بس! اب انسان بنو
مری زبوں حالی کا قصہ مت پوچھ
تیری گرفت میں ہوں، تڑپ رہی ہوں
سانسیں میری کھینچ کر تو نے
غیرت کا کفن اوڑھا رکھا ہے
کبھی ہاتھوں سے
کبھی آنکھوں سے
کبھی باتوں سے
کبھی رسموں سے
کبھی رشتوں سے
مجھے نوچ نوچ کر کھاتے ہو
میرے جسم میں
میری فکر کو
میری کوکھ کو
میری روح کو
میرے فن کو
میری ذات کو
میری شخصیت
میری پہچان کو تو نے محصور کر ڈالا
میرے رنگ کو میرے روپ کو
میرے سجنے اور سنورنے کو
میری آنکھوں کو
میری زلفوں کو
میرے جسم کے رنگوں کو
میرے بدن کی خوشبو کو
میری انگلیوں کی نزاکت کو
تم نے اپنی تفریح بنا ڈالا
میری ہستی کو
میرے لیے اک گالی ہی بنا ڈالا
اپنی ساری کالی کرتوتوں کا
مجھے کفارہ بناتے ہو
شرم سے ڈوب مرو
میرے گوشت میں
میری کوکھ میں
میرا لہو پی کر
تمھارا وجود پنپتا ہے
میری چھاتیوں کو نچوڑ کر
میں تیرا پیٹ بھرتی ہوں
تم کہتے ہو میں کمزور ہوں
کیا میں اس وقت کمزور نہیں تھی
جب تم ناتواں تھے
جب تم خود کا گند صاف کرنے کےقابل نہیں تھے
جب تم خود کو سنبھالنے کے قابل نہیں تھے
جب تم بادل کی گرج سے ڈر کر
میرے آنچل میں چھپتے تھے
میں اس وقت کمزور نہیں تھی
جب تم میری انگلی تھامے
لوگوں کے ہجوم سے خوفزدہ ہو جاتے تھے
واہ رے مرد آج تم کہتے ہو کہ
مجھے تمھاری حفاظت کی ضرورت ہے
میرے جسم سے نکل کر
میرے جسم سے پل کر
میرے جسم کو نوچ کر
میرے محافظ بن بیٹھے
مجھ میں مجھی کو قید کر ڈالا
اور کہتے ہو کہ میں کم عقل ہوں
میں اس وقت کم عقل نہیں تھی
جب تمھیں دنیا کے بارے میں سکھایا
انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا
تمھیں علم دیا، تمھیں پالا
تمھاری بیماری میں تمھیں سنبھالا
میں تب کم عقل نہیں تھی
تو اب ایسا کیا ہوا کہ
تمھارے اندر مردانگی کا درندہ جاگ اٹھا؟
اب کیوں تمھارے اندر برتری در آئی ہے
تم تب بھی گوشت پوست کے انسان تھے
اور اب بھی گوشت پوست کے انسان ہو
جیسے میرا جسم رگوں، خون اور ہڈیوں کا مرکب ہے
جیسے میں سانس بند ہونے سے مر جاؤں گی
ویسے ہی تم بھی سانس بند ہونے سے مر جاؤ گے
چوٹ لگنے پر مجھے جو درد محسوس ہوتا ہے
ویسے ہی تمہیں بھی چوٹ لگنے پر درد ہوتا ہے
سنو! بہت ہوگیا یہ مردانگی اور درندگی کا کھیل
چلو یوں ہی سہی! اپنی مردانگی سے پوچھو
کیا تمھیں موت سے بچا سکتی ہے
یا تمھیں بیماریوں سے بچا سکتی ہے
اگر نہیں، تو پھر اب بس
بہت ہوچکا یہ مردانگی اور درندگی کا کھیل
انسان پیدا ہوئے تھے تم
واپس آؤ اپنی اصل کی طرف
پھر دیکھو زندگی کا لطف
ذرا برابری کو محسوس کر کے تو دیکھو
مرد اور عورت کے لبادے سے نکل کر
دو انسانوں کے ساتھ رہنے کا سکھ محسوس کرو،
اسی دنیا میں جنت کا لطف اٹھا کر دیکھو
جہنم میں بہت جی لیے، انسانوں کی جنت میں آکر دیکھو
ایک آخری بات ذرا کان کھول کر سنو
میں کمزور نہیں، میں انسان ہوں


