عمران خان اور نفاذ اردو بطور قومی زبان


اردو نہ صرف پاکستان میں اتحاد و اتفاق اور رابطے کی علامت ہے۔ بلکہ ہماری آزادی اور تحریک پاکستان کی بنیاد بھی ہے۔ جب 1868 میں اردو ہندی فسادات ہوئے۔ ان کی نتیجے میں دو قومی نظریے کو فروغ ملا۔ مسلمانوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ ہم اور ہندو الگ قومیں ہیں۔ کیونکہ ہماری زبانیں جدا ہیں۔ یوں زبان ہی نے مسلمانوں کو ایک الگ ملک کے حصول پر آمادہ کیا۔ جب جواہر لعل نہرو نے نہرو رپورٹ پیش کی اور ہندوستان میں ہندی کو بطور قومی زبان بنانے کا مطالبہ کیا۔

تو اسی مطالبے کی بنیاد پر قائد اعظم جو ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے۔ انھوں نے دو قومی نظریے کو قبول کیا۔ عظیم شاعر اور فلسفی علامہ محمد اقبال نے 1930 میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحریک پاکستان کی بنیادی محرک اردو زبان تھی۔ اردو زبان نہ صرف پاکستان میں اقوام کے درمیان روابط کا ذریعہ ہے۔ بلکہ ہماری قومی تاریخ اور تہذیب کی شناخت بھی ہے۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو قائد اعظم محمد علی جناح کی خواہش تھی کہ اردو قومی زبان بنے۔

قائد اعظم محمد علی جناح فرماتے ہیں ”کوئی بھی قوم ایک زبان کے بغیر ملکی سالمیت اور فکری یکجہتی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔“ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اردو کے نفاذ کے لئے موثر کوششیں نہیں کی گئی۔ کیونکہ انگریزوں کے ذہنی غلاموں نے اردو کے لئے بطور قومی زبان مختلف رکاوٹیں کھڑی کر دی۔ یوں عوامی زبان اردو سرکاری سرپرستی سے محروم رہی۔ آزادی کے بعد اردو ترقی کے بجائے زوال پذیر رہی۔

اگرچہ کاغذی کارروائی تک اردو قومی زبان ہے۔ لیکن عملاً ہر ادارے میں انگریزی کو فوقیت حاصل ہے۔ انگریزی زبان لکھنے بولنے اور پڑھنے پر فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ اور اردو زبان بولنے، پڑھنے اور لکھنے والوں کو کمتر تصور کیا جاتا ہے۔ افسوس ہماری اس روش کی وجہ سے ہم ترقی کی بجائے زوال پذیرائی کی طرف جا رہے ہیں۔ کیونکہ اگر ہم صرف سی ایس ایس مقابلے کے امتحانات کے نتیجے کو اٹھا کر دیکھے، تو اس میں 90 فیصد طلباء انگریزی کی وجہ سے فیل ہوتے ہیں۔ زیادہ تر طلباء انگریزی مضمون نویسی کے پر چے میں بری طرح فیل ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں انگریزی پر عبور حاصل نہیں ہے اور اپنی زبان اردو سے بھی ہاتھ دور رہے ہیں۔

تاریخ پاکستان میں قائد اعظم کے بعد عمران خان پہلا وزیر اعظم ہے۔ جس نے اردو کی اہمیت کو محسوس کیا۔ بطور وزیر اعظم عمران خان نے قومی لباس کو فوقیت دی۔ جس کی وجہ سے قوم کا حوصلہ بلند ہوا اور آج قوم میں قومی لباس پہننے پر فخر محسوس کیا جا رہا ہے۔ 5 جون کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے حکم جاری کیا۔ کہ آئندہ تمام سرکاری تقریبات اردو میں ہوگی۔ بین الاقوامی سطح کے لیڈروں کے لیے پروگرام کی نظامت بھی اردو زبان میں ہوگی۔

‏وزرا اور سرکاری افسران کو بھی ہدایات جاری کی جائیں گی کہ اپنا پیغام اور تقاریر اپنی قومی زبان میں عوام تک پہنچائیں۔ ہماری عوام کی زیادہ تعداد انگریزی زبان نہیں سمجھتی۔ عوام کی توہین مت کریں۔ وزیراعظم چاہتے ہیں جب بھی کوئی عوام سے جڑا پیغام یا تقاریر ہوں وہ ہماری قومی زبان اردو میں ہوں۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ اقدام قومی وقار اور سربلندی کی طرف قدم ہے۔ اس سے عوام میں وزیراعظم کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور وقت ثابت کرے گا انشاءاللہ عمران خان حقیقی معنوں میں قائد اعظم ثانی ٹھہریں گے۔

Facebook Comments HS