وزیر اعلیٰ پنجاب کی موجودگی میں ہونے والا قتل


گزشتہ شب صوبائی دارالحکومت لاہور میں نامزد صوبائی وزیر اسد کھوکھر کے بیٹے حسین کھوکھر کی شادی کی تقریب میں دو درجن سے زائد صوبائی و وفاقی وزراء اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت سینکڑوں اہم شخصیات شریک تھیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے وقت کی قلت کے باعث جلدی اجازت چاہی۔ صوبائی وزیر اور ان کے دونوں بھائی وزیراعلیٰ پنجاب کو گیٹ تک رخصت کرنے آئے، وزیراعلیٰ ابھی اپنی گاڑی میں سوار ہوئے ہی تھے کہ پہلے سے تاک لگائے حملہ آور نے وزیر اعلیٰ کو الوداع کرنے کے لئے ہاتھ ہلاتے مبشر کھوکھر کو دنیا سے وداع کر دیا۔

عینی شاہدین کے علاوہ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کے ٹویٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ حملہ آور نے وزیر اعلیٰ کی گاڑی کی قریب کھڑے ہو کر فائرنگ کی اور مبینہ طور پر وزیراعلی ٰکی ذاتی سکیورٹی نے حملہ آور کو قابو میں لے کر گرفتار کیا۔

ملزم نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ وہ شادی میں سوا آٹھ بجے آیا، سکیورٹی پر مامور کسی سٹاف نے چیک نہیں کیا اور وہ مہمانوں کے ساتھ ہی جا کر بیٹھ گیا، جب مبشر کھوکھر بھائیوں کے ہمراہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو رخصت کر رہا تھا تو حملہ آور وزیر اعلیٰ پنجاب کے پیچھے پیچھے مارکی سے باہر آیا، وزیر اعلیٰ پنجاب گاڑی میں بیٹھے تو حملہ آور نے مبشر کھوکھر پر فائرنگ کر دی۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا واقعہ وزیراعلیٰ کی کار سے چند گز کے فاصلے پر ہوا۔ حملہ آوار کا ٹارگٹ ہی مبشر کھوکھر تھا۔ ورنہ وہی گولی وزیر اعلیٰ کو بھی لگ سکتی تھی۔ حملہ آوار چاہتا تو وزیراعلیٰ سمیت کسی بھی وزیر یا تقریب میں شریک وی آئی پی کو باآسانی ابدی نیند سلا سکتا تھا۔ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ ہماری سکیورٹی اور پولیس کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کی مسلسل خراب صورت حال، چوری، ڈکیتی، بھتہ خوری اور اغوا و قتل کے نہ رکنے والے واقعات کے باوجود سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو کیوں نہیں ہٹایا جا رہا ۔ صوبائی دارالحکومت میں کیوں شہریوں کی جان و مال کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ لاہور میں بے یقینی اور خوف و ہراس کی فضاء ہے۔ کرائم کو روکنے کی کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آ رہی، بھتہ خور و قبضہ مافیا دن دیہاڑے زمینوں اور پلازوں پر قبضے کر رہے ہیں۔ عوام تو عوام اب تو وزیر اعلیٰ بھی محفوظ نہیں رہے۔

ماضی میں جب کیپٹن لیاقت ملک سی ٹی او لاہور تھے تووہ نا صرف ٹرانسپورٹرز کو قانون کے دائرے میں لانے میں کامیاب ہوئے بلکہ انہوں کمال جرات کے ساتھ اشرافیہ اور سرکاری گاڑیوں کو بھی نمونہ والی اوریجنل نمبر پلیٹ لگانے پر مجبور کر دیا۔ وہ خود فیلڈ میں نکل جاتے اور وائلیشن پر زیرو ٹالرینس پالیسی کا مظاہرہ کرتے، سفارشی کال لینے کی بجائے چالان کرتے اور یہ کہہ دیتے کہ جن سے آپ بات کروانا چاہتے ہیں ان کا نام ہی کافی ہے چالان ضرور ہوگا، مگر ان کے نام کی وجہ سے میں پاکٹ سے جرمانہ پے کر دیتا ہوں۔

ایسے میں وائلیشن کرنے والا نا صرف شرمسار ہوتا بلکہ آئندہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے باز رہتا۔ سابقہ سی ٹی او حماد عابد کے دور میں وارڈن گردی کا سلسلہ شروع ہوا۔ لاہور ٹریفک پولیس کی کرپشن اور من مانیوں کی لمبی داستان پھر کبھی سہی۔ لیکن سکیورٹی کے لحاظ سے غفلت، لاپرواہی یا مبینہ سرپرستی کہہ لیں۔ آپ آج ہی مشاہدہ کر کے دیکھ لیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں کسی ایک رکشہ کی بھی نمبر پلیٹ اوریجنل اور نمونہ کے مطابق نہیں ہے جبکہ بیشتر کی نمبر پلیٹ چسپاں ہی نہیں ہوتیں یا انتہائی مبہم۔ اسی طرح ٹویوٹا ہائی ایس، وین، بس، ٹرک سمیت پبلک ٹرانسپورٹ والے غیر نمونہ نمبر پلیٹ یا بغیر نمبر پلیٹ ہی دندناتے پھر رہے ہوتے ہیں۔ غیر نمونہ یا بغیر نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے نا صرف یہ لوگ کھلم کھلا ”ون وے“ کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ اشارے پر رکنے کی بھی زحمت نہیں کرتے اور حادثات کا باعث بن رہے ہیں۔

آپ کسی اشارے پر رکتے ہوئے ارد گرد والی کاروں کی نمبر پلیٹ پر ایک نظر ڈالیں، ایک نئی واردات دیکھنے کو ملے گی۔ نمبر پلیٹ تو اوریجنل یا نمونہ والی ہی ہوگی مگر نمبر پلیٹ کو بلیک کلر کے ایک خاص لیمینیشن پیپر کے ساتھ مبہم کیا گیا ہے۔ اس طریقہ کار کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس طریقہ سے نمبر پلیٹ سیف سٹی کے کیمرہ میں نہیں آتی اور ہم آن لائن چالان سے بچ جاتے ہیں۔ چالان سے بچنے کے لئے اس قسم کا غیر قانونی طریقہ اختیار کرنا قانون شکنی اور قابل گرفت عمل ہے۔ اس طرح کی مبہم نمبر پلیٹ کا مقصد صرف چالان بچانا نہیں ہے بلکہ دیگر جرائم بھی ہیں۔ آپ چوری، ڈاکا زنی، اغوا اور قتل و غارت کر کے آسانی سے بھاگ سکتے ہیں اور آپ کی گاڑی واضح نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے قانون کی نظروں سے اوجھل ہونے میں کامیاب رہتی ہے۔

جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ شکنی کرنے اور ان کو قانون کے دائرے میں لانے کے لئے نہ صرف ایسی تمام پرائیویٹ و کمرشل گاڑیوں کے مالکان کے خلاف فوری سخت تادیبی کارروائی کی جائے بلکہ پولیس میں موجود ایسی تمام کالی بھیڑوں سے محکمہ کو پاک کیا جائے۔

حال ہی میں ایک جونئیر ایس پی حفیظ بگٹی نے معزز عدالت کے سامنے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو شرمسار کروایا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس کے خلاف محکمہ خود کارروائی کرتا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ ایسی سینکڑوں مثالیں ہیں جہاں پی ایس پی افسران کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال پر کچھ دن کے لئے او ایس ڈی ہوتے ہیں اور اگلے ہی ہفتے نئی پوسٹنگ انجوائے کر رہے ہوتے ہیں۔ تمام طرح قانون شکنیوں اور غفلت کے باوجود عہدے، الاؤنسز اور پروٹوکول انجوائے کرتے ہیں۔

اگر پولیس کا امیج ٹھیک کرنا ہے تو ایسے مجرمانہ ذہنیت اور مسلسل غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے افسران سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ آرمی کی بطور ادارہ عزت و وقار اور کامیابی کی وجوہات میں سب سے اہم احتساب اور میرٹ ہے۔ آرمی میں سخت محنت سے کمیشن کا امتحان پاس کرنے والے افسران کو پولیس کی طرح ”عمر پٹہ“ نہیں مل جاتا بلکہ آرمی میں ایک منظم میرٹ اور چیک سسٹم کے تحت قریباً% 70 کمیشنڈ افسران کو بطور میجر ریٹائرڈ کر دیا جاتا ہے جبکہ% 20 فیصد لیفٹیننٹ کرنل اور کرنل کے عہدے تک پہنچ پاتے ہیں، صرف % 8 فیصد کے قریب بریگیڈئیر جبکہ سارا کیرئیر نیندیں حرام کرنے والے بمشکل % 2 جرنیل بننے کا خواب شرمندہ تعبیر کر پاتے ہیں۔

جبکہ وائلیشن یا کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف ورزی پر سپاہی سے جرنیل تک کو براہ راست گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ پولیس میں بھی یہی طریقہ رائج کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کرپٹ اور غفلت برتنے والے افسران کو جبری ریٹائرڈ کیا جاسکے اور سب کو معلوم ہو کہ محنت، ایمانداری اور کارگردگی دکھانے والوں کے لئے ہی آگے بڑھنے کے مواقع ہیں۔

Facebook Comments HS