نور قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کو فرانزک کے لئے لاہور لے جایا جائے گا

اسلام آباد کی عدالت نے نورمقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو مزید تین روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران جج نے سوال کیا کہ پراسیکیوشن کا کیا کہنا ہے؟ سرکاری وکیل ساجد چیمہ نے جواب میں کہا کہ وقوعہ کی سی سی ٹی وی وڈیوز حاصل کر لی ہیں، ملزم کو لاہور لے کر جانا ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج کا فارنزک کرانا ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ تین دن کا مزید جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔

ملزم کے وکیل نے کہا کہ اگر کوئی فارنزک ٹیسٹ کرانا ہے تو فوٹو لے کر کروا لیں، اسلحہ اور موبائل فون برآمد ہوچکے، مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔

مدعی کے وکیل نے کہا کہ ملزم کو لاہور لے کرجانا ہے، فوٹو سے کام چلتا تو ہم ریمانڈ نہ مانگتے، سی سی ٹی وی وڈیوز کا سارا ڈیٹا نکال لیا ہے۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ عثمان مرزا کیس میں بھی ہم سارے ملزمان کو لاہور لے کر گئے تھے، لاہور اس لیے لے جانا چاہتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے ویڈیو ایڈیٹنگ تو نہیں ہوئی۔

عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کا مزید 3 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا، ملزم ظاہرجعفر کو 31 جولائی کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words