پاکستان کا اچھوتا اعزاز

ایک ہفتہ پہلے میری نظر سے ایک ایسی خبر گزری جس سے میرا دِل خوشی سے بلیوں اچھلنے لگا اور میرا سر فخر سے بلند ہوتا گیا۔ خبر یہ تھی کہ مراکش کے شہر رباط میں ہمارے محترم دوست اور پاکستان میں منصوبہ بندی اور تعمیر و ترقی کے وزیر پروفیسر احسن اقبال کو اُن کی غیرمعمولی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ اِس ایوارڈ کی خاص اہمیت یہ ہے کہ وہ مسلم یونیورسٹیوں کے وائس

Read more

مال گاڑی میں امانتیں

  ہماری تاریخ بالعموم تلوار، تاج اور تخت کے گرد گھومتی رہی ہے اور بڑے بڑے نام، فتوحات، معاہدے اور اِنقلابات ہمارے حافظے کا حصّہ ہیں، جبکہ اصل تاریخ اکثر اُن گمنام کرداروں کے اردگرد پروان چڑھتی ہے جو زمین کی خاموش رگوں میں خون کی طرح رواں دواں رہتے ہیں۔ اُنہی خاموش کرداروں میں سے ایک نام چودھری محمد اسمٰعیل کا ہے جن کی بے مثال قربانی، فرض شناسی اور دِیانت داری کو محمد حنیف بندھانی نے اپنی کتاب

Read more

عظیم تر پاکستان کی خوشبو

بفضلِ خدا پاکستان ایک ہی جست میں زبردست علاقائی طاقت بن گیا ہے اور عالمی امور میں اُس کی رائے کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ مجھے 1982ء کے اوائل میں جناب صوفی برکت علی سے ہونے والی ملاقات یاد آ رہی ہے۔ وہ ایک معروف روحانی بزرگ تھے جو فیصل آباد میں اقامت پذیر تھے۔ وہ بالعموم اپنے ملاقاتیوں کو اُمید کی روشنی عطا کرتے تھے۔ اُن دنوں افغانستان پر سوویت یونین کی فوجیں قابض ہونا چاہتی تھیں

Read more

کرتا ہوں جمع جگر لخت لخت

اِس بار عالمِ اسلام پر جو اُفتاد آن پڑی ہے، اُس نے ایک طرف یاس کے اندھیرے بہت گہرے کر دیے ہیں جبکہ دوسری جانب عظیم امکانات کے اجالے بڑے روشن کر دیے ہیں۔ ایک مدت سے مسلمانوں کی یہ پہچان رہی ہے کہ وہ آپس میں لڑتے اور اَپنے عظیم رہنماؤں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تعداد میں دو اَرب سے بھی زیادہ ہیں اور بفضلِ خدا اُن کے لق و

Read more

بجٹ سازوں کے لگائے ہوئے زخم

ہمارے وزیرِخزانہ جناب محمد اورنگزیب نے شدید احتجاجی آوازوں کے درمیان کمال عرق ریزی سے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیا ہے جس کی گتھیاں سلجھانے میں ایک برس لگ ہی جائے گا اور پھر خوش رنگ وعدوں، دعووں اور عنایتِ خسروانہ کا ایک ہنگام بپا ہو گا۔ بجٹ سازی جس کا پاکستان کی تشکیل اور معاشی تعمیر میں بہت اہم کردار ہے، ہم نے اِسے محض ”ایک کارِ زیاں“ بنا کے رکھ دیا ہے۔ ہم اپنے معزز قارئین

Read more

مَیں نے سندھ طاس معاہدہ طے پاتے دیکھا

یوں تو ہمارے داخلی اور خارجی چیلنجز ایک سے ایک ہوشربا ہیں، مگر بھارت کی موجودہ اَندھی قیادت نے جو روش اختیار کی ہے، اُس میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی بہت زیادہ فساد بپا کر سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جس طرح 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات پاکستان سے چھیڑ چھاڑ اُس کے لیے عبرت کا سامان بن گئی ہے، اِسی طرح پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوشش اُس کے پورے وجود کو ہلا کے

Read more

دو قومی نظریے کے مثبت اثرات

برِصغیر میں دو قومی نظریے کی غیرمعمولی سیاسی اور تاریخی حیثیت رہی ہے۔ مسلمانوں نے اِس پر آٹھ صدیوں تک حکومت کی اور نہایت کشادہ اَور نفیس تہذیب و تمدن کو فروغ دیا۔ کھلے شہر تعمیر کیے اور باغات کے حسین و جمیل قطعات آباد کیے۔ اولیائے کرام اور مشائخِ عظام نے اسلام کی روشنی طول و عرض تک پہنچائی۔ مسلمانوں کے عہد میں ہندوستان کو ایک سپرپاور کا درجہ حاصل تھا۔ تب مغربی طاقتیں اُس کے وسائل پر قبضہ

Read more

تاریخ پیدائش کے عجائبات

ایک مدت سے تاریخ پیدائش غیرمعمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے، کیونکہ قسمت کا حال بتانے والے نجومی سب سے پہلے تاریخ پیدائش معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ستارہ شناس محترمہ اپنی گفتگو میں اِس واقعے کا ذکر کرتی ہیں کہ میرے با اعتماد دَوستوں نے لیفٹیننٹ جنرل سیّد عاصم منیر کی تاریخ پیدائش فراہم کی تھی۔ مَیں نے اُس کی بنیاد پہ اُن کا زائچہ بنایا اور جب اُن سے ملاقات ہوئی، تو مَیں نے اُنھیں آرمی چیف بننے

Read more

فتح مبین سے جنم لیتا ہوا عالمی انقلاب

پاکستان میں 10 مئی سے ایک جشن کا سماں ہے۔ نریندرمودی جو اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہا تھا اور اَپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے سالہاسال سے جنگی تیاریوں میں مصروف تھا، 10 مئی کو اُس کا خواب چکناچُور ہو گیا۔ اُس نے 22؍اپریل کو ایک خونیں ڈرامہ رچایا جس میں مقبوضہ کشمیر میں پہلگام کے سیاحتی مقام پر 26 ہندو سیاح تہ تیغ کر دیے گئے اور گجرات کے قصاب نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہاں سے

Read more

پاکستان ناگزیر تھا

مودی سرکار جو آر ایس ایس کے فلسفے ہندو توا پر پوری طرح کاربند ہے، اُس نے منگل کی شب لائن آف کنٹرول اور اِنٹرنیشنل باؤنڈری پر چھ مقامات سے پاکستان کے شہریوں پر میزائل داغے جس کے باعث 26 سویلین شہید اور 46 شدید زخمی ہوئے۔ اِس کے لیے پہلے سے ماحول تیار کیا گیا تھا۔ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزام لگایا کہ وہاں سے کچھ دہشت گرد 200 کلومیٹر کا فاصلہ

Read more

ایٹمی جنگ میں فاتح کون؟

چند روز قبل پہلگام میں دہشت گردی کا جو سانحہ پیش آیا تھا، پاکستان نے اُس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اُسے بھارت کا فالس فلیگ آپریشن قرار دِیا کیونکہ اُس کی گھڑی ہوئی کہانی کا کوئی سر پیر نہیں تھا۔ مودی سرکار نے یہ انکشاف کیا تھا کہ کنٹرول لائن عبور کر کے چند پاکستانی دہشت گرد مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے اور تقریباً دو سو کلومیٹر کی مسافت طے کر کے وہ سیاحتی مقام پہلگام

Read more

پروفیسر خورشید احمد کے عہد ساز اوصاف

پاکستان کے مایہ ناز اسکالر، سیاسی مدبر اور اِسلامی تحریکوں کے ہم دم پروفیسر خورشید احمد 13 اپریل کو جہانِ بقا کی طرف کوچ کر گئے۔ اِنَّا لِلَّٰہ و َاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُونَ۔ اُن کی عمر 93 سال تھی جس کا ایک ایک لمحہ اُنہوں نے اپنے رب کی خوشنودی میں بسر کرنے اور اُس کی مخلوق کی حالت بہتر بنانے میں صَرف کیا۔ اُنہوں نے سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کے انقلاب آفریں افکار کی ترویج جس انہماک اور جاں فشانی سے

Read more

تاریخ کے اجالوں میں فیصلے کیجیے

آج پوری قوم کی نظریں بلوچستان پر لگی ہوئی ہیں کہ وہاں ایک شورش سی برپا ہے۔ ہمارے بیشتر سیاسی اور دِفاعی تجزیہ نگار اِس بدامنی کا ذمے دار اَفغانستان کو قرار دَے رہے ہیں جو اِن دنوں بھارت اور اِسرائیل کے زیرِاثر ہے۔ اُس نے اُن دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دَے رکھی ہے جو پاکستان میں دراندازی کرتی اور رِیاست کے اداروں کو نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ بظاہر یہ تجزیہ درست معلوم ہوتا ہے، مگر تاریخ اِس ضمن

Read more

دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

اللہ کا شکر ہے کہ عیدالفطر پاکستان اور پورے عالمِ اسلام میں غیرمعمولی مذہبی عقیدت سے منائی گئی۔ پاکستان اِن دنوں دہشت گردی کی زد میں ہے، لیکن عید کے روز پورا ملک پُرامن رہا۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ یورپ اور اَمریکہ میں بھی عیدالفطر کے اجتماعات غیرمسلموں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں عید کے اجتماعات غیرمسلموں کے لیے غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گئے اور عالمی میڈیا نے اُن کی نہایت عمدہ

Read more

صورتِ حال: کہیں بحران گہرا نہ ہو جائے

اِس امر سے انکار ناممکن ہے کہ پاکستان کے حالات بڑے گمبھیر ہیں۔ ایسے میں سیاست دانوں، حکمرانوں اور اَمنِ عامہ قائم رکھنے والے اداروں پر سخت ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے تدبر و تحمل اور دُوراندیشی سے کام لیں اور طاقت کے بے جا استعمال سے اجتناب کریں۔ تاریخ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ طاقت کا اندھادھند استعمال معاملات کو اِس قدر بگاڑ دیتا ہے کہ واپسی کا

Read more

ذرائع ابلاغ کے نرالے رنگ ڈھنگ

ایک زمانہ تھا جب ہمیں خبریں اور سیاسی تجزیے صرف اخبارات اور ریڈیو پاکستان سے دستیاب ہوتے تھے۔ اخبارات کے ایڈیٹر چھان پھٹک کر خبریں شائع کرتے اور اِس بات کا خیال رکھتے کہ اخلاق سے گری ہوئی کوئی اسٹوری شائع نہ ہونے پائے۔ ریڈیو پاکستان جو حکومت کی تحویل میں تھا، اُس کا ہر پروگرام بہت نپا تُلا اور معیاری ہوتا۔ تلفظ کا خاص خیال رکھا جاتا۔ ہر مکالمہ تہذیب اور اَخلاق کے دائرے میں ادا کیا جاتا تھا۔

Read more

صورتِ حال: سیاست کا امرت دھارا

  امرت دھارا اُس محلول کو کہا جاتا ہے جس میں ہر مرض کی شفا اور ہر اُلجھے ہوئے مسئلے کا حل موجود ہو۔ ہماری قوم کو اِس وقت ایسے محلول کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ سیاسی کشیدگی نے سانس لینا دوبھر کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں وزیرِ اعظم جناب شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کی جسے قائدِ حزبِ اختلاف نے بڑی رعونت سے ٹھکرا دِیا۔ غالباً اِس کا ایک سبب ماضی کے واقعات

Read more

پیش بینی ہزار نعمت ہے

مَیں کئی ماہ سے کھانسی میں مبتلا ہوں جو آپ کا پورا وُجود جھنجوڑ ڈالتی اور آپ کی صلاحیتِ کار کو بری طرح نچوڑ لیتی ہے۔ مَیں نے اپنی بیماری کا ذکر صرف چند قریبی رشتے داروں اور دَوستوں سے کیا ہے، کیونکہ بقول حالیؔ ؎ مصیبت کا اِک اِک سے احوال کہنا مصیبت سے ہے یہ مصیبت زیادہ مگر دنیا والے جینے نہیں دیتے۔ کہتے ہیں کہ تم پاکستان کے سینئر ترین صحافی ہو، حکومت کو تمہیں علاج کی

Read more

پیش بینی ہزار نعمت ہے

  پاکستان بفضلِ خدا 14 ؍اگست کی شب وجود میں آ گیا تھا، کیونکہ وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے صدر کے طور پر قائدِاعظم محمد علی جناح کو اِقتدار منتقل کر دیا تھا۔ 15 ؍اگست کو پورے ملک میں یومِ آزادی منایا گیا جبکہ وزیرِ اعلیٰ صوبہ سرحد ڈاکٹر خان صاحب نے پاکستانی پرچم کو سلامی دی نہ سرکاری طور پر یومِ آزادی کی تقریب کا اہتمام کیا۔ حالات کے پیشِ نظر صوبائی اسمبلی

Read more

بس یہی داستاں ہماری ہے

کوئی ایک ہفتہ قبل دن ڈھلے فون کی گھنٹی بجی، تو مَیں نے نیند کے خمار میں ریسیور اُٹھایا۔ دوسری طرف سے ایک نسوانی آواز آئی کہ مَیں عظمیٰ بات کر رہی ہوں، مَیں نے حال ہی میں اپنی داستان لکھی ہے، کیا آپ اُسے پڑھنا پسند کریں گے۔ مَیں اِس تیکھے سوال پر ذرا ٹھٹکا اور پوچھا آپ نے یہ سوال کیوں کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا اِس لیے کیا ہے کہ عموماً اہلِ قلم دوسروں کی داستان پڑھنے

Read more

پیش بینی ہزار نعمت ہے

گزشتہ کالم کی اشاعت پر میرے ایک دوست نے فون کیا کہ آپ حالاتِ حاضرہ پر اظہارِ خیال کرنے کے بجائے ہمیں پرانے قصّے سناتے اور تاریخ کے دھندلکوں کی طرف دھکیلتے رہتے ہیں۔ مَیں نے جواب میں کہا کہ آج ہم جن پیچیدہ اَور لاینحل مسائل میں گِھرے ہوئے ہیں، اُن کے اسباب کا صحیح سراغ لگانے اور اُن کا معقول حل تلاش کرنے کے لیے ہمیں اپنا ماضی کھنگالنا ہو گا۔ وہ اَقوام جو آج بہت زیادہ ترقی

Read more

پیش بینی ہزار نعمت ہے

گزشتہ سے پیوستہ ہم اِس موضوع پر اظہارِ خیال کر رہے تھے کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کم ہونے کے بجائے ہماری سلامتی اور بقا کے لیے سوہانِ روح بنتی جا رہی ہے حالانکہ ہماری عسکری اور سیاسی قیادتوں کی جانب سے بار بار اِس عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ہم آہنی ہاتھوں سے دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کا پوری طرح قلع قمع کر کے ہی دم لیں گے۔ اِس پر ہمارے ذہنوں

Read more

پیش بینی ہزار نعمت ہے

تاریخ ماضی کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اہلِ نظر مستقبل کی تصویر دیکھ سکتے ہیں، مگر ہم نے ایک ایسا نصابِ تعلیم ترتیب دیا ہے جس میں تاریخ اور جغرافیے کی بہت کم گنجائش ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اندھیروں میں زندگی کا سفر طے کرتے رہنے سے سقوطِ ڈھاکہ جیسے ہولناک حادثے سے دوچار ہو گئے۔ بدقسمتی سے ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ہم پرانی غلطیاں دہراتے اور اَپنے وطن کے مستقبل

Read more

صورتِ حال: امروز و فردا کا جمال

تین روز پہلے 2024 ء کا سال اختتام پذیر ہوا اَور اَب ہم 2025 ءکے حصار میں داخل ہو چکے ہیں۔ ٹی وی پر اہلِ خرد قومی رہنماؤں اور منصوبہ سازوں سے بار بار پوچھ رہے ہیں کہ آپ کے خیال میں گزشتہ سال کیسا رہا اور آنے والے سال سے آپ کیسی توقعات وابستہ کرتے ہیں۔ دراصل ماہ و سال کے حساب و کتاب کو باقاعدہ سائنس کا درجہ اہلِ مغرب نے دیا جبکہ اسلام ہر مسلمان کو تاکید

Read more

صورتِ حال: پاکستان کی قدیم ترین یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر

ابھی چار دِن ہی گزرے ہیں جب 16 دسمبر 1971 کے سانحے کی یادیں سینے کو چھلنی کر گئیں۔ سانحہ بھی تو قیامت خیز تھا۔ پوری اسلامی تاریخ میں یہ سانحہ کسی بھی اعتبار سے ’سانحۂ بغداد اَور سانحۂ غرناطہ سے کم نہیں تھا۔ نئی نسل اِسے تقریباً بھول چکی ہے اور جن کے کرتوتوں سے یہ حشر برپا ہوا تھا، وہ دَادِ عیش دے رہے ہیں اور اِقتدار کا کھیل کھیلنے میں بدمست ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا

Read more

صورتِ حال: گردشِ ماہ و سال

اِس ہفتے ماہ و سال کی گردش غیرمعمولی طور پر تیز رہی۔ وقفے وقفے سے عجیب و غریب واقعات رونما ہوتے گئے۔ ایک رات اچانک ٹی وی میں شور اُٹھا کہ جنوبی کوریا کے صدر نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا ہے۔ صبح اُٹھے، تو معلوم ہوا کہ مارشل لا صرف چھ گھنٹے جاری رہا، کیونکہ پارلیمنٹ نے اُس کی توثیق سے انکار کر دیا تھا اور عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ بعد میں فوج کے سربراہ

Read more

صورتِ حال: جھوٹ اور گھمنڈ کا پھندا

میری ناسازیِ طبیعت کے باعث دو کالم ناغہ ہو گئے اور اِس دوران میرا پیارا وطن ایک سخت آزمائش سے گزر گیا۔ دراصل اِس وقت ہمارے عوام جھوٹ اور دَغابازی کے اژدہوں سے ڈسے جا رہے ہیں۔ تاریخ میں بار بار اَیسا ہوا ہے کہ جھوٹ کا پھندا کچھ عرصے بعد موت کے پھندے میں تبدیل ہو جاتا ہے اور قوموں کی قومیں تباہی کے دہانے تک پہنچ جاتی ہیں۔ بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں شعلہ بیاں ہٹلر نے

Read more

متفقہ دستور کی پسِ پردہ کہانی

1973 کا آئین 10 ؍اپریل کو متفقہ طور پر انتہائی کشیدہ سیاسی حالات میں منظور ہوا جو کسی طور ایک سیاسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ یہ معجزہ کیونکر تخلیق ہوا، اِس کی داستان بہت دلچسپ اور حد درجہ سبق آموز ہے اور اِس کا ہمارے مستقبل سے نہایت گہرا تعلق ہے۔ راقم الحروف جو اِس پورے عمل میں پسِ پردہ شریک رہا، وہ آج کے نازک مرحلے پر شدت سے محسوس کرتا ہے کہ مختلف مراحل کے مدوجزر تفصیل

Read more

یا رب! مجھے صبرِ جمیل عطا فرما

میری نیک سیرت، خدمت گزار اَور خوش اخلاق اہلیہ شاہدہ اِکیاون سال کی رفاقت کا حق ادا کر کے 31 ؍اکتوبر کی رات اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ اُنہیں مرگی کا دورہ پڑا جو جاں لیوا ثابت ہوا۔ اِنَّا لِلَّٰہ و َاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُونَ۔ وہ ڈیڑھ دو سال سے اکثر یہ کہا کرتی تھیں ”اللہ! تُو جب بھی بلائے، مَیں تیار ہوں۔“ میری جب نومبر 1973 میں شاہدہ سے شادی ہوئی، وہ مسٹر بھٹو کا دورِ حکومت تھا جو

Read more

صورتِ حال: ایک نیم جاں کالم

  آئینی اصلاحات کی تندوتیز ہوا چلنے لگی اور شبِ تاریک میں سیاسی رہنماؤں کے درمیاں سرگوشیاں ہوتی رہیں، تو مجھ پر تجسّس کا بخار چڑھنے لگا۔ اِسی عالمِ اضطراب میں 26 ویں آئینی ترمیم دونوں ایوانوں سے منظور ہو گئی اور وزیرِ اعظم جناب شہباز شریف نے اعلان فرمایا کہ پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کا در کھل گیا ہے اور اَب ہُن برسنے والا ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ معجزہ کس طرح وجود میں

Read more

27 ؍اکتوبر ایک انتہائی سیاہ دِن

یہ آج سے 77 سال پہلے کی بات ہے جب تقسیمِ ہند کے بعد ریاست جموں و کشمیر میں ڈوگرا رَاج کے مسلمانوں پر مظالم ہر حد عبور کرنے لگے، تب آزاد قبائل کے غیور مسلمان اپنے بھائیوں کو قتلِ عام سے محفوظ رکھنے کے لیے کشمیر کی حدود میں داخل ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔ بھارتی کابینہ کو کشمیر میں قبائلی یلغار کی اطلاع ملی، تو وہ مہاراجہ ہری سنگھ کی ایک پہلے سے آئی ہوئی درخواست پر

Read more

صورتِ حال: تابندہ مستقبل کی جلوہ آرائی

اردو کے نامور شاعر جناب بہزاد لکھنوی نے ایک بڑا دَعویٰ کر دیا تھا ؎ اے جذبۂ دل گر مَیں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے ؍ منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے۔ شاید اُن کی زندگی میں تو یہ دعویٰ عملی جامہ نہ پہن سکا ہو، مگر پاکستان کے عوام کے عظیم جذبوں اور تمام جہانوں کے خالق کی رحمتِ تمام سے پاکستان کے اندر یہ معجزہ رُونما ہو چکا ہے اور منزلِ مراد

Read more

وہ اَپنی خُو نہ چھوڑیں گے

مرزا غالبؔ نے کوئی دو صدی پہلے یہ شعر کہا تھا ؎ وہ اَپنی خُو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں ؍ سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو۔ یوں لگا کہ اُنہوں نے ہماری آج کی دلخراش قومی صحت کا حال بڑی شائستگی اور ملائمت سے بیان کر دیا ہے۔ یہ شاعر بھی عجیب و غریب لوگ ہوتے ہیں۔ اُن کی قوتِ متخیلہ ایک لمحے میں صدیوں کا سفر طے کر کے

Read more

جنابِ وزیرِاعظم! لفظ ’بربریت‘ آئندہ اِستعمال نہ کیجیے

وزیرِاعظم پاکستان جناب شہباز شریف نے 27 ستمبر کو اَقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا جس سے اہلِ پاکستان کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ اُنہوں نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلیوں کے مظالم کی دل دہلا دینے والی تصویر پیش کی اور عالمی برادری کے سربراہوں پر زور دِیا کہ محض بیانات جاری کرنے کے بجائے فلسطین اور کشمیر کے مسائل کا پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ وہ اِس عزم کا بھی

Read more

ایک ’جلسے‘ پہ موقوف ہے گھر کی رونق

ایک شاعر نے زندگی اور موت کی کیفیات نہایت سادہ پیرائے میں بیان کی ہیں۔ ؎ زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب ؍ موت کیا ہے اِنہی اجزا کا پریشاں ہونا۔ آئین اور ضابطوں میں ڈھلے ہوئے معاشروں میں اُن لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جو عناصر کے اندر ترتیب کو مستحکم رکھتے ہیں جبکہ ہماری سوسائٹی میں اُن افراد اَور جتھوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے جو اَجزا کو پریشان رکھنے میں بڑی مہارت

Read more

ستمبر، بارانِ رحمت کا مہینہ

ہمارے اہلِ قلم عام طور پر ستمبر کے مہینے کو ’ستم گر‘ لکھتے آئے ہیں، مگر اِس بار وُہ رَحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ثابت ہو رہا ہے۔ پہلا بڑا سبب یہ کہ اِس میں بارہ ربیع الاوّل وارد ہوا ہے جو سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ کا یومِ ولادت ہے جو مختلف وجوہ سے غیرمعمولی جوش و خروش سے منایا گیا ہے۔ گھر گھر خوشیوں کے چراغ روشن ہوئے اور فضا درود و سلام کی صداؤں سے گونج اُٹھی۔

Read more

تاریخ میں پہلی بار

تاریخ وہ لوگ رقم کرتے ہیں جو زندگی کا گہرا شعور اَور اِحساس رکھتے ہیں۔ شاعرِ مشرق اقبالؔ کہتے ہیں ؎ تُو اِسے پیمانۂ امروزِ فردا سے نہ ناپ ؍ جاوداں، پیہم‌دواں، ہر دم جواں ہے زندگی۔ اُن کے ہاں زندگی ایک مقصد سے عبارت ہے جس کا مختلف صورتوں میں اظہار ہوتا رہتا ہے۔ پاکستان جو ایک عظیم الشان مقصد کی قوت سے وجود میں آیا ہے، وُہ اُسی نصب العین کی طاقت سے ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ

Read more

صورتِ حال: پسندیدہ زِندگی کا عمدہ نمونہ

جہانگیر اے جھوجھا حیاتِ مستعار کی 83 بہاریں دیکھ کر 30 ؍اگست کو اَپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے اور اَپنے پیچھے ایک بھرپور زِندگی کی ایک اچھی مثال چھوڑ گئے۔ اُن کا تعلق وکالت کے پیشے سے تھا جس میں بڑا نام پیدا کیا۔ وہ اَپنی وسیع اور متنوع سرگرمیوں کی بدولت پورے پاکستان میں جانے پہچانے جاتے اور بیرونی ممالک میں بھی اُن کا ایک حلقۂ تعارف موجود تھا۔ اُنہوں نے وکیلوں کی مختلف تنظیموں اور بار کونسلوں

Read more

دہشت گردی کے خلاف ہمت اور عقل سے کام لیجیے

اتوار اَور پیر کی درمیانی شب بلوچستان کے چھ سات اضلاع میں انسانوں کے خون سے جو ہولی کھیلی گئی ہے، اُس نے پوری قوم کو شدید عدم تحفظ کا احساس دلایا ہے۔ کچھ عرصے سے ڈیجیٹل دہشت گردی نے ایک حشر اٹھا رکھا ہے جسے آہنی ہاتھوں سے نمٹ لینے کا بار بار عزم دہرایا جاتا ہے۔ اب عزم اور ہمت کے معنی بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔ یہی معاملہ ہماری اجتماعی فہم و فراست کا بھی ہے۔ اب

Read more

78 ویں یومِ آزادی پر منفرد تحفے

بے حد خوشی کی بات یہ ہے کہ پریشان حال قوم 78 واں یومِ آزادی غیرمعمولی جوش و خروش سے منا رہی ہے۔ اِس کا اچانک سبب یہ بنا کہ اتھلیٹ ارشد ندیم نے صرف چھ روز پہلے پیرس اولمپکس میں نیزہ پھینک کر 118 سالہ تاریخ بدل ڈالی، گولڈ میڈل حاصل کیا اور پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کر دیا ہے۔ اِس عظیم الشان کامیابی کا بہت روشن اور خوشگوار پہلو یہ ہے کہ عوام و خواص

Read more

صورتِ حال: پرانے اور نئے بڑے بڑے شگاف

آج کل ملکی اور عالمی حالات میں ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے۔ گزشتہ کالم میں وعدہ کیا تھا کہ ہمارے سمجھ دار دوست جناب جاوید نواز نے ملکی معیشت میں بڑے بڑے سوراخوں کی ایک فہرست بھیجی ہے، وہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جائے گی تاکہ اُنہیں صورتِ حال کی سنگینی کا درست اندازہ ہو سکے۔ اقتصادی ماہرین اور سیاسی دماغ اُن پر نہایت سنجیدگی سے غور و خوض کرتے ہوئے ایک جامع اور قابلِ عمل اصلاحی منصوبہ ترتیب دے سکتے ہیں۔ وقت بڑی سرعت کے ساتھ ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اور صرف بجلی کے ہوش رُبا بِلوں نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اُن کے خلاف عوام کے اندر پائی جانے والی پریشانی ایک عوامی مہم کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ جماعتِ اسلامی بڑی حکمت اور پُرامن طریقے سے رائے عامہ منظم کر رہی ہے جس کا اربابِ حکومت کو مثبت جواب دینا چاہیے۔ ظلم کا عالم یہ ہے کہ ہمارا گھر بڑی احتیاط سے بجلی استعمال کرتا ہے، مگر اگست میں ایک لاکھ پچہتر ہزار رُوپے کا بل آیا ہے جو سخت پریشانی کا باعث بنا ہے۔

Read more

دھرنوں کا سلسلہ دراز نہیں ہونا چاہیے

  پاکستان میں سب سے منظم جماعتِ اسلامی نے گزشتہ سات دنوں سے لیاقت باغ، راولپنڈی کے باہر دھرنا دے رکھا ہے جس کی قیادت خود اَمیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کر رہے ہیں۔ اُن کی طرف سے حکومت کے سامنے آٹھ مطالبات رکھے گئے ہیں جو دُکھی عوام کی آواز معلوم ہوتے ہیں۔ حکومت پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ جب تک یہ آٹھ مطالبات منظور نہیں کیے جاتے، دھرنا جاری رہے گا اور وُہ پاکستان

Read more

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت

  آپ ملکی حالات سے جس قدر بھی لاتعلق رہنا چاہیں، وہ آپ کے دل و دِماغ پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کو بنوں چھاؤنی پر حملے کی خبر ملے اور آپ بے چَین اور مضطرب نہ ہوں۔ ہم دل کو کتنا ہی سنبھالا دینا چاہیں، مگر انتشار اَور بگاڑ کی ہولناک صورتِ حال آپ کے اعصاب پر ضرور اَثرانداز ہوتی ہے۔ درجنوں لوگ جو آج قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، اُن

Read more

نظریۂ ضرورت کا ترقی یافتہ ایڈیشن

12 جولائی 2024 ء ہماری قومی زندگی میں اِس لیے غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اُس روز ہماری عدالتِ عظمیٰ نے 8 ؍اور 5 کی نسبت سے ایک ایسا فیصلہ صادر کیا ہے جس سے چیف جسٹس محمد منیر کا نظریۂ ضرورت ایک نئی شکل میں زندہ ہو گیا ہے۔ ایک طبقۂ فکر اِسے جمہوریت کی فتح قرار دَے رہا ہے اور اُن آٹھ معزز جج صاحبان کو مبارک باد پیش کر رہا ہے جنہوں نے مقتدرہ کے

Read more

صورتِ حال: بجٹ بنانے اور پرکھنے کے سیاسی آداب

بجٹ آ گیا اور نافذ بھی ہو گیا ہے۔ اہلِ اقتدار کا دعویٰ ہے کہ اُنہوں نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا اور اِنتہائی مشکل حالات میں ایک عوام دوست بجٹ دیا ہے۔ لوگوں کے اندر پھیلا ہوا اِضطراب اور اِشتعال اُن کے دعوے کا منہ چڑا رَہا ہے۔ دراصل ہمارے حکمران مختلف حیلے بہانوں سے بجٹ سازی کے معروف طریقوں سے پہلوتہی کرتے رہے جو حالات میں ضرورت سے زیادہ محاذ آرائی کے باعث بنے ہیں۔ اِسی

Read more

نئی غلطیاں

  وقت کتنا بھی گزر جائے، دوستوں کی باتیں یاد رَہتی ہیں۔ ایک زمانے میں میرا مشاہد حسین سیّد سے بہت ملنا جلنا تھا اور مَیں اُن کی شخصیت سے بہت متاثر تھا۔ وہ ایک مرنجا مرنج انسان ہیں اور اُن کے ظاہر اور باطن میں کوئی فرق نہیں جبکہ بڑے بڑے سیاست دان بھی اپنے ظاہر کی حنا بندی کا بہت زیادہ خیال رکھتے اور اَپنا امیج بنانے کے لیے بڑے جتن کرتے ہیں۔ آج کل تو سارا کاروبار

Read more

معاشی مسئلے کا آسان اور یقینی حل

  جب قوم کے اندر فرض شناسی اور وَقت کی پابندی کی صفات کمزور پڑ جائیں اور پیسے کا حصول زندگی کا سب سے بڑا مقصد قرار پائے، تو اِجتماعی معاملات میں ہر سُو بگاڑ دکھائی دیتا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی میں ایسے تجزیے پڑھنے اور سننے میں آتے ہیں کہ پورا نظام تلپٹ ہو چکا ہے اور ہر شعبۂ زندگی پوری طرح زوال کی زد میں ہے۔ ہمارے سیاسی قائدین اور اِقتصادی ماہرین خون منجمد کرنے والی پیشین

Read more

ظلم کی ٹوٹتی ہوئی دیوار

  اِس بار جون کا مہینہ غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف سیاسی اور آئینی معاملات کچھ اِس طرح تصفیے کے لیے سپریم کورٹ تک پہنچ گئے ہیں کہ عدلیہ اور مینجمنٹ کے درمیان اختیارات کی فیصلہ کن جنگ چھڑ گئی ہے اور دُوسری طرف بھارت میں سات مرحلوں کے اندر اِنتخابات ہوئے ہیں جن میں نریندر مودی کے خواب چکناچُور ہو گئے ہیں اور ظلم و تعصب کی دیوار ٹوٹتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ انتخابات کے

Read more

اچھے کاموں کی ستائش ہونی چاہیے

  نوے سال انگریزوں کی غلامی میں گزارنے کے باعث ہماری نفسیات میں حکومت کے خلاف ایک نفرت سی پیدا ہو گئی تھی۔ اِس پر تنقید کرنا اور اِس کے اندر کیڑے نکالنا قومی فریضہ قرار پایا تھا۔ آزادی مل جانے کے باوجود ہمیں زیادہ تر ایسے حکمران میسّر آتے رہے جو عوام کے مفادات کے سامنے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل میں لگے رہتے۔ اُن کے رویوں سے رعونت ٹپکتی اور اُن کے مزاج میں فرعونیت رچی بسی تھی۔

Read more

ماضی کی جھاڑ جھنکار

پسند اپنی اپنی۔ دیوانوں کو اکثر دیوانے پسند آتے ہیں جبکہ اہلِ عزم نئی نئی بستیاں آباد کرتے جاتے ہیں۔ ہمارے اندر ایسے لوگ بھی ہیں جو سب کچھ گنوانے کے بعد بھی نوابی کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ ہر قوم کے ماضی میں اچھی باتیں بھی ہوتی ہیں اور غم آگیں یادیں بھی۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ جو ثمربار پودے آپ نے اگائے تھے، اُن کی نگہداشت کرتے ہیں یا ماضی کے جھاڑ جھنکار ہی میں الجھے

Read more

درگزر کی بات

  حالاتِ حاضرہ میں عام آدمی کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے، اِس لیے ہمارے زیادہ تر ٹی وی چینلز اور یوٹیوب گزرتے لمحات کو تندوتیز لہجے میں زیرِبحث لا رہے ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے منجھے ہوئے تجزیہ نگار بڑی پُرمغز گفتگو کرتے ہیں، لیکن ذرائع ابلاغِ عامہ میں رجحان یہ پنپتا جا رہا ہے کہ حالاتِ حاضرہ اِس طرح پیش کیے جائیں کہ زیادہ سے زیادہ سنسنی پھیلے، دشمنی کا ماحول بنے اور قومی اداروں

Read more

من پسند مسائل

تاریخ کے گہرے مطالعے سے یہ راز کھلا کہ من پسند مفادات اور فیصلوں کی طرح ہمارے ہاں مسائل بھی من پسند ہوتے جا رہے ہیں۔ کچھ قومیں مخصوص مسائل کو بڑی اہمیت دیتی ہیں جبکہ بعض طبقات اپنے من پسند مسائل کی جگالی کرتے رہتے ہیں۔ دنیا میں ایسی قومیں بھی ہیں جو مسائل کا ذکر کم کرتی اور ان کا حل پہلے دریافت کر لیتی ہیں۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا، اپنے سیاست دانوں کو یہی کہتے

Read more

کسانوں کی بلبلاہٹ کا مستقل مداوا

ہم ایک زمانے سے یہ کہاوت سنتے آئے ہیں کہ حکومت ماں کی طرح ہوتی ہے اور وُہ اَپنے شہریوں کی بچوں کی طرح دیکھ بھال کرتی ہے۔ اُسے جونہی یہ احساس ہوتا ہے کہ اُس کے بچوں کو کوئی گزند پہنچنے والی ہے یا پہنچ رہی ہے، تو وہ اَپنے پَر پھیلا کر اُن کی حفاظت کے لیے پہنچ جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب حالات بڑی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں اور حکومت نے سوتیلی

Read more

آنکھیں اور کان کھلے رکھیے

طبیعت ناساز ہونے کے باوجود مَیں نے قوم کے مقدر کے ستارے کو ایک نئی شان سے طلوع ہوتے دیکھا ہے۔ دو برادر مسلم ملکوں سعودی عرب اور اِیران کی اعلیٰ قیادتیں حال ہی میں پاکستان کے دورے پر آئیں اور اُنہوں نے مسائل میں گِھرے ہوئے دوست کے ساتھ تعاون بڑھانے اور اِس کی معیشت میں استحکام پیدا کرنے کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، تو ہم پر لازم آتا ہے کہ اِن جذبوں

Read more

اچھے دنوں کی آہٹ

گلاس آدھا بھرا ہے یا آدھا خالی ہے، یہ بحث امید پرستوں اور مایوس لوگوں کے درمیان عہد قدیم سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔ زیادہ تر لوگ اپنی طبیعت، اپنی سوچ اور اپنے تجربات کی روشنی میں چیزوں کو دیکھتے اور ان کے بارے میں ایک رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اگر انھیں پے در پے صدمات سہنے پڑے ہوں اور مایوسیوں نے انھیں گھیر رکھا ہو، تو وہ پکار اٹھیں گے کہ گلاس آدھا خالی

Read more

اہل وطن کو سکھ بھری عید مبارک

خوشی کا موسم ہے کہ امت مسلمہ نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے رمضان کے روزے رکھے اور تزکیۂ نفس کے عظیم الشان دور سے گزر کر صبر و ایثار کی برکتوں سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ ایسے میں میرے نوک قلم پر سکھ بھری عید مبارک کی اجنبی سی ترکیب کیوں آئی ہے۔ شاید اس کی وجہ ہمارے بلند مرتبہ انشا پرداز جناب عرفان صدیقی اور کمال کے زباں داں جناب وجاہت

Read more

غیرمعمولی واقعات سے ابھرتا ہوا اَلمیہ

25 مارچ 2024 ء کو اِسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ معزز جج صاحبان کا سپریم جوڈیشنل کونسل کے نام خط خود ایک غیرمعمولی واقعہ ہے، مگر اِس میں جج صاحبان پر دباؤ ڈالنے، اُنہیں ہراساں اور بلیک میل کرنے کے جو واقعات درج ہیں، وہ اَور بھی زیادہ غیرمعمولی نوعیت کے ہیں۔ حیرت اِس بات پر ہے کہ جب اِسی ہائی کورٹ کے جرات مند جج جناب شوکت عزیز صدیقی نے اِس حقیقت کا انکشاف کیا کہ ڈی جی

Read more

پاکستان ہم سب کا ہے

آج ہم جو سیاسی منظرنامہ دیکھ رہے ہیں، اس میں مختلف جماعتیں اور ادارے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان صرف ان کا وطن ہے، اس پر حکومت کرنے اور اس کے وسائل سے مستفید ہونے کے وہی حق دار ہیں۔ بدقسمتی سے ان کے دعووں اور بیانیوں میں اس قدر شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے کہ معاشرہ بری طرح تقسیم ہو گیا ہے اور گھر گھر ایک جنگ جاری ہے۔ یہ جنگ کس قدر تباہ کن ہے،

Read more

کارناموں پر فخر کرنا چاہیے

زندگی میں کامیابیاں بھی ہوتی ہیں اور ناکامیاں بھی، مگر وہ قومیں ترقی کرتی اور اَپنا وجود طویل عرصے تک قائم رکھتی ہیں جو اُمید کے دامن سے وابستہ رہتی اور اَپنے کارناموں پر فخر کرتی ہیں۔ اچھی باتوں کا سچا شعور اَور اُن کے ساتھ پختہ پیوستگی ہی اقوام اور اَفراد کو تروتازہ رَکھتے ہیں۔ مایوسی اور مسلسل بےاطمینانی میں غلطاں لوگ خزاں رسیدہ پتوں کی طرح جھڑتے چلے جاتے ہیں۔ یہ تو اعلیٰ روایات اور توقعات کا ایک

Read more

کامن سینس مطلوب ہے

جس زمانے میں خط لکھنے کا رواج تھا، تو سلام مسنون کے بعد خط میں پہلا جملہ یہ لکھا جاتا کہ ”آپ کی خیریت مطلوب ہے۔“ اس عہد میں خطوط کے ذریعے بڑے بڑے مسائل حل کیے جاتے اور ذہنوں کی آبیاری کا اہتمام ہوتا۔ غالبؔ کے خطوط نے ایک نیا دبستان ادب ایجاد کیا۔ علامہ اقبالؔ نے اپنے خطوط کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزادی کی راہیں کشادہ کیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی ماہنامہ ترجمان القرآن میں نصف

Read more

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

  وطن عزیز میں گزشتہ چھ سات برسوں سے جو واقعات ظہور پذیر ہو رہے ہیں اور عام انتخابات کے بعد اسمبلیوں میں جو دھماچوکڑی مچی ہوئی ہے، اسے دیکھ کر شاعر مشرق کا یہ مصرع عالم اضطراب میں زبان پر آ جاتا ہے۔ ع کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔ اس مصرع کا ایک وسیع تاریخی پس منظر ہے۔ جن دنوں تحریک پاکستان اپنے جوش پر تھی اور عام انتخابات کا غلغلہ بلند تھا، تو ہم ہائی

Read more

دل کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں

یہ ٹکڑا پنجاب کی نومنتخب وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز کی اس تقریر کا ہے جو انہوں نے اسمبلی سے 220 ووٹ حاصل کرنے کے فوراً بعد ایوان میں عالم بے ساختگی میں کی۔ وہ اس لحاظ سے بڑی خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے پہلی بار انتخابات میں حصہ لیا اور پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ منتخب ہوئیں۔ وہ اس انتخاب پر بڑی عاجزی سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں جس نے انہیں عزت کا مقام عطا کیا اور

Read more

مذاکرات کی میز کے گرد بیٹھنے کی برکات

پاکستان میں 8 فروری 2024 ء کو جو عام انتخابات منعقد ہوئے، وہ مختلف وجوہ سے متنازع نظر آ رہے ہیں اور ایک ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ جی ڈی اے کے مرکزی رہنما پیر پگارا نے سرعام اعلان کیا ہے کہ انتخابات تین ماہ پہلے ہی فروخت ہو چکے تھے اور بندر بانٹ کا پورا منصوبہ تیار کر لیا گیا تھا۔ اسی اعلان کے شانہ بہ شانہ 17 فروری کو راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے انکشاف کر ڈالا

Read more

قوم کی پکار

میں نے گرم چائے کا ایک جرعہ لیا اور اپنی تاریخ کے سب سے بڑے اور منفرد اِنتخابات کے نتائج پر کالم لکھنے بیٹھ گیا۔ 1960ء میں جب میں نے صحافت کے پیشے میں قدم رکھا، تو میرے اساتذہ نے یہ بات ذہن نشین کرا دِی تھی کہ صحافت دراصل شہادتِ حق کا دوسرا نام ہے، مگر آج کی ’مصنوعی ذہانت‘ میں سچ تک پہنچنا محال ہو گیا ہے۔2024ء کے انتخابات بھی تمام تر کوششوں، دعوﺅں اور حفاظتی تدابیر کے

Read more

انتخابات سے آگے

میں یہ کالم سات فروری کی شام قلم بند کر رہا ہوں۔ جب یہ شائع ہو گا، تو انتخابات کے زیادہ تر نتائج آ چکے ہوں گے اور مقتدرہ حکومت سازی کا جائزہ لے رہی ہو گی۔ ایک پارٹی حکومت بنائے گی یا مخلوط حکومت قائم ہو گی، ہم یقین سے اس معاملے میں کوئی رائے نہیں دے سکتے، البتہ ان رجحانات اور امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں جو انتخابی مہم کے دوران سامنے آتے رہے ہیں۔ اس بار

Read more

انتخابات شفاف اور بیرونی اثرات سے محفوظ ہونے چاہئیں

پروفیسر ڈاکٹر سید محمد عبداللہ ایم اے علوم اسلامیہ میں ہمارے استاد تھے۔ وہ اردو لٹریچر میں اسلامی اثرات پر لیکچر دیتے ہوئے تحقیق کا ایک چمن کھلا دیتے تھے۔ وہ کبھی کبھی پنجابی کا ایک شعر پڑھتے جس میں ’گھمن گھیری‘ کے الفاظ شامل تھے۔ وہ انہیں شگفتہ لہجے میں دہراتے رہتے تھے۔ اب میں نے 2024 ء کی انتخابی مہم کے جو عجیب و غریب مناظر دیکھے، تو گھمن گھیری کا مفہوم سمجھ آنے لگا۔ ذہن کو چکرا

Read more

غیریقینی کیفیات میں یقینی انتخابات

22 جنوری کو جناب مجیب الرحمٰن شامی نے اپنے گھر پر پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ جناب محسن نقوی کو مدعو کیا جن کے اقتدار کا اسی روز ایک سال مکمل ہوا تھا۔ انہوں نے مجھے بھی مدعو کیا، چنانچہ میں اپنے بیٹے کامران اور پوتوں افنان اور ایقان کے ہمراہ نو بجے ان کے ہاں پہنچ گیا۔ وہاں ان کا حلقۂ احباب جمع تھا جن میں حفیظ اللہ نیازی بہت نمایاں تھے۔ ہم اپنے ساتھ ایک پینٹنگ کا تحفہ لے

Read more

کانگریس کے خلاف ملک گیر ریفرنڈم

کانگریسی دور حکومت مسلمانوں کے لیے زحمت میں رحمت ثابت ہوا، کیونکہ ان پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو چکی تھی کہ ان کے لیے ہندوؤں سے علیحدگی کے سوا اور کوئی محفوظ راستہ نہیں۔ خود ہندو لیڈر رام نندن نے 18 ؍اکتوبر 1938 ء کو ’اسٹار آف انڈیا‘ کلکتہ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ ”کانگریس کی زیادتیاں اور سازشیں شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان کے نصب العین کی طرف تیزی سے

Read more

قائداعظم سے تاریخی اہمیت کا مکالمہ

ایکٹ 1935 ء میں اقلیتوں کے حقوق کی نگہبانی کے لیے وائسرائے اور صوبائی گورنروں کو خصوصی اختیارات سونپے گئے تھے جو مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اس تکلیف دہ صورت حال سے نمٹنے اور مسلم لیگ کا پروگرام لوگوں تک پہنچانے کے لیے قائداعظم نے مجلہ ’منشور‘ کا 1938 ء میں اجرا کیا جس کی ادارت اپنے معتمد ساتھی سید حسن ریاض کے سپرد کی۔ انہوں نے قائداعظم کے ساتھ عہد ساز مکالمہ

Read more

ہندو راج کی تباہ کاریاں

شریف رپورٹ کے مطابق منجھول میں صرف چار سو مسلمان گھرانے آباد ہیں۔ گاؤں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر بقرعید کے موقع پر زمانۂ قدیم سے گائے کی قربانی کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ کے نمائندوں کو گائے کی کھالوں کی فروخت کی رسیدیں بھی دکھائیں جو گزشتہ برسوں میں کھالوں کی تعداد سے مطابقت رکھتی تھیں، لیکن اردگرد کے دیہات کے ہندوؤں نے مادھی پور کے تحصیل دار کو یہ رپورٹ دی کہ اس

Read more

عقیدۂ توحید کے منافی بندے ماترم کا جبری نفاذ

کانگریس نے سات صوبوں میں اقتدار سنبھالتے ہی تمام اسکولوں اور حکومتی اداروں میں بندے ماترم کا گیت لازمی قرار دیا اور مسلمانوں کو اسے گانے پر مجبور کیا۔ اس کے خلاف پورے ہندوستان میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔ پیرپور رپورٹ نے یہ حقیقت بیان کی کہ صوبہ بہار میں کانگریس نے نئی نسل پر اپنی فرقہ وارانہ سیاست مسلط کر کے بڑے خوفناک اثرات پیدا کر دیے ہیں جن سے قومی اتحاد کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ تنگ نظر

Read more

اردو زبان اور اسلامی ثقافت کی بیخ کنی

پیر پور تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کانگریسی قیادت فرقہ وارانہ فسادات کی ذمے داری مسلمانوں پر ڈالتی رہی۔ وزیر انصاف ڈاکٹر کے۔ این۔ کاٹجو نے قرار دیا کہ مسلم لیگی ارکان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور اردو اخبارات میں حکومت کو بدنام کرنے والے مضامین دراصل فرقہ وارانہ فسادات کے ذمے دار ہیں اور ایک اقلیتی فرقہ تقریر و تحریر کی آزادی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر حکومت کو ناکام بنا دینا چاہتا ہے۔ وزیر موصوف کے لیے مناسب

Read more

گائے ذبیحہ پر مسلم بستیاں نذر آتش

پیرپور رپورٹ کے مرتبین لکھتے ہیں کہ ہم حیران ہیں کہ اسکولوں کے بچوں کے معصوم ذہنوں پر بندے ماترم کا نقش کیوں بٹھایا جا رہا ہے۔ سات صوبوں میں حکمران کانگریسیوں اور ان کے ہوا خوروں نے یہ گیت سرکاری اجتماعات اور دوسری تقاریب میں گانا شروع کر دیا ہے جن میں دوسرے مذاہب کے لوگ جبراً شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ معلوم ہوا ہے کہ اسکولوں کے اساتذہ نے نئے آقاؤں کی خوشنودی کے لیے بندے ماترم ازخود

Read more

مسلم عوام سے رابطے کی خطرناک مہم

پیرپور رپورٹ میں تفصیلات دی گئی ہیں کہ عام ہندو سوراج کو رام راج اور کانگریسی حکومت کو ہندو حکومت سمجھتا ہے۔ درحقیقت کانگریسی ارکان کی بھاری اکثریت ہندوؤں پر مشتمل ہے جو مسلمانوں اور انگریزوں کے صدیوں تک محکوم رہنے کے بعد خالص ہندو راج کے قیام کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ صوبائی انتخابات کے دوران مخصوص مسلم نشستوں میں کانگریس کی شکست فاش نے اس کا یہ دعویٰ بالکل کھوکھلا ثابت کر دیا

Read more

قائدِاعظم کے ساتھ تاریخی اہمیت کا مکالمہ

ایکٹ 1935 ء میں اقلیتوں کے حقوق کی نگہبانی کے لیے گورنر جنرل اور صوبائی گورنروں کو خصوصی اختیارات سونپے گئے تھے، مگر وہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ میں بری طرح ناکام رہے۔ اس تکلیف دہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے قائداعظم نے مجلہ ’منشور‘ کا 1938 ء میں اجرا کیا اور اس کی ادارت اپنے معتمد ساتھی سید حسن ریاض کے سپرد کی جنہوں نے قائداعظم سے تاریخی اہمیت کا ایک مکالمہ کیا۔ اس نے قرارداد لاہور

Read more

نایاب رپورٹ میں د ل فگار اِنکشافات

پیرپور رِپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ کانگریسی رہنما آئے دن اعلان کرتے رہتے ہیں کہ وہ غریبوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں، لیکن ہماری تحقیقات کے دوران ثبوتوں کے ساتھ یہ حقیقت ہمارے سامنے آئی کہ کانگریس اور سوشلسٹ تنظیموں نے مسلم کسانوں اور کارکنوں کے ساتھ بےجا امتیازی سلوک روا رکھا ہے۔ غیرمسلم زمینداروں اور سرمایہ داروں کے گماشتوں نے ان جھگڑوں کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دے دیا جو خاص معاشی نوعیت کے

Read more

آزادی کی تڑپ پیدا کرنے والی نایاب رپورٹ

پیرپور رپورٹ شائع ہوئی، تو کانگریس کی طرف سے اس میں لگائے گئے الزامات کی پرزور تردید کی گئی۔ اس پر بنگال کے وزیراعظم اے کے فضل الحق نے خود تحقیق کر کے رپورٹ مرتب کی اور 15 دسمبر کے ”اسٹیس مین“ میں شائع کرائی۔ وہ رپورٹ کے آغاز میں لکھتے ہیں کہ ”کانگریسی وزارتوں نے حکومت سنبھالتے ہی عجیب و غریب حرکتیں شروع کر دی تھیں۔ مثال کے طور پر سرکاری افسروں کے نام پہ احکام جاری ہوئے کہ

Read more

لرزہ طاری کر دینے والی دستاویزات

1935 ء ایکٹ کے تحت جداگانہ انتخاب کے طریق پر 1937 ء کے اوائل میں صوبائی انتخابات ہوئے جن میں کانگریس سات صوبوں میں وزارتیں بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ اس پر پنڈت جواہر لال نہرو نے مارچ میں فیض پور کے جلسۂ عام میں پرلے درجے کی ہندوانہ ذہنیت کا مظاہرہ کیا جہاں شیوا جی کے نام پر صدر دروازہ اور دیگر مذہبی پیشواؤں کے حوالے سے مختلف دروازے بنائے گئے تھے۔ وہ اس جلسے کی شان و شوکت

Read more

صوبائی خودمختاری کا پہلا تجربہ

ایکٹ 1935 ء کے تحت 1937 ء میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے جو پہلے کے مقابلے میں زیادہ خودمختار تھیں اور صوبوں کے منتخب سربراہ وزیراعظم کہلاتے تھے۔ 1936 ء کے اواخر میں کانگریس اور مسلم لیگ نے اپنے اپنے انتخابی منشور شائع کیے۔ مسلم لیگ نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جمہوری طرز کی مکمل حکومت خود اختیاری کے قیام پر توجہ دی جائے۔ ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ صوبائی اسمبلیوں میں مسلم لیگ کے

Read more

سنہ 1935 کا حاکمانہ آئین

ایکٹ 1935 ء کے تحت برطانوی صوبوں اور نوابی ریاستوں پر مشتمل وفاق کا وجود عمل میں آنا تھا۔ اس پر اس وقت تک عمل درآمد ناممکن تھا جب تک نوابی ریاستوں کے حکمرانوں کی ایک معین تعداد الحاق کی دستاویز پر دستخط نہیں کرتی۔ اس کی نوبت ہی نہیں آئی، لہٰذا مرکزی حکومت کے معاملات ایکٹ 1919 ء کے تحت ہی چلتے رہے اور 1935 ء کے ایکٹ کے صرف اس حصے پر عمل درآمد شروع ہوا جس کا

Read more

انسانی المیے سے انسانیت کی فتح تک

بدقسمتی سے آج ہمارے فلسطینی بھائی جن انسانی المیوں سے گزر رہے ہیں، ایک زمانے میں برصغیر ہند کے مسلمان بھی نہایت دردناک واقعات سے گزرتے رہے تھے۔ انہوں نے نوے سال تک انگریزوں اور ہندوؤں کی ان کوششوں کے خلاف ایک پرعزم اور آئینی جدوجہد کی تھی جو مسلمانوں کا وجود ختم کرنے پر تلی ہوئی تھیں۔ ہم اپنے کالموں میں اس عظیم داستان حریت کا احوال اس خیال سے بیان کر رہے ہیں کہ ہماری نئی نسل کو

Read more

گول میز کانفرنس ۔ آئینی تصفیے کی قابلِ ذکر کوشش

نہرو رپورٹ کی منظوری کے وقت کانگریس کے لیڈروں نے برطانوی حکومت کو الٹی میٹم دیا تھا کہ اگر ان کی تجاویز دستوری اصلاحات میں شامل نہ کی گئیں، تو وہ سول نافرمانی کی تحریک چلائیں گے۔ قائداعظم نے 19 جون 1929 ء کو برطانوی وزیراعظم ریمزے میکڈونلڈ کو لندن میں گول میز کانفرنس بلانے کا مشورہ دیا جس میں ہندوستان کے آئینی مسائل کے تصفیے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی جائے۔ اس پر سائمن کمیشن کی

Read more

ظلمتِ شب میں صبح آزادی کا ظہور

الہ آباد ہندوستان کا قدیم شہر دریائے جمنا اور گنگا کے سنگم پر واقع تھا۔ ہندوؤں کے نزدیک گنگا ایک مقدس دریا تھا جس میں نہانے کے لیے ہر سال ہزاروں زائرین آتے تھے۔ اس کے علاوہ الہ آباد نہرو خاندان کا آبائی شہر بھی تھا۔ انڈین کانگریس میں شمولیت کے بعد موتی لال نہرو نے اپنی کوٹھی انند بھون ہندو قوم کے لیے وقف کر دی تھی۔ گاندھی جب کبھی الہ آباد آتے، تو اسی عمارت میں قیام کرتے۔

Read more

بت کدے میں اذانِ حق

26 جولائی کو اُسی روزنامے نے یہ خبر شائع کی کہ علامہ اقبال صدارتی خطبہ تیار کر رہے ہیں۔ اِس خبر کے چھپتے ہی محمد یعقوب کا ایک خط تمام اردو روزناموں میں شائع ہوا کہ علامہ اقبال نے سالانہ اجلاس کی صدارت قبول فرما لی ہے، اِس لیے تمام سیاسی عناصر سے اجلاس میں شرکت کی اپیل کی جاتی ہے تاکہ مسلمانوں کی طرف سے ایک مبسوط لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ لکھنؤ میں سالانہ اجلاس کی تیاریاں

Read more

عالمِ بےسروسامانی اور جذبوں کی تابانی

  خطبہ الہ آباد میں علامہ اقبال نے فرمایا ہندوستان کی سیاسی غلامی تمام ایشیا کے لیے لامتناہی مصائب کا منبع ہے۔ اِس نے مشرق کی روح کچل ڈالی ہے اور اِسے آزادی کی اُس مسرّت اور قوت سے محروم کر دیا ہے جس کی بدولت کبھی اِس کے اندر ایک بلند اَور شاندار تمدن پیدا ہوا تھا۔ ہم پر ایک فرض ہندوستان کی طرف سے عائد ہوتا ہے جو ہمارا وَطن ہے اور جس میں ہمیں جینا اور مرنا

Read more

بحرانوں سے نکالنے میں اسلام کا معجزاتی کردار

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ میری رائے میں ہندوستان اور ایشیا کی قسمت صرف اس بات پر منحصر ہے کہ ہم قومیت ہند کا اتحاد کسی اصول پر قائم کریں۔ اگر ہم ہندوستان کو چھوٹا ایشیا قرار دیں، تو یہ کسی طور غیرمناسب نہیں ہو گا۔ اہل ہند کا ایک حصہ اپنی تہذیب و تمدن میں مشرقی اقوام سے متشابہ ہے، لیکن اس کا دوسرا حصہ ان قوموں سے ملتا جلتا ہے جو مغربی اور وسطی ایشیا میں آباد ہیں۔

Read more

مذہب اور سیاست کی یکجائی کا اسلامی تصوّر

علامہ اقبال نے خطبے میں فرمایا کہ سرزمینِ مغرب میں عیسائیت کا وجود محض ایک رہبانی نظام کی حیثیت رکھتا تھا۔ رفتہ رفتہ اُس پر کلیسا کی ایک وسیع حکومت قائم ہوئی۔ لوتھر کا احتجاج اُس کلیسائی حکومت کے خلاف تھا۔ اُس نے کسی دنیوی نظامِ سیاست پر کوئی بحث نہیں کی تھی۔ میری ذاتی رائے ہے کہ خود لوتھر کو بھی اِس امر کا احساس نہیں تھا کہ اِس کا بالآخر نتیجہ یہ ہو گا کہ ایک عالمگیر اخلاقی

Read more

اسلام کی ایک لازوال تمدنی طاقت

اُس مسلم ریاست کی افادیت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں یہ چھٹا اہم نکتہ بیان کیا کہ اگر شمال مغربی ہندوستان کے مسلمان ہندوستان کے جسدِ سیاسی کے اندر رَہ کر اَپنی نشوونما اور اِرتقا کے لیے آزادانہ قدم اٹھا سکیں، تو وہ تمام بیرونی حملوں کا بہترین دفاع کر سکیں گے، خواہ یہ حملے سنگینوں کے ذریعے ہوں یا افکار کی طاقت کے بَل بوتے پر۔ پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی 56

Read more

علامہ اقبال کا انقلاب آفریں خطبۂ الہ آباد

عبدالستار خیری 1944ء میں رہا کر دیے گئے، مگر جلد ہی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اُن کے بڑے بھائی عبدالجبار خیری ہندوستان واپس آئے اور ایک شاندار لائبریری قائم کی جہاں اُن کا علما اور سیّد ابوالاعلیٰ مودودی سے تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ اُن کا 1955ء میں دہلی میں انتقال ہوا۔ اِن دونوں بھائیوں نے ایک طویل عرصے تک تقسیمِ ہند کے نظریے کی آبیاری کی۔ یہ اِنہی کی کوششوں کا ثمر تھا کہ کمیونسٹ پارٹی نے پاکستان

Read more

تقسیمِ ہند کا ایک تحیر خیز انفرادی منصوبہ

آل انڈیا مسلم لیگ کا دو روزہ سالانہ اجلاس( 29 تا 30 دسمبر 1930ء) الہ آباد میں منعقد ہوا۔ حکیم الاُمت اور شاعرِ مشرق ڈاکٹر محمد اقبال نے اُس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت فرمائی اور اَنگریزی زبان میں نہایت ایمان افروز خطبہ دیا۔ اُس میں شمال مغربی ہندوستان میں مسلم ریاست کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔ تب ہندوستان 1909ء اور 1919ء کی آئینی اصلاحات، نہرو رِپورٹ اور سائمن کمیشن کے قضیے سے گزرنے کے بعد گول میز

Read more

قائدِاعظم کے تاریخی چودہ نکات ۔ اتحاد کی آخری کوشش

نہرو رِپورٹ کی حتمی منظوری کے لیے 22 دسمبر 1928ء کو صدر کانگریس مسٹر موتی لال نہرو نے ایک کنونشن کلکتہ میں طلب کیا۔ قائدِاعظم کی رائے یہ تھی کہ نہرو رِپورٹ چند مناسب ترامیم کے ساتھ منظور کر لی جائے۔ اِس ضمن میں اُنہوں نے چند مصالحاتی نکات پیش کیے اور ساتھ ہی کنونشن کو متنبہ کیا کہ ایسا آئین جو اَقلیتوں کے اندر خوف اور بےاعتمادی پیدا کرتا ہو، اُس کا لازمی نتیجہ خانہ جنگی ہو گا۔ مسٹر

Read more

راستوں کی جدائی

ہندو قیادت نے دستور بنانے کے لیے جو نہرو کمیٹی قائم کی، اسے ابتدا ہی سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے دہلی اجلاس میں اس مسئلے پر اختلاف پیدا ہوا کہ مکمل آزادی کے لیے آئین سازی کی جائے یا ڈومینن درجے کے لیے۔ نہرو رپورٹ میں ڈومینن درجے کی سفارش کی گئی جس کی مولانا حسرت موہانی نے شدید مخالفت کی۔ دوسرا بڑا اختلاف نہرو رپورٹ کے اس فیصلے پر ہوا کہ چونکہ مسلمان سندھ،

Read more

سائمن کمیشن کی سفارشات

1919ء کے ایکٹ کے تحت جب دوسری بار اِنتخابات کا وقت قریب آیا، تو کانگریس کی صفوں میں اِس مسئلے پر اختلاف پیدا ہوا کہ آئندہ کے لیے کیا انتخابی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ ایک گروپ اِس بات پر اصرار کر رہا تھا کہ مجالسِ قانون ساز کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے۔ دوسرا گروپ جسے سی۔آر۔ داس اور موتی لال نہرو نے سوراجیہ کے نام سے منظم کیا تھا، وہ اِس خیال کا حامی تھا کہ انتخابات میں حصّہ

Read more

متفقہ دستور کے لیے ’تجاویز دہلی‘

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی کے پیش نظر 1927 ء میں کانگریسی لیڈر پنڈت موتی لال نہرو نے مرکزی اسمبلی میں تجویز پیش کی کہ آئینی مسائل کے تصفیے کے لیے برطانوی حکومت راؤنڈ ٹیبل کانفرنس بلانے کے لیے قدم اٹھائے۔ مسٹر جناح نے اس تجویز کی تائید کی جس کے باعث ملک میں آئینی سرگرمیاں تیز تر ہو گئیں۔ یہی وہ زمانہ تھا جب پنڈت موتی لال نہرو ایک ہی رٹ لگائے ہوئے تھے کہ ہندو مسلم

Read more

ہندو جارحیت کا وحشت ناک مظاہرہ

تحریک خلافت میں ہندو مسلم اتحاد سے برطانوی حکومت بہت خائف تھی، چنانچہ اس فضا کو عداوت کے شعلوں میں بدل دینے کے لیے انتہاپسند آریہ سماجی لیڈروں سے سازباز کی جو ہندوستان میں ہندو مذہب، ہندو جاتی حکومت اور ہندو تہذیب کا غلبہ چاہتے تھے۔ آریہ سماجیوں کو بھی احساس ہو گیا تھا کہ تحریک خلافت کے دوران مسلم زعما اور عوام نے جس بے مثال جوش و خروش اور لازوال قربانیوں کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے مسلمانوں

Read more

مسلم مطالبات کی شیرازہ بندی

‘مارشل لا سے مارشل لا تک’ کے مصنّف میر نور اَحمد کے مطابق خلافت کمیٹی اور کانگریس کی مشترکہ تحریکِ عدم تعاون کے زمانے میں مسلمانوں نے وقتی طور پر وہ سوال پسِ پشت ڈال دیا تھا جو سرسیّد احمد خاں اور سیّد امیرعلی کے وقت سے اُن کی سیاسی فکر کا محور چلا آ رہا تھا۔ ہندوستان کی جمہوری آزادی میں مسلم اقلیت کی پوزیشن کیا ہو گی، یہ سوال اب علمائے ہند کے اُس فتوے کے ساتھ شائع

Read more

ہندو مسلم اتحاد کا بجھتا ہوا شعلہ

1919 ء کی آئینی اصلاحات کا اعلان اس وقت ہوا جب ہندوستان میں جلیانوالہ باغ کا ہولناک واقعہ ظہور پذیر ہو چکا تھا اور پنجاب مارشل لا کی زد میں تھا۔ ان اصلاحات میں ہندوستانیوں کو ملکی نظم و نسق میں شامل کرنے کی ایک نیم دلانہ کوشش کی گئی تھی۔ مرکزی اور صوبائی مجالس قانون ساز میں اگرچہ خاطرخواہ توسیع ہوئی تھی اور منتخب ارکان کی حیثیت اور اختیارات میں بھی معتد بہ اضافہ کیا گیا تھا، مگر ان

Read more

ستیہ گری کا دردناک انجام

  مسٹر گاندھی جنوبی افریقہ سے ہندوستان آ کر ’عدم تشدد‘ کے اصولوں کا بہت پرچار کرتے اور اہل یورپ کو یہ پیغام دیتے رہے کہ وہ سیاست میں تشدد کے بجائے امن، شائستگی اور معقولیت کو فروغ دیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سوچ سمجھ کر ایک ایسا طرز زندگی اپنایا تھا جس کی بدولت ہندوؤں میں انہیں مہاتما کا بلند مرتبہ ملا اور سیاسی رہنما سے بڑھ کر ایک روحانی پیشوا کے طور پر متعارف کرایا گیا۔

Read more

مسٹر گاندھی کی دل موہ لینے والی باتیں

دینی تحریکوں کے گہرے اثرات اور مسلسل سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں انگریز ہندوستانیوں کو مرحلے وار اختیارات سونپنے پر آمادہ ہو گئے تھے اور 1919 ء میں دوسرا آئینی ایکٹ برطانوی پارلیمنٹ نے منظور کر لیا تھا۔ اس ایکٹ کے خلاف مسٹر گاندھی نے ستیہ گری کا راستہ اختیار کیا۔ وہ بڑی چابک دستی سے مسلمانوں میں ایک مقام بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ معروف مؤرخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اپنی کتاب ’جدوجہد پاکستان‘ میں اس ضمن میں

Read more

تحریک خلافت میں انسانوں کا بحر بیکراں

  ہم سب سے پہلے سارے جہانوں کے رب کا شکر بجا لاتے ہیں جس نے کمال اتاترک کی سیکولر فورس اور اسلام دشمن علاقائی اور عالمی طاقتوں کی سرتوڑ کوشش کے مقابلے میں جناب طیب ایردگان کو تاریخ ساز کامیابی عطا کی۔ اس کامیابی پر پرجوش ترک عوام اور پوری امت مسلمہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ہمیں قوی امید ہے کہ عالمی امور پر اثرانداز ہونے کی زبردست صلاحیت رکھنے والے ہمارے عہد کے بلند قامت رہنما پوری

Read more