زمانۂ قدیم کے ”جدید“ ہتھیاروں کی دریافت!

انسان نے جب پہلے پہل پتھر کے اوزار بنانا شروع کیے تو کئی ہزار سال تک وہ ایک ہی قسم اور انداز کے اوزار بناتا رہا۔ پتھر کے بنے ہوئے یہ ہتھیار بھاری، کند دھار کے حامل، وزنی تکونی نیزے، اور دیگر ایسے ہتھیار کہ جن میں ہزاروں سال کے عرصے کے دوران کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ لیکن اچانک ہی آج سے کوئی پچاس ہزار سال پہلے ان آلات کی ساخت بدلنے لگی۔ نیزوں کی نوکیں زیادہ پتلی اور تیز ہونے لگیں، یہ وزن میں بھی ہلکے، گول، پتلے لیکن مہلک دھار کے حامل ہونے لگے۔ اور ایک یا دو ہزار سال کے عرصے میں ہی ہتھیاروں کی ساخت کی یہ تبدیلی ساری دنیا میں پھیل گئی۔ انسانی عمر کے لحاظ سے تو ایک یا دو ہزار سال کا عرصہ بھی بہت لمباء ہے لیکن ارضیاتی پیمانے پر یہ عرصہ آپ کے دل کی ایک دھڑکن یا پانی کے قطرے کے آپ کے ہاتھ سے زمین پر گرنے کے برابر عرصہ بھی نہیں ہے۔

تاریخی سائنس کے ماہرین بڑے عرصے سے اس حوالے سے مخمصے کا شکار تھے، ان کا خیال تھا کہ شاید یہ تیکنیکی انقلاب تقریباً اسی عرصے کے دوران جدید انسان یعنی ”ہومو سپیسئنز“ کی افریقہ سے دنیا کے دیگر براعظموں میں ہجرت کرنے کے باعث ہوئی تھی۔

اب اسرائیل کے صحرتچیتت ”نگیو“ میں کھدائی کرنے والے ماہرین آثار قدیمہ نے ان جدید پتھر کے ہتھیاروں کے ابتدائی آغاز کے ثبوت دریافت کر لیے ہیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ اس دریافت سے اس مفروضے کی تصدیق ہوتی ہے کہ پتھر کے ہتھیاروں کی یہ ”جدید“ قسم واقعی افریقہ سے ہجرت کرنے کے دوران ہمارے آبا و اجداد کے ذریعے ساری دنیا میں پھیلی تھی۔

ماہرین نے صحرا میں ”بو کر تچیتت“ Boker Tachtit کے مقام پر ملنے والے ان ہتھیاروں کا زمانہ آج سے تقریباً پچاس ہزار سال پہلے بتایا ہے۔ انہوں نے یہ عرصہ ایک خاص طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے معلوم کیا جس میں اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کسی تاریخی مقام سے کھدائی کے دوران ملنے والی اشیاء پر کتنا عرصہ پہلے آخری دفعہ روشنی پڑی تھی۔

بوکر تچیتت ایک قدیمی برساتی دریا کے کنارے پر واقع ایک کھلا مقام ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ ہمارے اجداد اس جگہ شکار کے دوران ٹھہرتے تھے۔

آثار قدیمہ کے یہ آثار سن انیس سو اسی کی دہائی میں سب سے پہلے دریافت ہوئے تھے لیکن اس وقت ان کی عمر معلوم کرنے کا کوئی قابل بھروسا طریقہ نہ تھا۔ پھر ماہرین نے جدید طریقۂ کار سامنے آنے پر 2013 ء تاء 15ء نئے سرے سے کھدائی کی تاکہ ان کی عمر درست معلوم کی جا سکے۔

بوکر تچیتت میں انسانی باقیات کے آثار نہیں ملے ہیں جو کہ اتنے قدیم زمانے کے آثار میں معمول کی بات ہے۔ فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ انسانی باقیات امتداد زمانہ کے باعث گل سڑ کر ختم ہو گئیں یا جانوروں نے زمین کھود کر ان کی ہڈیاں کھا لی تھیں۔ اسی وجہ سے ماہرین کو اس بات کی دو تین دفعہ تصدیق کرنا پڑی کہ یہ ہتھیار کون سے دور میں بنے اور استعمال میں آئے تھے۔ البتہ جس جگہ سے یہ ہتھیار ملے ہیں، وہاں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ ہتھیار ہمارے آباء یعنی کہ ”ہوموسیپئنز“ کے زیر استعمال رہے تھے۔

اسی جگہ کے آس پاس بھی پچاس ہزار یا اس سے قدیم زمانے کے آثار ملے ہیں جہاں ستقدیم قسم کے ہتھیار دریافت ہیں۔ ان میں سے کچھ جگہوں کے بارے میں تصدیق ہو چکی ہے کہ وہاں قدیم دور کے انسان یعنی ”نینڈرتھال“ رہتے تھے۔ اس بات کی تصدیق اسرائیلی محکمۂ آثار قدیمہ کے عمری برازیلی نے کی ہے۔

یہ تحقیق وائز مین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے ایلزبتھا بوریٹو کی سربراہی میں کی گئی ہے۔

اس علاقے کی دیگر جگہوں پر قدیم لیکن اس جگہ ”جدید“ قسم کے پتھر کے ہتھیاروں کی دریافت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہتھیار سازی کا یہ جدید طریقہ افریقہ سے ہجرت کر نے والے ہو مو سیپئنز اپنے ساتھ لائے تھے۔ یہ افراد کم از کم کچھ عرصے تک تو یہاں رہنے والے قدیم نینڈرتھال باشندوں کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے۔ نینڈرتھال موجودہ اسرائیل کے علاقے میں ستر ہزار سال پہلے آ کے آباد ہوئے تھے اور کوئی پچاس ہزار سال پہلے صفحۂ ہستی سے مٹ گئے تھے۔

عمر برازیلی نے اسرائیلی اخبار ہیرٹز کو بتایا کہ غیر مقامی آبادی اس وقت ”نگیو“ کے علاقے میں آ کر بسنا شروع ہوئی جب یہاں نینڈرتھال بھی آباد تھے۔ اگر یہ جدید قسم کے آلات مقامی نینڈرتھال آبادی نے تیار کیے ہوتے تو یہ تبدیلی آہستہ آہستہ آئی ہوتی لیکن ہمیں دو قسم کی ثقافتوں کے آثار ملے ہیں، پرانی مقامی ثقافت اور نئی تہذیب کے ایک ہی زمانے میں موجودگی کے آثار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تبدیلی باہر سے آئی تھی۔

مزید یہ کہ یہ ”جدید“ ہتھیار بہت تیزی سے مزید جدید شکلوں میں ڈھلتے گئے۔ جبکہ اس سے پہلے ان ہتھیاروں میں جدت کی رفتار بہت مدہم یعنی کہ نہ ہونے کے برابر تھی۔

بوکرتچیتت میں ایک اور آبادی جو تینتالیس سے سینتالیس ہزار سال پہلے قائم تھی، سے اور بھی زیادہ جدید قسم کے ہتھیار ملے ہیں۔

اس سے ماہرین کو اس زمانے میں ٹیکنالوجی میں جدت کی رفتار کے بارے میں قیمتی معلومات مل گئیں۔

یہ ابھی واضح نہیں کہ ہوموسیپئنز نے سب سے پہلے کس جگہ یا علاقے میں یہ ”جدید“ ہتھیار تیار کرنا شروع کیے تھے۔ زیادہ خیال وادیٔ نیل اور جزیرہ نما عرب کی طرف جاتا ہے لیکن اب تک وہاں اس زمانے کے آثار قدیمہ سے ان ہتھیاروں کی تیاری کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔

ہتھیار بنانے کا یہ جدید طریقہ جہاں کہیں سے بھی آیا لیکن ایک بات تو نہایت واضح ہے کہ یہ انسان کی ترقی کی جانب ایک نہایت اہم قدم تھا۔

موجودہ انسانوں کے آباء یعنی ہوموسیپئنز افریقہ کے خطے میں کوئی تین لاکھ سال پہلے رہا کرتے تھے۔ اور وہ جلد ہی اپنے براعظم سے باہر کے علاقوں میں منتقل ہونے لگے۔ وہ ایسے علاقوں میں رہنا پسند کرتے تھے کہ جو ماحول کے اعتبار سے افریقہ میں ان کی رہائش گاہوں کے علاقوں سے ملتے جلتے ہوتے تھے۔ جینیاتی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ ابتدائی دور کے ہوموسیپئنز سے جدید دور کے انسان کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ نسل جلد ہی مر کھپ گئی تھی۔

موجودہ انسانوں کا تعلق اس نسل سے ہے کہ جو ساٹھ ہزار سال پہلے افریقہ سے ہجرت کر کے باقی دنیا میں آباد ہوئے تھے۔ اس دفعہ انہوں نے کچھ اس انداز میں ہجرت کی کہ وہ ساری دنیا میں پھیل گئے اور یہ ”جدید“ ہتھیار بھی ان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں پھیل گئے جن کے آثار منگولیا اور مشرقی یورپ جیسے کہ بلغاریہ سے بھی ملے ہیں۔

ان لوگوں کے ساتھ کچھ ایسا واقع ہوا، ان میں کچھ ایسی ہمت اور جرات آئی کہ وہ ہر جگہ ننڈریتھال پر غالب آتے چلے گئے اور پوری دنیا میں پھیل گئے تو اس سے قدرتی طور پر ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اپنے ہتھیاروں میں جدت لانے کی وجہ سے انہیں یہ غلبہ حاصل ہوا تھا؟ یہ کہنا ہے ڈاکٹر ہیو بلن کا جو کہ بلغاریہ میں ایسے ہتھیار ملنے کے مقام پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔
ماخذ: ہیرٹز، رائیٹرز اور دیگر خبر رساں ادارے

Comments - User is solely responsible for his/her words