EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والی تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی اب نظربند نہیں، گرفتار ہیں: فواد چوہدری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سعد رضوی اب زیر حراست نہیں، بلکہ گرفتار ہیں، ان کی جماعت نے نہ صرف پاکستان کے املاک کو نقصان پہنچایا بلکہ آئین اور ریاست کے خلاف اقدامات اٹھائے، اگر جے یو آئی ایسا کام کرے گی تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کریں گے-

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مسلح گروپوں کو ملک میں کھلے عام کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے- انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی پی ایل نے ریاست کے املاک کو نقصان پہنچایا اور آئین و قانون کے خلاف ورزی کی- انہوں نے کہا کہ اگر کسی اور جماعت نے بھی ایسا کوئی اقدام اٹھایا تو اس کے خلاف کارروائی کریں گے، انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے ابھی تک ایسا کوئی کام نہیں کیا کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کریں، لیکن اگر انہوں نے ایسا کچھ کیا تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیں گے-

انہوں نے ٹی پی ایل کے سربراہ سعد رضوی کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ سعد رضوی گرفتار ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے- انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے سعد رضوی کے حوالے سے فیصلے کو قبول کیا ہے- خیال رہے کہ گزشتہ روز کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کی نظر بندی میں مزید 90 روز توسیع کر دی گئی تھی۔

اس سلسلے میں لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع کے لیے نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا، جس میں کہا گیا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور مدثر ریاض نے نظر بندی میں توسیع کا فیصلہ سی ٹی ڈی اور پولیس کی درخواست پر کیا جس کا مقصد امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے۔ چند روز قبل ہی کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع کی استدعا مسترد کر دی گئی جس کے بعد سعد رضوی کی نظربندی ختم کر دی گئی تاہم سعد رضوی کو رہائی کے لیے اپنے خلاف درج مقدمات میں ضمانتوں کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرنا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے