آزاد کشمیر میں نون لیگ کی عبرتناک شکست کی وجوہات

آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ان انتخابات میں بڑے بڑے برج زمین بوس ہو گئے۔ جن کا سیاست میں طوطی بولتا تھا وہ سونامی کے طوفان میں تنکوں کی طرح بہہ گئے۔ 2016 ء کے انتخابات میں حکمران جماعت مسلم لیگ نون نے لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل کی تھی۔ نون لیگ نے دو ہزار سال میں دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی۔ 2021 ء کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت والی جماعت سکڑ کر چار سے چھ سیٹوں تک محدود ہو گئی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر مشکل سے اپنی آبائی نشست بچانے میں کامیاب رہے۔
وہ کون سے محرکات تھے جو نون لیگ کی بدترین شکست کا سبب بنے۔ نون لیگ نے پانچ سالوں میں آزاد کشمیر میں ترقیاتی کام بھی کیے مگر پھر بھی عوام نے انھیں مسترد کیا کیوں؟ اس کالم میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
انتخابات کا اعلان ہوا تو تین بڑی سیاسی جماعتوں پی پی پی، حکمران جماعت مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف نے اپنی اپنی الیکشن مہم شروع کی۔ شروع میں تینوں جماعتوں کی الیکشن مہم روکھی پھیکی تھی۔ مہم میں جان اس وقت پڑی جب تینوں جماعتوں کے مرکزی قائدین نے آزاد کشمیر میں جلسوں سے خطاب کرنا شروع کیا۔
مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے آزاد کشمیر میں بڑے بڑے جلسے کیے ۔ بھمبر اور حویلی میں نون لیگ کے جلسے بہت بڑے تھے۔ مریم نواز نے جلسوں میں کشمیر کے حوالے سے کوئی ٹھوس بات نہیں کی اور نہ ہی روڈ میپ دیا حویلی سے بھمبر اور نکیال سے تاؤ بٹ تک جلسوں میں انھوں نے مقتدرہ اور عمران خان کو ہدف تنقید بنائے رکھا۔ کشمیر میں ہونے والی ہندوستانی بربریت کے خلاف انھوں نے ایک جملہ تک نہیں بولا۔ جلسے بڑے کرنا اور جلسوں کے جمع غفیر کو ووٹر میں تبدیل کرنا دو علیحدہ باتیں ہیں۔ مریم نواز کشمیریوں پر ہونے والی ہندوستانی بربریت کو بے نقاب کرتی تو حالات تبدیل ہوتے۔ انتخابات میں نادیدہ قوتوں نے بھی اپنا کام دکھایا مگر نون لیگ کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ راجہ فاروق حیدر کی طرز حکمرانی بھی رہا۔
راجہ فاروق حیدر وزیراعظم بنے تو انھوں نے اعلان کیا کہ مختصر کابینہ کے ساتھ کام کروں گا۔ مگر یہ اعلان ہوائی ثابت ہوا۔ نون لیگ کا ایک ممبر اسمبلی جو سپیکر شاہ غلام قادر کا بیٹا تھا وہ وزیر نہیں بنا باقی سب کو وزیر بنایا گیا کہ وہ بھی بہتی گنگا میں ننگا اشنان کریں۔ آزاد کشمیر میرپور، پونچھ اور مظفرآباد تین ڈویژن پر مشتمل ہے۔ مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن شمال جبکہ میرپور ڈویژن جنوب کہلاتا ہے۔ راجہ فاروق حیدر نے اپنے دور حکومت میں جنوب یعنی میرپور ڈویژن کو مکمل نظرانداز کیے رکھا۔ میرپور ڈویژن کے ساتھ انھوں نے ناروا سلوک روا رکھا۔ جس کے نتیجے میں حالیہ انتخابات میں میرپور ڈویژن سے نون لیگ کا مکمل صفایا ہوا۔
امام الوزراء راجہ فاروق حیدر پانچ سال لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر رہے۔ وہ مختلف وزراء کو آپس میں لڑاتے اور کچھ کو اپنے قریب کر لیتے کچھ عرصے بعد قربت والوں کو لڑا کر دور کرتے اور دوسرے وزراء کو قریب کر لیتے۔ انھوں نے اپنے گرد کاسہ لیسوں کی ٹیم بھی رکھی ہوئی تھی۔
پانچ سالہ دور حکومت میں وہ کارکن کش پالیسیوں پر عمل پیرا رہے وزیراعظم ہاؤس کے دروازے لیگی کارکنوں پر بند کر دیے گئے۔ عام آدمی کی رسائی ان تک ناممکن بن کر رہ گئی۔ نکیال سے حویلی اور بھمبر سے تاؤ بٹ تک کارکنوں کے اندر غصے کی لہر موجود تھی۔ ایک وجہ یہ بھی تھی۔
راجہ فاروق حیدر پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کی آشیرباد سے چار وزراء نے کرپشن کی آخیر کر دی مگر وہ خاموش رہے اور اپنا حصہ وصول کرتے رہے حالیہ انتخابات میں ان چار وزراء کو عبرت ناک شکست ہوئی۔ ان میں حویلی سے چوہدری عزیز، پلندری سے ڈاکٹر نجیب نقی اور مظفرآباد شہر سے بیرسٹر افتخار گیلانی شامل ہیں۔
راجہ فاروق حیدر نے اچھے کام بھی کیے انھوں نے کشمیر کونسل کا اختیار ختم کر کے آزاد کشمیر کو مالی طور پر آزاد کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فنڈز کا استعمال عوامی فلاح و بہبود پر ہوتا مگر یہ سارے کا سارا فنڈز ان کے چہیتوں کی جیبوں میں چلا گیا۔ انھوں نے این ٹی ایس کا سسٹم لا کر میرٹ کی بنیاد رکھی مگر جاتے جاتے ہزاروں ایڈہاک ملازمین کو کنفرم کر کے اپنے ہی لانچ کیے گئے این ٹی ایس سسٹم کی دھجیاں بکھیر دی۔ نوجوان کو اس پر شدید غصہ تھا جو انھوں نے انتخابات میں پولنگ والے دن نکالا۔
کسی بھی سیاسی جماعت کا اثاثہ اس کے کارکن ہوتے ہیں جماعت کا صدر سایہ دار درخت کی طرح ہوتا ہے مگر راجہ فاروق حیدر نرگسیت کا شکار تھے وہ خود کو نون لیگ سمجھتے تھے اور کہتے میں ہی نون لیگ ہوں نون لیگ کی شکست کا ایک کارن یہ بھی ہے۔ نون لیگ کی بدترین شکست پر راجہ فاروق حیدر کو اخلاقی طور پر نون لیگ کی صدارت سے فوری استعفیٰ دینا چاہیے اور شکست کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہیے یہی جمہوریت ہے۔

