پریانکا چوپڑا کی ٹانگوں پر رکھے بارہ برانڈ


علم تشریح الابدان کی رو سے دل، جگر اور پھیپھڑے وغیرہ اعضائے رئیسہ کہلاتے ہیں اور تولیدی اعضا کو پوشیدہ گردانا جاتا ہے، جب کہ ہمارے خیال میں حقیقت میں پوشیدہ تو وہ اعضا کہلانے چاہئیں جو کہ رئیسہ کہلاتے ہیں، کہ وہ انسانی جلد میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں جب کہ تولیدی اعضا جلد سے باہر ہوتے ہیں۔ ہمارا مشورہ ہے کہ ماہرین علم تشریح الابدان ہماری بات پر غور فرمائیں اور اپنے نصاب میں درستی و تبدیلی لاکر طلبا و طالبات کو گمراہ کرنا بند کردیں۔ کہ یہ دور ویسے بھی درستی اور تبدیلی کا ہے۔ دوسری صورت میں ہو سکتا ہے ہم طلبہ و طالبات کی ساتھ ”تحریک نصاب“ قائم کر ڈالیں اور۔

البتہ فلمی دنیا میں جھانکیں تو وہاں اعضائے رئیسہ کی تشریح علم تشریح الابدان سے کچھ مختلف ہو سکتی ہے۔ یعنی ایک کامیاب اور دولتمند و ثابت و سالم اداکار یا اداکارہ کو ہم رئیس یا رئیسہ بھی کہ سکتے ہیں اور ان کے ان کی کھال سمیت تمام اعضا کو اعضائے رئیسہ بھی۔ پھر چاہے ایسے اداکار و اداکارائیں اپنی کھالوں میں ہوں یا کھالوں سے باہر۔

فلم اور ٹی وی سے وابستہ کاروبار کو شو بز بھی کہا جاتا ہے یعنی کار نمائش۔ کیوں کہ فلموں اور ڈراموں میں اداکار اور اداکارائیں ادائیں دکھا کر تماشائیوں سے پیسے بٹورتے ہیں۔ سو آپ ان سب کو اداکار، فنکار کے علاوہ ”نمائش کار“ بھی کہ سکتے ہیں۔

جب کہ فلموں میں اعضا کی نمائش کا بھی چلن عام ہے۔ میدان جنگ میں کوئی پیٹھ دکھائے تو وہ ناکام ہو جاتا ہے، لیکن فلم میں کوئی اداکارہ پیٹھ دکھائے تو اداکارہ اور فلم دونوں کامیاب۔ مثلاً ہم آپ کے ہیں کون؟

اکثر ہندی اور انگریزی فلموں میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہیرو ہیروئن کسی ویران سڑک پر سواری کے لیے پریشان ہیں اور ہیرو آتی جاتی گاڑیوں کو اپنی ”ہیرو پنتی کے جگاڑ“ سے روکنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے اور ہیروئن ”شیانپنتی“ سے اپنی ٹانگ اٹھا کر وہ کام کر دکھاتی ہے جو کہ ٹریفک پولیس کا اہلکار ہاتھ اٹھا کر کرتا ہے۔ یعنی گاڑی کو روکنا۔ اس قسم کی آخری فلم جو ہم مکمل دیکھی وہ ”دل ہے کہ مانتا نہیں“ تھی اور اس میں ایک ایسی ہی سچویشن کریئٹ کی گئی تھی کہ عامر خان اور پوجا بھٹ ایک ویران سڑک پر سواری کے منتظر کھڑے ہیں۔ پہلے عامر خان پورے تن من سے گاڑی روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور ناکام ہو جاتے ہیں پھر پوجا بھٹ صرف اپنی ٹانگ سے گاڑی کو روک لیتی ہیں، کسی نے کیا خوب کہا ہے :

”ایں سعادت بزور بازو نیست!“
البتہ اس سچویشن کا گیت آپ نے فقط اور فقط پنجابی میں سنا ہوگا:
”سانوں بھی لے چل نال وے باؤ سوہنی گڈی والیا!

ٹانگیں اداکاروں کی بھی ہو سکتی ہیں اور اداکاراؤں کی بھی لیکن دونوں میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ اداکار کی ٹانگیں بال دار ہوتی ہیں (عام طور پر) اور اداکارہ کی ٹانگیں مالدار! کیوں کہ اکیلی پریانکا چوپڑا کی ٹانگوں پر ہی نہ صرف وہ آپ کھڑی ہیں بلکہ بارہ بارہ مصنوعات کے برانڈز بھی کھڑے ہیں۔

بات کچھ یوں ہے ہالی وڈ اور بالی وڈ کی مذکور مشہور و معروف و مقبول اداکارہ نے اپنے تازہ ترین انٹرویو میں کہا ہے کہ، ”میں محض ایک خبر یا انسٹا سٹوری نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی لڑکی ہوں جس کے خواب، خواہشیں اور چاہتیں ہیں۔ ایک ایسی مڈل کلاس لڑکی جس نے اپنی محنت اور حوصلے سے یہ مقام حاصل کیا ہے اور مجھے خود پر فخر ہے۔ بچپن میں میں بری طرح احساس کمتری کا شکار تھی کیونکہ امریکہ میں سکول کی تعلیم کے دوران کچھ لوگ مجھے اپنے رنگ پر طعنے دیا کرتے تھے۔ لیکن جب میں نے 17 سال کی عمر میں مس ورلڈ کا خطاب جیتا تو مجھے خود پر یقین آنے لگا۔ میں سانولی رنگت کے ساتھ بہت پتلی دبلی ہوا کرتی تھی اور میری ٹانگوں پر سفید دھبے تھے لیکن میں نے اس قدر محنت کی کہ آج میری وہی ٹانگیں بارہ بڑے برانڈز کی نمائندگی کرتی ہیں۔“

ان سطروں کے مطالعے سے بات تو پتہ چلتی ہے کہ پریانکا جی کو خود پر یقین ہے اور فخر بھی۔ لیکن یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ انہیں یہ اعتماد اور فخر خود پر ہے یا بے داغ ٹانگوں پر یا پھر بارہ عدد برانڈز پر یا پھر ”سٹین لیس برینڈڈ لیگس“ پر؟ اور یہ بھی یہ سب کچھ کب تک رہنے والا ہے کہ اپنے کیریر کے ابتدا میں انہوں نے رنگ گورا کرنے والی کریموں کے اشتہار بھی کیے ہیں جن پر اب پچھتا رہی ہیں اور اس بات کو ناگوار قرار دے رہی ہیں۔ ہمیں نہیں پتہ کے وہ یا ان کی ٹانگیں کون سے دیگر بارہ برانڈز کی نمائندہ ہیں اور ورنہ ہم بتا سکتے کہ ان برانڈز میں سے کون کون سے رنگ گورا کرنے والی کریموں ہی کی طرح تاریک پس منظر رکھتے ہیں؟ اور کتنے عرصے بعد وہ ان برانڈز کی نمائندگی پر بھی رنگ کرنے والی کریموں کی طرح ہی شرمندہ ہوں رہی ہوں گی!

کیوں کہ ہمارا خیال ہے کہ ان بارہ برانڈز میں زیادہ تر کاسمیٹکس ہی ہو سکتے ہیں۔ جن کے بارے میں زیادہ تر ماہرین کے رائے یہ ہے کہ یہ خواتین جلد کے لیے مضر ہیں اور ہم ان ماہرین کی معلومات میں اضافہ کر دیں کہ یہ کاسمیٹکس حضرات کے معدے کے لیے مضر ترین ہیں۔ سو ان سے اور ان کے استعمال سے اور استعمال کرنے والوں اور والیوں سے پرہیز لازم ہے!

Facebook Comments HS