بیٹیوں کے نام: دو نظمیں
طلاق یافتہ بیٹی قبول نہیں بیٹا طلاق نہیں ہونی چاہیے دنیا والے کیا کہیں گے ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے جہیز میں تو ہم نے کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی ہر چیز ان کی مرضی کے مطابق تھی پھر ایسا کیا ہوا جو بات طلاق تک پہنچی ضرور تیری ہی غلطی ہوگی گز بھر زبان ہے تیری سمجھوتہ کر کے رہنا سیکھ ہم سب نے بھی یہی کیا ہے تیری دادی، نانی اور میں ہم نے
Read more

