اپنے بچوں کو مولوی کی پہنچ سے دور رکھیں


تقدس اور عقیدت انسان کو بلائنڈ فولڈ او ر اندھا پیروکار بنا دیتی ہے اور یہی عقیدت کی پٹی اسے بہت کچھ چھپانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ عقیدت کی آڑ میں صدیوں سے بہت سارے کھیل کھیلے جاتے رہے ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کا وجود نہیں تھا اور تقدس کا یہ کلچر بغیر کسی رکاوٹ کے سماج میں پنپتا رہا مگر آج ایسا ممکن نہیں، سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کا شکریہ جس کی بدولت ہمارے سامنے وہ سب کچھ عیاں ہو رہا ہے جسے مقدس جان کر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھا جاتا تھا، ایک ایسا مقدس تسلسل جسے عقیدت کے غلاف میں لپیٹ کر بڑی بے باکی اور دھڑلے سے عوام کے سامنے پیش کیا جاتا رہا ہے مگر اب اس کلچر کے آگے ایک بڑا سا ”فل سٹاپ“ لگ چکا ہے۔

گزشتہ دنوں لاہور کی جامعہ کے ایک شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمٰن کا ایک بچے کے ساتھ بد فعلی کا ویڈیو وائرل ہوا، اس کے علاوہ مزید ویڈیوز کی آمد کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اب یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے۔ مفتی قوی اور شیعہ عالم مظہر حسین نجفی کی بھی شرمناک ویڈیوز منظرعام پر آ چکی ہیں۔ اس شرمناک واقعہ اور اس کے علاوہ مزید بدفعلی کی ویڈیوز سامنے آنے کے باوجود مختلف مکتبہ ہائے فکر کے بورڈز ایک مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور ابھی تک اس المناکی کا سدباب کرنے کے لیے کسی جامع پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ ابھی اس طبقہ میں ایسے علماء بھی موجود ہیں جو حق بات کہنے سے باز نہیں رہتے ان میں سرفہرست قاری حنیف ڈار ہیں جنہوں نے اس گھناؤنے واقعات پر کھلم کھلا اپنے موقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ لونڈے بازی مدارس کلچر میں ایک کینسر کی طرح سرایت کر چکی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے ایسا شروع سے ہوتا آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے مدرسہ سے دس مدرسین میں سے آٹھ مدرسین کو لونڈے بازی کی ہی وجہ سے فارغ کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں طلبہ اسی بے ہودہ کلچر کے زیر سایہ پروان چڑھ کر مدارس سے فارغ ہو کر ملک طول و عرض میں پھیل جاتے ہیں اور ایک نہ تھمنے والا یہ مکروہ سرکل نہ جانے کب سے ہمارے معاشرے میں پنپ رہا ہے اور المیہ کی بات یہ ہے کہ یہی مدرسین بوڑھے ہو کر شیخ الحدیث کی صورت میں ہمارے اکابرین بن جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مندر کے وہ چوہے ہیں جنہیں بھگوان سے بالکل بھی ڈر نہیں لگتا اور یہ مندر کا پرساد تک چٹ کر جاتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے والدین سے درخواست کی کہ اپنے بچوں کو لاوارثوں کی طرح مدارس کے حوالے نہ کریں اگر ممکن ہو سکے تو اپنے بچوں کو آن لائن تعلیم دلوائیں۔ دوسرے عالم جہلم کے انجینئر علی مرزا ہیں جنہوں نے ببانگ دہل اس گھناؤنے کلچر کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے لونڈے بازی تقریباً اکثر مدارس میں ہوتی ہے اور میں اس بے ہودہ کلچر کا چشم دید گواہ ہوں۔ اسی تصویر کا تاریک پہلو مولانا اسماعیل طورو کی صورت میں بھی موجود ہے جنہوں نے نہ صرف اس گھناؤنے کلچر کا دفاع کیا بلکہ مفتی عزیز الرحمٰن کے اس بد فعلی والے عمل پر بھی پردہ ڈالنے کی درخواست کی۔

اسماعیل طورو کا کہنا تھا کہ یہ سب ملحدین اور کافروں کی سازش ہے اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر عالم دین کو بدنام کر رہے ہیں۔ دوسرا الزام انہوں نے یہ لگایا کہ ملحدین تو دن رات حرام کاریاں انجوائے کرتے رہتے ہیں ان کو ہمارے عالم کی ویڈیو پر واویلا نہیں مچانا چاہیے۔ اتنی ڈھٹائی اور بے شرمی سے دفاع؟ چلیں مان لیتے ہیں کہ ملحدین تو پلید ہیں مگر آپ تو پاک ہیں کیا آپ کو یہ گھناؤنا کلچر زیب دیتا ہے؟ میں یہاں پر عرض کرتا چلوں کہ میری ابتدائی اسکولنگ بھی مدرسہ کی ہے اور میں نے اس گھناؤنے کلچر کو بڑے قریب سے دیکھا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس حمام میں یہ سب ننگے ہیں۔

اگر بدفعلی کے موضوع پر مدارس کے بچوں سے انٹرویو کا اہتمام کیا جائے تو ایسی ایسی شرمناک کہانیاں سامنے آئیں گی ان خدایان مدارس کو منہ چھپانے کے لیے بھی جگہ نہیں ملے گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی سیکولر آدمی اس مقدس سلسلہ پر کوئی سوال ہی اٹھا دے تو اس طبقہ کی زبانیں انگارے اگلنے شروع کر دیتی ہیں اور چند سیکنڈز میں ایسے بندے کو بلاسفیمی کی سولی پر چڑھا دیا جاتا ہے اور اس کی ایسی کی تیسی کر دی جاتی ہے۔

اب ہماری مودبانہ گزارش ہے کہ مفتی عزیز نامی شخص نے ویڈیو کے مطابق ہاتھ میں مقدس کتاب پکڑی ہوئی ہے اور نیچے سے ان کی شلوار کھلی ہے اور ایک بچہ ان کے عضو تناسل کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلانے کی کوشش کر رہا ہے عرض یہ ہے کہ یہ حرکت ”بلاسفیمی“ کے زمرے میں نہیں آتی؟ کیا یہ مقدس کتاب کی توہین نہیں ہے؟ کیا مفتی عزیز نے قرآن کی توہین نہیں کی؟ حراست میں لیے جانے سے پہلے مفتی عزیز نے قرآن پر ہاتھ رکھ بدفعلی سے انکار کی ویڈیو بنائی تھی اور گرفتار ہونے کے بعد دوران تفتیش اپنے جرم کا اقرار بھی کر لیا۔

کیا قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹا حلف اٹھانا توہین کے زمرے میں نہیں آتا؟ آپ کا وہ لشکر کدھر ہے جو مظلوم اور بے گناہ مشعال پر چڑھ دوڑا تھا وہ بار بار اپنے مسلمان ہونے کی گواہی دیتا رہا مگر اس مظلوم کی ایک نہ سنی گئی اور اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا، آج آپ کے طبقے پر باثبوت بات آئی ہے تو آپ کی زبانیں گنگ ہو گئی ہیں۔ اگر حوصلہ ہے تو باہر نکلو اور مفتی عزیز کے خلاف کچھ تو پالیسی بیان دو ”میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا آں تھو“ کی مثال بننے کی بجائے اپنے طبقے کی برائیوں کے خلاف بھی آواز اٹھانے کا حوصلہ پیدا کیجیئے ورنہ اب آپ کیمرے کی آنکھ سے بچ نہیں سکیں گے اور آپ کا بھرم بھی اب زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا۔

شعوری بگ بینگ کے اس دور میں کچھ بھی چھپ نہیں سکتا کیونکہ آج ہم سائنسی حقائق کے دور میں جی رہے ہیں اور یہ ایک طرح سے اس طبقے کے رویہ کا ابتدائی لٹمس ٹیسٹ ہے وہی معیارات و اصول مفتی عزیز پر بھی لاگو کیجیئے جو آپ اپنے خیالات سے مختلف بندے کے اوپر اپلائی کر کے اس کی جان جوکھوں میں ڈال دیتے ہیں۔ کیا آپ میں ایسا کرنے کی ہمت ہے؟

Facebook Comments HS