اداس ابلیس


زندگی کی بے ثباتی کا احاطہ کرنے کے لئے جتنی صلاحیت اور جس عرفان کا ہونا ضروری ہے میں تو قطعی اس کا حامل نہیں اور رہی بات ایسے حامل افراد کی تو اب شاید ان کی اکثریت منوں مٹی تلے دب چکی ہے۔ اور چند نفوس جو شاید باقی رہ بھی گئے ہیں وہ میری دانست میں نہیں۔

البتہ اگر تھوڑی مشقت کی جائے تو شاید ان موجودات کی بے ثباتی کا کچھ اندازہ تو لگایا ہی جاسکتا ہے جو ہماری دانست کے دائرے میں رہتے ہوئے بدستور مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔ جی ہاں یہ وہی امور ہیں جن کو ہم اپنی ہنر مندی سے ضعف بخشتے ہیں اور یہ ہماری ہی کارخانہ داری میں تیار کیے جاتے ہیں۔

بعد ازاں اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حیات بے ثبات کا جب ہم رونا روتے ہیں تو ہماری ایسی شعبدہ بازی سے حضرت ابلیس بھی دور بیٹھا اس پریشانی میں مبتلا دکھائی دیتا ہے کہ لو اب دیکھنا یہ مدعا بھی میرے سر ڈالیں گے۔

یہ قصہ ایسے عوامل اور ان کے مراحل کا ہے جہاں حضرت انسان اپنے حسی و حسبی کمالات کے ذریعے وہ وہ کار ہائے نمایاں سرانجام دیتا ہے کہ حضرت ابلیس بھی اپنی متناہی اہلیت کو ضعیف پا کے اداس ہو جائے۔

یہ بھی ہمارا ہنر ہے کہ ہم ہر بار اپنی کارستانیوں کو شیطان کے زمرے میں ڈال دیتے ہیں۔ حالانکہ شیطان کا اختیار محض بہکانے تک کا ہے اور حضرت انسان نہ صرف خودمختار ہے بلکہ صاحب عقل و فہم بھی۔ اور با اختیار بھی اتنا کہ اس کے اپنے خالق و پروردگار تک نے اسے کہہ دیا کہ ”ہم تم کو فقط سبیل ہدایت تک رسائی دیں گے (راستہ دکھائیں کے ) اب آگے تمہاری مرضی کہ اس نعمت ہدایت پہ شکر کرو یا اس سبیل ہدایت سے انحراف کر کے کفر کو اپنا لو۔

مالک کائنات کی طرف سے اتنی واضح بیانی کے بعد بھی ہم اپنی کامیابیوں پہ تو اتراتے اور سب سے اس کی شاباشی لیتے ہیں پر ناکامیوں کو اسی کے زمرے میں ڈالتے ہیں کہ اسی کی مرضی نہیں تھی اور اپنے تمام تر جبلی اور اختیاری عصیان کو شیطان کے حصے میں ڈال دیتے ہیں، تو یقین مانیں اس مکاری پہ ابلیس بھی انگشت با دندان ہوتا ہوگا۔

محترم مستنصر حسین تارڑ صاحب نے ایک بار ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے معاشرے میں اگر ایک کلرک کو بھی کچھ اختیارات مل جاتے ہیں تو وہ فرعون بن جاتا ہے۔ اور سچ بھی یہی ہے البتہ یہ فرعون بننا اس کا ذاتی اور اختیاری فعل ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاک پروردگار نے انسان کے اعمال پہ جزا و سزا رکھی ہے اور اس امر میں روز آخر ایسی کوئی رعایت شامل حال نہی رکھی کہ ”اللہ جی ہم تو شیطان کہ بہکاوے میں آ کے مجبور ہو گئے تھے اس لئے ہمیں معافی دے دیجیو“ بجز اس ندامت کے جو دائرہ اے حیات میں بروقت توفیق توبہ و تسلیم عطا کرے، اس روز حضرت انسان کا مکر اس کے کچھ کام نہیں آئے گا۔
مندرجہ بالا حقائق سے بخوبی خبردار ہونے کہ باوجود ہمارے یہاں چپڑاسی سے لے کر افسران بالا تک سب کی ٹانگیں چادر پھاڑ کے باہر نکلی ہوئی ہیں اور ہمارے ہی ڈھنگ نے نوکرشاہی اور افسرشاہی جیسی اصطلاحوں اور گردانوں کو جنم دیا جو کہ اب لغت میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔ ان تمام شاہیوں کا محور کیونکہ ذاتی مفادات کے گرد گھومتا ہے اس لئے ان سے بندگان خدا کی بھلائی تو کبھی کبھار معجزتاً ہی ہوتی ہے وہ بھی تب جب ان کا اپنا مفاد اس سے جڑا ہو۔ ورنہ عمومی طور پر ان شاہوں کے لئے ایک عام آدمی رعیت اور غلام سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔

کہتے ہیں بڑوں کا اثر چھوٹے لیتے ہیں شاید تبھی افسروں کی دیکھا دیکھی چھوٹے درجے کے ملازم بھی فرعون بنتے گئے۔ پر بات صرف ملازمین اور افسروں تک ہی نہیں۔ وڈیرے کے کام دار سے لے کر دکان کے چوکیدار تک، اور شاہوں سے زیادہ شاہ پرست خود کو بادشاہ سمجھتے ہیں۔

اب تو یہ چلن ایک ہی دائرے میں بھنور کی طرح چکر کاٹ رہا ہے۔ ہر طاقتور اپنے سے کمزور کو ذلیل کر رہا ہے حتی کہ کمزور دوسرے کمزور کی ٹانگ کھینچنے میں مگن ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کے بیلوں کی لڑائی میں گھاس کچلی جاتی ہے پر اس دائرے میں تو سب کے سب بدمست ہاتھی کی طرح ایک دوسرے کو روند رہے ہیں۔ اور یہ کام وہ اپنا حق سمجھ کے کرتے ہیں۔

اس دائرے میں مسلسل چکر کاٹتے ہوئے نوع کے لحاظ سے ہماری اکثریت ایسی مخلوق بن چکی ہے جس کے گالوں پہ تو تمانچوں کے نیل اس کی مظلومیت کی کہانی سناتے ہیں مگر دانتوں سے رستا ہوا خون اس کی ظالمانہ جگر خوری کی داستان بتا رہا ہوتا ہے۔ جس کے ہاتھ بوقت ضرورت پیر پکڑنے اور ٹانگیں دوسروں کو لات مارنے کے کام آتی ہیں۔

غضب تو یہ ہے کہ اس کی تمام کارگزاریوں کے بعد بھی آخری میں ایک بار پھر تبرہ ابلیس پہ ہوتا ہے اور یہ اپنے آپ کو بھرپور انداز میں حاجی، نمازی مظلوم و مسکین ثابت کرنے میں جٹا رہتا ہے، تو اس پہ کیا ابلیس مضطرب و اداس نہ ہوتا ہوگا؟

Facebook Comments HS