نور مقدم قتل کیس: ملزم کے فون کا جائزہ، سی سی ٹی وی فٹیج کے فرانزک کے لیے مزید ریمانڈ

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

نور
BBC
وفاقی دارالحکومت کی ایک مقامی عدالت نے سابق سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین دن کی توسیع کر کے اسے پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

بدھ کے روز ظاہر جعفر کو سخت سکیورٹی میں اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس مقدمے میں سرکاری پراسیکیوٹر ساجد چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ موقع کی سی سی ٹی وی فٹیج حاصل کر لی گئی ہیں۔ انھوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اس فٹیج کی فرانزک جانچ کروانی ہے جس کے لیے ملزم کو لاہور لیکر جانا پڑے گا، اس لیے ملزم کا مزید تین دن کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

ملزم کے وکیل نے سرکاری وکیل کی اس استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی فرانزک ٹیسٹ کرانا ہے تو فوٹو لیکر کروا لیں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس ملزم کے قبضے سے اسلحہ وغیرہ تو پہلے ہی برآمد کرچکی ہے اب مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کرنا ’سمجھ سے بالا تر ہے‘۔

ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے کریئر میں پہلی مرتبہ سنا ہے کہ سی سی ٹی وی فٹیج کا فرانزک ٹیسٹ کروانے کے لیے ملزم کو لاہور لیکر جانا ضروری ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اگر صرف فوٹو سے کام چلتا ہوتا تو وہ کبھی بھی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا نہ کرتے۔ انھوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فٹیج کے فرانزک کے لیے ملزم کی وہاں پر موجودگی ضروری ہے۔

سرکاری وکیل ساجد چیمہ کا کہنا تھا کہ ملزم ظاہر جعفر کو لاہور لے کر جانے کا مقصد یہ ہے کہ معلوم ہو سکے کہ فٹیج اصل ہے، کہیں اس کی ایڈیٹنگ تو نہیں کی گئی۔

ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کا موکل سات روز سے پولیس کی تحویل میں ہے تو اس دوران پولیس نے اس سی سی ٹی وی فٹیج کا فرانزک کیوں نہیں کروایا۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم سے موبائل فون کی برآمدگی کے لیے بھی عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کا مزید صرف تین دن کا ریمانڈ دیں اس کے بعد چاہے ملزم کو جیل بھیج دیا جائے۔

ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس جیل سے بھی تو ملزم کو لاہور لے کر جاسکتی ہے۔

مقدمے کی تفتیش میں پیش رفت

ZAHIR

BBC

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ پولیس نے ملزم کے قبضے سے اس کے زیر استعمال موبائل فون بھی برآمد کرلیا ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق واٹس ایپ سمیت ملزم کے موبائل فون میں موجود جتنی ایپس ہیں ان کا بھی مختصر جائزہ لیا گیا ہے جس کے بعد اس موبائل فون کو فرانزک ٹیسٹ کے لیے لیب میں بھجوا دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نور کو سی سی ٹی وی کیمرے میں پناہ لینے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے: پولیس اہلکار

نور کی رسم قل، پارک میں شمعیں روشن اور انصاف کا مطالبہ

نور مقدم قتل کیس: امریکی شہری ہونے کی بنا پر ملزم کو کیا مدد مل سکتی ہے؟

نور مقدم کیس: وہ قتل جس نے اسلام آباد کو ہلا کر رکھ دیا

مدعی مقدمہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملزم کے قبضے سے موبائل برآمد ہونے کے بارے میں پولیس نے انھیں آگاہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش میں جو بھی پیش رفت ہو رہی ہے اس بارے میں تفتیشی ٹیم کے ارکان انہیں آگاہ کر رہے ہیں۔

نور مقدم

BBC
وہ گھر جس میں نور کو قتل کیا گیا

پولیس اہلکار کے مطابق اس سی سی ٹی وی فٹیج میں نظر آنے والے چہرے کی شناخت کی تصدیق کے لیے فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ انتہائی ضروری ہے۔

دوسری جانب اس مقدمے میں گرفتار ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور ان کی والدہ عصمت آدم جی کی، جو ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں ضمانت کی درخواست کی سماعت 30 جولائی کو ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words