پاکستانی عورت تحفظ کا مطالبہ کر رہی ہے


گزشتہ چند ہفتوں سے ہونے والے پہ در پہ ظلم و جبر اور درندگی کے اندوہناک واقعات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ”آخر کب تک حوا کی بیٹیاں یونہی روندی جائیں گی؟“

چاہے وہ اسلام آباد میں رہنے والی نور ہو یا پھر موہڑہ میں کچرے کے ڈھیر پہ اپنے چودہ ماہ کے مردہ بیٹے کے ساتھ پڑی نسیم بی بی یا پھر گھریلو تشدد کا شکار قرۃالعین جس کے شوہر عمر خالد نے اس کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ بحیثیت عورت مجھے بڑی شدت سے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ایک عورت کہیں محفوظ نہیں، چاہے وہ اس کا اپنا گھر ہو یا باہر کی دنیا کی، کیا ریاست ہمیں تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے؟

ہمارے والدین ہم بیٹیوں کو بھی سمجھدار ہونے پر پہلی نصیحت یہ کرتے ہیں کہ ”بیٹی جہاں بھی جاؤ، ہماری عزت کا خیال کرنا“ مگر شاید بیٹوں کو یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ ”کسی کی بیٹی کی زندگی نہ برباد کرنا کبھی“ ۔

ان کرب ناک واقعات نے میرے سامنے ہمارے معاشرے کا ایک اور دردناک پہلو سامنے لایا کہ ہمارے ہاں ظلم و جبر اور زیادتی کا شکار ہونے والی ہوا کی بیٹیوں سے ہمدردی کرنے والے کم اور ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے والے زیادہ ہیں۔ ہمارے ہاں مانا جاتا ہے کہ اگر عورت کسی زیادتی یا ظلم کا شکار ہوئی ہے تو غلطی اس کی ہے۔ کبھی ہم اس کے طرز لباس، کبھی اس کے ماحول اور کبھی اس کے اکیلے پن کو ان سب کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ بے حسی اور منافقت کی حد پار کر جاتے ہیں ہم۔

بیٹی کے پیدا ہونے پر اس کے اچھے نصیب کی دعائیں تو مانگی جاتی ہیں لیکن شاید ہم بیٹوں کی پیدائش پر ان کے اچھا انسان بننے کی دعا نہیں مانگتے۔ ہمارا المیہ ہے کہ نے غیرت کا سارا بوجھ بیٹیوں کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔ اور بیٹیاں اس بوجھ تلے کچلی جاتی ہیں۔

میرا والدین سے گلہ ہے کہ جب ان کی بیٹی ظلم و جبر کا شکار ہوتی ہے تو وہ کیوں اس کو زمانے کے ڈر سے صبر کرنے کا یا خاموش رہنے کا کیوں کہتے ہیں؟ ”مرد ہے، مرد تو یہ سب کرتے ہیں، تم صبر کرو، سب وقت کے ساتھ ٹھیک ہوگا“

لیکن وہ ٹھیک وقت آنے تک ہم ختم ہو جاتے ہیں، اندرونی اور اکثر بیرونی طور پر۔ مت اپنی پھول جیسی بچیوں کو کسی درندے کے ہاتھوں برباد ہونے دیں اور اگر کو بیٹی کسی کی حیوانیت کا نشانہ بنے تو اس کی ڈھال بنیں، اس کا ساتھ دیں کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کا بدلہ لے سکے، اسے گھٹن زدہ زندگی گزارنے پر مجبور نہ کریں۔ جیسے بیٹیوں کی تربیت کرتے وقت ہمیں زمانے کی اونچ نیچ سمجھائی جاتی ہے بالکل اس طرح ایک مرد کی تربیت کرتے وقت اس کو بھی بتایا جائے کہ عورت چاہے وہ اس کے گھر کی ہو یا باہر کی ہو، اس کی عزت اور حفاظت فرض ہے۔ ایسے مرد بنو جسے دیکھ کے کسی بھی عورت کو تحفظ کا احساس ہو۔

ریاست سے میری ایک گزارش ہے کہ ہماری بچیوں کی قربانیاں رائیگاں مت جانے دیں، ظاہر، عمر خالد اور واجد علی جیسے درندوں کو ایسی عظیم سزائیں دیں کہ کل کو کوئی ایسی درندگی کرنے کا سوچے بھی نہیں۔

Facebook Comments HS