EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

عراق: کرونا اسپتال میں آتش زدگی سے کم از کم 44 افراد ہلاک، متعلقہ افسران کی گرفتاری کا حکم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسپتال کے کووڈ-19 وارڈ میں آکسیجن ٹینک کا دھماکہ آگ کی ممکنہ وجہ تھی۔

عراق کے جنوبی شہر ناصریہ میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے بنائے گئے ایک اسپتال میں پیر کو لگنے والی آگ سے 44 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے ہیں۔ وزیرِ اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے متعلقہ ذمہ دار حکام کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

عراق کے صحت اور پولیس حکام نے اسپتال میں آتش زدگی کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر آکسیجن ٹینک کے دھماکے کے باعث لگی ہے۔

واقعے کے بعد محکمۂ صحت کا عملہ جھلسے ہوئے افراد کو اسپتال سے باہر نکالتا رہا جب کہ کئی مریض دھویں کے باعث کھانستے دکھائی دیے۔

محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق الحسین کرونا وائرس اسپتال میں آگ پر قابو پانے کے بعد سرچ آپریشن جاری ہے۔ البتہ دھویں اور بدبو کے باعث متاثرہ وارڈز میں امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

محکمۂ صحت کے ذرائع کا کہنا تھا کہ پیر کو لگنے والی آگ سے اموات میں اضافے کا امکان ہے کیوں کہ متعدد مریض اب بھی لاپتا ہیں۔ ان کے بقول مرنے والوں میں طبی عملے کے دو افراد بھی شامل ہیں۔

متاثرین کے رشتے دار اسپتال کے باہر جمع ہوگئے۔
متاثرین کے رشتے دار اسپتال کے باہر جمع ہوگئے۔

اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کے بعد متاثرین کے رشتے دار اسپتال کے سامنے جمع ہو گئے۔ اس دوران مشتعل افراد نے سیکیورٹی اہلکاروں سے تصادم کے بعد پولیس کی دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔

ادھر وزیرِ اعظم مصطفیٰ الکاظمی کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق واقعے پر وزیرِ اعظم نے سینیئر وزرا سے ملاقات کی ہے اور ناصریہ کے محکمۂ صحت اور سول ڈیفنس کے حکام کو معطل اور گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

بیان کے مطابق اسپتال کے مینیجر کو بھی معطل کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔

خیال رہے کہ عراق کا نظامِ صحت کرونا وائرس کے خلاف جدوجہد میں دباؤ کا شکار ہے اور ملک میں اب تک 14 لاکھ سے زائد افراد متاثر اور 17 ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔

آگ ممکنہ طور پر آکسیجن ٹینک کے دھماکے کے باعث لگی۔
آگ ممکنہ طور پر آکسیجن ٹینک کے دھماکے کے باعث لگی۔

ایک ہیلتھ ورکرز نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا کہ شدید آگ نے کرونا وائرس وارڈ میں موجود متعدد مریضوں کو لپیٹ میں لے لیا تھا اور اس دوران ریسکیو ٹیمیں ان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

جائے وقوع پر موجود ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ پولیس کی ابتدائی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ اسپتال کے کرونا وائرس کے وارڈ میں آکسیجن ٹینک کا دھماکہ آگ کی ممکنہ وجہ تھی۔

اسپتال کے گارڈ علی محسن کے مطابق انہوں نے کرونا وائرس وارڈز کے اندر ایک بڑا دھماکا سنا جس کے بعد آگ تیزی سے پھیل گئی۔

واضح رہے کہ اپریل میں دارالحکومت بغداد میں ایک کرونا اسپتال میں آکسیجن ٹینک کے دھماکے میں کم از کم 82 افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوئے تھے۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے لی گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2621 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے