کووڈ 19: کیا چین میں وائرس سے متعلق ایک خطرناک تحقیق میں امریکی فنڈز استعمال ہوئے؟

ریئیلٹی چیک ٹیم - بی بی سی نیوز

چین، لیبارٹری
Getty Images
کورونا وائرس کے نقطہ آغاز کے بارے میں بحث تو اپنی جگہ جاری ہے لیکن اب ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین میں وائرس سے متعلق ایک تحقیق میں امریکی فنڈنگ استعمال ہو رہی تھی۔

اس دعوے کو اس غیر تصدیق شدہ مفروضے سے منسلک کیا جا رہا ہے جس کے مطابق کورونا وائرس چینی شہر ووہان کی ایک لیبارٹری سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر خارج ہوا تھا۔

اس مفروضے کی بنیاد دراصل ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولجی میں چمگادڑوں پر ہونے والی تحقیق پر رکھی گئی ہے۔

ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ چین میں امریکی فنڈنگ کی مدد سے کچھ وائرس (جن میں کورونا وائرس شامل نہیں) کے حوالے سے تحقیق کی گئی جو زیادہ متعدی اور ہلاکت خیز تھے اور انھیں ’گین آف فنکشن‘ کہا جاتا ہے۔

تاہم امریکہ میں متعدی امراض کے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

’گین آف فنکشن‘ تحقیق کیا ہے؟

’گین آف فنکشن‘ سے مراد ایک آرگنزم کا اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔

یہ قدرتی طور پر بھی ہو سکتا ہے اور ایسا لیبارٹری میں بھی کیا جا سکتا ہے جہاں سائنسدان ان آرگنزمز کا جینیاتی کوڈ تبدیل کرتے ہیں اور انھیں مختلف ماحول میں رکھ کر ان میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ملیریا

Getty Images

مثال کے طور پر سائنسدان اس کے ذریعے ایسے پودے بھی بنا سکتے ہیں جو قحط سالی کے دوران بھی زندہ رہ سکیں یا مچھروں میں بیماری کے ویکٹرز تبدیل کرتے ہیں تاکہ وہ ان میں انفیکشن منتقل کرنے کی صلاحیت کم کی جا سکے۔

ایسے وائرس جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ ایسے وائرس بنائے جائیں جو ممکنہ طور پر زیادہ متعدی اور خطرناک ہوں۔

سائنسدان اس کے ممکنہ خطرات کا دفاع کرتے ہوئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس تحقیق سے مستقبل میں کسی وائرس کے پھیلاؤ، عالمی وباؤں سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ آپ ایسے وائرس کے بارے میں پہلے سے پڑھ سکتے ہیں اور ان کے بہتر علاج، ویکسینز بھی بنا سکتے ہیں۔

کیا امریکہ نے چین میں تحقیق کے لیے امداد کی؟

جی ہاں، امریکہ نے کچھ فنڈنگ تو ضرور کی۔

ڈاکٹر فاؤچی امریکی صدر جو بائیڈن کے مشیر ہونے کے علاوہ امریکہ میں الرجی اور متعدی امراض کے سرکاری ادارے کے ڈائریکٹر بھی ہیں جو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کا ذیلی ادارہ ہے۔

اس ادارے نے ایک ایسی تنظیم کو فنڈ فراہم کیے جس نے ووہان کے وائرولوجی انسٹیٹیوٹ کے اشتراک سے اس تحقیق پر کام شروع کیا۔

ووہان

Reuters

یہ تنظیم امریکہ میں قائم ایکو ہیلتھ الائنس کے نام سے جانی جاتی ہے اور اسے سنہ 2014 میں چمگادڑوں میں ممکنہ کورونا وائرسز سے متعلق تحقیق کے لیے خطیر رقم دی گئی تھی۔

ایکو ہیلتھ کو 37 لاکھ ڈالر امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے فراہم کیے جبکہ ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کی جانب سے اسے چھ لاکھ ڈالر دیے گئے۔

سنہ 2019 میں اس منصوبے کو مزید پانچ سال تک توسیع دے دی گئی تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے اپریل 2020 میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد اس سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔

کیا امریکی فنڈنگ ’گین آف فنکشن‘ تحقیق کے لیے استعمال ہوئی؟

ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال

Getty Images

مئی میں ڈاکٹر فاؤچی نے کہا تھا کہ ’قومی ادارہ برائے صحت نے نہ کبھی پہلے اور نہ ہی اب ووہان انسٹیٹوٹ آف وائرلوجی میں گین آف فنکشن کے لیے فنڈنگ کی ہے۔‘

سینیٹر رینڈ پال نے رواں ہفتے ڈاکٹر فاؤچی کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ ’کیا وہ اپنے بیان سے منحرف ہونا چاہتے ہیں کیونکہ کانگرس میں جھوٹ بولنا ایک جرم ہے۔‘

سینیٹر پال کا یہ ماننا ہے کہ یہ تحقیق ’گین آف فنکشن‘ کے تحت کی گئی اور اس کے لیے انھوں نے دو چینی اداروں کے تحقیقی مقالوں کا حوالا دیا‘، جو سنہ 2015 اور سنہ 2017 میں مشترکہ طور پر امریکی یونیورسٹی آف شمالی کیرولینا کے ساتھ لکھے گئے تھے۔

سینیٹر پال نے اس نظریے کے حامی رٹگرز یونیورسٹی کے نمایاں سائنسدان پروفیسر رچرڈ ایبرائٹ کا حوالہ بھی دیا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دونوں تحقیقی مقالوں میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ نئے وائرس (جو قدرتی طور پر وجود نہیں رکھتے) کو تیار کیا گیا تھا اور ’ان وائرس نے نئے ممکنہ پاتھوجن بنانے کا خطرہ مول کیا‘ جو پہلے سے بھی زیادہ انفکیشن پھیلانے والے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دونوں تحقیقی مقالے گین آف فنکشن تحقیق کے تحت کیے گئے تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سنہ 2014 میں بیان کی گئی ایسی تحقیق کی سرکاری تعریف پر پورا اترتی ہے جب امریکی حکومت نے حیاتیاتی تحفظ کے خدشات کے سبب ایسی سرگرمیوں کے لیے مالی اعانت روک دی تھی۔

اس طرح کی تحقیق کے لیے ایک نیا فریم ورک تیار کرنے کی غرض سے فنڈز روکے گئے تھے۔

ڈاکٹر فاؤچی

Getty Images

یہ بھی پڑھیے

چین نے کووڈ 19 کے ماخذ کی تحقیقات کے لیے عالمی ادارہ صحت کا منصوبہ مسترد کر دیا

کورونا وائرس کے چینی لیب سے نکلنے کا نظریہ دوبارہ کیوں مقبول ہونے لگا ہے؟

چین کی ’بیٹ وومن‘ شی زینگلی کورونا کی عالمی وبا کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟

ڈاکٹر فاؤچی نے اس الزام کو مسترد کیوں کیا؟

ڈاکٹر فاؤچی نے سینیٹ کو تحقیقات کے متعلق وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ ’مذکورہ تحقیق کا متعلقہ قابل افراد نے کئی بار جائزہ لیا کہ وہ گین آف فنکشن کی تعریف میں نہ آئے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان وائرس کا کورونا وائرس میں تبدیل ہو جانا ’سالمے کے طور پر ناممکن ہے‘ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی۔

قومی ادارہ صحت اور ایکو الائنس نے بھی ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے کہ انھوں نے ’گین آف فنکشن‘ کے تحت چین میں تحقیق کو مالی اعانت فراہم کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ماحولیات یا جرثومے کی نشوونما یا جسمانی حالت کو متاثر کیے بغیر ’مالیکیولر سطح پر‘ نئے دریافت ہونے والے چمگادروں کے وائرس اور ان کے سپائیک پروٹین (جو وائرس کو زندہ خلیوں سے جکڑنے میں مدد دیتے ہیں) کی جانچ پڑتال کے لیے ایک منصوبے کو فنڈ فراہم کیا تھا۔

سنہ 2015 میں ووہان ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں چمگادروں کے وائرس پر تحقیق کرنے والے امریکی سائنسدانوں میں سے ایک ڈاکٹر رالف بارک جو یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا سے تعلق رکھتے ہیں، نے اپنا تفصیلی بیان امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو تحقیق کی تھی اس کا قومی ادارہ صحت اور ان کی یونیورسٹی کی اپنی بائیو سیفٹی کمیٹی نے ’ممکنہ طور پر گین آف فنکشن کے تحت تحقیق کا مکمل جائزہ لیا تھا اور اسے اس کے تحت نہ ہونا قرار دیا تھا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سنہ 2015 کی تحقیق میں سارس کوو 2 جیسے وائرس کا تعلق نہیں تھا جس کے باعث سنہ 2020 میں وبا کا آغاز ہوا۔

خلیہ

Reuters

وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے جو تحقیق کی تھی اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس میں ایسی ’ذاتی خصوصیات‘ موجود تھیں جو انسانوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

مگر ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے انسانی خلیوں میں افزائش بڑھانے کے لیے کبھی بھی (وائرس) کی کسی حالت کو متعارف نہیں کروایا۔‘

امریکی محقق اور ماہر حیاتیات علینہ چان نے سنہ 2014 میں حکومت کی جانب سے فنڈز معطل کرنے کے الفاظ کے ساتھ مسائل کو اجاگر کیا ہے۔

اس کے مطابق اس تحقیق کے لیے فنڈنگ روک دی جائے گی جس میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انفلوئنزا، میرس یا سارس وائرس کس حد تک بیماریاں پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وائرس پر ہونے والی تحقیق کا مقصد ’گین آف فنکشن‘ نہیں ہو سکتا تاہم یہ اس کا حتمی نتیجہ ہو سکتا ہے۔

ایک اور عمومی نکتہ یہ ہے کہ تحقیق کی کوئی بھی تشخیص اور اس میں ملوث خطرات فاعلی ہو سکتے ہیں۔

کولوراڈو سٹیٹ یونیورسٹی کی ربیکا مورٹز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہاں تک کہ ماہرین کے مابین (گین آف فنکشن تحقیق) پر اتفاق رائے نہیں ہوتا اور ادارے پالیسی کی ترجمانی اور اس کا اطلاق مختلف طریقے سے کرتے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words