EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

نئی سیاسی صف بندیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئندہ عام انتخابات اگر شیڈول کے مطابق اکتوبر 2023 میں ہوں تو ابھی بہت دور ہیں۔ لیکن عمران خان، آصف علی زرداری اور نواز شریف نے ابھی سے کامیابی کے لئے سیاسی گٹھ جوڑ شروع کر دیے ہیں۔ چونکہ زیادہ توجہ پنجاب کے آئندہ سیاسی منظر نامے پر ہوگی اس لئے چھوٹی پارٹیوں اور پارٹیوں کے اندر مایوس عناصر سے رابطوں کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ اس پس منظر میں بدھ کو وزیراعظم عمران خاں کی مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری پرویز الہی ٰ اور ان کے بیٹے چودھری مونس الہی ٰسے ملاقات سیاسی اہمیت کی حامل ہے۔

ایک زمانے میں مونس الہیٰ عمران خاں کو پسند نہیں تھے، انہیں کابینہ میں بھی شامل نہیں کیا تھا۔ اب یہ ملاقات ان اطلاعات کے بعد ہوئی ہے کہ آصف علی زرداری اور چودھری پرویز الہیٰ کی دو گھنٹے علیحدگی میں ملاقات میں ان میں سیاسی مفاہمت ہوئی ہے۔ بدھ کی ملاقات میں وزیراعظم کے ساتھ شاہ محمود قریشی اور شفقت محمود سمیت پنجاب کی قیادت بھی موجود تھی۔ ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ چودھری پرویز الہیٰ نے وزیر اعظم کو آصف زرداری سے اپنی ملاقات کے بارے میں بھی اعتماد میں لیا اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو دستبردار کرا کے پنجاب سے سینیٹروں کے بلا مقابلہ انتخاب میں مدد دینے میں آصف زرداری کے کردار کا بھی ذکر کیا۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ دونوں ملاقاتوں کا مقصد ایک ہی تھا کہ مسلم لیگ نون کا راستہ کیسے روکا جائے جس نے تمام حربوں کے باوجود اپنا ووٹ بنک برقرار رکھا ہے۔ پی ٹی آئی، پی پی پی اور مسلم لیگ ق تینوں کے کیمپوں میں اس پر تشویش ہے۔ واحد چیز جو مسلم لیگ نون کے ووٹ بنک کو نقصان پہنچا سکتی ہے وہ پارٹی کے دو بیانیوں پر کنفیوژن ہو سکتا ہے، یعنی ایک نواز شریف اور مریم نواز کا اور دوسرا شہباز شریف کا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ پی ڈی ایم انتخابی اتحاد کی بجائے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کرے گی۔

مسلم لیگ نون اور جے یو آئی ف میں اس سلسلے میں مفاہمت ہو چکی ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ عمران خاں تنہا پرواز کریں گے۔ ان کے مسلم لیگ ق یا ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ انتخابی اتحاد کا امکان بہت کم ہے۔ البتہ وہ گجرات کے چودھریوں اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر لیں گے۔ پی ٹی آئی کا ایک اور کمزور علاقہ سندھ ہے۔ کراچی سے سنگین تنظیمی مسائل کی بھی اطلاعات ہیں۔ اگرچہ کراچی کی بیس نشستوں میں سے چودہ پی ٹی آئی نے اور چار ایم کیو ایم پاکستان نے جیتیں اور اب حکومتی اتحاد میں شریک ہیں لیکن دونوں انتخابی اتحاد بنانے پر تیار نہیں۔

دیہی سندھ میں پی ٹی آئی کے لئے حالات مزید خراب ہیں۔ وہاں عمران خاں کے لئے اپنے اتحادی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس جی ڈی اے پر انحصار کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ وزیراعظم کی بدھ کو سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم سے ملاقات اسی سلسلے میں تھی۔ پیپلز پارٹی اور آصف زرداری سندھ کے دیہی اور شہری دونوں علاقوں سے زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ کراچی، حیدر آباد، میرپور خاص اور دیہی سندھ کے بعض اضلاع میں وہ ہمیشہ کمزور رہے ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی کمزور پوزیشن کو مد نظر رکھتے ہوئے زرداری نے 2018 کے مقابلے میں کچھ زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ پنجاب میں بھی انہیں جنوب سے کچھ زیادہ نشستوں کی توقع ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے