افغان طالبان نے بیس سال بعد سپین بولدک پر کنٹرول حاصل کر لیا


افغان طالبان نے امریکا کے ساتھ حالیہ معاہدہ کے بعد اب تک سب سے بڑی کامیابی حاصل کرنے کا دعوی کر دیا ہے طالبان نے گزشتہ رات کو پاک افغان سرحد چمن کے ساتھ علاقہ سپین بولدک پر تقریباً 20 سال بعد اپنا کنٹرول مکمل طور کر لیا۔ دوسری جانب افغان طالبان کے مطابق کہ اب تک 180 سے زائد افغانستان کے مختلف علاقوں پر پر اپنا کنٹرول پر کر چکے ہیں اور اس شدید لڑائی میں اب تک سینکڑوں کی تعداد میں افغان سکیورٹی فورسز کے جوان سرینڈر ہوچکے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ میں اس لڑائی میں میں سینکڑوں کی تعداد میں میں افغان طالبان ان اور افغان ان فورسز جاں بحق اور زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب طالبان نے نے ترکمانستان بارڈر پر اپنا گرفت حاصل کرنے کے بعد ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی یعنی پاک افغان بارڈر چمن کے ساتھ سپن بولدک پر بیس سال بعد بعد طالبان کے حصے میں میں آنا بہت بڑی کامیابی ہے اور اس یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ طالبان کتنے زیادہ طاقتور اور منظم ہو چکے ہیں۔

دوسری گزشتہ دو، تین مہینوں سے افغان فورسز اور طالبان کے درمیان افغانستان کے مختلف علاقوں میں اس وقت شدید لڑائی جاری ہیں، ترجمان طالبان ان اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ اس وقت طالبان کا افغانستان کے 80 فیصد سے زیادہ علاقوں پر اپنا مضبوط کنٹرول حاصل کر چکے ہیں، دوسری جانب سپین بولدک پر کنٹرول حاصل کرنے کرنے کے بعد بارڈر پر ہر قسم کی آمدورفت کے لئے لیے مکمل بند طور بند کر دیا گیا ہے اس وقت افغان طالبان باب دوستی گیٹ پر کھڑے ہیں اور طالبان نے باب دوستی گیٹ پر پر اپنا سفید رنگ کا پرچم بھی لگا دیا ہے دوسری جانب طالبان نے ویش منڈی پپر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد قندھار پولیس نے شہر بھر میں موٹر سائیکل چلانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

طالبان حکام کے مطابق کہ بولدک پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ہمارا اگلا ہدف اب قندھار شہر ہیں اس وقت طالبان قندھار شہر سے تقریباً سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے طالبان نے گزشتہ ہفتے افغان صوبہ ہرات کے ساتھ منسلک علاقہ اسلام کلا۔ اور فراہ کے ایک اہم بندرگاہ بھی حاصل کر چکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ قندوز میں میں شیر خان اور صوبہ تخار میں اے خانم اور صوبہ پکتیا میں میں ڈنڈ پٹھان بندرگاہ پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ طالبان نے افغانستان اور تاجکستان کے درمیان ان علاقوں پر پر قبضہ کر چکے ہیں۔

Facebook Comments HS