انصاف: امن اور ترقی کی علامت


معاشرتی انصاف اور فسادات کی روک تھام ہی ترقی کی ضامن ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت ہی حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ کہلاتا ہے جب وہاں عدل و انصاف کا بول بالا ہو۔ عوام کی جان و مال اور عزت محفوظ ہو۔ جہاں عوام کو حق بات کہنے کی آزادی ہو، وہ بلا خوف و خطر آزادی سے زندگی گزار سکیں۔ عوام کو یہ یقین ہو کہ کوئی بھی ان پر ظلم کرے گا تو اس سے اس کا حساب لیا جائے گا۔ اس کے برعکس اگر معاشرے میں نا انصافی کا دور دورہ ہوگا تو معاشرہ تمام برائیوں کا گڑھ بن چکا ہوگا۔ کسی کی جان و مال اور عزت محفوظ نہیں ہوگی، عوام ظالموں کی شر انگیزیوں سے عاجز ہوگی اور خستہ حالی کی زندگی بسر کر رہی ہوگی۔

ہم دنیا کو 3 گروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں
1۔ پسماندہ معاشرہ:

یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں پسماندگی پھیلی ہوئی ہے۔ جس کو تیسری دنیا کا ملک بھی کہا جاتا ہے۔ ایک ایسے معاشرہ جہاں صنعتی ترقی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں کی عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے۔ جہالت بھوک اور افلاس چہار سو ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔ بد امنی اور نہ انصافی کی بدولت عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو غیر محفوظ ہے۔ عوام ظالموں کے ظلم سے پریشان زندگی گزار رہی ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو عدل و انصاف سے محروم ہے۔ ایسے معاشرے کی پسماندگی کی بدترین وجہ نا انصافی ہے

2۔ ترقی یافتہ معاشرہ:

ایک ترقی یافتہ ملک۔ جسے صنعتی ملک بھی کہا جاتا ہے۔ جہاں کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ عوام خوشحال ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے پاس جدید تکنیکی ڈھانچہ ہوتا ہے اور صنعت کے متنوع شعبے ہوتے ہیں۔ عوام تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔ ایسا معاشرہ بظاہر تو چمکتا دمکتا دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقی طور پر وہ ترقی یافتہ معاشرہ نہیں ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ وہاں بھی انصاف کی فراہمی یقینی نہیں ہوتی۔ وہاں عام آدمی کو تو اس کے جرم پر سزا دے دی جاتی ہے، لیکن جب کوئی ارباب اختیار میں سے جرم کرتا ہے تو اس سے نرمی برتی جاتی ہے۔ یعنی امیروں کے لئے الگ قانون اور غریبوں کے لئے الگ قانون۔ عدالتی نظام اتنا کمزور ہے کہ وہ کمزوروں کو ہی سزا دے سکتا ہے۔ اس کے برعکس، امیر افراد پیسوں یا دیگر طریقوں سے مقدمات سے باعزت بری ہو جاتے ہیں۔ جب کہ نظام عدل میں بہتری کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

3۔ مثالی معاشرہ:

یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو واقعتاً ترقی یافتہ ہے۔ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام، صنعتی ترقی، شرح خواندگی میں اضافہ، روزگار کی فراہمی، آزادی، بہتر معیار زندگی، صحت کی جدید سہولیات اس کی اہم خوبیاں ہیں۔ لیکن سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ معاشرہ عدل و انصاف کی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہاں امن و امان کا بول بالا ہے۔ عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جاتی ہے۔ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔ ہر ایک کو اپنے کیے کا حساب دینا ہوتا ہے۔ یہ ایک مثالی معاشرہ ہوتا ہے جہاں کوئی کسی پر ظلم نہیں کر سکتا، کوئی کسی کا حق نہیں مار سکتا کوئی کسی کا مال غصب نہیں کر سکتا، کوئی کسی کی عزت پر حملہ آور ہونے کی جرات نہیں کر سکتا۔ یہاں ہر ایک کو حق بات کہنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔

ایک بات جان لیجیے وہی معاشرہ ترقی کرتا ہے جہاں قانون کی بلا دستی ہوتی ہے۔ ایسا معاشرہ جہاں نا انصافی ہو وہاں تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔

”تم سے پہلی قومیں اس لئے برباد ہوئیں جب ان کا کوئی بڑا امیر و کبیر جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی سا آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی“ (بخاری، 4304 )

یس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ معاشرے کے لئے عدل و انصاف کا قائم ہونا بے حد ضروری ہے، ورنہ تباہی ہمارا مقدر ہوگی اور ہمیں عذاب الہی کے لائق سمجھا جائے گا۔ اللہ نے قرآن پاک میں واضح فرما دیا ہے :۔ :

”اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے ) والدین یا (تمہارے ) رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ (جس کے خلاف گواہی ہو) مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان دونوں کا (تم سے ) زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہش نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ (گے ) ، اور اگر تم (گواہی میں ) پیچ دار بات کرو گے یا (حق سے ) پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے،“ (سورہ النساء۔ 135 )

یعنی ہمیں عدل کی رہ اختیار کرنی ہے اور ہر حال میں سچ بولنا ہے، مظلوم کا ساتھ دینا ہے، چاہے مجرم ہمارا قریبی عزیز یا دوست ہی کیوں نہ ہو، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کے وہ امیر اور صاحب اختیار ہے یا نہیں، ہمیں صرف اللہ کی رضا کی خاطر ظلم کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔ اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو یقیناً ہم اللہ کی نا فرمانی کے مرتکب ہوں گے۔

انصاف کے بغیر کسی بھی قوم کے لئے خوشحالی اور غربت کے خاتمے کے اہداف کا حصول ممکن نہیں ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جس نے انصاف کی عدم دستیابی کی صورت میں ترقی حاصل کی ہو۔ انصاف کا آغاز دنیا کی تخلیق کے ساتھ ہی ہوتا ہے، اللہ فرماتا ہے :۔

والسماء رفعھا ووضع المیزان

”اور اسی نے آسمان کو بلند کر رکھا ہے اور (اسی نے عدل کے لئے ) ترازو قائم کر رکھی ہے،“ (سورہ الرحمن۔ 7 )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

فرزانہ جنت کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments