دنیا، ایران مشرق وسطیٰ اور پاکستان؛ ایک دیوانے کا خواب یا تعبیر سحر

جب میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں دفاعی و تزویراتی علوم کا طالب علم تھا تو نیوکلیئر پرولیفریشن میرے لیے صرف ایک نصابی موضوع نہ تھا، بلکہ ایک ایسا سوال تھا جس کو سلجھانے کے لئے جو قابلیت چاہیے تھی وہ مجھ میں نہ تھی۔ البتہ ہمارے استاد محترم نے بہرحال یہ کوشش کی کہ بورڈ کالا کر کے سائنسی اور سیاسی گتھیاں سلجھائیں جس نے میری فکری ساخت کو نئی جہت بخشی۔ ان دنوں میرے سامنے جوہری ہتھیاروں کی

Read more

دھرنے، دریائے سندھ اور وطن پرستی کا بیانیہ

سندھ میں دھرنے ہمیشہ سے متنازع منصوبوں کے خلاف احتجاج کی ایک نمایاں شکل رہے ہیں۔ حالیہ دھرنا بھی اس نظریہ کا ایک تسلسل ہیں۔ یہ تحریک اس وقت زور پکڑ گئی جب وفاقی حکومت نے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ پیش کیا، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے سندھ کے آبی وسائل اور زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچے گا۔ تاریخی طور پر سب سے پہلا تنازع تو اسی وقت سامنے آ

Read more

پانچ ہزار وظیفہ اسکیم اور خط غربت سے نیچے کی سوچ

سن 2001 میں ناچیز کچھ عرصے کے لئے جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کے ادارے فرینڈس فاؤنڈیشن میں ایک انٹرنی ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر منسلک رہا۔ وہاں جنرل صاحب کے ڈرائیور جن کا نام اب کوشش کرنے پر بھی یاد نہیں آ رہا، بقول ان کے جنرل صاحب کے ساتھ اپوائنٹ ہوئے تھے اور انہی کے ساتھ ریٹائر بھی ہوئے۔ اس جنرل صاحب اسے بھی اپنے ساتھ اپنے ادارے میں لے آئے۔ وہاں وہ نہ صرف جنرل صاحب کے ڈرائیور

Read more

اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں

مارچ کا مہینہ اور رمضان ایک ساتھ آ گئے ہیں۔ وطن عزیز میں موجود خودساختہ مصلحین میدان میں ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لینے کے لئے بھرپور جان لگا رہے ہیں۔ پر عزیزو مجھے کسی کی اصلاح نہیں کرنی۔ میرے اندر کا مصلح مر چکا۔ یوں کہوں کہ مار دیا گیا۔ کس نے مار دیا؟ جی انہوں نے ہی جنہوں نے آج کل اصلاح کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے۔ کہیں مذہب کے نام پر تو کہیں نئی سوچ، فکر

Read more

آخری رسومات

آئے دن خود کشیاں بڑھ گئی ہیں۔ پتا نہیں آج کل کے نوجوانوں کو کیا ہو گیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جذباتی ہو جاتے ہیں اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ بس یہی کچھ ہوتا ہے جو بعد میں کہا جاتا ہے۔ کبھی ہم نے سوچا کہ یہ جن کو ہم چھوٹی چھوٹی باتیں کہتے ہیں وہ کتنا بڑا اور گہرا زخم لگا سکتی ہیں۔ بچپن میں سکھایا گیا تھا کہ اگر ایک قطرہ پانی بار بار

Read more

کون بولے گا خلق کے حق میں؟

ملک خداداد میں پبلک کی نمائندہ ہونے والی پہلی دعویدار سیاسی پارٹی نے کوئی چار دہائیاں پہلے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا اور عوامی سیاست کا ایک نیا دو ٔر شروع ہو چلا۔ اب یہ محض اتفاق ہے یا پھر سیاسی پیروی، پر اسی دور میں پڑوسی ملک سے بھی یہی نعرہ بطور منشور وہاں کے افق پر چھا گیا۔ جس پر غالباً 1974 میں وہاں پر ایک فلم بھی بنائی گئی۔ دہائیاں گزر گئیں، دونوں ممالک ایٹمی

Read more

عقل کو آگہی سے خطرہ ہے

چند برس پہلے ایک عجب گھٹن کا احساس تھا۔ بے چینی تھی، بے کلی تھی، اضطراب تھا۔ اب نہ بے چینی ہے نہ بے کلی نہ اضطراب۔ وجود رہ گیا ہے سو بھی چلتی پھرتی نعش ہے۔ اب میت کے کیا احساسات اور کیا محسوسات اور اس سے گلا بھی کیا۔ آدم زادوں کے جس جھنڈ کا ہم حصہ ہیں وہاں سب کے سب کم و بیش ایک ہی کیفیت میں سفر حیات کو کاٹتے جا رہے ہیں۔ آنکھیں کھلی

Read more

تلاش دانش گم گشتہ

(یہ مضمون کچھ اضافوں کے ساتھ کرونا وبا کے ابتدائی لاک ڈاؤن کے دوران سوشل میڈیا پر چلتے مباحث اور ان سے جڑی یادداشتوں پر مبنی ہے ) گزشتہ برسوں کی بات ہے لاک ڈاؤن کے بعد بھی میں نے کافی عرصے بعد سوشل میڈیا کو دوبارہ جوائن کیا تھا۔ بہت ہچکچاتے ہوئے میں نے شروع میں اپنے آپ کو صرف اپنی کہانیاں شیئر کرنے تک محدود رکھا۔ اس وقت میں زیادہ تر قرنطینہ سے متعلق مسائل میں دلچسپی رکھتا

Read more

مقصود درد دل ہے نہ اسلام ہے نہ کفر

کسی بھی لکھاری کو کسی ایک موضوع پر ایک سادہ سا مضمون لکھنے کے لئے اس سے بھی زیادہ پڑھنا پڑتا ہے تب جا کے مضمون قابل فہم اور نتیجہ خیز بنتا ہے۔ جبکہ میں نے اپنے مضامین میں ایسا کوئی لچھن نہیں پایا۔ جب لکھنا شروع کیا تو منصوبہ گویا یہ تھا کہ تعلیم و تربیت اور اس سے منسلک مسائل کو اجاگر کیا جائے۔ کیا پتا اقتدار گاہوں میں ان سسکیوں کی صدا سے کہیں کوئی آسودہ ذہن

Read more

بد زبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب

کہیں پڑھا تھا کہ زمانے میں مروج اقدار فی زمانہ لوگوں کہ مزاج کا پرتو ہوتی ہیں۔ مطلب جو کثرت کا مزاج ہو گا ویسی ہی اقدار مروج ہوں گی۔ اور یہ بھی پڑھا تھا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ اب ان دونوں باتوں کو ملا کے دیکھا جائے تو یہی سمجھ آتا ہے کہ انسان کا مزاج زمانے کے ساتھ اگر بدلتا ہے تو کہیں نہ کہیں پھر اسی ڈگر پہ لوٹ آتا ہے جہاں کبھی ہوا کرتا

Read more

ہو جو کج فہمی تو آسیب کی ضرورت کیا

منیر نیازی صاحب نے کہا تھا کہ منیر اس ملک پر آسیب کا سایا ہے یا کیا ہے؟ کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ پر میں سوچتا ہوں جہاں آسیب کا سایہ ہو وہاں سفر تیز بھی ہو جائے تو منزل کب آتی ہے؟ بھلا دائروں میں چلنے سے بھی منزل ملی ہے کبھی؟ پچھتر سال بیت گئے پر پوری مملکت کبھی تیز تو کبھی دھیمی ایک ہی دائرے میں کولہو کے بیل کی مانند گھومے جا

Read more

کیوں نہ مریم ہوا کرے کوئی

وہ مسلسل اپنے وجود میں بپا طوفان سے نبردآزما تھی۔ کمرے کی کھڑکی کے باہر کا منظر: ہریالی، کھیت، چرند پرند نیز ہر چیز میں اس کو بجائے راحت کے ناگواری سی محسوس ہو رہی تھی۔ ابھی کچھ ہی دن ہوئے اس کی منگنی ہوئی تھی۔ شادی سے پہلے عروسی جوڑے کی رمک اور پیا گھر سدھارنے کی سند ملنے کا احساس اس کے گرد ایک الگ ہی دنیا کا حصار باندھے ہوئے تھا۔ ابھی وہ گدگدی ختم نہ ہوئی

Read more

یہ ایک تکفیر ضروری نہیں، واجب ہے

تکفیر ایک لفظ جس کی تائید و تردید میں ایک طرف لوگوں نے صفحے سیاہ کیے تو دوسری طرف برسر ممبر بیان پر بیان اور فتووں پر فتوے داغے گئے۔ الفاظ اپنے وجود میں اچھے یا برے نہیں ہوتے بلکہ ان کا استعمال ان کی اچھائی اور برائی کو طے کرتا ہے۔ کسی نے خوب کہا تھا کہ انسان 5 سال کی عمر تک بات کرنا سیکھ جاتا ہے پر کون سی بات کہاں کرنی ہے اور کون سا لفظ

Read more

اسرار عزا اور پاکستانی شیعہ: ایک عصبیت زدہ کالم

  میں غالباً پانچویں جماعت میں تھا جب پہلی بار اماں سے محرم کے مرکزی جلوس میں علم (پرچم) اٹھانے کے لئے ضد کی تھی۔ ہمارے ہاں محرم کے جلوس میں علم عموماً انفرادی طور پر گھروں سے نکلتے ہیں جو کہ گھر کے مرد اٹھاتے ہیں۔ ان میں اکثر تعداد منتی علموں کی ہوتی ہے۔ اور کچھ جلوس کی قدیمی روایت کا حصہ ہوتے ہیں جو مختلف امام بارگاہوں سے جلوس میں شامل ہوتے ہیں۔ تب مجھے اماں نے

Read more

تنوع، اختلاف اور خونی ہجوم

اگر آپ کو لگتا ہے کہ صرف آپ کا مذہب، مسلک، قوم، قبیلہ، نسل، جنس طبقہ برتر ہے تو فرینڈ ریکویسٹ نہ بھیجیے۔ یہ جملہ میرا نہیں بلکہ کوئٹہ کی بہادر بیٹی جلیلہ حیدر کا ہے۔ ایک خاتون جو اس خاص قبیلے سے تعلق ہونے کے باوجود کہ جس کے لئے محض ان کی نسلی پہچان ہی مار دیے جانے کے لئے کافی سمجھی جاتی ہے اور خود کوئٹہ کا شہر کہ جس کی فضا کو کئی ایک دہائیوں سے

Read more

مفسدو آؤ کرو شہر بدر مجھ کو بھی

یہ تو شیوہ ہر زمانے کا ہے کہ حق گوئی کی سزا ہمیشہ سے بے نوائی و دربدری ٹھہری ہے۔ رباط کے صحرا سے لے کر دشت نینوا تک امت سید لولاک نے نہ صاحبان صحبت کو چھوڑا نہ اہل خانہ کو تو پھر اس دور پرفتن میں ہم عاصیوں کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے۔ سبیل تاریخ و تذکرہ سے گزرتے ہوئے شکم عصر حال تک اگر ایک لحظہ ٹھہر کے ان سب بے نواؤں اور کوچہ گردوں کا

Read more

کاش کی حسرت مکینی اور فرزند چاہ

ہماری اکثریت کاش کے گھروندوں کی حسرت مکین ہے۔ ہم یوسف تو نہیں، پر ہم میں سے ہر ایک اس بات پر مصر ہے کہ اسے فرزند چاہ (کنویں کا بیٹا) کہا جائے جو اپنوں کے ہاتھوں کنویں میں دھکیلا گیا ہے۔ ایسی کشتی کا سوار جس کو ہمiشہ اس کا مانجھی ڈبو دیتا ہے۔ ایسا غیر مومن جو کئی بار ایک ہی بل سے ڈسا گیا ہے۔ ہماری کل معاشرت، سیاست سے لے کر حاکمیت تک یوسف کے بھائیوں

Read more

عطائے غیب نہیں، تحفِہ کج اندیشی

پنجاب کےہمارے ایک دوست بھٹی صاحب اکثر کہا کرتے ہیں کہ”بھئی ہماری قوم ہے شغلی مزاج کی اس لیے اسے آئے دن کسی شغل کی طلب رہتی ہےاس لئے حزب مخالف ہو یا حکمران ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی شغل لگائے ہوئے ہوتے ہیں”۔  یہ کسی حد تک ٹھیک بھی ہے ۔ مگر قابل توجہ امر یہ ہے کہ اس شغل میلے میں پس پردہ ایسے اوامر سرانجام دیئے جا چکے ہوتے ہیں جن کا پتا کبھی برسوں بعد چلتا

Read more

جو کچھ کہیں تو دریدہ دہن کہا جائے

سوچیئے اگر اس دنیا سے آوازوں کو ختم کر دیا جائے تو کیا یہ دنیا پر سکون ہو جائے گی یا پھر سکوت آمیز؟ یہ سچ ہے کہ لب بستگی اگر با معنی ہو تو ہزار داستانیں بیان کر جاتی ہے، پر یہی چپ اگر حق گوئی کے وقت سادھ لی جائے تو نہ فقط ذات کا سکون برباد کر دیتی ہے بلکہ انسان کے گرد لایعنی شور کا گھیرا کچھ ایسے تنگ کرتی ہے کہ نہ صرف انسان کا

Read more

تعلیم، مذہب اور ہراسانی کا قومی فریضہ

ایک عرصہ ہوا کسی عورت کے متعلق کوئی اچھی خبر سنے ہوئے۔ ایسی خبر جو قوم کے لئے باعث فخر ثابت ہوئی ہو۔ ایک کے بعد ایک واقعہ اب روزمرہ کی بنیاد پہ سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہوتا ہے۔ اب تو ہم ایک قوم کے بجائے ایک ایسا ہجوم بنتے جا رہے جس کے لئے ہر واقعہ، ہر جرم اور ہر گناہ محض محظوظ ہونے کے لئے ایک تماشے یا ایک کھیل سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ گو

Read more

عزاء عاشور و اربعین تہوار نہیں، تحریک ہیں

ہمارے بچپن میں محلے کہ دو بڑے امام باڑوں، کہ جن کو سندھی میں ”پڑ“ کہا جاتا ہے، میں 27 ذوالحج کو نقارے بجا کے استقبال محرم کیا جاتا تھا۔ یہ نقارے ان نقاروں کی شبیہ تصور کیے جاتے ہیں جو امام حسین علیہ السلام کے مدینہ چھوڑتے وقت اعلان کوچ کے طور پہ بجائے گئے۔ یہ اعلان محض امام ؑکے مدینہ چھوڑنے کا نہیں تھا بلکہ یہ اعلان تھا اس انکار کا جو ایک فاسق و فاجر حاکم کے

Read more

اداس ابلیس

زندگی کی بے ثباتی کا احاطہ کرنے کے لئے جتنی صلاحیت اور جس عرفان کا ہونا ضروری ہے میں تو قطعی اس کا حامل نہیں اور رہی بات ایسے حامل افراد کی تو اب شاید ان کی اکثریت منوں مٹی تلے دب چکی ہے۔ اور چند نفوس جو شاید باقی رہ بھی گئے ہیں وہ میری دانست میں نہیں۔

Read more

درد نالے میں نہیں تاثیر شیون میں نہیں

پر اب تو عجیب گھٹن کا سا احساس پھیلتا جا رہا ہے اور ڈراؤنا اتنا کہ بقول جون ایلیا جس کے سامنے ڈر بھی کچھ نہیں۔ لفظ بھلے ہی دوسروں کے لئے بے ضرر تصور کیے جائیں پر ہر لفظ پہ اب لکھنے والا بندہ خود یہ سوچنے پہ مجبور ہو گیا ہے کہ کہیں یہی ایک لفظ میرے گلے کا پھندا تو نہیں بن جائے گا۔ اس ساری کشمکش میں جیسے زمانے گزر گئے اور ترک تحریر پورے وجود میں ایک عارضے کی طرح پھیلتی جا رہی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ اب جو لکھا ہے سو بے دلی سے لکھا ہے۔ پر جو بھی لکھا ہے سو اس امید پہ لکھا ہے کہ شاید کہ کسی دل میں اتر جائے یہ لکھا۔

Read more

رمضان:احساس انسانیت سے تقویم عبدیت تک

سحر خیزی بھی اپنے اندر عجب سحر کی حامل ہوتی ہے۔ وقت سحر خدا اور بندے کے درمیان حائل ہر بیرونی سایہ و صوت کو موت دیتے ہوئے ریا کے تمام امکانات کو اپنی مشک رنگ آغوش میں لپیٹ لیتا ہے اور فجر سے ملحق شفق آراستہ ستارہ زویہ سے گویا ہونے کا موقعہ فراہم کرتا ہے۔ یہ انسان کے لئے رازداری کے ساتھ اپنی ذات کی معرفت کا ذریعہ بھی ہے۔ اور بقول صاحب نہج البلاغہ امام علی علیہ

Read more

مسموم ذہنوں کے ناخدا اور قلم سے بندھی امید

2000 میں جب میں پہلی بار اسلام آباد سے اپنے آبائی شہر کی طرف عازم سفر ہوا تو دوستوں نے مشورہ دیا کہ عید کے دنوں میں ریل گاڑی کی بکنگ مشکل ہے ، اس لئے بہتر ہو گا کہ تم بذریعہ بس روانہ ہو جاؤ۔ بذریعہ بس یہ میری زندگی کا پہلا سفر تھا جو قدرے طویل اور تنہا تھا۔ اس لئے میں ذرا سا گھبرایا ہوا تو تھا پر خاصا پرجوش بھی تھا۔ اس سے پہلے ایسا سفر

Read more

اردو کا نوحہ اور ”ہم سب“ کا سائبان

میری بنیادی تعلیم پر میری اماں، جو کہ ایک استانی بھی رہ چکی ہیں، نے انگریزی میڈیم اسکولوں میں میری داخلہ پر کیے گئے تجربات میں ناکامی کے بعد بالآخر مجھے شہر کے سب سے بڑے سندھی میڈیم سرکاری اسکول میں بھرتی کروا دیا اور وہیں سے میری باقاعدہ تعلیم کی شروعات ہوئی۔ انگریزی اورآسان (سلیس) اردو کے علاوہ میں نے تمام مضامین۔ میٹرک تک سندھی زبان میں پڑھے۔ جی ہاں جنرل سائنس سے لے کر معاشرتی علوم، اسلامیات حتاکہ

Read more

متعصب پینٹ کوٹ اور پیٹ کی داڑھی

آج ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ ہو چلا ہے مجھے یہ تحریر لکھتے ہوئے۔ ہر سطر پہ ایک تذبذب اور فکری تلاطم سے میں مسلسل نبردآزما رہا۔ ایک طرف افکار میں معروضیت کو تھامے ہوئے تو دوسری طرف میری اپنی فکری عصبیت میرے دامن کو اپنی طرف مسلسل کھینچتی رہی۔ بظاہر یہ غالب کی اس کیفیت سے مشابہت رکھتی ہے جہاں جان لینے کے بعد بندہ اس طلسماتی بصیرت کا حامل ہو جاتا ہے کہ اسے دنیا تک بازیچۂ اطفال

Read more

کچھ سائیں فقیر محمد اور استاد کی ذاتی عصبیت کے بارے میں

میں چوتھی جماعت میں تھا جب پہلی بار مجھے سائیں فقیر محمد کی کلاس میں منتقل کیا گیا۔ وہ ریاضی پڑھاتے تھے۔ یوں تو سائیں فقیر محمد مسلکاً دیوبندی، باریش اور نماز پنجگانہ کے پابند تھے، مگر ان کا کہنا تھا کہ مضمون پڑھاتے وقت ایک استاد کا مسلک اس کا مضمون ہوتا ہے جس کو خوش اسلوبی سے پڑھانا ہی اس کی مسلکی ذمہ داری ہے۔ تاہم کلاس ٹیچر ہونے کے ناتے وہ سب کی اخلاقی تربیت کو بھی

Read more

کتابوں کا قبرستان اور شعور کے گورکن

آج مجھے اپنے استاد، سائیں فقیر محمد کی بہت یاد آ رہی ہے۔ سائیں فقیر محمد ریاضی پڑھاتے تھے، جس کی سمجھ مجھے نہ تب کبھی آئی اور نہ آج آتی ہے، اس لئے طالب علمی کے زمانے میں ان کی کلاس میں ان سے بھرپور مار کھانا ایک بلاناغہ عمل تھا۔ میں شہر کے سب سے بڑے پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا، جہاں سائیں فقیر محمد پانچویں جماعت کے کلاس ٹیچر ہوا کرتے تھے۔ ان دنوں ہمارے یہاں نجی

Read more

پھٹا پوسٹر نکلا گستاخ

ابھی پچھلی صدی کے وسط کی بات ہے جب ہمارے بزرگوں کو کہا گیا تھا کہ جہاں آپ رہتے ہیں وہاں اب ایک آزاد ملک پاکستان کے نام سے بن چکا ہے۔ میرے مرحوم بابا سائیں کہتے تھے کہ تب ہمارا لڑکپن تھا اور تعلیم صفر، اس لئے گھر والوں نے کام دھندے پر لگا دیا تھا۔ انہوں نے بڑھئی/ترکھان کا آبائی پیشہ اپنایا اور بقول ان کے اتنی مہارت حاصل کر لی تھی کہ اگر دو بندے صبح شروعات

Read more