ پاکستان کی افغان پالیسی کی سنجیدگی کے حوالے سے یہ سوال مختلف فورمز پر مختلف صورتوں میں اٹھایا جارہا ہے ۔ تاہم اس کا کوئی حتمی جواب دستیاب نہیں ۔ اس دوران پاکستان اور افغان حکومت کے درمیان الزامات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
افغان صدر کے قومی سلامتی مشیر حمداللہ محب نے پاکستان پر افغان طالبان کی سرپرستی کا الزام دہرایا ہے۔ طالبان کو پاکستان کی پراکسی قرار دیتے ہوئے محب کا کہنا ہے کہ پاکستان سے افغانستان میں انتشار اور بدامنی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اس یک طرفہ سخت مؤقف پر پاکستانی وزارت خارجہ نے سخت رد عمل دیا ہے۔ حمداللہ محب کے تازہ ٹوئٹ کے بعد وزارت خارجہ نے محب کے بیانات کو امن مذاکرات کو ناکام بنانے کی سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر کے اس بے بنیاد الزام کی مذمت کرتے ہیں کہ پاکستان، افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخیل ہے۔ افغان امن میں پاکستان کے کردار کو عالمی طور سے تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن حمداللہ محب کے غیر ضروری اور پریشان کن بیانات امن عمل کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی کوشش ہیں‘۔
پاکستانی وزارت خارجہ کا کہناہے کہ الزام تراشی کی بجائے باہمی تعلقات کے حوالے سے سرکاری ذرائع کو استعمال کیا جائے تاکہ متفقہ منصوبہ کے مطابق معاملات طے ہوں۔ بیان بازی سے باہمی اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ترکی میں انطالیہ ڈپلومیٹک فورم کے اجلاس کے موقع پر افغان مصالحتی کمیشن کے چئیرمین عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی ہے اور انہیں یقین دلایا ہے کہ پاکستان، افغان سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر بین الافغان مذاکرات کی کامیابی کے لئے کام کرتا رہے گا تاکہ ملک کودرپیش مسائل کا جامع اور دیر پا حل تلاش کیا جاسکے۔
افغان حکومت کے ساتھ خیر سگالی کے اس مظاہرے کے باوجود پاکستان کی طرف سے ایسے اشارے بھی سامنے آتے ہیں جن سے افغان طالبان کو ’خوش‘ کرنے کی کوشش کا تاثر ملتا ہے۔ حمداللہ محب نے پاکستانی وزیر خارجہ کے ایک تازہ انٹرویو کے بعد ہی پاکستان پر از سر نو الزام تراشی کی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے افغان ٹی وی کو دیے گئے اس انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں تشدد اور بدامنی کا سارا الزام طالبان پر عائد نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کارروائیوں میں وہ عناصر بھی ملوث ہیں جو افغانستان میں امن نہیں چاہتے۔ اب وزیر اعظم کی طرف سے افغانستان میں دہشت گردی کی نگرانی کے لئے امریکہ کو کسی بھی قسم کی سہولت دینے سے دوٹوک انکار کوبھی افغان طالبان کے اس مؤقف کی تائید کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہئے کہ طالبان افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کے خلاف ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ممالک کو بھی افغانستان میں مداخلت کی پالیسی سے گریز کرنا چاہئے ورنہ اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔
افغان طالبان کا یہ بیان ان امریکی کوششوں کے بعد سامنے آیا تھا جن کے مطابق امریکہ افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے بعد پاکستان سے دہشت گردی کی نگرانی کے لئے بعض سہولتوں کا تقاضہ کررہا ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے نمائیندے نے امریکی سینیٹ کو مطلع کیا تھا کہ پاکستان اس مقصد کے لئے فضائی و زمینی دسترس دینے پر آمادہ ہے۔ اس بیان کو عام طور سے یوں سمجھا گیا تھا کہ پاکستان پھر سے امریکہ کو فضائی و زمینی اڈے فراہم کرسکتا ہے تاکہ وہ افغانستان سے نکلنے کے بعد بھی وہاں دہشت گردی کے تدارک کے لئے ضروری کارروائی کرسکے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اس امریکی بیان پر براہ راست تو کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا لیکن ان خبروں کی تردید کی گئی تھی کہ پاکستان میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ سے خطاب میں واضح کیا تھا کہ امریکہ کو پاکستان میں اڈے دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
اس حوالے سے البتہ یہ بات نوٹ کی جانی چاہئے کہ دفتر خارجہ نے امریکہ کو اڈے دینے کے بارے میں قیاس آرائیوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے جو بیان جاری کیا تھا اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان 2001سے ایئر لائن آف کمیونی کیشن (اے ایل او سی) اور گراؤنڈ لائنز آف کمیونی کیشن (جی ایل او سی) کوآپریشن کا معاہدہ موجود ہے۔ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا۔ پاکستان سے افغانستان کی نگرانی کے سوال پر ہونے والی سیاسی بیان بازی کے باوجود اس بات کی وضاحت سامنے نہیں آسکی ہے کہ 2001 میں امریکہ کے ساتھ فضائی اور زمینی تعاون کے جو معاہدے کئے گئے تھے، وہ بدستور کیوں برقرار ہیں اور کیا ان معاہدوں کے تحت امریکہ افغانستان میں کارروائی کے لئے پاکستان کی فضائی حدود یا زمینی مواصلات استعمال کرنے کا مجاز نہیں ہوگا؟ وزیر خارجہ یا وزیر اعظم کی طرف سے امریکہ کو اڈے نہ دینے اور پاکستانی سرزمین سے افغانستان میں حملہ کرنے کی اجازت نہ دینے کی بات درست بھی ہو تو ان معاہدوں کی موجودگی میں کوئی نہ کوئی بیچ کا راستہ ضرور موجود ہوگا جس کے بارے میں نہ تو بات کی جارہی ہے اور نہ ہی اس کی تفصیلات منظر عام پر ہیں۔ تاآنکہ پاکستان 20 سال پرانے ان دونوں معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کردے۔ تب ہی ان سرکاری بیانات کو درست مانا جاسکے گا کہ پاکستان افغانستان پر حملے کے لئے امریکہ کو کوئی سہولت نہیں دے گا۔
پاکستان افغان قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب کے ہر بیان کو مسترد کرنے میں تو مستعدی کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن اس کی طرف سے افغان طالبان کے اس دھمکی نما بیان کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا کہ اگر خطے کے ملکوں نے افغانستان میں مداخلت کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ عام خیال ہے کہ یہ بیان امریکی وزارت دفاع کے بیان کے تناظر میں براہ راست پاکستان کو دھمکی دینے کے مترادف تھا۔ تاہم پاکستان نے اس دھمکی کو نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھا ہے جبکہ افغان حکومت کے ساتھ بیان بازی میں الفاظ کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس دوران نیٹو اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن اور ترک صدر طیب اردوان کی ملاقات ہوئی اور ترک افواج کو اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد کابل ائیرپورٹ کی حفاظت کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ افغان طالبان دیگر غیر ملکی افواج کی طرح ترک افواج کے انخلا کا بھی مطالبہ کررہےہیں۔ البتہ صدر اردوان نے افغانستان میں اپنی فوج رکھنے کے لئے امریکہ سے ’سفارتی، عسکری و اسٹریٹیجک‘ امداد کا تقاضہ کیا تھا جو امریکہ نے مان لیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں قیام امن کا سہرا اپنے سر باندھنے کے بلند بانگ اعلانات کے باوجود کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ اس ’تعاون‘ کے لئے وہ امریکہ سے کیا سہولتیں چاہتا ہے۔
اس وقت پاکستان کی افغان پالیسی دو نکات پر مشتمل ہے۔ 1) افغان حکومت کو امریکہ طالبان معاہدہ سے پیدا ہونے والی صورت حال کا فائدہ اٹھا کر بین الافغان مذاکرات کو بامقصد بنانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ بیان بازی اور پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس طرح امن مخالف عناصر کو فائدہ ہوگا ۔ 2) افغانستان میں تشدد کی کل ذمہ داری صرف افغان طالبان پر عائد نہیں کی جاسکتی بلکہ وہاں دیگر ایسی سرکش طاقتیں بھی موجود ہیں جو امن کو ناکام دیکھنا چاہتی ہیں۔ اس مؤقف کی روشنی میں پاکستان بین الافغان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا سارا بوجھ کابل حکومت اور صدر اشرف غنی پر ڈالنا چاہتا ہے حالانکہ طالبان نے بھی مذاکرات کی کامیابی کے لئے کوئی سنجیدہ رویہ ظاہر نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی حکومت کے دعوؤں اور امن کے لئے نیک خواہشات کے اظہار کے باوجود دوحہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور یہ غیر واضح ہے کہ اتحادی افواج نکل جانے کے بعد افغانستان میں مختلف عسکری گروہ کیا رویہ اختیار کریں گے۔
دو باتیں البتہ واضح ہیں۔ ایک: طالبان کسی بھی طرح کابل پر قبضہ کرکےاپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ دوئم: افغان حکومت اور امریکہ کسی مخلوط حکومت کے قیام کے خواہاں ہیں۔ یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اتحادی فوجوں کے انخلا کے باوجود امریکہ کوئی ایسا انتظام کرنا چاہتا ہے کہ طالبان کابل پر قبضہ نہ کرسکیں۔ ترکی کو کابل ائیرپورٹ کی حفاظت پر مامور کرکے اسی مقصد کے لئے اقدام کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے دوسرا قدم افغان سیکورٹی فورسز کو مضبوط کرنے کے علاوہ علاقے میں امریکی نگرانی کے نظام کو مستحکم کرنا ہے۔ اسی لئے پاکستان سے سہولتیں دینے کی باتیں کی جارہی ہیں جن سے پاکستان مسلسل انکار کرتا ہے۔
وزارت خارجہ نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان 2001 میں ہونے والے زمینی و فضائی تعاون کے معاہدوں کا حوالہ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اگر امریکہ کو اڈے نہ بھی فراہم کرے اور امریکہ اپنے بحری بیڑوں یا بھارتی اڈوں کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی نگرانی کرے اور کسی انتہائی صورت میں وہیں سے مناسب عسکری کارروائی کرے تو کیا ان معاہدوں کی موجودگی میں امریکہ کو ایسے حملوں کے لئے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے سے انکار کیا جاسکے گا؟ اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو پاکستان کی طرف سے امریکہ کو اڈے نہ دینے کی پرجوش باتیں بے معنی اور غیر متعلقہ ہوجائیں گی۔ اگر امریکہ کو ایسی ضمانت بھی فراہم نہیں کی جارہی تو افغان امن کے لئے خدمات کے عوض امریکہ سے ’مراعات‘ کی جو امیدیں باندھی گئی ہیں ، ان کا کیا ہوگا۔
حالات کی خرابی کے بارے میں افغان طالبان کی دھمکی کو بھی اس امکان کی روشنی میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔ اس قسم کے کسی منصوبہ میں پاکستان کی شمولیت کی سب سے بھاری قیمت بھی پاکستان کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔ تحریک طالبان پاکستان اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور افغان طالبان کے ساتھ اس کے مراسم بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1918 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے