نخرے اٹھواؤں گی، جوتے نہیں

آج کل کا دور ایسا نہیں کہ کوئی کچھ بھی کہے ہماری اس پر اپنی رائے نہیں ہونی چاہیے، یا اس پر ہمارا اختلاف نہیں ہونا چاہیے، ہماری اس پر رائے بھی ہونی چاہیے اور اختلاف کا بھی پورا حق ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ہم محض اختلاف رکھنے میں ہی اس قدر حد سے گزر جائیں کہ سننے والے کو آپ کی رائے پہ شدید کوفت ہو جائے،

کچھ ایسا ہی حال گزشتہ دو چار دنوں سے سوشل میڈیا کی ہر نئی پوسٹ میں دیکھنے کو مل رہا ہے، بات کچھ ایسے ہے کہ ایک ماڈل و اداکارہ ہیں صدف کنول۔ ان کے نام سے سبھی واقف ہیں، جو واقف نہیں تھے وہ تب ہو گئے تھے جب انہوں نے شہروز سبزواری سے شادی کی تھی، وہ کس لئے وہ اس لئے کہ ان کی سابقہ بیوی ”سائرہ یوسف“ جو نہایت خوبصورت تھیں اور ایک کامیاب اداکارہ بھی تھیں پھر بھی انہوں نے بقول لوگوں کے مرسڈیز کو چھوڑ کر مہران یعنی کہ صدف کنول سے شادی کرلی۔ اس وقت صدف کو کیا کیا نہیں کہا گیا تھا کسی نے کوڑا اٹھانے والی کہا، کسی نے مریض اور نا جانے کیا کیا،

اب ان سب باتوں کو گزرے عرصہ ہوا دونوں میاں بیوی ”میرا مطلب پرانا میاں نئی بیوی“ ایک شو میں آئے تو ماڈل صدف کنول نے گھریلو زندگی کو لے کر اپنی روٹین اور سوچ کی بات بس ایسے روٹین میں بول دی اور وہ کیا کہتے ہیں نا کہ ان کے منہ سے نکل گئی، لیکن بس ادھر وہ بات نکلی نہیں کہ ادھر پاکستان کے سارے عوام، کچھ چھچھورے میمز بنانے والے خود ساختہ ٹیلنٹڈ جوکرز برساتی کیڑوں کی طرح ایسے سوشل میڈیا پر آئے جیسے مانو ”ونڈی کی کھیر“ مل رہی ہو، آؤ دیکھا نہ تاؤ بس منہ اٹھا کر بے تکی باتیں شروع کر دیں۔

باتیں بھی وہ جن کو سن کر تھوڑی تھوڑی ہنسی اور اتنا زیادہ دکھ محسوس ہوا،

نہیں مطلب کیا؟ کس بات پر؟ کیوں؟ ایسے ہی کسی بات پر تنقید؟ جس بات پر آپ سب تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہ آپ سب مجھ سمیت سب کی مائیں دادیاں نانیاں خاندان کی ساری خواتین ایک لمبے عرصے سے کرتی آ رہی وہ باتیں جو ماڈل خاتون نے انٹرویو کے دوران کہیں ہیں وہ ہماری تربیت کا حصہ ہیں، اس بیچاری نے تو ایک بار ٹی وی پر کہہ دی ہماری مائیں تو شاید دن میں دس مرتبہ کہتی ہوں گی ایسے رہنا چاہیے ویسے رہنا چاہیے لیکن یہاں ہم بن پانی کی مچھلی ایسے تڑپ رہے جیسے زخموں پر آئیوڈین مل دیا ہو کسی نے۔

میں یہ قطعی نہیں کہہ رہی کہ خواتین پر گھریلو کام کو لے کر تشدد ہو، امن خراب ہو زبردستی کا کوئی بھی عنصر شامل ہو، لیکن آپ نے کچھ نہیں کرنا آپ نہ کریں لیکن آپ کسی کو چند روزمرہ روٹین کے معاملات پہ ایک تمیز میں رہ کر کی جانے والی بات کو اس طرح سے اچھال رہے ہیں جیسے نا جانے کون سی گستاخی ہو گئی ہو اور گستاخی بھی ایسی کہ عوام جن کا کسی کے لائف سٹائل سے لینا دینا کچھ نہیں؟

آپ لوگ نا تب چپ رہے جب بیچاری اداکارہ نے شادی کی، ”ہوم ریکر“ ہوم ریکر کی رٹ لگائی ہوئی تھی ناں، اب چپ ہیں جب انہوں نے شوہر کی خدمت اس کی اطاعت پر اپنے خیالات کا اظہار کر دیا، اب نہیں کہیں گے ہوم ٹیکر؟ اور مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ شوہر کے جوتے اٹھانے میں کیا عار ہے ویسے؟ وہ خرچے اٹھائے، نخرے اٹھائے اور آپ اس کے ضرورت پڑنے پر جوتے بھی نہیں اٹھا سکتیں؟ نہیں اٹھانے نہ اٹھائیں لیکن جو اٹھا رہی ہیں انہیں غلط نہ کہیں، اور اگر تھوڑا ٹھنڈے دماغ سے سوچا جائے تو اس انٹرویو میں اور بھی بہت کچھ تھا وہ تو کسی نے نہ سنا نہ ان باتوں کو دھوبی پٹکا دیا، بات اٹھائی تو جاتی اٹھانے والی جسے خوب اچھالا جاسکتا تھا۔

مجھے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی کہ وہ خواتین جنہیں ہمارے گھروں کے مرد ہر ممکن سکون دیتے ہیں، ہر ممکن خوشی دیتے ہیں وہ ہمیشہ سے ہی مردوں کو زیر کرنے کے غم میں مبتلا رہتی ہیں۔ معاشرے میں پہلے آج کل کے مرد اور عورت بے شمار مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر کے بات کا بتنگڑ بنانا کہاں کی عقلمندی ہے، آپ کو کسی کی بات پسند نہیں نہ سنیں نہ مانیں نہ عمل کریں لیکن ایسا بھی نہ کریں کہ کوئی آپ کی بد اخلاق حرکت کی وجہ سے اخلاقی جرات پست ہو جائے۔ اور ایک بات معذرت کے ساتھ۔ آپ جیسے جو لوگ کہہ رہے ہیں جوتے نہیں اٹھاؤں گی، ان میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو شادی پہ جوتا چھپائی کی رسم میں چار روپوں کے لئے دلہے کے جوتے سر پہ اٹھا کے پھر رہے ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
مدیحہ اقبال کی دیگر تحریریں