EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سانسیں ادھار لے کے گزاری زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تیرے رحم و کرم سے یہ سانسیں اب تک صحیح و سلامت چل رہی ہے۔ اگر آپ کی مہربانی نہ ہوتی پتہ نہیں کب یہ سانسیں سلب ہو جاتیں۔ یہ زندگی بہ دقت گزر رہی ہے آپ کی کرامات ہے۔ جب زندگی اپنے احساسات سے بری پڑی آرزووں کو پورا کرنے کی سہی رائیگاں کریں تو انسان وہاں بے بس ہوجاتا ہے۔

عشق، محبت سی کیفیت نہ ہوتی تو اس وقت زندگی ممنونیت سے نہ گزرتی، جب انسان کے اندر محبت جگہ بناتی ہے تو بے چینی محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیونکہ محبت ایک ایسی شے ہے کہ انسان کے اندر رہ کر دیمک کی طرح کھو کھلا کر دیتی ہے۔ پھر وہ اس کائنات کی ہر شے میں وہ محبت تلاش کرنی کی کوشش کرتا ہے۔ ویسے اللہ میاں نے اس کائنات کو محبت میں وابستگی کیلے بنایا ہے یہاں ہر چیز محبت کی زبان سمجھتی ہیں اگر محبت نہ ہوتی تو اس کی زبان اتنی شہرت یافتہ نہ ہوتی۔

مجھے اس جانل نے محبت کے سلیقے سکھائے اگر اس نے مجھے محبت جیسی چیز سے آشنا نہ کرتا تو آج میں اس تربتے تک نہ پہنچتا، آج اتنی دقت کی زیست گزار رہا ہوں کہ کوئی اپنا مجھے اپنا مانے کو عیب محسوس کرتا ہیں۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اس نے مجھے محبت کے تقاضے سے روشناس کروائے لیکن پھر اس نے مجھے کٹھن راستے میں تنہا چھوڑ کر خود آزاد پنچھی کی طرف اڑان لی۔

اب میں اس چوراہے پر کھڑا تنہائی اور بے چینی محسوس کر رہا ہوں۔ کیونکہ میری زندگی کی خوشی اس نے چین لی محبت سے آشنا کیا پھر خود مجھے تنہائی کا شکار کیا، اب میں بے سر و سامان ہوں، نہ منزل کا پتہ نہ کہ درست راستے کا اندازہ۔

زندگی اب اپنی منزل کی طرف گامزن ہے پتہ نہیں کہ اختتام کیا ہوگا۔ یہ زیست کا فاصلاتی نظام کتنے برسوں تک چل سکتا ہے اس کی ضمانت کوئی بھی نہیں دے سکتا۔ ہر جگہ ہم آہنگ ہونے والا بندہ اب کئی بھی مطابقت رکھنے سے معذور لگتا ہے۔ کیونکہ جانل کی مہربانی کی وجہ سے ہماری ایسی حالت بنی ہوئی ہے۔ لوگوں سے روابط منقطع ہوا ہیں۔ ایک بے چین سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔ مہر کی اتنی تشنگی ہے کہ انسان کو دریا میں بھی پیاسا رکھتی ہے۔ وہ اپنی وجودیت سے انکار کرنا چاہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ملک جان کے ڈی کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے