EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کیا ملتان ہندوؤں کا ”کرتار پور“ بن سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیس بک پر بھارت اور پاکستان کے لوگوں کا ایک گروپ بنا ہوا ہے۔ اس گروپ میں دونوں ممالک کے لوگ بڑھ چڑھ کر اور انواع و اقسام کی پوسٹیں لگاتے ہیں۔ ان میں ایک چیز دونوں ملکوں کے لوگوں کی مشترکہ ہے اور وہ ہے ہجرت کے دکھ۔ دونوں ملکوں نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی۔ ان کو پہلے سے پتا نہیں تھا کہ اس آزادی کی انہوں نے کیا قیمت ادا کرنی ہے؟ کیا قیمت ادا کی، وہ ہم سب جانتے ہیں۔ اب اس گروپ کے توسط سے دونوں اطراف کے لوگ ایک دوسرے سے ہجرت کے دکھ بانٹتے ہیں۔

اس ہجرت کے نتیجے میں لگنے والے جسمانی، ذہنی اور روحانی زخموں کا ذکر کر کے اپنے اپنے غموں کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں سکولوں میں صرف تصویر کا صرف ایک ہی رخ پڑھایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دکھ دونوں ملکوں کے لوگوں نے اٹھائے۔ اب وہ اپنے اپنے چھوڑے ہوئے گھروں، اپنی زمینوں، اپنے محلوں، اپنے شہروں کو یاد کرتے ہیں اور آہیں بھرتے ہیں۔

اسی گروپ میں جہاں چھوڑے ہوئے گھروں کا تذکرہ ہوتا ہے، وہیں کچھ ایسی عبادت گاہوں کا ذکر بھی ہوتا ہے جو مذہبی اعتبار سے اونچے درجے پر ہیں اور اب درمیان میں قائم سرحد کی وجہ سے ایک دوسرے کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ ملتان کے تاریخی قلعے پر موجود ”پر ہلاد پوری“ مندر بھی انہی میں سے ایک ہے۔ آج کل یہ صرف کھنڈرات کی صورت میں ہے۔ یہ ہمیشہ سے اس شکل میں نہیں تھا۔ 1992 سے پہلے یہ ٹھیک حالت میں تھا اور اطلاعات کے مطابق ہندوستان اور پوری دنیا سے ہندو اس کو دیکھنے کے لئے آتے تھے۔

گورنمنٹ کالج آف سائنس ملتان میں تعلیم کے دوران ہم نے بھی اس کی یاترا کی ہوئی ہے۔ ہمارا ایک دوست اقبال خان ان دنوں ولایت حسین ڈگری کالج ملتان میں پڑھتا تھا۔ اس کالج کا ہوسٹل قلعے کے اوپر ہی اسی مندر کے بالکل قریب ہی تھا، یا شاید اسی مندر کے کمرے ہی بطور ہوسٹل کے استعمال ہو رہے تھے۔ ایک دو بار جب ہم وہاں اس کو ملنے گئے تھے تو اس مندر کی زیارت بھی ہوئی تھی۔ سچی بات ہے ان دنوں اس کی تاریخی حیثیت معلوم نہیں تھی ورنہ اس کو کسی اور زاویے سے ہی دیکھتے۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا چکا کہ یہ ہمیشہ سے کھنڈرات کی شکل میں نہیں تھا۔ 1992 میں ہندوستان کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کا افسوس ناک سانحہ ہوا۔ ردعمل کے طور پر پاکستان میں موجود مندروں کی شامت آ گئی۔ ”ایماں کی حرارت“ والے ملتان میں موجود مندروں پر بھی بری طرح ٹوٹ پڑے۔ یہ مندر پاکستانی ٹھیکیداروں کے بنے ہوئے نہیں تھے۔ اس لئے یہ ”لوہے کے چنے“ ثابت ہوئے۔ مسئلہ اب غیرت ایمانی کا تھا، اس لئے اسلام کے بول بالے کے لئے ان کا چبانا بھی ضروری تھا چاہے اپنے دانت ہی ٹوٹ جائیں۔

اور دانت ٹوٹے بھی، یعنی بہت سے لوگ ان مندروں کے ملبے تلے دب کر ”شہید“ ہو گئے۔ ہمیں بابری مسجد کے حساب کو برابر کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ جوش جنوں میں یہ بھول گئے کہ جن دیواروں کو ہم توڑ رہے ہیں ان کے اوپر ہی چڑھے ہوئے ہیں۔ شاخ کو کاٹتے وقت انسان اگر یہ بھول جائے کہ میں اسی شاخ پر بیٹھا ہوں تو یہی انجام ہوتا ہے۔ سب سے افسوس ناک بات یہ تھی کہ جان سے جانے والے لوگوں میں بہت سے بچے بھی تھے جو محض اپنی عادت سے مجبور وہاں صرف تماشا دیکھنے گئے ہوئے تھے۔

ملتان کے تاریخی قلعے پر کھنڈر بنے ”پر ہلا دی مندر“ کی ہندو مذہب میں اہمیت کا اندازہ یوں لگائیے کہ ان کے مشہور مذہبی تہوار ”ہولی“ کا آغاز ہزاروں سال پہلے اسی مندر سے ہوا تھا۔ ایک روایت کے مطابق یہ پانچ ہزار سال پرانی بات ہے۔ فیس بک کے جس گروپ کا اوپر ذکر ہوا، اس کے بہت سے ارکان اس مندر کو بھی اور اس کے کھنڈرات کو دیکھ چکے ہیں۔ جہاں ہمیں بابری مسجد کی شہادت کا بے انتہا دکھ ہے، اسی طرح ہندوؤں کو بھی اس تاریخی مندر کی تباہی کا بہت زیادہ ملال ہے۔ اسی گروپ کے کچھ ارکان نے انکشاف کیا کہ اس مندر کے علاوہ بھی ملتان میں ایسے مندر تھے جن کی وجہ سے پوری دنیا میں بنارس کے بعد ملتان ہندوؤں کے نزدیک دوسرا متبرک ترین شہر ہے۔ خاص طور پر چوک شہباز سے جنوب کی طرف سورج کنڈ پر ”سورج کنڈ مندر“ ۔

اب سوال یہ کہ کیا ہم ”پر ہلا دی مندر“ کی دوبارہ تعمیر سے ملتان کو ہندوؤں کا ”کرتار پور“ بنا سکتے ہیں؟ پاکستانی ہندوؤں کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے ہندوؤں کا بھی مطالبہ بھی ہے کہ ان کے مذہبی احساسات کا خیال کرتے ہوئے اس کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔ اس سلسلے میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ اس سال جنوری میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے نے جناب شعیب سڈل کی سربراہی میں ایک کمیشن ملتان بھیجا تھا تا کہ اس کی دوبارہ تعمیر کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے دوسرے ارکان میں دو ارکان اسمبلی جناب رمیش کمار اور جناب ثاقب گیلانی بھی شامل تھے۔ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ غالباً مارچ میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کروا دی تھی۔ اس کے بعد اس پر کسی مزید پیش رفت کی خبر سننے کو نہیں ملی۔

ہمارے خیال میں حکومت پاکستان کو اس تاریخی مندر کو اسی جوش اور جذبے سے دوبارہ تعمیر کر دینا چاہیے جس طرح ہم نے سکھوں کے مطالبے پر کرتار پور والے گوردوارے کو ایک نئی شکل دے کر امر کر دیا ہے۔ اگر ہمارے پاس فنڈز کی کمی ہے تو ہم اگر اجازت دے دیں گے تو بھارت سمیت پوری دنیا کی ہندو برادری اس کو بڑی آسانی سے اپنے خرچ پر تعمیر کر سکتی ہے۔ اس کی تعمیر کے بعد کرتار پور کی طرح یہاں بھی اسے ایک ”کوریڈور“ کی شکل دی جا سکتی ہے۔

کرتار پور سرحد کے بالکل نزدیک وہاں سے ایک ہی دن میں واپسی ہو سکتی ہے۔ ملتان چوں کہ سرحد سے کافی دور ہے، اس لئے یہاں آنے والے ہندو یاتریوں کو کم ازکم دو دن رہنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ بھارت سے براہ راست پروازیں بھی ملتان آ سکتی ہیں۔ خلیجی ممالک سے پہلے بھی بین الاقوامی پروازیں ملتان آ رہی ہیں۔ وہاں بسنے والے ہندو یہاں آسانی سے یاترا کے لئے آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ واہگہ بارڈر، بہاول نگر اور حسینی والا بارڈر قصور سے بذریعہ بس بھی آیا جا سکتا ہے۔ ٹرین والے آپشن پر بھی عمل ہو سکتا ہے۔ اس سے ہمیں بے شمار معاشی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ ملتان سیاحت کا ایک مرکز بن سکتا ہے۔

ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کو حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے بالکل ساتھ اس مندر کی تعمیر نو پر اعتراض ہو۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پوری دنیا میں مساجد تعمیر ہو رہی ہیں۔ ہمیں ان کی تعمیر سے کتنی خوشی ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک مذہبی اور تاریخی حیثیت والے مندر کی دوبارہ تعمیر سے پوری دنیا میں موجود اربوں ہندو اگر ہم سے خوش ہو جائیں اور ہماری بین الاقوامی ساکھ میں بھی اضافہ ہو، تو یہ ہمارے لئے گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے