EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

جذبہِ ایثار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر سال ۱۰ ذوالحج کو تمام دنیا کے مسلمان حضرت ابراہیم (ع) کی اللہ تعالی کے حکم پہ عمل کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کی اُس عظیم قربانی کی سُنت پہ عمل کرتے ہوئے جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔

ہزاروں سال پہلے پیش آنے والا یہ واقعہ اللہ تعالی نے ہمیں قرآنِ مجید میں ہو بہو بیان کر کے ہم مسلمانوں تک پہنچایا ہے۔ تاکہ ہم بھی اِس سے سبق سیکھ سکیں۔

جِس طرح حضرت ابراہیم (ع) نے اپنے اکلوتے بیٹے جو کہ انہیں اور حضرت حاجرہ (ع) کو اللہ تعالی نے تب عطا کیا جب کہ یہ دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ تو عُمر کے اس آخری حصے میں اللہ تعالی کی طرف سے ملی ہوئی اس اولاد کو اللہ تعالی کے حکم کے مطابق جب حضرت ابراہیم (ع) کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا، تو حضرت ابراہیم (ع) نے تب نہ تو کوئی حیلا اور نہ کوئی بہانہ گھڑنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس بارے میں کسی قسم کی اللہ تعالی سے کوئی شکایت کی۔

اور دوسری جانب حضرت اسماعیل (ع) جو تب تک ایک چھوٹے سے بچے تھے، انھوں نے بھی اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے اس حکم کو سن کے لمحہ بھر کے لئے بھی نہ ڈرے، نہ ہچکچائے اور نہ کسی قسم کی کمزوری دکھائی۔

اور یہاں تک کہ کبھی حضرت ابراہیم (ع) کو اور کبھی اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو بار بار شیطان مردود بھی آ کے ورغلاتا و پھسلاتا رہا کہ کہیں کسی طرح کوئی کمزوری دِکھا کے اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی کر سکیں، لیکن وہ مردود ناکام ہی رہا۔

پھر جب حضرت ابراہیم (ع) اللہ تعالی کے اس حکم کے سامنے سر تسلیمِ خم کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو قربان کرنے کے دوران چھری کو چلا رہے تھے، تب پھر اللہ تعالی نے چھری کو کاٹنے سے منع فرما دیا اور حضرت ابراہیم (ع) کی اس عظیم قربانی کو قبول کرتے ہوئے ایک دُنبہ بھیجا اور حضرت ابراہیم (ع) کو اس دُنبے کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔

اسی عظیم قربانی کے بدلے میں حضرت ابراہیم کو اللہ تعالی کی طرف سے خلیل اللہ (جس کے معنی اللہ کا دوست کے ہیں) کا لقب دیا گیا اور اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو اللہ تعالی کی طرف سے ذبیح اللہ (جس کے معنی ﷲ کی راہ میں قربان ہونے والا کے ہیں) کا لقب دیا گیا۔

تو اس عظیم اور بے مثال قربانی کو سنت کے طور پر نبھاتے ہوئے تمام دنیا کے مسلمان۱۰ ذوالحج کو عید الاضحی کے موقع پر جسے عید ایثار یا پھر قربانی کی عید بھی کہا جاتا ہے، اس پہ تمام صاحبِ استطاعت لوگ جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کر کے مناتے ہیں

اور اس قربانی کے گوشت کو ہم اللہ تعالی اور اپنے پیارے نبی و رسول جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دیے گئے احکامات کے مطابق اپنے عزیز و اقارب، رشتے داروں، محلے داروں، اپنے ارد گرد موجود غریب و غرباء اور اُن لوگوں میں بانٹتے ہیں جو قربانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو اس قربانی کے دن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، جیساکہ اللہ تعالی کے احکامات کو ہمیں ہر صورت ماننا چاہیے اور شیطان مردود کے ہاتھوں کھلونا نہیں بننا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے یا جن سے منع فرمایا ہے اُن میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔

اور دوسرا یہ کہ شیطان مردود جو کہ انسان کا کُھلا دشمن ہے، وہ طرح طرح کے طریقوں سے ہمیں ورغلا اور پِھسلا کر گناہوں کی طرف دھکیلنے اور اللہ تعالی کے احکامات سے رو گردانی کروانے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمیں کبھی بھی اُس شیطان مردود کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور اللہ تعالی کے احکامات کو اپنی اپنی زندگیوں میں لازم و ملزوم سمجھ کر شامل کرنا چاہیے

اور تیسرا یہ کہ ہمیں نہ صرف اس عید ایثار کے موقعے پہ ہمارے ارد گرد موجود غریب و غربا، محلہ داروں، رشتہ داروں اور اُن لوگوں کو جو سفید پوش ہیں، کبھی نہیں بھولنا چاہیے اور اپنی استطاعت میں رہتے ہوئے ان کی ہر قسم کی مدد کو تیار رہنا چاہیے جس سے ایک بہترین اور ہمدرد معاشرہ بھی قائم ہو سکتا ہے جو ایک دوسرے کا ہر اچھے و برے وقت میں خیال رکھتا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بشارت محمود رانا کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے