EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

اسرائیل: ایک ظالم ریاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے کوئی دو ماہ پہلے یعنی ماہ رمضان کے آخری عشرے میں جب فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑ گئی میں مسلسل حالات سے خود کو باخبر رکھتا رہا۔ جب حالات سنگین ہو جاتے اور دونوں اطراف سے میزائل برسنے لگتے تو پوری پوری رات ٹویٹر کی فیڈز بار بار ریفریش کرتا تاکہ کوئی خبر مس نا ہوجائیں۔ حالات تھوڑے سنبھلنے سیز فائر کا اعلان ہوا تو ارادہ تھا کہ اس حوالے سے کچھ اپنے احساسات کو تحریر کی شکل میں محفوظ کروں گا۔

لیکن مصروفیات کی وجہ سے یا پھر میری سستی کہہ لیں کہ اتنا وقت نہیں مل سکا کہ ان احساسات کو تحریر کرتا۔ یہ تو بھلا ہو ایک دوست کا جنہوں بار بار اصرار کیا کہ اس موضوع پر انہیں ایک مضمون چاہیے اور مجھے مجبور کیا کہ کچھ سطور گندا کر سکا۔ مضمون کی نوعیت کی مجبوری سے احساسات کے بجائے مختصر پس منظر اور موجودہ حالات کا کچھ ڈھانچہ کھینچنے کی کوشش کی ہے۔ مضمون لکھنے کے بعد میں نے ان سے اجازت طلب کی تھی کہ جب مضمون سے اپ کا مجوزہ کام تکمیل کو پہنچے گا تو میں اس کو نشر کرنا چاہوں گا۔ ان کی اجازت سے پیش خدمت ہے۔

فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری کی تاریخ پرانی نہیں بلکہ اس کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل سے ہوتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں جب خلافت عثمانیہ کو شکست ہوئی اور برطانیہ نے فلسطینی خطے کی بھاگ دوڑ سنبھال لی، اس وقت عرب کثیر تعداد میں یہاں مقیم تھے۔ اسی دوران برطانیہ حکومت میں موجود یہودیوں کی ایما پر برطانوی حکومت نے یہودیوں کے لیے قومی گھر دینے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے یہودیوں اور فلسطینی عربوں کے درمیان حالات اور کشیدہ ہو گئے۔

1920 اور 1940 کے درمیان فلسطینی خطے میں یہودی آباد کاری میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 1948 میں برطانوی حکومت ختم ہوتے ہی یہودیوں نے ایک نئی ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اقوام متحدہ میں فلسطین کے حوالے سے قرارداد منظور ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد تقریباً 70 فیصد حصے پر اسرائیلی یہودی قابض ہو گئے تھے۔ لاکھوں فلسطینی اردن، شام اور لبنان سمیت مختلف پڑوسی ریاستوں میں جانے پر مجبور ہوئے۔

اس کے بعد 1967 میں اسرائیل نے بیت المقدس سمیت ویسٹ بینک اور غزہ پر بھی قبضہ کر لیا۔

اسرائیل 1948 سے لے کر اب تک مختلف طریقوں سے وقتاً فوقتاً فلسطینیوں پر ظلم کر رہا ہے، کبھی ان کے اوپر تشدد

کرتے ہیں کبھی ان کو گھروں سے زبردستی نکالا جاتا ہے۔
مختلف ریسرچ رپورٹس کے مطابق 1948 سے 2014 تک تقریباً ایک لاکھ تک فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے اب تک 10 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو پابند سلاسل کیا، ایک لاکھ سے زیادہ گھروں کو مسمار کیا ہے۔

موجود دور میں غزہ کی پٹی مسلسل اسرائیل کے نشانے پر ہے، خصوصاً نیتن یاہو کے برسر اقتدار آنے کے بعد مسلسل اسرائیلی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ 2014 اور 2018 میں اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی سامنے آئی، اسرائیل کی طرف سے سینکڑوں راکٹ فائر کیے گئے جس میں متعدد فلسطینی شہید اور کئی ہزار زخمی ہوئے۔ پورے بلڈنگ زمین بوس کر دیے گئے۔

رواں سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ایک مرتبہ پھر صیہونی فوج نے معصوم فلسطینیوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنی بشری حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ غزہ کے علاقے شیخ جراح میں متعدد فلسطینیوں کو زبردستی اپنے گھروں سے بے دخل کرنے کے خلاف یہ احتجاج کیا جا رہا تھا۔ اسرائیل فوج نے اس پر بھی بس نہ کی اور جب مسلمان رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں قبلہ اول بیت المقدس میں نماز جمعہ ادا کر رہے تھے، اس ظالم فوج نے نمازیوں پر شیلنگ برسائے جس کے نتیجے میں 200 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

جس کے بعد مسلسل گیارہ دن تک اسرائیل کی طرف سے جارحیت جاری رہا، راکٹوں سے حملے کیے گئے۔ ڈھائی سو سے زائد افراد شہید کر دیے گئے، جن 20 خواتین اور 61 بچے بھی شامل ہیں۔ ہزاروں افراد زخمی کر دیے گئے ہیں جن میں بھی بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہیں، تقریباً پچاس ہزار سے زائد شہری بے گھر ہوئے، اقوام متحدہ کے مطابق سولہ ہزار سے زیادہ گھر مکمل تباہ ہو گئے ہیں۔ 58 سکول، متعدد ہسپتال اور کلینک، سڑکوں اور بازاروں سمیت اہم انفراسٹرکچر تباہ کر دیا گیا ہے۔

گیارہ دن بعد عالمی دباؤ کی وجہ سے اسرائیل کو جنگ بندی کا اعلان کرنا پڑا۔ گیارہ دن کے اس جنگ کے بعد غزہ کی شکل ہی بدل گئی ہے، لمحوں کے اندر کئی منزلہ عمارتیں بوس کر دی گئی، کمرشل عمارتیں، رہائشی فلیٹس گھر دفاتر ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہے، وہ جدید اور مضبوط ہتھیار نہتے فلسطینیوں کے خلاف بشمول بوڑھے، بچوں اور عورتوں کے کھل کر استعمال کر رہا ہے۔ اور عالمی دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ فلسطینی حملوں کے خلاف اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔ عالمی دنیا کے حکمران شاید اسرائیل کی اس بات کو سچ مان بھی لیں مگر جس طرح پوری دنیا میں لوگ فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اب ساری دنیا کے عوام پر جان گئے ہیں کہ فلسطینی اس معاملے مظلوم جبکہ اسرائیل ایک ظالم ریاست ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شہاب یوسف کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے