حجاب پہننے والی پہلی ماڈل حليمہ عدن: ’میں نے دوسری ماڈلز کے لیے آواز اٹھانے کی خاطر اپنے کرئیر کی قربانی دی‘

سودابہ حیدری - بی بی سی 100 ویمن ٹیم

حليمة آدن
Getty Images
حلیمہ کو اس بات پر فخر ہے کہ انھوں نے سادگی کے فیشن کو دنیا میں متعارف کروایا ہے اور وہ پردہ کرنے والی لڑکیوں کی فیشن ماڈل بنی ہیں
گذشتہ برس حجاب پہننے والی پہلی ماڈل حلیمہ عدن جب ریٹائر ہوئیں تو انھیں امید تھی کہ دوسری مسلمان خواتین کو ان جیسا مشکل فیصلہ نہیں کرنا پڑے گا اور وہ عدن کی طرح اپنے مذہبی عقائد اور کام کے بیچ کسی ایک چیز کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کی جائیں گی۔

23 سال کی صومالی نژاد امریکی ماڈل کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتی ہوں کہ باقی لڑکیوں کو معلوم ہو کہ حلیمہ نے ان سب کے لیے یہ مشکل فیصلہ لیا ہے۔ میں نے اپنے کیریئر کی قربانی دی تاکہ وہ کسی بھی طرح کے حالات میں کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کر سکیں۔‘

فیشن کی کچھ بڑی کمپنیاں اب اس بات کو یقینی بنانے کے طریقوں پر غور کر رہی ہیں کہ مسلمان ماڈلز کو حلیمہ جیسے دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

فیشن ڈیزائنر ٹومی ہلفیگر کہتے ہیں ’میرے خیال میں حلیمہ نے جو کچھ کیا وہ فیشن انڈسٹری کے لیے لمحہ فکریہ تھا۔ دوسرے برانڈز اور ڈیزائنرز یہ پوچھنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ ’ہم نے کیا غلط کیا؟‘

امریکی فیشن ڈیزائنر ٹومی ہلفیگر نے حلیمہ کے ساتھ متعدد فیشن شوز میں کام کیا ہے۔ بی بی سی نے ان دونوں سے فیشن انڈسٹری میں نسل پرستی اور امتیازی سلوک سے نمٹنے کی ضرورت کے متعلق بات کی ہے۔

میرا پردہ اتارنا

حلیمہ کہتی ہیں: ’میں ایک ایسی جگہ پہنچی جہاں میں اپنی اصلی شبیہہ سے بہت دور ہو گئی اور میرا حجاب سکڑنے لگا۔ میں ایک بار فوٹو سیشن میں تھی اور میرے قریب ایک مسلمان ماڈل بیٹھی تھی جس نے میری طرح حجاب پہن رکھا تھا۔ انھوں نے مجھے اپنا باکس دیا (ایک تاریک کمرہ جہاں حلیمہ نے اپنے کپڑے تبدیل کیے) جبکہ انھوں نے اسے کوئی تاریک جگہ تلاش کرنے کو کہا۔۔۔ کپڑے بدلنے کے لیے اسے باتھ روم جانا پڑا۔ مجھے یہ دیکھ کر اچھا نہیں لگا کہ ہمارے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا گیا۔‘

ایک اور موقع پر ان کے لیے کپڑے تبدیل کرنے کی ایک جگہ مختص کی گئی تھی لیکن وہاں تک پہنچنے کے لیے مردوں کے کپڑے تبدیل کرنے کی مختص جگہ سے گزر کر جانا پڑتا تھا۔

حليمة آدن

Getty Images
فیشن کی کچھ بڑی کمپنیاں اب اس بات کو یقینی بنانے کے طریقوں پر غور کر رہی ہیں کہ مسلمان ماڈلز کو حلیمہ جیسے دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے

حلیمہ کہتی ہیں ’میں نے خود کو بہت ہی پریشان کن صورتحال میں پایا۔‘

ہلفیگر کہتے ہیں ’یہ سن کر بہت غصہ آتا ہے کہ کچھ ڈیزائنرز یا کچھ لوگ، آپ کی شخصیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کون ہوتے ہیں اسے تبدیل کرنے والے؟ میرے خیال میں فیشن انڈسٹری میں یہ ایک خامی ہے۔‘

ٹومی ہلفیگر نے ہمیشہ فیشن انڈسٹری میں تمام گروہوں کو شامل کرنے اور زیادہ سے زیادہ تنوع کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ سنہ 2020 میں انھوں نے تنوع کو بڑھانے کے لیے تین سال کے دوران 15 ملین ڈالر مختص کرنے کا وعدہ کیا۔

وہ پہلے ڈیزائنر تھے جنھوں نے حلیمہ کے لیے پیرس فیشن ویک میں کیٹ واک کی راہ ہموار کی۔

حلیمہ سپورٹس السٹریٹڈ کے لیے برکینی پہننے والی پہلی ماڈل بھی تھیں۔ حلیمہ نے ٹومی ہلفیگر کا ڈیزائن کردہ سوئمنگ سوٹ پہنا تھا۔

حلیمہ کہتی ہیں ’مجھے یاد ہے ڈیزائنر نے کہا تھا کہ ہم نے آپ کے لیے ایک خاص سوئمنگ سوٹ تیار کیا ہے۔۔۔۔ برکینی پہننا ایک بہت اچھا تجربہ تھا۔‘

’فرانس جیسے ممالک نے پبلک پولز اور ساحلوں پر برکینی پہننے پر پابندی عائد کی ہے، لہذا سپورٹس السٹریٹڈ میں تصاویر شائع ہونا ایک جرات مندانہ قدام تھا۔۔ اس سے بہت بڑا فرق پڑا۔‘

لیکن پابندیوں کو توڑنا اور دقیانوسی تصورات کو چیلنج کرنا آسان نہیں تھا۔

ٹومی ہلفیگر، حلیمہ عدن

BBC
ٹومی ہلفیگر وہ پہلے ڈیزائنر تھے جنھوں نے حلیمہ کے لیے پیرس فیشن ویک میں کیٹ واک کی راہ ہموار کی۔

پریشان کرنے والے لوگ

حلیمہ کہتی ہیں ’مجھے محسوس ہوا کہ ایک بہت ہی پتلی لکیر تھی جس پر مجھے چلنا پڑتا تھا اور اس سے کبھی کبھی مسلم کمیونٹی کے ممبر بھی پریشان ہوتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں مجھے ٹیکسٹ پیغامات ملتے کہ برکینی میں پورا جسم دکھتا ہے اور اسی طرح نوجوان لڑکیاں مسلسل مجھے بتا رہی تھیں کہ ہم آپ کو منفرد دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ ہم آپ کے حجاب کو مختلف طرح سے لپیٹا دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

بی بی سی نے مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والی متعدد ماڈلز سے بات کی جنھوں نے فیشن کی صنعت میں اپنے تجربات شئیر کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حلیمہ عدن: حجاب اوڑھنے والی خاتون کو ماڈلنگ کیوں چھوڑنا پڑی؟

’روحانی طور پر حجاب پہن کر میں خدا کو قریب محسوس کرتی ہوں‘

برکینی اور حجاب میں مقابلۂ حسن میں شرکت

22 سال کی مسلم ماڈل رملہ آسوبلی کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ انھوں نے کام کیا، ان میں سے کبھی کسی نے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ ان کا مذہبی عقیدہ انھیں کیا پہننے کی اجازت دیتا ہے۔

’ایک ڈیزائنر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں کٹ آؤٹ لباس پہن سکتی ہوں۔۔۔ ہم نے کافی دن تک بحث کی کیونکہ میں نے ان سے کہا تھا میں ایسے کپڑے پہننے کے لیے تیار نہیں ہوں جن میں جسم اتنا ظاہر ہو!‘

’ایک بار ایک فوٹو گرافر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں کپڑے بدلنے کے لیے تیار ہوں اور ہم اس وقت پارک کے وسط میں تھے۔ میں بہت حیران ہوئی۔‘

حلیمہ عدن

Getty Images

تبدیلی کا وقت آگیا ہے

ٹومی ہلفیگر رملہ کی کہانی سے پریشان ہیں اور اس قسم کے امتیاز سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ یہ شرم کی بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بے عزتی کرنے جیسا ہے۔ مجھے اس پر بہت غصہ ہے۔ ایسی کمپنی کا حصہ بننا شرمناک بات ہے جو ایسے اشتعال انگیز فرسودہ خیالات رکھتی ہے۔‘

دنیا بھر کے فیشن برانڈز نے اپنی کمپنیوں میں ہر سطح پر تنوع کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے لیکن کام کی جگہ پر خواتین کے بارے میں تحقیق پر جمع شدہ 2019 کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق بورڈ میں چار میں سے تین عہدوں پر سفید فام مرد براجمان ہیں۔

23 سال کی سیاہ فام ماڈل کیلن سٹامرز جاننا چاہتی ہیں کہ ہلفیگر یہ یقینی بنانے کے لیے کیا کر رہے ہیں کہ بورڈ میں ہر ایک کی نمائندگی ہو۔

وہ جواب دیتے ہیں ’میں نے ہمارے ساتھ کام کرنے والے ہدایتکاروں، ڈیزائنرز کے ساتھ فیصلہ کن لڑائیاں لڑی ہیں کیونکہ وہ مجھے کہتے تھے کہ یہ نوجوان عورت کچھ وجوہات کی بنا پر کیٹ واک نہیں کر سکتی اور میں نے ان سے کہا: دیکھو، دروازے پر میرا نام لکھا ہوا ہے۔ آپ میرے لیے کام کریں۔ میں یہ کرنا چاہتا ہوں۔‘

اور اس سال کے فیشن شوز میں سب سے زیادہ مختلف رنگت کے لوگ دیکھے گئے۔ ماڈلنگ کے 43 فیصد مواقع غیر سفد فام خواتین کو دیے گئے۔

سنہ 2020 میں انٹرنیشنل میگزینز کے سرورق پر تقریباً نصف خواتین غیر سفید فام تھیں جو کہ گذشتہ سال سے 12 فیصد زیادہ تھا۔

مگر یہ بظاہر بہتری آپ کو فیشن شوز کے پسِ پردہ نہیں نظر آتی۔ برطانیہ میں ڈیزائنرز میں صرف دس فیصد غیر سفید فام ہیں۔

ہلفیگر کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کا برانڈ سٹیج پر اور سٹیج کے پیچھے بھی متنوع ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نہیں چاہتا کہ میں ایسے شخص کے طور پر جانا جاؤں جو صرف باتیں کرتا ہے۔ مجھے پتا ہے کہ میں اکیلا سب تبدیل نہیں کر سکتا۔ مجھے امید ہے کہ یہ ساری صنعت تبدیل ہو گی۔ صرف یہ نہیں کہ ہمارے اشتہارات یا کیٹ واکس متنوع ہوں بلکہ ایک دریا کی طرح یہ ساری کمپنی میں ہونا چاہیے۔‘

حلیمہ کو اس بات پر فخر ہے کہ انھوں نے سادگی کے فیشن کو دنیا میں متعارف کروایا ہے اور وہ پردہ کرنے والی لڑکیوں کی فیشن ماڈل بنی ہیں۔

’جب میں نے ماڈلنگ شروع کی تھی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ اقدام میری برادری میں بہت ساری لڑکیوں کے لیے دروازے کھولے گا۔ میں نے اس سے پہلے کبھی کوئی میگزین نہیں کھولا جس میں حجاب پہنے ماڈل ہوں۔‘

مگر تیزی سے شہرت پانے کے باوجود حلیمہ کو لگتا ہے کہ یہ صنعت ان کے مذہبی عقائد کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی اور اسی لیے وہ اس میں اور تبدیلیاں لانا چاہتی ہیں۔

’میں دیگر صنعتیں دیکھ رہی ہوں جہاں مسلمان خواتین آگے نہیں ہیں۔ میں یہ سوچ رہی ہوں کہ میں دقیانوسی خیالات کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہوں۔ مثال کے طور پر میں سوچ رہی ہوں کہ میں فلم انڈسٹری یا بچوں کی کتابوں میں نمبر ون کیسے ہو سکتی ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words