EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

نیشنلسٹ دوستوں کی خدمت میں چند گزارشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہاں تک عوامی اور جمہوری مسائل اور قوموں کی زمین اور وسائل پر قبضے کا تعلق ہے تو میں بائیں بازو سے جڑی ہوئی ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتی ہوں۔ بورژوازی نیشنلسٹ اپروچ اور ہماری اپروچ میں بنیادی فرق ہے۔ ہم محنت کشوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور محنت کش طبقہ ہر طرح کے ظلم اور استحصال کے خلاف لڑنے کے لئے تیار رہتا ہے، اسی لئے وہ مظلوم قوموں کی خود مختاری کی جد و جہد کی حمایت کرتا ہے لیکن اس نیشنلسٹ اصول کو تسلیم نہیں کرتا ”میرا ملک۔ صحیح یا غلط“ ۔ ”میری قوم۔ صحیح یا غلط“ ۔ بلکہ ہم قوموں کے درمیان جھگڑوں یا لڑائی کو جمہوریت اور سوشلزم کی طرف انسانیت کا سفر سمجھتے ہیں۔ ہر قوم کا بنیادی مفاد اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنی گردن سے اس قدامت پسند اور رجعت پسند نظام کا طوق اتار کر پھینک دے جو ترقی اور قوموں کے وجود کا مخالف ہے۔

ہمارے گرو آئی اے رحمن صاحب کہا کرتے تھے کہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک حد درجہ مرکزیت پسند ریاستی ڈھانچے کی حمایت کرنے والی قوتوں نے پاکستان کو صحیح معنوں میں فیڈریشن نہیں بننے دیا۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان ایک ملٹی نیشنل اور ملٹی کلچرل ریاست ہے اور اس کے صوبے صرف ایڈمنسٹریٹو ڈویژن نہیں بلکہ یہ ایسی کمیونٹیوں کا وطن ہیں جن میں ہر ایک کی اپنی شاندار تاریخ، ثقافتیں اور زبانیں ہیں، اس طرح کی ریاست کو فیڈریشن ہی ہونا چاہیے، اس کا احساس 1940 کی لاہور قرارداد مرتب کرنے والوں کو بھی تھا جنہوں نے Constituents یا اتحادی یونٹوں کو خود مختاری دینے کا وعدہ کیا تھا ورنہ شاید یہ قرارداد منظور ہی نہ ہوتی۔ قائد اعظم نے بھی 1935 کے ایکٹ کا فیڈرل حصہ اسی لئے مسترد کیا تھا کیونکہ اس میں ایک طاقتور مرکز کا تصور پیش کیا گیا تھا لیکن چند سالوں بعد ہی اقتدار کی بھوکی بیوروکریسی نے مذہبی لابی کے ساتھ مل کر اور اس کے بعد مارشل لاؤں نے وفاقیت کے تصور کو مسخ کر دیا۔

قوموں کی زمین اور وسائل پر قبضے کے حوالے سے بات کرنے کے لئے ایکٹیوسٹس کو ایڈووکیسی اور لابنگ کے جدید طریقے اپنانے چاہئیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کا رکن ہے۔ اس لئے ان حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ورنہ لوگ جبری بے دخلی کا شکار ہوں گے یا آبادی کا انخلا ہو گا جس کے نتیجے میں بے گھری اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ منفی سماجی اور نفسیاتی اثرات مرتب ہوں گے۔

جہاں تک قومی مسئلے یا National Questionکی بات ہے، یہ ایک جدید مسئلہ ہے۔ جدید تاریخ میں جن قوموں نے اہم کردار ادا کیا جیسے فرانسیسی، برطانوی، جرمن، اطالوی وغیرہ صدیوں پہلے قوموں کی حیثیت سے ان کا کوئی وجود نہیں تھا، دو ہزار سے کچھ سال پہلے یہ قبیلے ہوتے تھے پھر ان مختلف قوموں کے ملغوبوں سے مختلف قومیں بنیں جو ایک مشترک سرحد کے اندر رہتی تھیں، ایک جیسی زبان بولتی تھیں اور قریبی اقتصادی بندھن میں بندھی ہوئی تھیں۔

ہر قوم زبان، سرحد، اقتصادی زندگی اور نفسیاتی ساخت جس کا اظہار ثقافت سے ہوتا ہے کہ ذریعے تشکیل پاتی ہے۔ ان ساری خصوصیات کے بغیر ایک قوم نہیں بن سکتی یعنی ان میں سے صرف ایک خصوصیت کو لے کر آپ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی وجہ سے ایک قوم بن گئی۔ مثال کے طور پر صرف زبان ایک قوم بننے کے لئے کافی نہیں۔ امریکی اور انگریز انگریزی بولنے کے باوجود الگ قومیں ہیں۔ آسٹرین اور سوئس جرمن زبان بولتے ہیں مگر وہ خود کو جرمن قوم نہیں کہلواتے۔

ہم اکثر سندھ کے مختلف علاقوں میں سندھی بہنوں کو کسی سیاسی تحریک کے حق میں نعرے بلند کرتے دیکھتے ہیں اور تب میں سوچتی ہوں کہ جب یہ سیاسی تحریکیں یا قوم پرست جد و جہد کامیاب ہو جائے گی تو کیا مرد ان عورتوں پر تشدد کرنا چھوڑ دیں گے، کیا وڈیرے ہاری کو اس کا حق دے دیں گے۔ کیا کارخانہ دار مزدور کو مناسب اجرتیں اور سہولتیں دینے لگیں گے؟

صدیوں سے یہ ہوتا چلا آیا ہے کہ اکثر قوم پرست تحریکیں لوگوں کو اپنا لبرل روپ دکھاتی ہیں اور انقلابی باتیں کرتی ہیں جب کہ عموماً وہ قدامت پسند بلکہ کبھی تو رجعت پسند بھی ہوتی ہیں۔ جہاں تک غیر ملکی جبر یا بیرونی دباؤ سے آزادی حاصل کرنے کا معاملہ ہے تو بے شک قوم پرست جدوجہد انقلابی ہوتی ہے لیکن ان کی قیادت ایسے نظریات اور رہنما کر رہے ہوتے ہیں جو خود نئی طرح کی بالا دستی یا مطلق العنانیت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کی قوم پرست تحریکوں کو دیکھ لیجیے جیسے ہی جدوجہد ختم ہوتی ہے تو ظلم اور جبر کی نئی شکل سامنے آجاتی ہے۔

تو دیکھنا یہ ہے کہ عام لوگوں کو، غریبوں کو، عورتوں اور ہاریوں اور مزدوروں کو اور دیگر کچلے اور پسے ہوئے طبقات کو اس ساری جد و جہد کے نتیجے میں کیا ملتا ہے۔ اگر ایک نئی اور مقامی اشرافیہ سامنے آتی ہے اور لوگوں پر وہی ظلم کرتی ہے جو باہر والے کرتے تھے تو غریبوں کو اس ساری جد و جہد اور قربانیوں کا کیا فائدہ ہو گا؟ کیا مقامی لیڈر، مقامی اشرافیہ اپنے بچوں کی شادیاں اپنی قوم کے غریبوں کی بیٹیوں سے کرنے لگیں گے؟ کیا ڈیفنس میں رہنے والا ارب پتی اپنے بیٹے کی شادی کراچی کی کچی آبادی میں جھگی میں رہنے والے اپنی قوم کے غریب شخص کی بیٹی سے کر دے گا۔ نہیں نا۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قومی مسئلے کو طبقاتی مسئلے سے جوڑے بغیر بات نہیں بنے گی۔ قوم پرست جدوجہد کو طبقاتی جدوجہد سے جوڑے بغیر عوام کے، غریبوں کے اور کچلے اور پسے ہوئے طبقات کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے