EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

یونیورسٹیوں میں چشم کشا تجربات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا 28 مئی کی اشاعت میں کالم شائع ہوا جس کا عنوان تھا ’قبرستانوں کی آمدنی میں اضافہ‘ ۔ اس پر دوستوں، قدر شناسوں اور بڑی بڑی شخصیتوں کے فون آئے جن میں پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد بھی شامل تھے۔ ان سے تبادلۂ خیال ہوا، تو کہنے لگے کہ حکومت کی یہ خواہش یقیناً قابل قدر ہے کہ وہ مڈل کلاس کو قرضے فراہم کر کے ان کی زندگی میں بہتری لانا چاہتی ہے، مگر اسے قرضے 6 فی صد شرح سود پر دینے کے بجائے ان تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو میں وائس چانسلر کی حیثیت سے مختلف یونیورسٹیوں میں کر چکا ہوں اور ان کے نہایت اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

میں نے پروفیسر نیاز احمد صاحب کے بارے میں معلومات آئی پیڈ سے حاصل کیں۔ معلوم ہوا کہ وہ 2009 ء سے 2014 ء تک نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد میں ریکٹر کے طور پر تعینات رہے۔ اس یونیورسٹی کے طلبہ سے ہماری ملاقاتیں رہیں اور انہوں نے گواہی دی کہ پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے حالات سدھارنے میں اہم حصہ لیا تھا۔ اس کے بعد وہ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی ٹیکسلا کے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔ وہاں انہوں نے روزگار کا بھکاری بنانے کے بجائے روزگار فراہم کرنے والے طلبہ تیار کیے۔ جون 2018 ء میں ان کا انتخاب پاکستان کی سب سے قدیم اور عظیم پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر ہوا۔ اسی دوران وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے بھی قائم مقام وائس چانسلر کی اضافی ذمے داریاں ادا کرتے رہے۔ اس طرح ان کا دامن مختلف النوع تجربات سے بھرا ہوا ہے۔

میں ان کے مشاہدات کی دلآویز داستان سننے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکسلا یونیورسٹی میں دس ہزار طلبہ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ وہاں میں نے طلبہ کے اندر اعتماد کی روح پھونکتے ہوئے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی تربیت دی جس کے لیے انہیں بلا سود قرضے فراہم کیے۔ پروگرام کے مطابق طلبہ کے آخری سال کے دوران انہیں گروپ کی صورت میں ایک ایسا پراجیکٹ مکمل کرنا لازمی تھا جو علاقے کے کسی مسئلے کی نشاندہی کرتا، اس کا حل ڈھونڈتا اور پھر اسے ایک نفع بخش کاروبار کی شکل میں تکمیل تک پہنچاتا تھا۔

طلبہ کے گروپ سے یہ طے کیا جاتا کہ یونیورسٹی اس پراجیکٹ کے لیے رقم فراہم کرے گی، اسے واپس کرنے کے علاوہ بزنس کر کے جو نفع کمایا ہے، اس کا نصف یونیورسٹی کو ادا کرنا ہو گا۔ رقم کی واپسی تک یونیورسٹی ڈگری جاری نہیں کرے گی۔ اس پروگرام نے یونیورسٹی طلبہ میں زبردست جوش و خروش اور تحرک پیدا کر دیا تھا۔ ان پراجیکٹس کے نتیجے میں بہت ساری اختراعات اور ایجادات بھی سامنے آئیں، کمیونٹی کے اندر خوشحالی آئی اور یونیورسٹی کے دیے ہوئے قرضے منافع سمیت واپس ہوتے رہے۔

ایک سٹوڈنٹس گروپ نے اپنے علاقے کی خواتین کو معاشی سرگرمی میں شامل کر کے انہیں کپڑے سینے کی مشینیں فراہم کر دیں، چنانچہ چھ ماہ کے اندر اندر خواتین نے اپنی کمائی سے رقم بھی لوٹا دی اور وہ مشینوں کی مالک بھی بن گئیں اور مستقل طور پر معاشی سرگرمی جاری ہے۔ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں سے ٹیکسلا کے ماحول میں خوشگوار تبدیلی رونما ہوئی اور طلبہ میں یہ اعتماد پیدا ہوا کہ وہ اپنے علاوہ دوسروں کو بھی روزگار فراہم کر سکتے ہیں۔

حکومت اگر یونیورسٹیوں کی معاشی حالت بہتر بنانے پر توجہ دے، تو نوجوانوں کی ایک ایسی بڑی کھیپ تیار ہو سکتی ہے جو پاکستان کا مستقبل کم وقت میں درخشندہ بنانے کی اہلیت سے مالامال ہو گی۔ دراصل قوم تازہ افکار سے ترقی کرتی اور نئی نئی منزلیں دریافت کرتی ہے۔ میں حیرت کی تصویر بنا ان کی حوصلوں کو ممیز لگانے والی باتیں سنتا رہا۔

وہ نہایت سادہ الفاظ میں اپنے تجربات کی روداد بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ہمارا مسئلہ گڈگورننس کا فقدان ہے۔ میں تین برسوں سے پنجاب یونیورسٹی کے معاملات گڈگورننس کے اعلیٰ اصولوں کے مطابق چلا رہا ہوں جس کے نہایت خوشگوار نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ اچھا نظم و نسق سات اصولوں پر مبنی ہے جن میں ہر قیمت پر میرٹ کی پاسداری، مکمل غیر جانب داری، قانون کی حکمرانی، بے لاگ دیانت داری، مشاورت سے فیصلہ سازی اور ہر شخص کے ساتھ یکساں انصاف پسندی شامل ہیں۔

میں خود بھی ان اصولوں پر چلنے کی کوشش کرتا ہوں اور انتظامیہ اور اساتذہ کو بھی ان کی پاسداری کی تلقین کرتا رہتا ہوں۔ میں نے جون 2018 ء میں وائس چانسلری کا منصب سنبھالتے ہی اساتذہ کے ساتھ طویل تبادلۂ خیال کیا۔ انہیں یقین دلایا کہ یونیورسٹی کی قیادت تعلیم و تحقیق کے فروغ اور مسلمہ اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں ان کا پورا پورا ساتھ دے گی۔ ان سے عہد لیا کہ وہ بھی یونیورسٹی کا معیار بلند کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔ الحمدللہ ہم سب مل کر اپنی یونیورسٹی کو بین الاقوامی رینکنگ میں لانے کے لیے شب و روز کام کر رہے ہیں۔ ان کاوشوں کے نتیجے میں دنیا کے معتبر میگزین ’ٹیچر‘ کے مطابق تین سال کی قلیل مدت میں ہماری یونیورسٹی 75 فی صد کے مقابلے میں دنیا کی 63 فی صد ٹاپ یونیورسٹیوں میں شامل ہو گئی ہے۔

گڈگورننس کے اصولوں کے ساتھ وابستگی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اساتذہ کا مائنڈسیٹ بڑی حد تک تبدیل ہو گیا ہے اور وہ پنجاب یونیورسٹی کو بین الاقوامی سطح پر عظیم تر درجہ دلانے کے لیے علمی جدوجہد کر رہے ہیں۔ طلبہ میں بھی بڑی یکسوئی پائی جاتی ہے کہ تمام داخلے آن لائن ہوتے ہیں اور ہر طالب علم کا وڈیو ریکارڈ محفوظ ہے۔ ان کے اندر شہری اور قومی شعور کی پرورش پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ پروفیسروں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور فیکلٹیوں کی ری اسٹرکچرنگ اور ری الوکیشن سے علم و تحقیق کے معیار میں عمدگی آ رہی ہے۔

تمام فیصلے قواعد و ضوابط اور اعلیٰ روایات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ اختلاف رائے کا احترام ہم سب پر لازم ہے اور میرے دروازے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے کھلے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھ رہی اور فکری راہنمائی کا فریضہ ادا کر رہی ہے۔ مجھے جو اختیارات سونپے گئے ہیں، میں انہیں مقدس امانت سمجھتا ہوں۔ اسی طرح ہماری ریاست کے رکھوالے بھی اگر گڈگورننس کے اصول اپنا لیں، تو نظریاتی، سیاسی اور معاشی استحکام قوم کے قدم چومے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے