بیٹیوں کے نام: دو نظمیں

طلاق یافتہ بیٹی قبول نہیں بیٹا طلاق نہیں ہونی چاہیے دنیا والے کیا کہیں گے ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے جہیز میں تو ہم نے کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی ہر چیز ان کی مرضی کے مطابق تھی پھر ایسا کیا ہوا جو بات طلاق تک پہنچی ضرور تیری ہی غلطی ہوگی گز بھر زبان ہے تیری سمجھوتہ کر کے رہنا سیکھ ہم سب نے بھی یہی کیا ہے تیری دادی، نانی اور میں ہم نے

Read more

بس! اب انسان بنو

مری زبوں حالی کا قصہ مت پوچھ تیری گرفت میں ہوں، تڑپ رہی ہوں سانسیں میری کھینچ کر تو نے غیرت کا کفن اوڑھا رکھا ہے کبھی ہاتھوں سے  کبھی آنکھوں سے کبھی باتوں سے کبھی رسموں سے کبھی رشتوں سے مجھے نوچ نوچ کر کھاتے ہو میرے جسم میں میری فکر کو میری کوکھ کو میری روح کو میرے فن کو میری ذات کو میری شخصیت میری پہچان کو تو نے محصور کر ڈالا میرے رنگ کو میرے روپ

Read more