درد نالے میں نہیں تاثیر شیون میں نہیں

بہت دنوں سے کئی بار کمپیوٹر کے کی بورڈ پر اپنی انگلیاں ایک ترتیب سے پھیرتا رہا پر کوئی ایک سطر بھی معنی خیز نہ لکھ پایا۔ گویہ ہر لفظ بے وقعت اور ہر سطر بے سود بھا رہی تھی۔ گو کہ مسائل کا ایک سلسلہ بمثل کوہ ہمالیہ بصارت کی حدوں سے بھی پرے سجھائی دیتا رہا، پر میرا دل مضمحل، اور موقوف فہم اتنی تاب نہ لا سکے کہ اپنے احساس کو الفاظ کا پیراہن اور الفاظ کو جرات کے زیور سے آراستہ کر پاتا۔
بس یہی سوچتا رہا کہ کیا لکھوں اور اگر لکھوں بھی تو کون سا فرق پڑ جائے گا۔ تحریر تو صاحب شعور پڑھنے والوں کے لئے ہوتی ہے۔ اور جو بات سننے سے پہلے ہی آپ کی بات سے متفق ہو اور آپ جتنا یا آپ سے بھی زیادہ بے بس ہو اس سے بات کر کے کون سی بات بنے گی۔ بات تو تب ہے جب آپ کی بات زنگ آلود ذہنوں اور میلے دلوں والے صاحب فہم و قلم اور با اختیار لوگوں کے دل و دماغ کی صفائی کر پائے۔
ہاں الفاظ واقعی جھنجھوڑتے ہیں پر تب جب وجود زندہ ہوں۔ اور اگر ایک نعش سے سننے کا قیاس کر بھی لیا جائے تو کون سا وہ پلٹ کے جواب دے گی؟ تو پھر الفاظ کا مصرف آخر کیا بن سکتا ہے جب ہر ایک سمت محض سناٹا میلوں تک پھیلا ہوا ہو، اور ہجوم یاراں میں ہر جسد مردار ہوکے رہ گیا ہو؟ ویسے بھی جن دلوں کو ماؤں کے بین آشفتہ نہ کر پائیں ان کو میرے الفاظ کی ضرب کون سا ضرر پہنچا سکتی ہے۔ یہی وجہ بنی کہ میں نے اپنے اس مضمون کے عنوان کے طور پہ میر علی اوسط رشک کے ایک شعر کے مصرعے کا چناؤ کیا
آتش جاں سوز جب تک مشعل تن میں نہیں
درد نالے میں نہیں تاثیر شیون میں نہیں
پر اب تو عجیب گھٹن کا سا احساس پھیلتا جا رہا ہے اور ڈراؤنا اتنا کہ بقول جون ایلیا جس کے سامنے ڈر بھی کچھ نہیں۔ لفظ بھلے ہی دوسروں کے لئے بے ضرر تصور کیے جائیں پر ہر لفظ پہ اب لکھنے والا بندہ خود یہ سوچنے پہ مجبور ہو گیا ہے کہ کہیں یہی ایک لفظ میرے گلے کا پھندا تو نہیں بن جائے گا۔ اس ساری کشمکش میں جیسے زمانے گزر گئے اور ترک تحریر پورے وجود میں ایک عارضے کی طرح پھیلتی جا رہی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ اب جو لکھا ہے سو بے دلی سے لکھا ہے۔ پر جو بھی لکھا ہے سو اس امید پہ لکھا ہے کہ شاید کہ کسی دل میں اتر جائے یہ لکھا۔
بات یہ ہے کہ ہماری شخصی شناخت چاہے جو بھی ہو ذات پات، زبان رنگ و نسل یا کوئی بھی مذہب، تو بھی نوع کے قبیلے میں ہم سب کی پہچان بہرحال ایک انسان کی ہے۔ اور انسان پیدائشی اچھا یا برا نہیں ہوتا یہ تو سب سدھائے ہوئے رویے ہیں۔ اسی لئے دنیا نے انسان کی تربیت کے لئے نظریات اور قوانین مرتب کیے اور اور اخلاقیات کے اصول وضع کیے جو کہ بہرحال علاقائی تنوع کے لحاظ سے الگ رنگ ڈھنگ کے ضرور ہیں پر ان سب کا مقصد ایک مربوط، ترقی پسند اور پرامن سماج کا قیام ہے۔
اسی اصول کی بنا پر مذاہب میں دیوی دیوتا الغرض پیامبر و رسول انسانیت کی تربیت کرتے رہے۔ پہلے صحیح اور غلط کا تعین کیا گیا اور پھر اس پہ کاربند رہنے کو ہی حق پرستی اور اس سے بغاوت و انہراف کو ظلم جانا گیا۔
پر جب یہی انسان خود کو ہر قسم کے اصول و قوانین اور اخلاقیات سے بری سمجھنے لگتا ہے تو ایسا ظالم بن جاتا ہے کہ پھر اسے دل کا عارضہ ہو جائے تو اور بات البتہ غمزدہ ماؤں کے نالہ و فریاد کی چوٹ اس کے دل میں درد پیدا نہیں کرتی اور نا ہی ان کے نوحے اور شیون کی تاثیر اس کے وجود کو مہمیز کر پاتی ہے۔ اور پھر یہ اپنے آپ کو ہی خدا جانتا اور مانتا ہے۔ شاید یہی وہ کیفیت ہے جس سے ساکنان عرش خوفزدہ تھے اور خالق سے اس کا وجود نہ بنانے کی التجا کر رہے تھے۔ کیونکہ جب اس کی آنکھوں میں خون اتر آئے تو یہ گونگا، بہرہ اور اندھا ہوجاتا ہے۔ جس کے آثار ماضی قریب میں کئی بار مشاہدے میں آتے رہے۔
ادھر غزہ پر گولا باری ہوتی رہی، اور ادھر ہمارے اپنے اطراف میں ایک بھیڑ کے پیچھے غیرت کے نام پر 19 جانیں لے لی گئیں۔ ابھی اس صدمے سے جوجھ ہی رہے تھے کہ کراچی کے بحریہ ٹاؤن کے اطراف میں ایک نئی غزہ برپا کی گئی، جہاں اسرائیل کے جنگی جہاز تو نہیں البتہ بحریہ ٹاؤن کی بھاری مشینری دھرتی کے اصل وارثوں کے گھر مسمار کر رہی تھی تاکہ ترقی کی آڑ میں جدید نوآبادیات کی بنیاد رکھی جا سکے۔
بحریہ ٹاؤن کی نوآبادیات کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز پر شر پسندی کی مہر چسپاں کی گئی اور احتجاج کرنے والوں کو بلوائی اور ترقی مخالف گردانتے ہوئے انہیں جوک در جوک حوالہ زندان کیا گیا۔ بات یہاں نہ بنی تو معاملے کو مزید نفرت انگیز بنانے کے لئے اس کو لسانیت کی مقدس چادر اوڑھا کے حال ہی میں ریاست کی طرف سے عاق کردہ نفرت گری کے ماہر کاریگروں کوایک بار پھر میدان میں اتارا گیا۔
خوش نصیب کہ سندھ میں محبتوں سے پروان چڑھے سندھی اور اردو بولنے والوں کے اجتماعی شعور نے اس چال کو یکسر مسترد کر دیا۔ پر کیا کہنے بادشاہ شہر جدید کے، کہ اس کی پٹاری میں ہر مرض اور ہر درد کی پھکی موجود ہے۔ وہ سامری سے بھی کوئی بڑا منتر رکھتا ہے جس کے سحر نے ہر پیر، امیر، سادھو، سنت، سیاستدان، دیوانے۔ دانشور، حتی کہ بلے اور بندوق کو بھی اپنے قابو میں کیا ہوا ہے۔ اسی لئے اب وہ خود کو اگر خدا نہیں تو کم از کم ابرہا تو ضرور سمجھنے لگا ہے کہ جس کے ہاتھی اب راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔
نہ جانے فیض صاحب نے یہ شعر کس پیرائے میں لکھا تھا پر اس کی ذومعنیت کا ساحر وقت نے پورا اطلاق کر کے دکھایا ہے۔ وہ گلوں میں رنگ بھرتا جاتا ہے اور ہر مخالف کے صحن میں ایسی باد نوبہار چلتی ہے کہ پھر چاہے پورے چمن پہ خزاں کا ہی راج کیوں نہ ہو، یہاں گلشن کا کاروبار ایسا چلتا ہے کہ عالیہ اور عظمیٰ بھی اس کی مدحت سرائی میں خود کو الگ نہیں کر پاتیں۔
اس بیچ وہ تمام مسائل جن سے عام آدم زاد (زن و مرد) روزمرہ کی بنیاد پہ نبرد آزما ہو رہا ہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں اس کا نالا و شیون ہمیشہ کی طرح بڑی آوازوں تلے دب گیا۔ ذرہ غور تو کریں کہ وقت کے سامری کے جنتر منتر کی ایک پھونک نے کیسے مظلوم کی بیچارگی کو مزید تقویت دی ہے۔ اور کیسے سارے منظرنامے کو ایسا گرد آلود کیا ہے کہ خلق خدا کے اصل رنج و الم کی داستان سنانے کے لئے ہر زبان پہ آبلے پڑ گئے جبکہ ظالم کی سہولت کاری میں دلائل کے انبار پیش کیے جا نے لگے۔
سمجھ میں تو یہ بھی نہیں آتا کہ جب ریاستی منصب پہ بیٹھے وزیر و مشیر ملک کے وسیع تر مفاد میں مخالفوں کے سافٹ ویئر تبدیل کرا کے ان کی زبان و بیان کو اپنے حق میں ڈھالنے کی بات کرتے ہیں۔ اور یہ بات محض بات تک نہ رہتی بلکہ ایسے معجزے ہم ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ تو پھر کیا وجہ بنتی ہے کہ مختلف محکموں میں بیٹھے کرپٹ مافیا کے کیڑے جو عام لوگوں کا جائز کام بھی ان کا خون چوسے بغیر نہیں کرتے ان کے سافٹ ویئر تبدیل کر کے ملک کو کرپشن سے پاک کیوں نہیں کیا جاتا؟ اور ملک میں رہنے والے مظلوم عوام کی داد رسی کیوں نہیں کی جاتی؟ اور ہر بار ان مافیا کے خلاف آواز اٹھانے والے ہی کیوں سافٹ ویئر کی تبدیلی یا حوالہ زندان کرنے کے لئے اٹھا لئے جاتے ہیں؟
اس کی ہر دو میں سے ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ یا تو ملک میں موجود کرپشن مافیا ملک کے وسیع تر مفاد میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے یا پھر سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی نے اس کو صرف اپنی ساکھ کو ضرر پہنچانے والوں کے لئے ڈیزائن کیا ہوا ہے نا کہ ملک کی ساکھ کو۔ ایک تیسری وجہ مافیا اور کمپنی کے باہمی تعلقات اور مشترکہ مفادات ہو سکتے ہیں، پر میں اس امر کو خارج از امکان جانتا ہوں اور یہی جاننا میرے اپنے وجود کا اس عالم امکان میں باقی رہنے کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔
اتنا کچھ لکھنے کے بعد بھی میری سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی ہے کہ کیا میرا لکھا کسی مختار کار پہ اثر انداز ہو گا بھی یا پھر میرے ہی گلے کا پھندا بنے گا اور ارض پاک کا ہر مظلوم ہمیشہ کی طرح اپنا نالہ و وشیون سینے میں لئے ایک دن جا کے گورستان بسائے گا۔ اور جو صاحب قلم و دانش مظلوموں کی دل جوئی کے لئے خط قلم کو الفاظ کا وجود دیتے رہیں گے وہ طویل دربدری کے بعد زندان برد کر دیے جائیں گے اور بالآخر وہ بھی گور در گور اپنے ممدوح کے ہمسایہ ہو جائیں گے۔
کچھ امید بہرحال کی جا سکتی ہے، جس کو دائرہ امکان میں لانے کے لئے مندرجہ بالا حضرت رشک کے شعر کے پہلے مصرعے پہ یکے بعد دیگر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
