EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

جمہوری گراوٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسئلہ یہ نہیں کہ اپوزیشن نے نہ بلانے کی شرط رکھی تھی یا یہ کہ وہ خود نہیں انا چاہتا تھا۔ المیہ بلکہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کا وقار مجروح ہوا۔ ایگزیکٹو کے سربراہ کا آئینی، اخلاقی، سیاسی حق کی پامالی اس کی بے حسی، اور بے اختیاری ہمارے نقلی اور دکھاوٹی نظام کے ماتھے پر بڑے اچھوتے نشان چھوڑ گیا۔

اپوزیشن کی پارلیمنٹ کے سربراہ سے مخمصہ ہو یا محترم خان صاحب کا پرانا معاندانہ، ضدی رویہ۔ یا کوئی اور وجہ۔ نفرت، منافقت، اور جھوٹے پن نے متحد ہونے اور مشترکہ پالیسیوں کے اپنانے کا خواب چکنا چور کیا ہے۔

کیا دنیا کے کسی بھی نظام میں خاص کر جمہوریت میں ایسا ہوا ہے کہ سربراہ حکومت غائب ہو اور اہم ترین سیکیورٹی مسئلوں پر کسی ادارے کے سربراہ کے پارلیمنٹیرین کو بریف کرتے وقت حاکم وقت خود شرکت کرنے میں ہچکچاہٹ اور ہٹ دھرمی سے کام لے رہا ہو۔ یہاں دو سوال اٹھتے ہیں نمبر 1 کہ سربراہ حکومت اپنی حیثیت اور افادیت کھو چکا ہے۔ یا یہ کہ اس میں ضد، انانیت کا پہلو پایا جاتا ہے جو مودی سے ہاتھ ملانے کے لیے ہاتھ پاؤں تو مار سکتا ہے لیکن اپنے سیاسی مخالفین سے نہیں۔

اجتماعی دانش میں ہی کامیابی کے راز پوشیدہ ہوتے ہیں اور ایک جمہوری ملک میں پارلیمنٹ ہی پالیسی بنانے اور طاقت کا سر چشمہ ہوتے ہیں اہم سیکیورٹی مسائل اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان پارلیمانی رہنماؤں کی بریفنگ قابل ستائش۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن کندھے سے کندھے لگا کر بیٹھتے۔ جس جمہوری نظام میں وزیراعظم اور اپوزیشن الزام تراشیوں میں مصروف ہو اور اہم ترین سیکیورٹی کے معاملات کی بریفنگ میں اکٹھے نہ بیٹھ پاے۔ وہاں جمہوری تنزلی اور اقدار کی گراوٹ کا اندازہ ہمارے جمہوری نظام سے اخذ کیا جا سکتا ہیں۔

ایک طرف معاشی تنزلی، دوسری طرف سیاسی عدم استحکام، ملکی مسائل، نئے علاقائی اور بین الاقوامی صف بندی، ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار، کشمیر پر بھارتی بربریت اور بزور شمشیر اس کا انضمام اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں ابھرتی ہوئی خانہ جنگی اور خون کی ہولی کا پاکستان کے ناتواں معاشی اور ملکی مسائل پر اس کے ممکنہ اثرات دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ کیا اس چیلنجز کے سامنے ہم سیاسی عدم استحکام، پارلیمنٹ کئی بے توقیری اور ذاتی انا جیسے مسائل کو برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں؟

بھت سے چیلنجز ہمیں درپیش ہیں۔ سیاسی بصیرت اور اجتماعی دانش سے ہی ان کو ٹالا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کو طاقت کا سر چشمہ بنانا ہی واحد حل ہے۔ جس کی زیادہ تر ذمے داری سربراہ حکومت پر ہے۔ ملکی مسائل کو ذاتی ضد اور انا پر فوقیت دینا ہی عقل مند کی نشانی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے