آپریشن جبرالٹر جس کے ایک ماہ بعد انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر دیا

ایم الیاس خان - بی بی سی نیوز

یہ تحریر پہلی مرتبہ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر سات ستمبر 2015 کو شائع کی گئی تھی۔

اگست 1965 میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بظاہر ایک مسلح مزاحمتی تحریک جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور اس ’بغاوت‘ کے ایک ماہ بعد انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ انڈیا کا یہ حملہ ’بلا اشتعال‘ تھا لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس وقت شروع ہونے والی تحریک واقعی مقامی تھی؟

71 برس کے قربان علی ان ’مزاحمت کاروں‘ میں شامل تھے جنھوں نے اگست 1965 میں انڈین فوجیوں سے لڑائی کی تھی لیکن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے رہائشی قربان علی کوئی مزاحمت کار نہیں بلکہ پاکستانی فوج کی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر رجمنٹ کے ایک فوجی تھے۔

آپریشن جبرالٹر

BBC
قربان کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ 180 افراد پر مشتمل تھا جن میں سے بیشتر عام شہری رضاکار تھے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’میں اس وقت تازہ تازہ فوج میں بھرتی ہوا تھا۔ میری عمر بمشکل 20 برس تھی۔ میں نے رجمنٹل تربیت مکمل کی تھی اور پھر رضاکارانہ طور پر جبرالٹر فورس میں شامل ہوا۔‘

پاکستان نے آج تک سرکاری طور پر اس قسم کی کسی فوج کی تیاری یا موجودگی کی تصدیق نہیں کی لیکن پاکستانی فوج کے سابق میجر، سکیورٹی امور کے ماہر اور مصنف اکرام سہگل نے اپنے ایک اخباری مضمون میں اس فوج کو ’آزاد کشمیر رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے فوج کے رضاکاروں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھرتی کیے گئے ان افراد کا مجموعہ قرار دیا ہے جنھیں جلد بازی میں تربیت دے کر جولائی اور اگست 1965 میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں دھکیل دیا گیا۔‘

پاکستانی اور دیگر عسکری مورخین کے مطابق اس منصوبے کو آپریشن جبرالٹر کا نام دیا گیا تھا اور اس کے خالق خطے کے فوجی کمانڈر میجر جنرل اختر حسین ملک تھے۔

منصوبہ یہ تھا کہ گوریلا لڑائی لڑتے ہوئے انڈین مواصلاتی نظام کو تباہ کیا جائے اور مرکزی مقامات پر حملے کر کے انڈین فوج کو باندھ کر رکھ دیا جائے۔

قربان علی اور ان کے گروپ نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہونے کے لیے شمال سے طویل اور دشوار گزار راستہ اختیار کیا۔

یہ لوگ کئی دن اسلحہ، گولہ بارود اور خشک راشن کمر پر لادے پیدل چلے، پہاڑ چڑھتے اترتے رہے جن میں سے کئی برف پوش تھے۔ اس سفر کے بعد انھوں نے ضلع کپواڑہ میں چوکی بال کے قصبے کے نزدیک جنگلات میں اپنی کمین گاہیں قائم کر لیں۔

یہ لوگ اپنے دن اور راتیں درختوں کے کھوکھلے تنوں میں یا پھر چٹانوں کی اوٹ میں گزارتے رہے۔ انھوں نے وہاں جو ایک ماہ گزارا اس میں ایک پل تباہ کیا اور انڈین فوج کی سپلائی لائن پر کئی مقامات پر حملے کیے۔

قربان کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ 180 افراد پر مشتمل تھا جن میں سے بیشتر عام شہری رضاکار تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ہر دس افراد میں سے چھ عام شہری تھے۔‘

قربان اور ان کے ساتھی نہیں جانتے تھے کہ ان جیسے کئی اور گروپ دیگر مقامات سے کشمیر کے اس حصے میں داخل ہو چکے تھے۔

محمد نذیر

BBC
محمد نذیر کا کہنا ہے ’اس کم عمری میں سب نے بہت خونریزی دیکھی، لیکن ان کے حوصلے بہت بلند تھے‘

اندازوں کے مطابق کشمیر جانے والی یہ جبرالٹر فورس سات سے 20 ہزار ارکان پر مشتمل تھی۔

ان میں سے ایک محمد نذیر بھی تھے جو اب 64 برس کے ہو چکے ہیں۔

جب انھیں بھرتی کیا گیا تو ان کی عمر 14 برس تھی اور وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے پونچھ میں ایک درجن سے زیادہ انڈیا کی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’جب انھوں نے ہمیں تربیتی کیمپ سے نکالا تو ہم نہیں جانتے تھے کہ ہماری منزل کیا ہے۔ ہم سمجھے کہ یہ بھی ہماری تربیت کا ایک حصہ ہے۔‘

نذیر اور ان کے ساتھی فارورڈ کہوٹہ سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہوئے اور زیادہ تر ضلع پونچھ کے قصبے منڈی کے علاقے میں کارروائیاں کیں۔ نذیر کہتے ہیں کہ ان کے گروپ میں شامل اکثر لوگ خود ان جیسے لڑکے تھے۔

’اس کم عمری میں سب نے بہت خونریزی دیکھی لیکن ان کے حوصلے بہت بلند تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جب کبھی گولیاں چلتیں یا کارروائی ہوتی تو ہمارا جوش و جذبہ بڑھ جاتا۔ جب خاموشی ہوتی تو ہم بوریت کا شکار ہو جاتے۔ اس وقت ہم نے شاید ہی کبھی زندگی اور موت کے بارے میں سوچا ہو۔‘

آپریشن جبرالٹر اس مفروضے کی بنیاد پر کیا گیا کہ یہ گوریلا حملے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی مسلم آبادی کو بغاوت پر اکسائیں گے۔

اس سلسلے میں ایک باغی ریڈیو سٹیشن بھی قائم کیا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ کشمیر میں کہیں قائم ہے جبکہ وہ راولپنڈی سے نشریات کر رہا تھا جن میں ’مجاہدین‘ کی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا تاکہ لوگوں کو مزاحمت پر اکسایا جائے۔

لیکن انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی شہری آبادی نہ صرف کسی عام بغاوت کے لیے تیار نہیں تھی بلکہ اسے ان دراندازوں کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا بھی رہا۔

عسکری مورخین نے ایسی کئی مثالیں پیش کی ہیں جن میں ان کی کارروائیوں میں عام شہری مرے یا زخمی ہوئے یا پھر انھوں نے ان مزاحمت کاروں کی مخبری کر دی۔

جبرالٹر فورس کی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کارروائیوں کے بعد انڈیا نے نہ صرف کشمیر میں اپنی فوج میں اضافہ کیا بلکہ دراندازی کے مقامات بند کرنے کے ساتھ ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے انڈین فوج نے ایسے بلند دروں پر بھی قبضہ کر لیا جہاں سے وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔

انڈیا کے اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے پاکستانی فوجی ستمبر کے پہلے ہفتے میں جموں میں داخل ہوئی تاکہ انڈین فوج کی سپلائی لائن کو کاٹا جا سکے۔ یہ کارروائی انڈیا کی جانب سے لاہور اور سیالکوٹ کی سرحد سے پاکستان پر حملے کی وجہ بنی۔

نسا بیگم

BBC
یوسف کی ہلاکت کے وقت ان کی اہلیہ نسا بیگم سات ماہ کی حاملہ تھیں

اگست 1965 کے آخر تک انڈیا کی فوج نے کشمیر میں داخل ہونے والے بیشتر دراندازوں کو تلاش کر کے پکڑ لیا تھا یا پھر وہ لڑائی میں مارے گئے۔

انڈیا کی جانب سے لاہور پر حملے کے بعد ان میں سے زندہ بچ جانے والوں کو واپسی کے احکامات ملے۔

قربان علی کے مطابق ’ہمیں بتایا گیا کہ وہ ہمیں مزید کمک نہیں پہنچا سکتے اور ہمیں اب اپنا انتظام خود ہی کرنا ہو گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’وہ ہمارے مشن میں سب سے مشکل وقت تھا۔ ہمارے عقب میں جو چوٹیاں تھی جن پر پہلے پاکستانی کنٹرول تھا، وہ اب انڈین قبضے میں جا چکی تھیں۔ ہم کمزور ہو چکے تھے۔‘

محمد نذیر اپنے گاؤں سے تعلق رکھنے والے ساتھی جنگجو محمد یوسف کی لاش گھسیٹتے ہوئے پاکستانی پوسٹ پر پہنچے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس چوکی پر موجود سنتری نے بتایا کہ اس لاش کو گاؤں تک لے جانے کے لیے کوئی ٹرانسپورٹ موجود نہیں۔ پھر کچھ شہری کنٹریکٹرز نے میری مدد کی اور میں یوسف کی لاش اس کے اہل خانہ تک لے جا پایا۔‘

یہ بھی پڑھیے

جنرل موسیٰ، آپریشن جبرالٹر اور وہ عسکری منصوبے ’جن کا کوئی مالک نہیں‘

انڈین کپتان کے ہاتھوں بنا جنگی قیدی جو پاکستانی فضائیہ کا سربراہ بنا

ایوب خان کا دور ترقی کی علامت یا ناہمواری کی نشانی؟

یوسف ایک 23 برس کا نوجوان تھا اور جب وہ جبرالٹر فورس کا حصہ بنا تو اس کی شادی کو ایک برس ہی ہوا تھا۔ ایک جھڑپ میں پسپائی کے دوران یوسف ایک مارٹر گولہ لگنے سے ہلاک ہوا تھا۔

یوسف کی ہلاکت کے وقت ان کی اہلیہ نسا بیگم سات ماہ کی حاملہ تھیں۔

ایوب خان

Getty Images
ایک خیال یہ ہے کہ آپریشن جبرالٹر کی ناکامی نے پاکستان کے فوجی حکمران ایوب خان کو توڑ کر رکھ دیا تھا

ان کی اہلیہ نسا بیگم کا کہنا ہے کہ ’جب وہ دور تھے تو میں ان کی بحفاظت واپسی کے لیے دعا کیا کرتی تھی لیکن پھر ایک دن ان کی لاش آئی۔‘

نسا بیگم کے مطابق خدا نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ’اس نے مجھے ایک بیٹا دیا اور ہمت دی کہ میں اسے تعلیم دلواؤں، اس کی شادی کروں اور اپنے پوتے پوتیوں کو دیکھوں۔‘

یہ لڑائی بظاہر نسا بیگم کو توڑنے میں ناکام رہی لیکن بہت سوں کا کہنا ہے کہ اس نے آپریشن جبرالٹر کی اجازت دینے والے پاکستان کے فوجی حکمران ایوب خان کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔

اس جنگ کے بعد ان کا اقتدار کمزور ہوتا گیا اور تین برس بعد انھیں حکومت چھوڑنا پڑی۔ ایوب خان 1974 میں انتقال کر گئے لیکن اپنے پیچھے عسکری مہم جوئی کا ورثہ چھوڑ گئے۔

1965 میں پاکستانی فضائیہ کی کمان کرنے والے ریٹائرڈ ایئر مارشل نور خان نے پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’بری فوج نے قوم کو ایک بڑا جھوٹ بول کر گمراہ کیا کہ یہ جنگ پاکستان نے نہیں بلکہ انڈیا نے چھیڑی تھی اور پاکستان کو اس میں بڑی فتح ملی۔‘

ان کے مطابق اب چونکہ اس ’جھوٹ‘ کی تصحیح نہیں کی گئی اس لیے فوج اپنی ہی بنائی ہوئی کہانی پر یقین کرنے لگی ہے اور غیر ضروری جنگیں لڑ رہی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words