ایک دن جیو میرے ساتھ

میں نے بائیک کی تلاش میں نظریں دوڑائیں تو وہ بھولے زلف تراش کے گرم حمام کے سامنے کھڑی نظر آئی۔ میں لپک کر اس پہ سوار ہوا اور دوسرے ہی لمحے بائیک ہواؤں میں، معاف کیجئے گا، اندرون شہر کی گندی گلیوں میں تھی۔ تھوڑا آگے جاکر میں نے جو ایک موڑ تیزی سے کاٹا تو ایک بزرگ بائیک کی زد میں آتے آتے بچے لیکن وائے ری قسمت کہ ان کو بچانے کی کوشش میں گلی کے عین بیچوں بیچ گزرنے والی نالی سے اڑنے والی چھینٹوں نے ان کے کاٹن کے سوٹ کا ستیاناس کر دیا۔

بوڑھے حضرت تو جیسے ہتھے سے اکھڑ ہی گئے۔ گلی میں ادھر ادھر دیکھا اور جب کچھ ہاتھ نہ آیا تو وہی ہاتھ لہراتے ہوئے آگ بگولہ ہو کر بائیک کے پیچھے لپکے۔ ان کی اس حرکت پہ گلی کے ایک کونے میں بیٹھے کتے نے بھی غالباً یہ خیال کیا کہ کوئی میراتھن ریس شروع ہوا چاہتی ہے۔ وہ بھی اندھادھند میرے پیچھے بھاگا۔ میں نے ایکسی لیٹر پہ ہاتھ رکھا اور گلی میں چلتے اکا دکا راہگیروں کی پروا کیے بغیر ہوا ہو گیا۔ بزرگ نے کسی حد تک اور کتے نے کافی حد تک میرا پیچھا کیا لیکن آخر کار فتح ٹیکنالوجی کی ہوئی اور میں خیر خیریت سے مین سڑک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔

دوست کا دفتر پانچ منٹ کی دوری پہ تھا۔ جس سے میں نے چند گھنٹے کے لیے بائیک ادھار لی تھی۔ مین سڑک پہ مزید کوئی بدمزگی نہ ہوئی اور میں کچھ ہی دیر بعد اس کے دفتر کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اب ملین ڈالر کا سوال یہ تھا کہ

”بائیک پارک کہاں کروں؟“

یہ سوچتے سوچتے اچانک ہی میری آنکھیں چمک اٹھیں۔ سڑک کے ایک طرف ایک بڑے سے بورڈ پہ ”نو پارکنگ“ لکھا تھا اور حسب توقع وہاں نیچے ڈھیر ساری گاڑیاں کھڑی تھیں۔ میں نے بھی سیٹی بجاتے ہوئے بائیک وہیں پارک کی اور دوست کو مطلع کرنے کے بعد گھر کی راہ لی!

اب واپسی پہ پھر اسی گلی میں سے گزرنا تھا جہاں ایک بزرگ میری جلد بازی کے عتاب کا نشانہ بن چکے تھے۔ اب میرے ذہن میں کئی وہم پلنے لگے۔ سچ کہا تھا کسی نے کہ خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ میں بھی تو اب عقل سے پیدل تھا۔ مم۔ میرا مطلب ہے۔ کہ بائیک سے پیدل تھا۔ پیدل چلتے ہوئے دنیا جہان کی سوچیں اور ہزاروں کبھی نہ ہونے والے کام بھی یاد آنے لگنے لگتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔

میں نے چند دن قبل ہی ایک ناول میں پڑھا تھا کہ وہم کا ہماری اصل زندگی میں پیش آنے والے واقعات سے کچھ نہ کچھ تعلق ضرور ہوتا ہے، یا شاید یہ قدرت کی طرف سے ہمارے لیے الارم ہوتے ہیں۔ اب جاتے ہوئے تو میں بائیک پہ ہونے کی وجہ سے ’ریس‘ میں کامیاب ٹھہرا تھا لیکن اب میری چھٹی حس مجھے بار بار ڈرا بلکہ دھمکا رہی تھی کہ وہ بزرگ جن کا ’دامن‘ میں نے داغدار کیا تھا۔ وہ وہیں کہیں بیٹھے میری راہ تکتے ہوں گے۔ لیکن مجھے بزرگ سے زیادہ فکر کتے کی تھی کہ بزرگ تو گندے کپڑوں کے ساتھ زیادہ دیر شاید نہ ٹھہرے ہوں لیکن کتے کے ساتھ تو ایسا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ اس وقت میرے ذہن میں ایک خیال شدت سے ابھرا کہ آج بچنے کے بعد پہلا کام یہی کرنا ہے کہ تین چار ننگے اور لاغر کتوں کی تصاویر فیس بک پہ اپ لوڈ کرنی ہیں اور کیپشن لکھنا ہے کہ

”حکومت کی عدم توجہی اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے ہزاروں بے گھر اور بے لباس کتے آپ کی توجہ کے طالب ہیں“

مجھے یقین تھا کہ یہ تصاویر فیس بک پہ پہنچنے کی دیر تھی، درجنوں کے حساب سے این جی اوز نے کتوں کو لباس کی فراہمی اور ان کی Rehabilitationمیں جت جانا تھا اور یوں کتوں کو بے عزت ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا اور پھر لامحالہ طور پر انہوں نے منہ چھپاتے پھرنا تھا۔ لیکن یہ سب تو بعد کی باتیں تھیں۔ ابھی تو مجھے آگ کے دریا کا سامنا تھا۔

میں نے کھڑے ہو کر تمام صورتحال کا تجزیہ کیا اور پھر بنا کچھ سوچے ہی قدم آگے بڑھائے کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ بہرحال، متذکرہ گلی تک پہنچتے پہنچتے پھر سے میرے تمام جذبے جھاگ کی طرح بیٹھ چکے تھے۔ میں نے متوقع خدشات کے پیش نظر گلی میں داخل ہونے سے پہلے ازراہ احتیاط جھانک کر اندر دیکھا۔ پوری گلی سنسان پڑی تھی۔

میں نے گو یہ بھی پڑھ رکھا تھا کہ سمندر خاموش ہو تو کوئی بہت بڑا طوفان آنے والا ہوتا ہے لیکن میں تھا تو آخر ایک کمزور انسان ہی نا۔ سو، گلی خالی دیکھی تو باچھیں کھل گئیں اور میں دل ہی دل میں سیٹی بجاتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔ اب نجانے میرے دل کی آواز کیونکر اونچی ہوئی کہ ابھی میں گلی کے وسط میں ہی پہنچا تھا کہ اچانک وہی کتا تیزی سے سامنے آ گیا۔ چونکہ میرے پاس ’پلان 2‘ تو کیا ’پلان 1‘ بھی نہیں تھا۔ سو، میں پلٹا اور ”دڑکی“ لگا دی۔ لیکن کیا دیکھتا ہوں کہ گلی کے دوسرے کونے سے وہی بزرگ لاٹھی لہراتے آ رہے ہیں۔ میری سانس رکنے لگی اور آنکھیں مارے خوف کے بند ہونے لگیں۔

غلطی سے میں نے یہ بھی سن رکھا تھا کہ مشکل میں ذہن زیادہ تیز چلتا ہے۔ میں نے آخری دفعہ کچھ سوچنے کی کوشش کی۔ اور اس دفعہ واقعی میرا دماغ ’چل‘ گیا۔ میں نے بزرگ اور کتے دونوں کے قریب آنے کا انتظار کیا۔ کتے کا فاصلہ چونکہ تھوڑا زیادہ تھا۔ اس لیے دونوں ایک ہی وقت پر مجھ تک پہنچے۔ کتے نے غالباً آخری چھلانگ لگا کر مجھے دبوچنا اور بزرگ نے لاٹھی برسا کر میرا کام تمام کرنا چاہا۔ کتا اور لاٹھی ابھی ہوا میں ہی تھے کہ میں نے اچھل کر ساتھ والے مکان کی گلی کی طرف بنائی گئی قریبا آٹھ نو فٹ اونچی دیوار کا اوپری کونا پکڑ لیا۔

اب نیچے منظر دیکھنے والا تھا۔ بزرگ کی لاٹھی اس زور سے کتے کے پڑی کہ میں نے بے اختیار آنکھیں میچ لیں۔ اور جب میری آنکھیں دوبارہ کھلیں تو گلی میں ایک اور ’میراتھن‘ شروع ہو چکی تھی۔ اس مرتبہ بزرگ کو کچھ فاصلے سے لیڈ (Lead) حاصل تھی۔ یہ لیڈ گلی ختم ہونے تک کافی بڑھ گئی اور اس مرتبہ پچھلی دفعہ کا ’سلور میڈلسٹ‘ ، ’برونز میڈلسٹ‘ سے ہار گیا۔

میں وہیں دیوار پہ اٹکا ریس انجوائے کر رہا تھا۔ اچانک ہی میرے ہاتھوں سے دیوار نکل گئی۔ غالباً گھر کے اندر خاتون خانہ نے اپنے مجازی خدا کو پتیلی کھینچ ماری تھی جو نشانہ خطا ہونے کے سبب میرے سر سے عین ڈیڑھ انچ کے فاصلے سے گزر گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ میں زمین پر گرتا میری گنہ گار آنکھوں نے ایک اور روح فرسا منظر دیکھا اور وہ یہ کہ کتا ریس ہارنے کے بعد دوبارہ میری طرف ہی آ رہا تھا لیکن وہ کہتے ہیں ناکہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ سو یہاں قسمت نے میری یاوری کی اور مبینہ طور پر خاتون خانہ کی پھینکی ہوئی پتیلی، تیزی سے میری طرف آتے کتے کے سر میں جا لگی۔ کتا کراہ کر گرا۔ میرے لیے اتنا موقع ہی کافی تھا۔ میں نے گھر کی سمت سر پٹ دوڑ لگا دی!

Latest posts by اسد محمود (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words