ازمیر سے استنبول: غنودگی اور من ترکی نمی دانم کے درمیان ایڈونچر

19 جولائی ( 2010) کو دوپہر کے وقت ازمیر سے استنبول کو بذریعہ بس روانگی کا سفر شروع کیا۔ یہ آٹھ نو گھنٹے کا سفر ہے۔ سفر شروع کرنے سے پہلے میں اپنا لنچ کر چکا تھا۔ سفر میں مجھے نیند تو نہیں آتی، بس کچھ دیر کے لیے غنودگی طاری ہوا کرتی تھی لیکن اس دن نجانے کیا ہوا کہ میں مسلسل اونگھتا رہا اور میرا یہ سفر اچھا خاصا ایڈوینچر بن گیا۔

رات نو بجے بس ایک مقام پر رکی۔ خاصا بڑا ٹرمینل تھا۔ مجھے معلوم تو نہیں لیکن شاید وہ برسہ کا ٹرمینل تھا۔ میں نے ساتھ بیٹھے مسافر کو گھڑی دکھا کر پوچھا کہ بس کتنی دیر تک رکے گی؟ اس نے آدھ گھنٹہ بتایا۔ میں اتر کر ٹرمینل کے اندر چلا گیا، واش روم گیا، اس کے بعد سوچا کہ کھانا بھی کھا لیا جائے۔ جب میں کھانا کھا رہا تھا تو مجھے شیشے سے باہر بس حرکت کرتی نظر آئی لیکن میں کچھ سمجھ نہ پایا۔ کھانا کھا کر باہر نکلا تو پتہ چلا کہ بس جا چکی ہے۔ بس کمپنی کے کاونٹر پر گیا، وہاں ایک شخص کوٹکٹ دکھا کر اپنا مسئلہ بتانے کی کوشش کی لیکن وہ بس گو، بس گو کہے جا رہا تھا۔ خیر کافی مشکل کے بعد یہ پتہ چلا کہ اگلی بس گیارہ بجے جائے گی۔ اس کے بعد اسی شخص نے کہا ایک اور بس کے متعلق بتایا کہ یہ دس بجے روانہ ہو گی۔ خیر میں استنبول کا نیا ٹکٹ خرید کر اس بس میں سوار ہو گیا۔

بس کچھ دیر چلنے کے بعد ایک وسیع میدان میں رک گئی جہاں بہت بڑی تعداد میں بسیں کھڑی نظر آئیں۔ اتر کر دیکھا تو پتہ چلا کہ وہاں سے بسوں کو جہازوں میں لاد کر سمندر کی دوسری طرف لے جایا جا رہا تھا۔ میں یہی سمجھا کہ یہ ایشیائی استنبول ہے اور جہازوں پر یورپی حصے میں لے جایا جا رہا ہے۔ لگ بھگ دو گھنٹے انتظار کے بعد بس کے جہاز پر سوار ہونے کی باری آئی۔ مجھ پر اس وقت بھی غنودگی طاری تھی۔ مجھے کچھ پتہ نہیں چلا کہ سمندر کو عبور کرنے میں کتنا وقت لگا۔ اس کے بعد بس پھر چلنا شروع ہو گئی اور ایک جگہ پہنچ کر رک گئی۔ اتر کر دیکھا تو وہاں کوئی ٹرمینل نہیں تھا یعنی وہ بس مین ٹرمینل پر نہیں رکی تھی بلکہ وہ کوئی پرائیوٹ اڈا تھا۔ اس وقت رات کے دو بج چکے تھے۔ وہاں ایک کیبن تھا جہاں ایک نوجوان بکننگ کلرک بیٹھا ہوا تھا۔ اس کو اپنا مسئلہ بتایا، ٹکٹ دکھایا اور کہا کہ میں برسہ کے مقام پر اس بس کو کھو چکا ہوں اور اب اس کپمنی کے دفتر جانا چاہتا ہوں۔ اس نے مجھے کہا 22 لیرا۔ میری سمجھ میں کچھ نہ آیا لیکن میں نے اسے پیسے دے دیے۔ اس نے برسہ کا ٹکٹ کاٹ کر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ اب میں اس کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ مجھے برسہ نہیں جانا، لیکن زبان کی دقت کی وجہ سے وہ میری بات سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ اس وقت وہاں ایک خاتون بھی کھڑی تھی جو شاید میرا مسئلہ سمجھ گئی۔ اس نے اس کلرک سے کچھ کہا جس پر اس نے مجھے پیسے واپس کر دیے۔

کیبن سے باہر نکلا تو تین چار نوجوان کھڑے نظر آئے۔ میں نے گم کردہ بس کا ٹکٹ ان کو دکھا کر دریافت کیا تو انھوں نے وہاں موجود ایک ٹیکسی میں مجھے بٹھا دیا اور ٹیکسی ڈرائیور کو مجھے اس کمپنی کے دفتر لے جانے کو کہا۔ جب اس دفتر تک پہنچے تو رات کے تین بج چکے تھے اور وہ دفتر بند تھا۔ میں وہاں سڑک پر تنہا کھڑا تھا۔ پتہ نہیں یہ میری حماقت تھی یا ان دنوں ترکی کے حالات واقعی اتنے اچھے تھے کہ مجھے کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوا۔ چونکہ پاسپورٹ، ایر ٹکٹ اور کرنسی میرے پاس تھی اس لیے مجھے بس کے گم ہو جانے کی زیادہ تشویش نہیں تھی۔ سامان میں بس کیمرے کی فکر تھی جو زیادہ قیمتی تو نہیں تھا لیکن اس سفر کی تمام تصاویر اس میں تھی۔

میں نے ساتھ والی سڑک پر نظر دوڑائی تو ایک بیکری کھلی نظر آئی۔ میں وہاں جا کر بیٹھ گیا۔ تھکن سے برا حال تھا۔ وہاں بیٹھ کر کافی منگوائی جسے ترکی میں نسکافہ کہا جاتا ہے۔ وہاں موجود ایک شخص سے پوچھا کہ دفتر کس وقت کھلے گا تو اس نے آٹھ بجے کا وقت بتایا۔ اب انتظار کے سوا کیا چارہ تھا۔ آٹھ بجے دفتر پہنچا تو وہاں موجود خاتون ورکر کو اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہی دقت کہ من ترکی نمی دانم۔ وہ انگریزی نہیں سمجھ پا رہی تھی۔ انقرہ کے برعکس استنبول میں کوئی کوئی بندہ ایسا مل جاتا تھا جو تھوڑی بہت انگریزی سمجھ لیتا تھا۔ وہاں موجود ایک مرد نے جو انگریزی سمجھ لیتا تھا۔ اس خاتون کو میرا مسئلہ بتایا۔ اس نے ٹیلی فون پر بات کرنے کے بعد مجھے کہا کہ گیارہ بجے میرا سامان یہاں پہنچ جائے گا۔ اس وقت مجھے پتہ چلا کہ میں ابھی تک استنبول کے ایشیائی حصے میں تھا۔ میں نے اس شخص کو اپنی ہوٹل کی بکنگ دکھائی اور کہا کہ میرا ہوٹل سلطان احمت میں ہے اور میں اپنا سامان ٹرمینل سے لے کر وہاں جانا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں باہر نکل کر بس میں سوار ہو کر فلاں بس سٹاپ پر اتر کر، وہاں سے ٹرین پکڑوں جو مجھے بس ٹرمینل پر لے جائے گی۔

بس پر سوار ہوا تو کچھ دیر بعد بس نے باسفورس پر بنا ہوا پل کراس کیا۔ اس وقت باوجود بے انتہا تھکاوٹ کے استنبول کا منظر بہت سہانا لگ رہا تھا، بالخصوص پہاڑی پر بنی سلیمانیہ مسجد اور اس کے مینار۔ بس سے اتر کر ٹرین پر سوار ہوا اور بس ٹرمینل پہنچ گیا۔ کمپنی کے دفتر میں جا کر اپنا سامان وصول کیا۔ اس کے بعد وہاں ناشتہ کیا، نیٹ کیفے سے دو تین ای میلز کیں اور ایک ٹی شرٹ خریدی۔ اب سلطان احمت پہنچنے کے لیے دوبارہ ٹرین پر سوار ہو گیا۔ راستے میں ایک نوجوان سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں غلط ٹرین پر سوار ہو گیا ہوں۔ اگلے سٹیشن پر اس نے مجھے اترنے کا اشارہ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ مجھے اصل ٹرین تک پہنچا دے گا۔ وہ سڑک پر اتنا تیز چل رہا تھا کہ مجھے بیگ گھسیٹتے ہوئے اس کا ساتھ دینے کے لیے تقریباً بھاگنا پڑ رہا تھا۔ کافی چلنے کے بعد ایک سٹیشن آیا جہاں سے اس نے مجھے سلطان احمت جانے والی ٹرین پر سوار کرایا۔

 سلطان احمت سٹیشن پر اتر کر اب میں ہوٹل کا پتہ نشان پوچھ رہا ہوں لیکن کوئی بھی نہیں بتا رہا تھا۔ پھر مجھے ایک کئی منزلہ ہوٹل نظر آیا جس کے باہر ایک شخص کھڑا ہوا تھا۔ اس نے مجھے راستہ سمجھایا۔ اس وقت چلنے کی ہمت بالکل باقی نہیں رہی تھی۔ پوچھا اس کے ہوٹل میں کوئی جگہ ہے تو اس نے انکار کر دیا۔ اس نے جدھر اشارہ کیا تھا وہاں میدان کے آخری کونے میں آراستہ بازار کا بورڈ نظر آ رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر بائیں ہاتھ مڑ کر تیسری گلی میں پھر بائیں ہاتھ مڑنا تھا۔ اس علاقے میں پرانے ولاز کو ہوٹلوں میں کنورٹ کیا ہوا ہے، اس لیے شاید ان کے نام اتنے معروف نہیں ہوتے۔ اس گلی میں بھی کوئی اس ہوٹل کے متعلق نہیں بتا پا رہا تھا۔ خیر چلتے ہوئے ایک جگہ پر مجھے دونوں افغانی نوجوان، جو انقرہ میں کانفرنس میں شریک تھے، بیٹھے نظر آ گئے۔ پتہ چلا کہ میری بکنگ بھی اسی ہوٹل میں ہے۔ ہوٹل میں اپنے کمرے میں پہنچا۔ کمرہ کافی اچھا اور کشادہ تھا۔ اس وقت دن کے بارہ بج چکے تھے۔ جب میں نے اپنے جوتے اتارے تو مجھے پتہ چلا کہ میری پنڈلیاں بری طرح سوجی ہوئی ہیں۔ یہ زندگی کا پہلا موقع تھا جب غیر ملک کی تنہائی میں خوف محسوس ہوا۔ خیر بستر پر آرام کی غرض سے لیٹ گیا۔ اب اگلی دو راتیں میرا استنبول میں قیام تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words