نمائشی سے حقیقی بجٹ تک

قومی اسمبلی میں گیارہ جون کو وزیرمملکت جناب حماد اظہر نے نئے سال کا بجٹ پیش کیا، تو ماضی سے بہت مختلف منظر دیکھنے میں آیا۔ بجٹ تقریر کا نصف حصہ اپوزیشن نے بڑے سکون سے سنا مگر جونہی وزیر موصوف نے ٹیکسوں کا باب کھولا، اپوزیشن کی جماعتیں آتشِ زیرپا نظر آئیں۔ پھر دھینگا مشتی شروع ہو گئی اور اِس قدر شوروغل اُٹھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی۔ وہ گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہے تھے کہ آئی ایم ایف کا بجٹ نامنظور اور ’گو عمران نیازی گو‘ ۔

Read more

ہمارے وزیراعظم کی اُمید بر آئی

جناب عمران خان اُس کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے جس نے پاکستان کے لئے 1992 میں ورلڈکپ جیتا تھا۔ تب سے وہ خود کو کپتان کہلوانے میں بہت خوشی اور بڑا اِعزاز محسوس کرتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے اُنہیں روحانیت کا بھی ایک بلند مقام عطا کر دیا ہے اور اُن کی ہر خواہش پوری ہو جاتی ہے۔ پچھلے دنوں جب نریندر مودی اپنی انتخابی مہم کے دوران ہندو آبادی کے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے پاکستان کے خلاف زہریلی تقریریں کر رہے تھے، تو ہمارے وزیرِاعظم نے غیرمعمولی سیاسی فراست سے کام لیتے ہوئے اُن کے کامیاب ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات بھی کر سکتے ہیں اور کشمیر سمیت دیرینہ تنازعات کا حل بھی نکال سکتے ہیں۔

Read more

اپوزیشن دوراہے پر

حکومت اور اپوزیشن کے بلی چوہے کے کھیل پر تبصرہ کرنے سے پہلے میں پاکستان کے عظیم اصول پسند اور معاملہ فہم سیاستدان جناب قمر زمان کائرہ سے اُن کے جواں سال بیٹے اُسامہ کی ٹریفک حادثے میں شہادت پر اظہارِ تعزیت کروں گا۔ وہ ابھی کالج میں پڑھتا تھا کہ اُسے اجل نے آ…

Read more

کڑی آزمائش کی گھڑی

تکمیل کی ایک ادھوری کہانی کا میرے وطن میں مدتوں سے بسیرا ہے۔ اِس میں سرشاری کے لمحات بھی ہیں اور دکھوں میں ڈوبی ہوئی ساعتیں بھی۔ کبھی کبھی اُمید بندھتی ہے کہ زندگی سہانے خوابوں میں تبدیل ہونے لگی ہے، مگر جلد ہی یہ بھید کھل جاتا ہے کہ جو دیکھا تھا، وہ اک…

Read more

پی ٹی آئی حکومت اور وحشت ناک حیرتیں

جب سے پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت آئی ہے، حیرتوں کی ایک عجیب کیفیت طاری ہے۔ گورننس کے ہوشربا تجربات سامنے آ رہے ہیں اور عوام کے ’مفاد‘ میں عوام ہی پر تازیانے برسائے جا رہے ہیں۔ آٹھ نو ماہ کے دوران اِن پر مہنگائی کے اتنے بم گرائے جا چکے ہیں کہ اُن کے…

Read more

بدزبانی ہے زباں میری

پاؤں سے ٹیسیں اُٹھ رہی ہیں کہ دو ہفتے پہلے ایک ناہموار جگہ سے گزرتے ہوئے جھٹکا لگا۔ صبح اُٹھا، تو وہ پورا سوجا ہوا تھا اور تکلیف کی شدت سے پاؤں زمین پر رکھا نہیں جا رہا تھا۔ ہمارے بچپنے میں چوٹ لگتی تو ہلدی کی لپائی کی جاتی، گرم نمک سے سکھائی کا…

Read more

آدھا صدارتی نظام نافذ ہو چکا

سیاسی حالات کے مزاج اِن دنوں سخت برہم ہیں اور اقتدار کا تیز رفتار کٹاؤ ایک غیر یقینی مستقبل کی خبر دے رہا ہے۔ عمران خان دیکھنے میں وزیرِاعظم ہیں مگر حکمرانی کا استحقاق تیزی سے کھوتے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے جو خواب دیکھے تھے اور پاکستان کے عوام کو دکھائے تھے، وہ یکے…

Read more

اندھیروں میں اُجالوں کی فسوں کاری

ایک زمانہ تھا کہ میں اُردو ڈائجسٹ کے لئے تحقیقی مضمون لکھنے کے لئے منگلا میں محکمۂ انہار کا ریسٹ ہاؤس ریزرو کرا لیا کرتا اور دو چار دن قیام بھی کرتا۔ وہ بڑی پُرسکون اور بہت ہری بھری جگہ تھی۔ ایسے ماحول میں ذہن کے دریچے کھلتے جاتے ہیں اور تازہ خیالات کی آبشار…

Read more

65ء کی جنگ سے سیکھیں!

میرے پوتے عزیزم ایقان حسن قریشی، جس میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ میری تحریریں جمع کرنے اور اُنہیں کتابی شکل دینے کا بےانتہا شوق اور غیرمعمولی لگن پائی جاتی ہے، نے دو سال پہلے وہ مضامین ترتیب دئیے، جو جنگ ِستمبر 1965ء کے بارے میں اُردو ڈائجسٹ میں شائع ہوئے تھے۔ میں…

Read more

اختلافات میں بندھے بے سمت حکمراں

وزیراعظم نواز شریف کے خلاف جب اپوزیشن کی جماعتیں اور غیرسیاسی طاقتیں ایک صفحے پر آ گئیں، تو دیکھتے ہی دیکھتے سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوتا گیا۔ جولائی 2018 کے انتخابات میں تحریکِ انصاف کے لئے اقتدار تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہوا۔ جنوبی پنجاب میں جو افراد سالہا سال سے (ن) لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوتے آئے تھے، ان میں سے بیشتر الیکٹ ایبلز نے یا تو (ن) لیگ کے ٹکٹ واپس کر دیے اور آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا یا چند ماہ پہلے تحریکِ انصاف میں شامل ہو گئے۔

انتخابات کے دن پولنگ اسٹیشنوں پر ”غیرمعمولی“ انتظامات کیے گئے تھے، مخالفین کے مطابق سیاسی پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹ باہر نکال دیے گئے اور انتخابی نتائج کے اعلان میں پینتیس گھنٹوں کی تاخیر ہوئی۔ شور اُٹھا کہ انتخابات میں مداخلت ہوئی ہے۔ مہینوں کی تہ در تہ منصوبہ بندی کے باوجود تحریکِ انصاف مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ آ سکی۔ تب سیاست کے پیچ و خم کے ماہر جناب جہانگیر ترین میدان میں اُترے اور آزاد ارکانِ اسمبلی کو اپنے جہاز میں بھر بھر کے بنی گالا لاتے۔

Read more
––>