آج کل ملکی اور عالمی حالات میں ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے۔ گزشتہ کالم میں وعدہ کیا تھا کہ ہمارے سمجھ دار دوست جناب جاوید نواز نے ملکی معیشت میں بڑے بڑے سوراخوں کی ایک فہرست بھیجی ہے، وہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جائے گی تاکہ اُنہیں صورتِ حال کی سنگینی کا درست اندازہ ہو سکے۔ اقتصادی ماہرین اور سیاسی دماغ اُن پر نہایت سنجیدگی سے غور و خوض کرتے ہوئے ایک جامع اور قابلِ عمل اصلاحی منصوبہ ترتیب دے سکتے ہیں۔ وقت بڑی سرعت کے ساتھ ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اور صرف بجلی کے ہوش رُبا بِلوں نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اُن کے خلاف عوام کے اندر پائی جانے والی پریشانی ایک عوامی مہم کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ جماعتِ اسلامی بڑی حکمت اور پُرامن طریقے سے رائے عامہ منظم کر رہی ہے جس کا اربابِ حکومت کو مثبت جواب دینا چاہیے۔ ظلم کا عالم یہ ہے کہ ہمارا گھر بڑی احتیاط سے بجلی استعمال کرتا ہے، مگر اگست میں ایک لاکھ پچہتر ہزار رُوپے کا بل آیا ہے جو سخت پریشانی کا باعث بنا ہے۔
Read more